.

تبدیل شدہ نوازشریف۔ طالبان، زرداری اور امریکہ؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلم لیگ (ن) کی انتخابی جیت اور پی پی پی کی انتخابی شکست کے بعد متوقع وزیراعظم نواز شریف اور صدر زرداری نے اپنی اپنی پارٹی کے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں سے ملاقات کے دوران 20 مئی کو جو کچھ کہا ہے وہ امریکہ کے محکمہ خارجہ اور پاک، امریکہ تعلقات کے پالیسی سازوں اور نفاذ کرنے والے امریکیوں نے بڑی دلچسپی اور توجہ سے دونوں کے ارشادات کو سنا ہے۔ امریکہ میں بسنے والے پاکستانی حق ووٹ سے محرومی کے باوجود پاکستان کے حالات سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رہنے کی جستجو میں پاکستانی میڈیا کے ذریعے باخبر رہتے ہیں۔ انہوں نے بھی دونوں کے بیانات کی عملی تعبیر دیکھنے کی دعا بھی کی ہے۔ البتہ امریکیوں نے نواز شریف کے اس اعلان کو توجہ سے سنا ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات کیلئے تیاریاں کررہے ہیں اور مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مولانا سمیع الحق کے ذریعے طالبان سے رابطے کریں گے جبکہ صدر زرداری کے اس بیان کو بھی نوٹ کیا گیا کہ عالمی قوتوں اور بعض ملکی اداروں نے ان کی پارٹی پی پی پی کی انتخابی شکست میں رول ادا کیا ہے۔

صدر زرداری یہ بتانا بھول گئے کہ عوامی حمایت و تائید سے اقتدار میں آنے والی پی پی پی حکومت کو عوام کی تائید سے کس نے اور کیسے محروم کیا؟ اور کسی داخلی و عوامی وجہ کے بغیر ہی صرف عالمی قوتوں نے ان کی پارٹی کو اقتدار سے محروم کرنے کی سازش پر عمل کر ڈالا یا پھر یہ کہنا موزوں ہوگا کہ بعض عالمی قوتوں نے خود ساختہ جلا وطنی سے نکال کر انہیں اقتدار پر بٹھایا اور پھر خراب کارکردگی پر موزوں وقت پر اقتدار سے ہٹانے کا کام کر دکھایا۔ مشرف، بی بی مذاکرات این آر او کے علاوہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور اس کے بعد کے پس پردہ حالات و واقعات پر نظر رکھنے والے کافی کچھ جانتے ہیں کہ اقتدار تک پہنچنے کیلئے کون کون سے خاموش مراحل طے کئے گئے؟ اس لئے یا تو زرداری صاحب کو ماننا ہوگا کہ ان کی حکومت انہی عالمی طاقتوں کے کاندھے پر سوار ہو کر آئی تھی جنہوں نے مناسب وقت پر انہیں سازش کرکے اقتدار سے محروم کردیا اور یا پھر یہ کہنا ہوگا کہ وہ عوامی تائید سے بے نظیر کی شہادت کے بعد ہمدردی کا عوامی ووٹ لے کر اقتدار میں آئے اور پھر ان کی بے نظیر کی شہادت سے بے رخی‘ کرپشن‘ لوٹ مار اور عوام سے لاتعلقی نے عوامی تائید سے محروم اقتدار کردیا۔ بہرحال زرداری صاحب کا یہ بیان پی پی ورکر سے لے کر عالمی حلقوں تک کسی کیلئے بھی قابل قبول نظر نہیں آتا۔ عوامی اور عالمی حامیوں نے یکساں طور پر ہی پی پی پی کی حمایت سے تاریخی انداز میں ہاتھ کھینچ لیا۔

طالبان سے مذاکرات کے بارے میں نوازشریف کا بیان ابھی امریکہ اور عالمی حلقوں کے ردعمل کا منتظر ہے۔ گو کہ امریکہ نے دس سال سے زائد طالبان کے خلاف مسلسل جنگ کے بعد طالبان سے مذاکرات کے متعدد راؤنڈ بھی کئے اور اب بھی کسی نہ کسی شکل اور طریقے سے امریکہ کے اپنے طالبان سے رابطے ہیں بلکہ ایک عرصے سے بعض طالبان رہنماؤں کو افغانستان سے دور قطر میں بڑے آرام سے رکھنے کی وجہ امریکہ اور طالبان مذاکرات ہیں اور ان مذاکرات کے انتظار میں یہ طالبان رہنما ایک عرصہ سے وہاں مقیم ہیں بلکہ بعض تو اپنے نوزائیدہ بچوں کو افغان سفارت خانہ میں بطور افغان شہری رجسٹر کرا چکے ہیں لیکن عالمی پاور امریکہ خود تو طالبان سے مذاکرات یا جنگ کرنے میں اپنی پسند اور مرضی کا مالک ہے مگر کسی دوسرے اتحادی کیلئے یہ اصول منظور نہیں ہے لہٰذا میاں صاحب کے اس بیان کے بارے میں ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا نواز شریف نے اپنے امریکی رابطوں کے چینل کے ذریعے امریکی مشورے اور منظوری سے یہ مذاکرات طالبان سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے یا پھر ازخود ہی یہ فیصلہ کرکے طالبان کی پیشکش کو قبول کرلیا گیا ہے؟

ویسے موجودہ صورتحال میں ایک مضبوط اور مدلل موٴقف کے طالبان سے مذاکرات میں امریکہ کیلئے بہتر مفاد کا تناظر پیش کرکے پاک، امریکہ باہمی اعتماد کے ساتھ طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا پاکستان کیلئے یوں مفید رہے گا کہ (1) امریکہ افغانستان سے اپنی فوج کا محفوظ انخلاء چاہتا ہے اور پاکستان کے طالبان سے مذاکرات میں پاکستانی سرزمین پر امریکی فوج اور ساز و سامان کا انخلاء تخریب کاری اور دہشت گردی کے بغیر پُرامن طور پر ممکن ہوسکے گا۔ پاکستان بھی امریکی انخلاء محفوظ اور پُرامن چاہتا ہے۔ اگر مذاکرات کے ذریعے طالبان کو پاکستانی سرزمین پر اس محفوظ اور پُرامن انخلاء کیلئے آمادہ کرلیا گیا تو اس میں پاکستان اور امریکہ دونوں کا مشترکہ مفاد ہے۔ (2) دس سالہ مسلسل امریکہ، طالبان جنگ سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ ابھی تک جنگ کے ذریعہ طالبان کو ختم نہیں کیا جاسکا اور امریکہ نے خود بھی طالبان سے مذاکرات کئے ہیں۔ (3) پاکستانی معیشت مزید دہشت گردی کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی۔ (4) پاکستانی عوام نے حالیہ انتخابات میں جس شعور اور اپنے اعتدال پسند ہونے کا جو ثبوت دیا ہے وہ دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ مذہبی انتہا پسندوں کو الیکشن میں ایک انتہائی مختصر جگہ ملی ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں اعتدال پسند معاشرہ ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔ ڈائیلاگ کے ذریعہ پاکستانی سرحدوں میں طالبان کو غیر مسلح کرنے میں اگر کامیاب ہوگئے تو یہ بھی دنیا کیلئے ایک مثال ہوگی۔ ڈائیلاگ اگر ناکام ہوتے ہیں تو پھر دوسرے آپشنز موجود تو ہوں گے۔

گزشتہ روز کونسل آف فارن ریلیشنز کی جانب سے ایک ”میڈیا کال۔ ان“ کے ذریعے پاکستان میں امریکہ کے سابق سفیر کیمرون منٹر اور پاکستانی امور کے ماہر اسکالر ڈینیل مارکی کے پاکستانی انتخابات میں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی جیت، پی ٹی آئی کی کارکردگی‘ ایم کیو ایم اور پی پی پی کا رول اور انتخابی دھاندلیوں کے موضوعات پر تجزیہ سننے اور سوال کرنے کا موقع ملا۔ ظاہر ہے کیمرون منٹر پاک، امریکہ تعلقات کے انتہائی مشکل دور میں سفیر تھے اور بہت سے امور کے فیصلے‘ مستقبل کی سمت اور پبلک اور خفیہ امور سے واقف اور امریکی سوچ کا حصہ بھی رہے ہیں۔ ڈینیل مارکی بھی پاکستانی امور کے ماہر ہیں۔ اس گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ عمران خان کا جماعت اسلامی سے خیبر پختونخوا میں اشتراک ایک منفرد دلچسپ اور اہم تجربہ ہوگا۔ پاکستانی عوام نے اپنی جمہوریت نوازی کا واضح ثبوت دے دیا ہے۔ نواز شریف ایک اعتدال پسند اور مضبوط لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔ پاکستانی سیاسی پارٹیوں کو آپس میں تصادم کے بجائے بقائے باہمی کی راہ پر چلنا چاہئے۔

امریکہ کو نواز شریف کے ”عقابی ماضی“ یعنی ایٹمی دھماکے وغیرہ جیسے اقدامات کو نظر انداز کرکے ایک موٴثر ورکنگ ریلیشنز شپ کے تحت کام کرنا چاہئے۔ نواز شریف کو چاہئے کہ وہ انتقام نہ لیں بلکہ پرویز مشرف کو ملک سے محفوظ ایگزٹ دے کر قومی مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔ بھارت سے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے سابق صدر بل کلنٹن کے دور میں بھارتی وزیراعظم واجپائی کے ساتھ جو عمل شروع کیا تھا اس کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ 4 جولائی 1999ء کو جب کارگل کی جنگ نے بقول امریکی ماہرین بروس ریڈل پاکستان اور بھارت کو ایٹمی جنگ کے خطرہ سے دوچار کردیا تھا تو نواز شریف پریشانی کے عالم میں تعطیل کے روز واشنگٹن میں صدر بل کلنٹن سے مذاکرات کررہے تھے، ان مذاکرات نے نواز شریف کے بارے میں امریکیوں پر ایک امن پسند دائیں بازو کے لیڈر ہونے کا تاثر قائم کیا۔ اب نواز شریف پہلے سے زیادہ تحمل‘ صلح جوئی اور تدبر کے حامل نظر آتے ہیں ۔اوباما انتظامیہ دائیں بازو کے اعتدال پسند نواز شریف کو ملنے والے عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے پاک، امریکہ تعلقات کو درپیش مسائل کو مذاکرات کی میز پر ایک بہتر ماحول میں لاکر حل کرنا چاہتی ہے۔ نواز شریف کو بھی اب پہلے سے زیادہ تحمل اور تدبر کے ساتھ پاک، امریکہ تعلقات کو ہینڈل کرنا ہوگا۔ کارگل کے مذاکرات کیلئے 4 جولائی 1999ء کو اپنے ساتھ جن تین وزراء کو واشنگٹن لائے تھے اور انہوں نے مذاکرات کے دوران جس طرح نواز شریف کو اپنی کارکردگی سے مایوس کیا تھا وہ میاں صاحب کو لازماً یاد ہوگا انہیں واشنگٹن سے تعلقات کو بہتر طور پر چلانے کیلئے بااعتماد ساتھی اور ماہرین کی ایک بہتر ٹیم کی ضرورت ہے۔

واشنگٹن کے فرنٹ پر ایک تجربہ کار اور انتہائی متحرک ایسے سفیر کی ضرورت ہے جو پروٹوکول کے مسائل میں الجھے بغیر وزیراعظم کو نصف شب کے بعد بھی جگانے کا بوقت ضرورت اختیار رکھتا ہو۔ ماضی کی طرح جاگیردار سیاست دان کے تقرر کا تجربہ نقصان دہ ثابت ہوگا۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.