.

ہوشیار رہا جائے

زاہدہ حنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سن 2011ء کے انتخابات کے نتائج دھاندلی کے شور میں مکمل ہوئے۔ یہ شور ہندوستان اور یورپ و امریکا میں بھی کئی بار اٹھا ہے لیکن پھر سب آہستہ آہستہ خاموش ہوجاتے ہیں۔ ہمارے یہاں دھاندلی کی گردان ابھی تک چل رہی ہے لیکن آوازیں آہستہ آہستہ مدھم پڑ رہی ہیں۔ سب سے دلچسپ تو ان کی شکایتیں ہیں جن میں سے بعض کے صف اول کے رہنمائوں کو مسرت شاہین کے 99 ووٹوں سے بھی کم ووٹ ملے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن دھاندلی کو نہ روکتا تو وہ بھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہوتے۔ اس نوعیت کے دعوے کرنے والوں کو خواب خرگوش میں خوبصورت خواب دیکھتے رہنا مبارک ہو۔

پاکستان کی 65 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک منتخب جمہوری حکومت نے اپنی آئینی مدت مکمل کی، نگراں حکومت نے انتخابات کرائے اور اب نئی منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کرنے کا عمل مکمل ہورہا ہے۔ یہ ہماری خوش نصیبی ہے اور اس پر جس قدر خوش ہوا جائے وہ کم ہے۔ ہندوستان کی آزادی اور پاکستان کا قیام ایک ہی وقت عمل میں آیا لیکن ہم جمہوریت کے تسلسل سے محروم رہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہندوستان جمہوری راستے پر چل کر ترقی کرتا رہا اور ہم پہلی مرتبہ اس مسرت سے آشنا ہوئے ہیں کہ ہمارے یہاں بھی اقتدار کی منتقلی جمہوری انداز میں ہورہی ہے۔ سندھ اس حوالے سے خوش نصیب ہے کہ یہاں سب سے پہلے اقتدار کی منتقلی مکمل ہوئی۔ اس کے بعد خیبرپختونخوا کا نام آتا ہے۔

دوسرے صوبوں اور قومی اسمبلی میں بھی یہ عمل جلد مکمل ہونے والا ہے اورملک بھر کے لوگ بے تابی سے اس بات کے منتظر ہیں کہ وہ جمہوریت کو اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لاتے دیکھیں۔ اس حوالے سے کچھ لوگوں کی بے تابی دیدنی ہے۔ ہتھیلی پرسرسوں جمانے کا محاورہ ان ہی لوگوں پر صادق آتا ہے۔ یہ لوگ مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے تمام مسائل کا حل چشمِ زدن میں چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں، کچھ لوگوں کو میاں صاحب کے حلف اٹھانے سے پہلے ہی ان کی ’نااہلیاں‘ اور ’خرابیاں‘ نظر آگئی ہیں اور وہ ان پرتنقید کررہے ہیں۔ تازہ ترین امریکی ڈرون حملے نے پاکستانی تحریک طالبان کے سرکردہ رہنما اور ان کے بعض ساتھیوں کو ہلاک کردیا جس پر ایک ہنگامہ برپا ہے۔ عمران خان، منور حسن، حمید گل اور کئی دوسرے نواز شریف سے فرمائش کررہے ہیں کہ وہ امریکا پر دبائو ڈال کر ان حملوں کو رکوائیں اور اگر یہ ممکن نہیں تو امریکی ڈرون مار گرائیں۔

ان کی فرمائش سر آنکھوں پر لیکن کوئی ان تمام رہنمائوں سے یہ نہیں پوچھتا کہ شمالی وزیرستان میں جیٹ طیارے جن آبادیوں پر بمباری کررہے ہیں اور جن کی وجہ سے صرف مبینہ دہشت گرد ہی نہیں مارے جارہے، بے گناہ پاکستانی بھی اس کا نوالہ بن رہے ہیں، ان کے بارے میں ان رہنمائوں کا کیا خیال ہے اور اسے رکوانے کے لیے یہ صاحبان کیا کررہے ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے مقتدر قوتوں سے قریبی تعلقات ہیں۔ انھیں جہاں امریکی ڈرون حملوں کی مخالفت میں آواز بلند کرنی چاہیے وہیں شمالی وزیرستان میں جیٹ طیاروں کی بمباری کا مسئلہ بھی اٹھانا چاہیے۔ یہ بہت اچھا ہوا کہ عمران خان اور شیخ رشید منتخب ہوکر قومی اسمبلی میں پہنچ گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ دونوں حضرات اپنے مخالفین کو جس طرح کے طعنے دیتے ہیں اور جو لب ولہجہ اختیار کرتے ہیں، اسے سن کر ان خواتین کی کمی محسوس نہیں ہوتی جو ایسے موقعوں پر جی کھول کر اپنی زبان کا بے تکان استعمال کرتی ہیں۔

چند دنوں بعد ہم صبح و شام یہ تماشے دیکھ سکیں گے۔ لیکن اس وقت جی چاہتا ہے کہ بعض دوسرے ملکوں کی جمہوریت کے بارے میں کچھ بات کی جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ وہاں ان معاملات کے بارے میں ادیبوں نے کیا لکھا اور کیا سوچا۔

انیسویں صدی کی امریکی جمہوریت کے تذکرے سے پہلے کیوں نہ اکیسویں صدی کے ایک ہندوستانی شاعر، ناول نگار اور اخبارات سے جڑے ہوئے نوجوان روندر پربھارت کا ذکر کیا جائے جس نے ہندوستانی جمہوریت کے بارے میں 136 صفحوں کا ایک ناول ’تاکہ بچی رہے جمہوریت‘ لکھا جو 2011 میں یعنی اب سے 2 برس پہلے شائع ہوا ۔ ایک جمہوریہ میں دلت یعنی اچھوت کن عذابوں میں گرفتار ہوتے ہیں اور کس طرح زندگیاں گزارتے ہیں، یہ معاملات اس ناول میں اٹھائے گئے ہیں اور ہمیں جمہوریت کے بہت سے ان پہلوئوں سے روشناس کراتے ہیں جن کی طرف ہماری نگاہ نہیں ہوتی۔

انگلستان جو دنیا کی سب سے پرانی جمہوریت ہے اور جہاں کی پارلیمان کو ’پارلیمنٹ کی ماں‘ کہا جاتا ہے، وہاں بھی ’جمہوریت‘ کو درپیش مشکلات لکھنے والوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہیں۔ برطانیہ کے ایک ادیب اور ڈرامہ نگار مائیکل فرائن نے 2003 میں ’’جمہوریہ‘‘ کے نام سے ایک ڈرامہ لکھا جو سب سے پہلے لندن کے رائل نیشنل تھیٹر میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد مغرب کے کئی اہم شہروں کوپن ہیگن، اوسلو، اسٹاک ہوم، ویلنگٹن، وینکوور اور ٹورنٹو میںبھی اسے کامیابی سے اسٹیج کیا گیا۔ یہ ڈراما مغربی جرمنی کے چانسلر ولی برانٹ کے ایک بہت مشکل فیصلے کو کھیل کے مرکزی خیال کی طرح پیش کرتا ہے اور لوگوں کو جمہوریت سے متعلق بہت سے معاملات پر سوچنے پر کے لیے مجبور کرتا ہے۔

یوں تو 1957ء میں شائع ہونے والا این رینڈ کا ضخیم ناول ’’ایٹلس شرگڈ‘‘ بھی ایک اہم سیاسی ناول ہے لیکن جمہوریت اور اس کے پردے میں بدعنوان افراد کی سیاسی قلابازیوں کے بارے میں پہلا اور اہم ناول 1880 کے واشنگٹن میں شائع ہوا۔ لکھنے والا اپنے دور کا ایک اہم ادیب اور صحافی تھا لیکن اس ناول میں اس نے جن مقتدرین کو بے نقاب کیا تھا، وہ ان سے اتنا خوفزدہ تھا کہ اس نے ناول پر اپنا نام نہیںدیا۔ اس کی موت کے 38 برس بعد لوگوں کو اس کے ناشر کے وسیلے سے معلوم ہوا کہ یہ تحریر امریکی سماج کے ایک اہم سیاسی اور ادبی خانوادے کے بیٹے ہنری ایڈم نے لکھی تھی۔

یوں تو مشہور امریکی ادیب مارک ٹوائن کا سیاسی ناول امریکا میں تہلکہ مچا چکا تھا لیکن اس گمنام ناول ’’جمہوریت‘‘ نے امریکا سے زیادہ برطانیہ میں دھوم مچائی جہاں لوگوں کو اس بات پر مسرت ہوئی کہ امریکا کی بدصورت اور بدعنوان جمہوریت کا چہرہ دنیا کو دکھا دیا تھا۔ اس گمنام ناول نگار نے درست ثابت کردیا تھا۔برطانویوںکی خوشی کا یہ سبب بھی تھا کہ انھیںاپنی جمہوریت کے ’’پاک صاف‘‘ اور’’مستند‘‘ ہونے پر یقین تھا۔ وہ امریکیوں کو اس لیے بھی ناپسند کرتے تھے کہ کسی زمانے میں امریکا ان کی نو آبادی تھا اور برطانیہ کی شاہی بحریہ اور بری افواج کو شکست دے کر امریکیوںنے آزادی حاصل کی تھی۔ برطانیہ والوں کا امریکیوں کے بارے میں وہی طنز آمیز رویہ تھا جوخاندانی لوگوں کا نودولتیوں کے بارے میں ہوتا ہے۔

ہنری ایڈمز نے اپنے ارد گرد بعض ایسے سیاستدانوں کا حقیقی چہرہ دیکھا تھا جو انتخابات کے زمانے میں برساتی کھمبیوں کی طرح اُگ آتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ناجائز طور پر اکٹھا کی ہوئی دولت ، دھونس اور دھاندلی کے ذریعے بڑے عہدوں تک پہنچنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی دولت اور ان کی طاقت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوسکے۔ اسی کے بعد ایسے مفاد پرست عناصر طاقت اور منصب کا ناجائز استعمال کرتے ہیں اور بڑے سے بڑے عہدے تک پہنچنے کے لیے سب کچھ کر گزرتے ہیں۔

ہنری ایڈمزمورخ تھا، صحافی اور ادیب تھا۔ ایک بلند مرتبت سیاسی خاندان کا بیٹا تھا، اس نے پیرس میں سفارت کاری کی زندگی بھی قریب سے دیکھی تھی، وہ سیاسی اصلاحات میں یقین رکھتا تھا۔ لیکن جب اس نے اپنے ارد گرد بعض ایسے عیار اور شاطر افراد دیکھے جو سیاست میں آئے ہی اس لیے تھے کہ بلند ترین عہدوں پر پہنچ سکیں تو اس کا دل سیاست میں اصلاحات سے اٹھ گیا۔ اپنے ناول ’’جمہوریت‘‘ میں اس نے ایک ایسے امریکا کی صورت گری کی ہے جہاں انتخابی مہم اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے، نیا صدر امریکا منتخب ہوچکا ہے اور انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار اپنے عہدوں پر قائم رہنے یا زیادہ بلند عہدوں پر پہنچنے کے لیے بساط بچھا رہے ہیں۔

اس ناول نے امریکیوں کو اپنے بعض سیاستدانوں اور عہدوںکے لیے سب کچھ کر گزرنے والوں کے لیے، بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔ انھیں اندازہ ہوا کہ صرف ’جمہوریت‘ کی مالا جپنے سے ہی نظام کو بہتر نہیں بنایا جاسکتا اور نہ بدعنوان عناصر سے نجات حاصل ہوسکتی ہے۔ اس ناول نے امریکی سیاست کی تطہیر میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔

ہماری سیاست میںکئی عناصر ایسے ہیں جو اس عزم سے داخل ہوئے ہیں کہ وہ جمہوریت کے نام پر جمہوریت کی راہ میں روڑے اٹکائیں گے۔ ان لوگوں کی سرپرستی جن عناصر نے کی، ان سے ہم سب واقف ہیں۔ یہ وہ ہیں جنھوں نے پہلے الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کو بے توقیر کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، پھر دھاندلی کا وہ شور مچایا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اور اب یہ نئی منتخب حکومت کو ٹانگیں کانپنے اور بزدل ہونے کا طعنے دے کر اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ وہ امریکا سے باقاعدہ جنگ کا آغاز کردے۔ ہمیں ایسے سیاسی رہنمائوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.