کتنی دیر

جاوید چودھری
جاوید چودھری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
11 منٹ read

ہمارے حکمران خاندان پاکستان کے نیرو کلاڈیس سیزر ہیں‘ یہ اس انجام کا شکار ہو رہے ہیں جس سے روم کا شہنشاہ نیرو کلاڈیس 64 عیسوی میں دو چار ہوا تھا یعنی اپنی ہی جلائی ہوئی آگ کا لقمہ۔

رومن ایمپائر دنیا کی پہلی ریاست تھی جس کی حدیں چار براعظموں تک پھیلیں اور اس نے یورپ سے لے کر ایشیا‘ ایشیا سے لے کر افریقہ اور افریقہ سے لے کر منجمد زمینوں (قطب شمالی) تک حکمرانی کی‘ ہندوستان بھی رومن ایمپائر کا حصہ تھا‘ چھوٹی اینٹیں رومیوں نے ایجاد کی تھیں چنانچہ رومی جہاں جہاں گئے وہاں آج آثار قدیمہ سے چھوٹی اینٹ برآمد ہوتی ہے‘ روم دنیا کا پہلا شہر تھا جس کی آبادی 16 قبل مسیح میں دس لاکھ تک پہنچ گئی۔

نیرو 54 عیسوی میں اس سلطنت کا بادشاہ بنا‘ یہ بڑ بولا اور متکبر تھا‘ یہ دولت کا شیدائی بھی تھا چنانچہ اسے دولت کا لالچ اور تکبر اس مقام پر لے گیا جہاں یہ تاریخ کا مکروہ کردار بن گیا‘ دنیا میں آج ہر عورت منہ پر پائوڈر لگاتی ہے‘ یہ فیس پائوڈر نیرو کی بیوی پوپیا نے ایجاد کیا تھا‘ یہ پوپیا کے نام سے منسوب ہوا اور بگڑ کر پائوڈر بن گیا‘ نیرو کو غریب پسند نہیں تھے‘ یہ انھیں زمین کا پھوڑا سمجھتا تھا اور اس کا کہنا تھا یہ لوگ شہروں کے حسن کو گہنا دیتے ہیں مگر اس کی غلط پالیسیوں‘ نالائق مشیروں‘ خاندان کی دولت پرستی اور وزراء کی لوٹ کھسوٹ نے روم کی غربت میں اضافہ کر دیا‘ امراء بھی نان نفقہ چلانے کے لیے زمین جائیداد بیچنے پر مجبور ہو گئے۔

روم شہر میں غریب اور غربت عام ہو گئی لیکن نیرو ان حالات کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے مزید پاگل ہو گیا‘ اس نے ایک دن شہر سے غریب ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ اس نے اپنے محل کی چھت پر سازندے اور گلوکار جمع کیے‘ رقص اور سرود کی محفل برپا کی اور اپنے سپاہیوں کو کچی آبادیوں کو آگ لگانے کا حکم دے دیا‘ فوج نے غریبوں کی بستیوں کو آگ لگا دی‘ روم کی کچی آبادیوں سے آہ و بکا‘ دھواں اور آگ کے شعلے اٹھنے لگے‘ یہ آوازیں جب محل تک پہنچنے لگیں تو نیرو نے سازندوں کو ساز کی آواز اونچی کرنے کا حکم دے دیا۔

اُدھر سے شعلے اور بچائو بچائو کی آوازیں اٹھ رہی تھیں اور اِدھر ڈھول‘ تاشے اور نقارے بج رہے تھے اور نیرو شراب‘ اقتدار اور انتقام کے نشے میں جھوم رہا تھا‘ آگ‘ پانی اور زلزلے دنیا کے تین ایسے عذاب ہیں جو زمین کی تہہ سے نکلتے ہیں تو پھر بڑے یا چھوٹے کی تمیز نہیں کرتے‘ روم کی آگ کچی آبادیوں سے شروع ہوئی اور تیزی سے امراء کے محلوں تک پہنچ گئی‘ روم جلنے لگا‘ امراء اور غرباء بلا تمیز گلیوں میں دہائیاں دینے لگے مگر نیرو میوزک سے لطف لیتا رہا یہاں تک کہ آگ شاہی محل تک پہنچ گئی‘ اس نے خود کو آگ اور شعلوں میں گھرا دیکھا تو اسے ہوش آیا اور اس نے پانی کے تالاب میں کود کر جان بچائی۔

روم جل چکا تھا اور خلقت خدا بادشاہ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا رہی تھی مگر نیرو ہمارے حکمرانوں کی طرح یہ ذمے داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا‘ یہ اس بحران کو پچھلی حکومتوں اور میڈیا کی کارستانی قرار دے رہا تھا لیکن حقیقت حقیقت تھی‘ بحران تھا اور اس بحران کو ختم کرنا نیرو کی ذمے داری تھی‘ نیرو کو مجبوری کے عالم میں روم کو دوبارہ تعمیر کرنا پڑ گیا‘ اس نے خزانوں کے منہ کھول دیے‘ خزانے ختم ہو گئے مگر روم نہ بنا‘ اس نے عوام پر ٹیکس لگا دیے‘ عوام ٹیکس دے دے کر تھک گئے مگر روم نہ بنا‘ اس نے قومی اثاثے بیچنا شروع کر دیے‘ اثاثے ختم ہو گئے مگر روم نہ بنا اور اس نے آخر میں ٹھیکیداروں کو لوٹنے کھسوٹنے تک کی اجازت دے دی۔

لوٹ کھسوٹ بھی ختم ہو گئی مگر روم نہ بنا یہاں تک کہ پوری عوام نیرو کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی‘ نیرو عوام سے بچنے کے لیے محل سے بھاگ گیا‘ یہ محل سے نکلا تو پورے شہر میں اسے پناہ نہ ملی‘ آخر میں اس کے غلام کو اس پر ترس آ گیا اور اس نے اسے اپنی کوٹھڑی میں پناہ دے دی‘ کوٹھڑی گندی‘ تنگ اور بدبودار تھی‘ نیرو نے غلام سے کہا ’’ کیا ملک کے زیادہ تر لوگ ایسی جگہوں پر رہتے ہیں‘‘ غلام نے ہنس کو جواب دیا ’’حضور آپ جیسے بادشاہ ہوں تو عوام کو ایسے ہی گھر نصیب ہوتے ہیں‘‘ نیرو اس غلیظ کوٹھڑی میں چھپا رہا‘ آخر میں عوام کو علم ہو گیا‘ لوگوں نے کوٹھڑی کا گھیرائو کر لیا اور نیرو نے عوام کے غضب سے بچنے کے لیے استرے سے اپنی شہ رگ کاٹ لی اور غلام کی کھودی ہوئی قبر میں گر کر دم توڑ دیا۔

ہم سب لوگ جزیروں میں رہتے ہیں‘ ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرہ جزیرے ہوتے ہیں‘ ہم ان جزیروں میں امارت‘ اقتدار‘ تکبر‘ غربت‘ مظلومیت اور بے بسی کی چھوٹی چھوٹی دیواریں بنا لیتے ہیں اور ہم یہ سمجھتے ہیں بے بس کی بے بسی‘ مظلوم کی مظلومیت اور غریب کی غربت دیوار پھلانگ کر کبھی ہمارے غرور‘ ہمارے اقتدار اور ہماری امارت کی فصلوں تک نہیں پہنچے گی‘ غریب ہزاروں سال تک دیوار کی دوسری طرف پڑا رہے گا اور ہم کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر مزے لوٹتے رہیں گے مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں جزیروں میں رہنے والے لوگ جسم کی طرح ہوتے ہیں‘ ہونٹ اور مقعد دونوں ایک ہی جسم کا حصہ ہوتے ہیں‘ ناف کی بو‘ پائوں کا پھوڑا اور گھٹنے کا درد پورے جسم کو محسوس ہوتا ہے چنانچہ اگر غریبوں کے محلے میں آگ لگے گی‘ کوئی وبا پھوٹے گی یا وہاں غربت‘ جرم اور بے چینی کی فصل لہلہائے گی تو اس کا اثر امیروں تک ضرور پہنچے گا۔

‘ نیرو نے اگر چین کی بانسری بجانی ہے تو پھر اسے روم کے غریبوں کو بھی بانسری اور چین دینا ہو گا ورنہ دوسری صورت میں کچی آبادیوں کی آگ محل تک پہنچے گی اور نیرو کو جان بچانے کے لیے پانی میں کودنا پڑے گا‘ یہ کوٹھڑیوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو جائے گا‘ جزیروں میں رہنے والے لوگ رشتے دار ہوتے ہیں اور آپ رشتے داروں سے قطع تعلق نہیں کر سکتے‘ ناخن ٹوٹنے اور بال کٹنے کے باوجود آپ کے وجود کا حصہ رہتے ہیں‘ آپ کا ڈی این اے ان کے وجود میں سلامت رہتا ہے مگر یوسف رضا گیلانی ہوں‘ راجہ پرویز اشرف‘ مخدوم امین فہیم‘ قائم علی شاہ ہوں یا پھر آصف علی زرداری ہوں یہ نیرو کی طرح یہ حقیقت فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ محل سے باہر سلگائی ہوئی آگ اندر ضرور آئے گی‘ اگر ملک کے اسپتال ٹھیک نہیں ہوں گے تو مرتضیٰ بھٹو وزیر اعظم کا بھائی ہونے کے باوجود طبی امداد کی کمی کے باعث مر جائے گا اور بے نظیر بھٹو کو زخمی حالت میں بھی بالآخر سرکاری اسپتال کے گندے آپریشن تھیٹر میں لایا جائے گا۔

یہ اینٹوں کے بنے تھڑے پر رکھا جائے گا اور مخدوم امین فہیم اور شیری رحمان جیسے لوگوں کو جنرل اسپتال کی گندی سیڑھیوں پر بیٹھنا پڑے گا‘ ملک میں اگر بدامنی‘ دہشت گردی‘ اغواء برائے تاوان ہو گا اور آپ بھر پور اقتدار کے باوجود ان کی بیخ کنی نہیں کریں گے تو علی حیدر گیلانی سابق وزیر اعظم کا صاحبزادہ ہونے کے باوجود اپنے ہی حلقے سے اغواء ہو گا اور صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو الیکشن مہم کے لیے گھروں سے باہر نہیں نکل سکیں گے‘ صدر کو ایوان صدر میں پناہ لینا پڑے گی۔

ملک کے حالات دہائیوں سے خراب تھے‘ عام لوگ روزانہ ان حالات کا تاوان ادا کرتے تھے مگر یہ آگ اب حکمران کلاس تک پہنچی ہے تو یہ چیخ رہے ہیں‘ اس ملک میں 50 ہزار لوگ بم دھماکوں‘ خود کش حملوں‘ مسجدوں‘ قبرستانوں اور امام بارگاہوں میں مارے گئے‘ اغواء برائے تاوان باقاعدہ انڈسٹری بن گئی‘ کراچی شہر میں روزانہ دس بیس بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں‘ بھتے کی پرچی سسٹم کی شکل اختیار کر چکی ہے‘ ملک میں کسی بھی جگہ سے کسی بھی وقت کوئی بھی اٹھایا جا سکتا ہے‘ کسی کو بھی گولی ماری جا سکتی ہے مگر حکمران کلاس نے کبھی معاشرے کی اس چیخ پر توجہ نہیں دی‘ یہ لوگ نیرو کی طرح آنکھ‘ کان اور ناک لپیٹ کر رقص و سرود کے مزے لوٹتے رہے اور یہ بھول گئے یہ آگ کبھی نہ کبھی ان کے گھروں تک بھی پہنچے گی اور انھیں اپنے اور اپنے خاندان کی سیکیورٹی کے لیے ہر آنے والی حکومت کا حصہ بننا پڑ جائے گا۔

یہ لوگ پولیس کی ایک حفاظتی گاڑی اور چند کمانڈوز کے لیے ہر قسم کے سمجھوتے پر مجبور ہو جائیں گے‘ یہ مولانا فضل الرحمٰن اور لغاری برادران کی طرح اس میاں خاندان کے دروازے پر بیٹھ جائیں گے جسے یہ کل تک عذاب الٰہی قرار دے رہے تھے اور یہ لوگ اپنے ضمیر پر پائوں رکھتے وقت یہ بھی بھول جائیں گے معاشروں میں جب آگ لگتی ہے یا ڈینگی کا وائرس پھیلتا ہے تو آپ خود کو اقتدار کے سات پردوں میں لپیٹ لیں تو بھی آپ خود کو حالات کی گرمی اور بدلتے وقت کے عذاب سے نہیں بچا سکتے کیونکہ اس دنیا میں اگر چار براعظموں کا مالک نیرو خود کو نہیں بچا سکا تھا تو آپ دنیا کے دس خطرناک ترین ملکوں کی فہرست میں رہ کر خود کو کتنی دیر محفوظ رکھ لیں گے‘ آپ خود کو معاشرے کی آگ سے کہاں تک بچا لیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں