پاک ہند تعلقات: چین کی تقلید

زاہدہ حنا
زاہدہ حنا
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

گیارہ مئی 2013 کو ہونے والے انتخابات کے بارے میں تجزیہ نگاروں اور سیاسی پنڈتوں کا خیال تھا کہ جن مہروں کو سال بھرکی مدت کے دوران سامنے لایا گیا ہے، اس کے بعد یہ ممکن نہیں ہوگاکہ قومی حیثیت رکھنے والی پیپلز پارٹی یا پاکستان مسلم لیگ (ن) دونوں میں سے کوئی اتنے ووٹ حاصل کرسکے کہ پارلیمنٹ میں مشکل فیصلے کرسکنے کی پوزیشن میں ہو۔ بیشتر لوگوں کا یہی خیال تھا کہ پی ٹی آئی، پی ایم ایل (ن) کے ووٹ کاٹے گی ساتھ ہی کچھ نقصان پیپلز پارٹی کو پہنچائے گی اور ایک اہم سیاسی جماعت بن کر پارلیمنٹ میں بیٹھے گی۔ یہ تمام اندازے اس وقت دھرے رہ گئے جب بیلٹ باکس کھلے اور عوام نے ثابت کردیا کہ وہ بڑے بڑے منصوبہ سازوں سے کہیں زیادہ ذہین ہیں۔ انھوں نے ووٹ اپنے مسائل کے حل کے لیے دیے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں گزشتہ پانچ برس کے دوران اچھی کارکردگی دکھانے والے مسلم لیگ (ن) ان کی پہلی ترجیح بن گئی ۔

الیکشن کمیشن نے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں ان کے مطابق مجموعی طور پر 55.2 فیصد لوگوںنے ووٹ ڈالے، رپورٹ کے مطابق پی ایم ایل (ن) کو 2008 کے انتخابات کی نسبت 80 لاکھ ووٹ زیادہ ملے ہیں اور اس مرتبہ اس کے ووٹوں کی تعداد ایک کروڑ 48 لاکھ سے زیادہ رہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے توغلط نہ ہوگا کہ پاکستانی عوام نے اس جماعت کے منشور کو یک سو، ہوکر ووٹ دیا ہے اور اب وہ اس سے یہی خواہش رکھتے ہیں کہ وہ ملک کے سنگین مسائل کو حل کرنے میں تیزی اور مستعدی دکھائے۔ بجلی کا بحران، مہنگائی ، بیروزگاری اور دہشت گردی ملک کے وہ مسئلے ہیں جنہوں نے لوگوں کا جینا دوبھرکررکھا ہے۔ لیکن کچھ اور مسئلے بھی ہیں جن کی طرف میاں صاحب اپنی اولین فرصت میں توجہ دیں تو درج بالا تینوں مسئلے حل کرنے میں بھی انھیںمدد مل سکتی ہے۔ وہ ایک سرد وگرم چشیدہ سیاستدان ہیں اور جانتے ہیں کہ جذباتی نعروں کی بنیاد پر سیاست کرنا بے حد آسان ہے لیکن زمینی حقائق خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں ان کا ادراک کرنا اور اس کے مطابق پالیسیاں بنانا ہی کسی منجھے ہوئے سیاستدان کاکام ہے۔

وہ پاکستان کے ان گنے چنے سیاستدانوں میں سے ہیں جو اپنی انتخابی سیاست کے لیے نفرت، جنون اور انتہاپسندی کا سہارا نہیںلیتے۔ انھوں نے 1997 میں اور اس کے بعد 2008 اور 2013 میں جب اپنا انتخابی منشورجاری کیا تو اس میں یہ کھل کر کہا کہ وہ پڑوسی ممالک سے بہترین تعلقات کے حامی ہیں اور تمام پرانے تنازعات کو مذاکرات کی میز پر حل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چین اور بعض دوسرے ملکوں کی مثال دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ باہمی تنازعات کے حل کا معاملہ جاری رہنا چاہیے اور ہندوستان سے فوری طور پر تجارت کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ پاکستان میں روزگار کے نئے مواقعے پیداہوسکیں، بیروزگاری پر قابو پانے میں مدد مل سکے اور معیشت میں طویل مدتی ترقی ممکن ہوسکے۔

ہندوستان سے معمول کے تعلقات کے حوالے سے ان پر اعتراض کرنے والے سیاستدانوں کو ان پر حرف زنی کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اگر 2008 کی نسبت انھیں اس مرتبہ 80 لاکھ زیادہ ووٹ ملے ہیں اور اگر ان کے کل ووٹوں کی تعداد ایک کروڑ 48لاکھ سے زیادہ رہی ہے تو کیایہ اس بات کی علامت نہیںہے کہ ان کے ووٹروں نے سنگین اندرونی مسائل اور ان کی خارجہ پالیسی بہ طور خاص ہمسایہ ملکوں سے بہتر اور گرم جوش تعلقات کے بارے میںان کا نقطہ نظر جانتے ہوئے انھیں ووٹ دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ عوام اپنے روز مرہ کے مسائل کے حل کے لیے ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ میاں صاحب اگر پاکستان ، ہندوستان تعلقات کا آغاز 1999 کے شکستہ معاملات سے بحال کرنا چاہتے ہیں جس کی انتہا جناب اٹل بہاری باجپائی کی بس یاترا اور مینار پاکستان پر ان کی حاضری تھی تو اس کے لیے ان پر ’’غداری‘‘ کا الزام نہیں لگ سکتا۔ یہ عوامی سمجھداری اور وقت شناسی کی مثال ہے۔

میاں صاحب نے جنوبی ایشیا کے ملکوں سمیت دنیا کے تمام ممالک سے اچھے تعلقات کی بات صرف اپنے منشور میں نہیں کی۔ وہ جانتے تھے کہ منشور کو کچھ ہی لوگ پڑھنے اور سمجھنے کی استعداد رکھتے ہیں، اسی لیے اپنی انتخابی مہم کے آخری دنوں میں انھوں نے کھل کر خطے میں تجارت اور بہتر تعلقات کی بات بار بار کی۔ انھوںنے ٹیلی ویژن چینلوں کو انٹرویو دیتے ہوئے بھی اپنے مؤقف کی کھل کر وضاحت کی۔ آج ان کے مخالفین ان سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ انھوںنے اس بارے میں اپنے خیالات پس پردہ رکھے اور لوگوں کو دھوکا دیا۔ جب انتخابی نتائج آرہے تھے اس وقت بھی وہ مختلف چینلوں کو دیے جانے والے انٹرویو میںہندوستان سے ہر شعبے میں بہترین تعلقات قائم کرنے اور تمام پرانے تنازعات کو مذاکرات کی میز پر طے کرنے کا عندیہ دیتے نظر آئے۔

میاں صاحب کے انتخابات جیت جانے پر ان کے آبائی قصبے جاتی عمرا میں مٹھائیاں تقسیم ہوئیں اور بھنگڑے پڑے۔ اس بارے میں ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں ایک سروے کرایا گیا جس میںحصہ لینے والوں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی۔ انھوںنے کہا کہ ہندوستانی حکومت کو نواز شریف کی مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب دینا چاہیے اور ہمیں پاکستان کے خلاف شکوک وشبہات ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی کئی معتبر ہندوستانی تجزیہ نگاروں نے ان کی اس جیت پر مثبت تبصرے کیے۔ اس بارے میں ڈاکٹر وید پرتاب ویدک نے لکھا کہ ’’ میاں نواز شریف کی فتح پاکستان ہی نہیں پورے جنوبی ایشیا کے لیے مبارک ثابت ہوگی۔ اگر 1999 میں ان کی منتخب حکومت کا تختہ نہ الٹا جاتا تو اب تک ہندوستان اور پاکستان کے باہمی تعلقات بہت بلند مقام پر پہنچ چکے ہوتے۔‘‘ ڈاکٹر ویدک کا کہنا ہے کہ 1997 کے انتخابات میں ووٹنگ سے دو دن قبل میاں صاحب نے رائے ونڈ کے اپنے فارم ہائوس میں ایک بڑی پریس کانفرنس میں ہندوستان سے تعلقات میں بہتری لانے کا اعلان کیا تھا اور مسئلہ کشمیر کو پرُامن طریقے سے حل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

ڈاکٹر وید لکھتے ہیں کہ ’’میاں نواز شریف کو 1997 کے انتخاب میں اتنی زیادہ سیٹیں ملیں جتنی پورے جنوبی ایشیا کے کسی بھی لیڈر کو اپنے الیکشن میں کبھی نہیں ملی تھیں۔ یعنی ہندوستان سے تعلقات بہتر کرنے پر پاکستان کے عوام نے مہر لگادی تھی۔ اس بار (2013) میں بھی یہی ہوا۔ اپنے منشور میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کی بات انھوں نے کہی اور یہ بھی کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر پرُامن طریقے سے حل کریں گے۔ ‘‘ ڈاکٹر پرتاب کا یہ مضمون مکمل انتخابی نتائج کے آنے سے پہلے ہندوستان کی ایک بڑی اشاعت والے اخبارمیں شایع ہوا تھا۔

حالیہ انتخابات کے فوراً بعد چین کے وزیر اعظم دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے۔ انھوںنے اس وقت کے امکانی اور آج کے یقینی نئے وزیر اعظم میاں نواز شریف سے طویل ملاقات کی۔ یہ ملاقات بڑی اہمیت کی حامل قرار دی جارہی ہے۔ چین کافی عرصے سے پاکستان کی حکومتوں کو یہ نکتہ تعلیم کررہا ہے کہ اسے اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرنا چاہیے جو چین نے اپنایا ہوا ہے۔ چین اور ہندوستان کے درمیان ایک بڑی جنگ لڑی جاچکی ہے۔ چین ہندوستان کی کئی سرحدی ریاستوں پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے معاشی ترقی کو تیز تر کرنے کے لیے ہندوستان سے تمام اختلافات ایک طرف رکھ کر باہمی تجارت کو بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ 25 سال پہلے دونوں ملکوں کے درمیان چند کروڑ ڈالر کی تجارت ہوتی تھی۔ آج یہ تجارت بڑھ کر 78 ارب ڈالر ہوچکی ہے۔ چینی وزیر اعظم نے پاکستان کے حالیہ دورے سے قبل ہندوستان کا دورہ کیا تھا جہاں یہ طے کیاگیاکہ باہمی تجارت کا حجم 2015 تک 100 ارب ڈالر تک پہنچا دیا جائے گا۔

چین ان تمام ترقی پذیر ملکوں کے لیے ایک مثال ہے جو ماضی میں مختلف حوالوں سے ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہ چکے ہیں۔ چین اور ہندوستان ایک دوسرے کے دشمن تھے، امریکا کو چین ایک ظالم سامراجی ملک قرار دیتا تھا، کمیونسٹ چین مغربی یورپ کے خلاف نظریاتی اور معاشی جنگ کی حالت میں تھا۔ آج کی بدلی ہوئی دنیا میں چین نے ترقی کے نئے انداز اختیار کرلیے ہیں۔ یہ بڑی عمدہ بات ہے کہ میاں نواز شریف نے معاشی اور خارجہ تعلقات میں چین کی تقلید کی ہے۔میاںصاحب اس ضمن میں اپنے وژن کو اگربروئے کار لاسکے اور غیر جمہوری عناصر نے ان کی راہ میں مزاحم ہونے کی کوشش نہ کی تو یقیناً وہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کی سیاست میںایک بڑا کردار ادا کریں گے، ایک ایسا کردار جو اس خطے کے انسانوں کا مقدر بدل دے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں