نوحۂ شام

عبداللہ طارق سہیل
عبداللہ طارق سہیل
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

عالمی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ ہے کہ شام میں حکومتی فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی تعداد82 ہزار نہیں، جیسا کہ اقوام متحدہ بتا رہی ہے، بلکہ مقتولین کی گنتی سوا لاکھ کے قریب ہو چکی ہے۔

’’میں نے46لاشیں اکیلے نکالیں، اور پھر چار دن کچھ نہیں کھا سکا۔ ایک چند ماہ کی بچی کی لاش بالکل نہیں بھول سکتا جسے زندہ جلایا گیا اور پھر ایک اور لاشہ، اسے ماں کا پیٹ چیر کر باہر نکالا اورمار دیا گیا۔ اور میرے دوست کی کٹی پھٹی لاش جس کے پاس اس کا کتا سر جھکائے کھڑا تھا‘‘۔یہ بیان ہے عمر نامی شامی باشندے کا جو اپنے گاؤں میں ہونے والے قتل عام کی کہانی سنا رہا تھا۔ اس چھوٹے سے گاؤں میں شامی فوج اور پڑوسی ملک سے آنے والی ملیشیا نے حملہ کیا۔ پہلے بچوں کو الگ کیا جن کی تعداد چالیس کے قریب تھی، انہیں ماں باپ کے سامنے ماراگیا۔ پھر عورتوں کواور آخر میں بڑوں کو۔ کچھ بچوں کو چھریوں سے ذبح کیا گیا اور کچھ کو آگ لگا کر زندہ جلا دیا گیا۔ عورتیں بھی اسی طرح کچھ ذبح کی گئیں، کچھ آگ میں ڈال دی گئیں۔ اپنے بچوں اور ماؤں بہنوں کی موت کا منظر دیکھ کر ادھ موئے ہونے والے مرد سب سے آخر میں گولیاں برسا کر مار دیئے گئے۔

شامی فوج دو سال سے شہریوں کا قتل عام کر رہی ہے اور یہ قتل عام روایتی معنوں میں ’’اندھا دھند‘‘ نہیں ہوتا کہ ہجوم دیکھا اور فائرکھول دیا۔ بلکہ لوگوں کو پکڑا جاتا ہے۔ پہلے انہیں مارا پیٹا جاتا ہے۔ پھر اعضا کاٹے جاتے ہیں، آنکھیں نکالی جاتی ہیں، پھر کچھ کو ذبح کیا جاتا اور کچھ کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ ہر جگہ ایک ہی دستور ہے۔ سب کو اکٹھا کیا جاتا ہے ۔ پھر ماں باپ کے سامنے بچے ذبح کئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد عورتیں، پھر مرد۔ ایک پڑوسی ملک سے اسلحے کی بے تحاشا کھیپ ملنے اور اس کے ’’رضا کاروں‘‘ (جو دراصل باقاعدہ فوجی ہوتے ہیں) کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد قتل عام کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔

پڑوسی ملک سے آنے والے یہ فوجی بچوں کے قتل عام میں بہت رغبت سے حصہ لیتے ہیں۔ دوسرے پڑوسی ملک کی ملیشیا عورتوں کو زیادہ نشانہ بناتی ہے۔ اور بڑی مہارت سے ان کے اعضا کاٹتی ہے جبکہ کنکریٹ کے بلاکوں کی مدد سے مردوں کے سر پیس دیتی ہے۔ حالیہ قتل عام کے واقعات شامی ساحل کے علاقے میں بائیدہ اور راس النبیہہ کے قصبوں میں ہوئے۔ یہاں سے 322 لاشیں ملی ہیں۔ لاشیں کیا، ان کی باقیات، 8سو افراد لاپتہ ہیں۔ عام خیال ہے کہ ان سب کو مار دیا گیا ہے۔ کئی بچوں کی جلی ہوئی لاشیں اس طرح ملیں کہ وہ ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی تھیں۔ صاف لگتا تھا کہ وہ ڈر کے مارے ایک دوسرے سے چمٹ گئے اور شامی فوج نے اسی حالت میں انہیں زندہ جلا دیا۔

حالیہ عرصے میں قتل عام اتنا بڑھ گیا ہے کہ شامی حکومت کے پر جوش حامی اور بہت مشہور مصنف بسام القادی بھی چیخ اٹھا اور کہا کہ بے گناہوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ ان قصبات میں ہونے والے قتل عام کی تصاویر اور ویڈیو کلپ سارے شام میں پھیل گئے ہیں جس سے عوام پر سکتہ طاری ہے۔ ان دردناک مناظر کا اتنا اثر ہوا ہے کہ ملحقہ علاقوں کے کچھ الوائٹ باشندے (جو شام پر حکمران اقلیت ہے) بھی حکومت کے خلاف ہو گئے اور ایک لاکھ سے زیادہ مہاجروں کو ، جنہیں حکومت نے علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا، مدد دینے نکل آئے۔ بسام القاری بھی الوائٹہے۔ اس نے لکھا کہ یہ قاتل الوائٹ مذہب کی نمائندگی نہیں کرتے۔ اس نے لکھا کہ یہ درندے ہیں (اس نے لکڑ بگھاHyena لکھا) او رکہا کہ ایسے قتل عام جگہ جگہ ہوئے۔ بائیدہ کے قتل عام کے موقع پر ایک فوجی نے کہا، ہم نے ایک آدمی بھی زندہ چھوڑا تو وہ (اعلیٰ افسر) ہمیں مار دیں گے ۔ ایک کمرے میں سو عورتیں اکٹھی کی گئیں، پھر ان میں سے کچھ کو باری باری ذبح کر دیا گیا۔ جب فوجی واپس گئے تو گاؤں کی تمام گلیاں اور چوک لاشوں سے بھرے ہوئے تھے اور تمام زمین کو جمے ہوئے خون نے ڈھانپ لیا تھا۔ صرف ایک محلے میں 34 بچے ذبح کئے گئے۔ شام میں عوامی ’’بغاوت‘‘ مارچ 2011ء سے شروع ہوئی تھی۔ اب اسے دو سال اور دو مہینے ہو چکے ہیں۔ 26 مہینوں میں سوا لاکھ شہری قتل کئے گئے۔ شام کی آبادی دو کروڑ سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ (2 کروڑ 25 لاکھ) یعنی کراچی شہر کے برابر یا لاہور سے دوگنی۔ شام میں ہر ماہ چار سے پانچ ہزار افراد قتل کئے گئے۔ اندازہ کیجئے، کراچی کے شہر میں چار پانچ یا لاہور میں ڈھائی سے تین ہزار افراد ہر ماہ قتل ہونے لگیں تو کیا قیامت ہو (ہر روز سو قتل) شام میں یہی قیامت دو سال سے برپا ہے۔

جوں جوں درندگی بڑھتی گئی، خود ایران میں بھی کچھ لوگوں نے احتجاج کیا، حتیٰ کہ ایرانی صدر کا ضمیر بھی چیخ اٹھا۔ احمدی نژاد نے سی این این کو انٹرویو میں کہا: ’’شام میں قتل عام سخت قابل مذمت ہے‘‘ یہ بیان دنیا بھر کے اخبارات نے چھاپا لیکن ایرانی میڈیا میں جگہ نہ پا سکا۔ اس کے بعد سے احمدی نژاد معتوب ہیں اور اب ان پر کسی اور الزام میں مقدمہ چلنے والا ہے، امریکہ شامی حکومت کو گرنے سے بچا رہا ہے۔ پڑوسی ملک سے اسلحہ کی کھیپ ہوائی جہازوں کے ذریعے عراق کی فضا سے ہوتی ہوئی امریکہ کی مرضی سے شام پہنچتی ہے۔ امریکہ نے یورپ اور عرب ملکوں کو شامی باغیوں کو اسلحہ دینے سے اب تک باز رکھا ہوا ہے۔ امریکہ کی پہلی ترجیح ہے کہ اسد حکومت برقرار رہے۔ لیکن شام اسد کے ہاتھوں سے پھسل رہا ہے اور شمال و مشرق کا تقریباً سارا ملک باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔

امریکہ جانتا ہے کہ وہ زیادہ دیر اسد حکومت کو نہیں بچا سکتا۔ وہ کیا کرے گا، اس کا کسی کو معلوم نہیں لیکن امریکی پریس کے مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسد حکومت جب گرنے کے بالکل قریب ہوگی، امریکہ ’’القاعدہ‘‘ کا شور مچا کر باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر بمباری کرے گا اور پھر خود یا نیٹو کے ذریعے شام پر قبضہ کر کے اسے عراق کی طرح نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی میں مبتلا کر دے گا۔زمینی میدان جنگ میں تقریباً ہر جگہ باغیوں کا پلڑا بھاری ہے۔ دو سال کی جنگ میں چودہ ہزار شامی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں حالانکہ باغیوں کے پاس فوج سے چھینی گئی بندوقوں اور چھوٹی توپوں، ہلکے راکٹوں کے سوا کوئی اسلحہ نہیں۔

باغی فوجیوں کا جانی نقصان بہت کم ہوا۔ شامی فوج میدان جنگ میں آنے سے گریز کرتی ہے اور دمشق سمیت چند شہری مراکز میں قلعہ بند ہے البتہ دمشق کے شمال اور مغرب میں کچھ علاقوں، خاص طور سے لبنان جانے والے راستوں پر اس کی کارروائیاں جاری ہیں جس میں اسے دو پڑوسی ملکوں سے مدد مل رہی ہے۔ اور زیادہ تر قتل عام انہی علاقوں میں ہو رہا ہے۔ باقی ملک میں قتل عام کیلئے بمباری کی جاتی ہے اور بمباری کا ہدف سکول (تعلیمی اوقات میں) مساجد (نماز کے اوقات میں) اور ہسپتال ہوتے ہیں۔ زیادہ تر سکول، مساجد اور ہسپتال تباہ کئے جاچکے ہیں اور اب ہدف وہ مقامات ہیں جہاں شہریوں کی زیادہ تعداد موجود ہو مثلاً پٹرول پمپ یا راشن ڈپو پر جب ہزاروں افراد لائنیں لگائے کھڑے ہوں تو بمباری کر دی جاتی ہے۔

شام میں دنیا کی حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام جاری ہے جو بوسنیا، فلسطین اور کشمیر سے کہیں آگے نکل گیا ہے۔ امریکہ قاتل فوج کی ’’ٹیکٹیکل سرپرستی‘‘ کر رہا ہے بلکہ تحفظ دے رہا ہے اور کسی اسلامی ملک میں جرأت نہیں کہ وہ قتل عام رکوانے کے لئے ٹھوس اقدام کرے۔ کوئی بھی امریکی غصے کا نشانہ بننے کے لئے تیار نہیں۔

شام میں قیامت کی شام برپا ہے۔ نوحوں سے فضا بھر گئی ہے لیکن شامی سرحد سے باہر کسی کو کچھ سنائی نہیں دے رہا۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں