طالبان سے مذاکرات

ارشاد احمد عارف
ارشاد احمد عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

میاں نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان سے خطاب میں طالبان سے مذاکرات کی بات کرکے امریکہ نواز، طالبان دشمن اور مذہب بیزار عناصر کو پریشان کردیا ہے۔ سول ملٹری تعلقات میں منتخب حکمرانوں کی بالا دستی کے علمبردار یہ عناصر اب ایک منتخب عوامی رہنما کے مقابلے میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بیان اور موقف کی تائید و تحسین کررہے ہیں اور میاں صاحب کو یہ باور کرانے میں مصروف ہیں کہ انہیں فوجی سربراہ کے نقش قدم پر چلنا چاہئے جو طالبان کو بندوق کے زور پر ختم کرنے کی سوچ رکھتے ہیں اور ان کے خیال میں کسی قسم کے مذاکرات کے حق میں نہیں۔ حالانکہ یہ بھی فریب نفس کے سوا کچھ نہیں۔

لاہور میں خطاب کے دوران میاں نواز شریف نے کہا”طالبان کی مذاکرات کی پیشکش کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے یہی بہترین آپشن ہے، طالبان سے بیٹھ کر بات کیوں نہ کریں“۔جب یہی بات عمران خان کرتے تھے تو انہیں طالبان خان اورنہ جانے کیا کچھ کہا جاتا تھا۔ ان کے بعض قریبی ساتھی بھی مذاق اڑاتے مگر آج یہ بات ایک کروڑ اڑتالیس لاکھ ووٹ لے کر وزیر اعظم کے منصب تک پہنچنے والا رہنما کہہ رہا ہے جسے بالآخر دہشتگردی کے مسئلہ سے نمٹ کر ملک میں امن لانا اور سرمایہ کاری کا ماحول پیدا کرنا ہے تو اس کی بات رد نہیں کرسکتے مگر طالبان دشمن ذہنیت کا کیا علاج؟

چالیس ہزار شہریوں اور پانچ ہزار فوجی افسروں اور جوانوں کی شہادت کی آڑ لے کر مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں کو اچھی طرح علم ہے کہ گزشتہ پانچ سال میں کل جماعتی کانفرنس اور پارلیمنٹ کے ذریعے قومی قیادت تمام عسکریت پسند گروہوں سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرچکی ہے۔ تھری ڈیز کے فارمولے میں ایک ڈی ڈائیلاگ کا تھا جبکہ ڈئیرنس پر عرصہ دراز سے عمل ہورہا ہے۔ فوجی آپریشن ا ور امریکی ڈرون حملوں کی صورت میں ڈئیرنس کا نتیجہ مزید دہشتگردی اور پاکستان کے عدم استحکام کی صورت میں نکلا تو کیوں نہ پھر ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کیا جائے۔ دستیاب آپشن کو آزمایا جائے،پھرڈیویلپمنٹ کے ذریعے قبائلی عوام کو امن کے ثمرات سے مستفید ہونے کا موقع ملے۔

فوجی آپریشن کے بعد پاک فوج سوات سمیت ہر علاقے میں متعدد مسائل و مشکلات کا شکار ہے۔اڑھائی تین سال بعد بھی سول انتظامیہ ان علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کے قابل نہیں اور خدشہ یہ ہے کہ جونہی پاک فوج یہ علاقے خالی کرکے بیرکوں کا رخ کریگی عسکریت پسند دوبارہ قابض ہوجائیں گے۔ امریکہ طالبان سے جس مقصد کے لئے مذاکرات کررہا ہے یعنی محفوظ انخلاء اور افغانستان میں استحکام وہی ہمارے پیش نظر ہونا چاہئے تاکہ امریکی پسپائی کے بعد ہم اس ابہام سے دو چار نہ ہوں جو سوویت یونین کی شکست کے بعد افغانستان اور پاکستان دونوں کا مقدر بنا۔ میاں نواز شریف کو یقینا یاد ہوگا کہ معاہدہ پشاور اور معاہدہ کابل کی ناکامی کی وجوہات کیا تھیں اور اس میں امریکی نمائندے بینن سیون کا کیاکردار تھا۔

طالبان سے مذاکرات کا عمل شروع کرنے سے قبل مسلم لیگ (ن) کو جس ہوم ورک کی ضرورت ہے وہ مکمل ہے؟ یہ اہم سوال ہے اور اس سے بھی اہم یہ کہ امریکہ اس عمل کی تائید کریگا، معاونت یا مخالفت؟ کیونکہ طالبان اور پاک فوج اگر اپنی کارروائیاں روک کر سنجیدہ مذاکرات کی راہ ہموار کرتے ہیں تو انہیں کسی ڈرون حملے سے سبوتاژ نہیں ہونا چاہئے جیسا کہ ماضی میں وانا اور شکئی معاہدہ کے موقع پر ہوا۔ طالبان کے تمام گروہ بشمول مولوی فضل اللہ مذاکراتی عمل کا حصہ ہوں گے یا نئی حکومت ہر گروہ سے الگ الگ مذاکرات کریگی؟ سیز فائر پر عملدرآمد اور مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں معاہدے کی مکمل پاسداری کی ضمانت کون فراہم کریگا؟ مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمن یا کوئی اور؟ طالبان کے کم از کم مطالبات کیا ہوں گے اور وہ کہیں افغانستان میں مداخلت جاری رکھنے اور پاکستان میں اپنی مرضی کا اسلام نافذ کرنے کی شرط تو عائد نہیں کریں گے؟ جنہیں تسلیم کرنا کسی حکومت کے بس میں نہیں؟

کیا آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی مذاکرات کے حق میں ہیں؟ اس سوال کا جواب فوجی سپہ سالا ر اڑھائی تین ماہ قبل سینئر اخبار نویسوں سے بریفننگ میں دے چکے ہیں جب انہوں نے اے این پی اور جے یو آئی کی طرف سے امن کانفرنسوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ”محض چھ ہفتے تک انتخابی جلسوں کی حفاظت کے لئے مذاکرات کی پیشکش کو قبول کرنا دانشمندی نہیں۔ اس سے میدان جنگ میں دہشتگردوں سے برسرپیکار سپاہی کنفیوژ ہوتا ہے۔ نئی حکومت کو تمام اداروں کیInputلے کر واضح ایجنڈے پر سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہئیں اور پاکستانی آئین کے دائرے میں“ویسے بھی اگر تحریک طالبان پاکستان عسکریت پسند ی ترک کرکے مذاکرات کی میز پر آتی ہے اور پاکستانی معاشرے میں امن و استحکام واپس لوٹتا ہے تو بھلا پاک فوج کو اس پرکیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ رہی انتہا پسندی اور بنیاد پرستی تو یہ ہمارے لبرل عناصر کا درد سر ہے پاک فوج کا نہیں کہ وہ بندوق لے کر ہر کلمہ گو اور راسخ العقیدہ مسلمان کا قلع قمع کرتی پھرے۔ یہ عناصر بلوچستان کے علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کے حق میں ہیں۔

اگر میاں صاحب اس حوالے سے ہوم ورک مکمل کرچکے ہیں ،مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق اور بعض قبائلی سردار مذاکراتی عمل شروع کرنے میں ان کے مددگار ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کے لئے یہ وقت موزوں ہے تو پھر انہیں حلف برداری اور کابینہ کی تشکیل کے بعد پہلا کام یہی کرنا چاہئے ،چاہیں تو عمران خان اور سید منور حسن کا تعان حاصل کرسکتے ہیں لیکن اگر مناسب ہوم ورک نہیں ہوا، قومی اداروں سے معقولInputنہیں ملی تو پھر بیان بازی سے گریز کریں تاکہ مذاکرات کے مخالف اور پاکستان کے دشمن عناصر کوئی نیا کھیل شروع نہ کردیں۔ آخر پیسہ لے کر جنگ جاری رکھنے والے امریکی گماشتے بھی تو ہیں جو جنرل پرویز مشرف کی پالیسی جاری رکھنے اور پاکستان کو کمزور کرنے کی خواہش سے مغلوب ہیں۔ میری ناقص رائے میں تو جنرل پرویز مشرف سے انتقام کی ایک صورت اس کی جملہ پالیسیوں بالخصوص دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ میں تعاون کی پالیسی سے چھٹکارا پانا ہے اور یہ پاکستان کا مفاد بھی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں