وزیراعظم چین کا دورۂ بھارت و پاکستان

پروفیسر شمیم اختر
پروفیسر شمیم اختر
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

مارچ2013ء میں عوامی جمہوریہ چین کی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے تقریباً دو ماہ بعد لی کی چیانگ نے ہندوستان اور پاکستان کا دورہ کیا جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ سے تجارت اور معیشت میں سبقت لے جانے کے بعد اب عوامی جمہوریہ چین جنوبی وسطی ایشیا کے ممالک سے ہمہ جہتی روابط قائم کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں کساد بازاری کے باعث چین کی مال کی کھپت میں خاطر خواہ اضافہ ہونے کی امید باقی نہیں رہی جبکہ جنوبی اور وسط ایشیائی ممالک کی تعمیر و ترقی اور صنعت و تجارت میں چین کی شراکت کے مواقع زیادہ روشن نظر آتے ہیں۔ امریکہ وسط ایشیائی ملک افغانستان میں شکست کھا کر فرار ہو رہا ہے اور اپنی جگہ ہندوستان کو سونپ رہا ہے جس کے ایما پر کرزئی جنتا نے بھارت سے 2011ء میں تزویراتی معاہدہ کر لیا جبکہ بھارت افغانستان میں خام لوہے کی نکاسی کا ٹھیکہ حاصل کر چکا ہے اور افغانستان میں سڑکیں، پل تعمیر کرنے کے لیے کرزئی کو 2 ارب ڈالر دے کر اس کی مٹھی گرم کر دی ہے۔

عوامی جمہوریہ چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے 19 مئی تا 21 مئی بھارت کے تین دن کے دورے کے دوران تجارت کے موجودہ 65 ارب ڈالر کے حجم کو 2015ء تک 100 ارب ڈالر تک لے جانے کی توقع کی ہے۔ بھارت کو چین سے دیرینہ گلہ رہا ہے ۔دونوں ملکوں کے میزان تجارت میں بھارت کو 2012ء میں 40.7ارب ڈالر کا خسارہ ہوا اور اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ 2002ء میں یہ خسارہ صرف 2.1 ارب ڈالر تھا۔ بھارت کا مطالبہ ہے کہ یہ خسارہ کم کرنے کے لیے چین کو بھارت کی مصنوعات کے لیے اپنا بازار کھلا رکھنا چاہیے کیونکہ بھارت چین کو موٹر کار، ادویات، اطلاعاتی ٹیکنالوجی فراہم کر سکتا ہے۔ اس میں چین کی صنعت کو نقصان نہیں ہو گا کیونکہ ان اشیاء کی تیاری میں بھارت چین سے بہت آگے ہے۔ چین کے وزیراعظم نے ہامی تو بھر لی لیکن اگر چین بھارت کے لیے اپنی منڈی کھول بھی دیتا ہے تو بھی میزان تجارت چین ہی کے حق میں ہو گا کیونکہ چین صنعت و حرفت میں بھارت سے بہت آگے نکل چکا ہے اور وہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کی حیثیت سے ابھر رہا ہے۔ تاہم چین بھارت کے ساتھ غیر فوجی جوہری ٹیکنالوجی میں تعاون کرنے پر آمادہ ہے۔ بھارت کو شکایت ہے کہ چین اس سے آم نہیں خریدتا۔ تاہم چین بھارت سے تجارتی خطے پر تبادلہ خیالات کرنا چاہتا ہے لیکن اس کی وضاحت نہیں کی جبکہ 22، 23 مئی کو پاکستان کے دورے میں انہوں نے کھل کر اقتصادی راہداری کے قیام پر زور دیا۔ چنانچہ شاہراہ قراقرم کی توسیع،بندرگاہ کی تکمیل اور اس بندرگاہ کو ریلوے اور شاہراہوں کے ذریعے ملک کے دیگر شہروں سے ملانے، جہاز رانی کی سلامتی یقینی بنانے، نئے ہوائی اڈوں کی تعمیر اور سمندری شاہراہوں کی نگرانی جیسے منصوبوں پر عمل درآمد میں چین نے بھرپور معاونت کا عہد کیا۔ یہ بھارت کے لیے خوشخبری نہیں ہو گی نہ اس بھارت نواز ٹولے کی جو اندرون ملک پاکستان کے عوام کو بدظن کرنے کے لیے یہ پروپیگنڈا کرتا رہتا ہے کہ چین بھارت کے قریب ہوتا جبکہ پاکستان کو نظر انداز کرتا جا رہا ہے۔ یہی عناصر گوادر بندرگاہ کی تعمیر کرنے والے چینی انجینئروں کو دہشت گردی کا ہدف بناتے ہیں اور یہی لوگ گوادر کی تعمیر پرمیں چین کے خلاف یوم احتجاج مناتے ہیں۔

چین کے وزیراعظم نے 22 مئی کو سر زمین پاکستان پر قدم رکھتے ہی کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان تزویراتی شراکت ہمیشہ قائم رہے گی خواہ بین الاقوامی صورت حال میں کتنی ہی تبدیلیاں واقع ہوں۔

دونوں ہمسایوں نے مندرجہ ذیل آٹھ شعبوں میں تعاون بڑھانے کا اعلان کیا:
-1 سیاسی تعلقات، -2 معیشت اور تجارت ، -3 ہم آہنگی (Connectivity) ، -4 جہاز رانی کی حفاظت، -5 ہوا بازی اور خلا بازی، -6 عوام کا باہم رابطہ، -7 دفاع اور امور سلامتی میں تعاون، -8 علاقائی اور بین الاقوامی امور میں تعاون۔ چینی وزیراعظم نے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے دونوں ممالک کے ماہرین پر مشتمل ایک توانائی تنظیم بنائی جو روایتی متبادل اور جوہری ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کر کے ملک کو اندھیروں سے باہر نکال لائے گی۔

اپنے چینی مہمان کی موجودگی میں تو بھارت کا سکھ وزیراعظم بڑی چاپلوسی کر رہا تھا یہاں تک کہ اس نے لداخ میں چینی کنٹرول لائن کو مبینہ طور پر عبور کر کے 20 کلو میٹر اندر گھس کر چینی سرحدی فوجیوں کے خیمے گاڑنے پر بھارت نے میڈیا کے شور و دعوے کو بظاہر نظر انداز کر دیا تھا اور طرفین نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں بھارت کے میڈیا کی اشتعال انگیزی پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فریقین کے ذرائع ابلاغ کا اعلیٰ سطحی فورم قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

علاوہ ازیں چین اور بھارت نے اپنی بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان روابط استوار کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا جو کشیدگی کم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ بھارت اور چین نے خلا کو جنگی مقاصد کے استعمال کی مخالفت کی جبکہ جوہری اسلحہ کو تلف کرنے کی تجویز کی۔ یہ بڑے مستحسن اقدامات تھے لیکن چین اور پاکستان کے مابین سمندری شاہراہوں کی حفاظت اور بڑھتے ہوئے تزویراتی تعاون پر بھارت کا وزیراعظم جیسے پھٹ پڑا اور ان دونوں کا نام لیے بغیر کہا کہ بھارت کو اس کے ہمسایہ ممالک سے خطرہ لاحق ہے۔ اس طرح اس نے چین کے وزیراعظم کی بھارت آمد سے پیدا ہونے والی خیر سگالی کی فضاکو مکدر کر دیا۔ کیا یہی بھارت کا تدبر ہے، اگر اس کے ہمسائے اس کے دشمن ہیں تو اس میں ان کا قصور ہے یا بھارت کا؟

چینی وزیراعظم نے یہ کہہ کر کہ پاکستان نے انسداد دہشت گردی میں بڑی قربانیاں دی ہیں امریکہ، بھارت اور کابل کا یہ الزام جھٹلا دیا کہ پاکستان عسکریت پسندوں کی سرپرستی کرتا ہے۔ ان کا یہ بیان کہ چین پاکستان کی علاقائی سالمیت اور آزادی کا احترام کرتا ہے ایسے وقت دیا گیا جب امریکہ پاکستان پر ڈرون اور زمینی حملوں کو جائز قرار دے رہا ہے ۔

البتہ انہوں نے ایک دوست کی حیثیت سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں زنجیانگ کی مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کے عسکریت پسندوں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی، ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستان ان سے مؤثر طریقے سے نپٹ رہا ہے۔ اس وقت پاکستان کو بھی چین کو مشورہ دینا چاہیے کہ وہ زنجیانگ کے مسلمانوں پر ریاستی تشدد روکے اور انہیں ہان نژاد (HAN) چینوں کے مساوی حقوق دے کر قومی دھارے میں شامل کر لے۔ حکومت پاکستان نے کبھی چین مخالف عسکریت پسندوں کو اندرون ملک پناہ گاہیں نہیں فراہم کیں جیسے بھارت نے دلائی لاما کے بدھ پیروکاروں کو چھوٹ دے رکھی ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایشیا بحر الکاہل میں امریکہ جاپان، جنوبی کوریا، فلپائن، ویتنام، تائیوان کو متنازع جزائر کے مسئلے پر چین کے خلاف محاذ آرائی کرا رہا ہے جس کے جواب میں چین روس، پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ مل کر اس خطے میں امریکہ کی بالادستی کو ختم کرنا چاہتا ہے لیکن وہ امریکہ کی طرح فوجی معاہدوں کی بجائے آزاد تجارتی خطہ قائم کر کے ان ممالک میں مستحکم اقتصادی روابط قائم کرنا چاہتا ہے تا کہ ان کے باشندے خوشحال ہو جائیں ، اس طرح وہ امریکہ کے ممکنہ تسلط سے نجات حاصل کر لیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں