.

کیا اوبامہ احمق ہے….؟؟؟

وصی شاہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سماجی ومعاشی طور پر پیچھے رہ جانے والی بیشتر قوموں کی طرح ہم بھی چونکہ امریکہ بہادر کی طرف حسرت اور رشک سے دیکھتے ہیں اس لیے انہی کے سب سے طاقتور بلکہ دنیا کے طاقتور ترین افراد میں سے ایک بارک اوبامہ سے کالم آغاز کرتے ہیں۔

بارک اوبامہ نے اپنی 2008 کی الیکشن مہم میں بھی اور پچھلے سال ہونے والے صدارتی الیکشن میں بھی سوشل میڈیا، فیس بُک کو اپنا پیغام پہنچانے کیلئے خصوصاً اپنے نوجوان ووٹر کو متحرک کرنے کیلئے، پارٹی فنڈ کیلئے خطیر رقم اکٹھا کرنے کیلئے، نہایت مہارت اور کامیابی سے استعمال کیا یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں کچھ حلقوں نے 2008 کے انتخابات کے بعد بارک اوبامہ کو ”First Social Media President“ یعنی ”پہلا سوشل میڈیا صدر“ کا خطاب بھی دیا۔ بارک اوبامہ کے فیس بک پیج پر آج کی تاریخ تک تقریباً ساڑھے تین کروڑ کے قریب لائیکس ہیں اور ایک خیال یہ ہے کہ 2012میں اس پیچ پر جو تقریباً تین کروڑ ووٹرز تھے انہوں نے اوبامہ کو صدارتی الیکشن جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اوبامہ ایک ایسے معاشرے کے نمائندہ اور صدر ہیں جو آزادی اظہار کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ اور جس کے بارے میں ہمارا خیال یہ بھی ہے کہ یہ قومیں اپنے بچوں کو اتنی آزادی دیتی ہیں کہ ان کا تقریباً ہر بچہ بلوغت کو پہنچتے ہی شادی سے پہلے ہی جنسی میل ملاپ میں پڑ جاتا ہے۔ لیکن وہاں بھی والدین یہاں تک کہ امریکی صدر بھی اپنے بچوں کے معاملے میں کیسے سوچتا ہے ان کی پرورش میں کن چیزوں کا خیال رکھتا ہے شاید یہ معلومات ہمارے معاشرے کے بہت سارے افراد کے لیے دلچسپ ہوں۔

بارک اوبامہ نے اپنی دونوں بیٹیوں مالیہ جو کہ تقریباً 15برس کی ہے اور ساشا جو 12 برس کی ہے کو فیس بک استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ یعنی بچیوں کے فیس بک کے استعمال پر باقاعدہ ”بین“ لگایا ہوا ہے۔ اس حوالے سے پہلی بار یہ خبر 2011میں سامنے آئی تھی جب مالیہ تقریباً12 برس کی اور ساشا تقریباً 9 برس کی تھی مگر اس معاملے میں اوبامہ کی سوچ آج بھی بالکل واضح ہے۔ جب 2013 میں اوبامہ دوبارہ صدر منتخب ہوئے تو خبر آئی کہ بچیاں اپنے باپ کے ساتھ فلم دیکھنے جاتی ہیں۔ اکٹھے کھانا کھاتے ہیں۔ لنچ کرتے ہیں۔ ڈنر کرتے ہیں دوستوں سے ملتے ہیں۔ فیملی فرینڈز سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ بچیاں باپ کے ساتھ شاپنگ مالز میں جاتی ہیں اور اپنے باپ کے ساتھ رقص بھی کرتی ہیں لیکن اوبامہ نے ابھی تک انہیں فیس بک استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اوبامہ کا کہنا ہے کہ ”18سال کی ہونے تک دونوں بیٹیوں میں سے کسی کو یہ اجازت نہیں ملے گی….“

بیٹیوں پر فیس بک کے استعمال کی پابندی کے حوالے سے اوبامہ کا کہنا ہے ”کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ کیوں ایسے لوگوں کو ذاتی زندگیوں میں جھانکنے کی اجازت دی جائے جو ہمارے لیے اجنبی ہوتے ہیں اور جن کا ہماری زندگیوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔“

یہ ایک ایسے والد ایک شخص کا احوال ہے جس کی ذہانت اور طاقت کو ساری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ اب آپ پاکستان آجائیں یہ چند دن پہلے کا واقعہ ہے۔ کراچی ڈیفنس فیز فور کے رہائشی تاجر رضوان نامی شخص کا 13 سالہ بیٹا مصطفی فیس بک کا استعمال کرتا تھا اور بیشتر فیس بک یوزرز کی طرح کسی بھی شخص کی دسترس میں تھا کہ کوئی بھی اس سے بات کر سکے اسے پیغام بھیج سکے نتیجہ یہ ہوا کہ فیس بک پر ہی مصطفی کی دوستی ایک ارسلان نامی لڑکے سے ہو گئی جو خود کو مصطفی ہی کا ہم عمر بتاتا تھا اور تھا بھی۔ پیغامات کا تبادلہ ہوا پھر تعارف ہوا پھر دوستی ہو گئی اس دوران مصطفی کی ارسلان کے بڑے بھائی تیمور سے بھی بات چیت شروع ہو گئی کیونکہ فیس بک کا دعویٰ ہی یہی کہ یہ آپ کو لوگوں سے connect کرتی ہے یعنی لوگوں سے جوڑتی ہے رابطہ کرنے میں سہولت دیتی ہے۔ کس قسم کے لوگوں سے جوڑتی ہے اس کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔

اہل خانہ نے کبھی خبر نہ لی نظر ہی نہ رکھی کہ سوشل میڈیا کا استعمال کر کے ماڈرن ہوتا جدید دنیا کے ساتھ چلتا ہوا بچہ فیس بک کے ذریعے کن لوگوں سے دوستی کر بیٹھا ہے کس قسم کے خیالات اس تک پہنچ رہے ہیں ۔ کیا باتیں کرتا ہے۔ کیا کہتا ہے کیا سنتا ہے کس سے کہتا ہے کس سے سنتا ہے کیا دیکھتا ہے کیا شیئر کرتا ہے یقینا اہل خانہ کو اس کی کچھ خبر نہیں تھی۔ مختصر یہ کہ مصطفی اور اس کے فیس بک فرینڈ ارسلان نے ملنے کا پروگرام بنایا اور یہیں سے مصطفی اور اس کے اہل خانہ کی زندگی کے خوفناک لمحات کا آغاز ہوا جن سے ہر والدین کو سبق سیکھنا چاہیے۔ مصطفی کو ملنے کے بہانے بلا کر اغواءکر لیا گیا لیاری میں جا کر قید کر دیا گیا جب مصطفی کے والدین کو 5کروڑ تاوان کیلئے فون آیا تو والدین کو اندازہ ہوا کہ بچوں کی فیس بک دوستی پہ نظر نہ رکھنے کا انجام یہ بھی ہو سکتا ہے۔ مصطفی اور والدین کو یقینا کسی کی دعائیں لگی تھیں کہ مصطفی کو خوفناک پولیس مقابلے کے بعد بازیاب کرا لیا گیا چار اغواءکار مارے گئے اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے 13 سالہ مصطفی کی جان بچ گئی۔ورنہ اس قسم کے کیسسز میں خاندانوں کو رقم اور اپنے پیارے،دونوں سے ہاتھ دھوتے دیکھا گیا ہے۔

مصطفی کا کیس تو سامنے آگیا ورنہ فیس بک کے ذریعے کس قسم کے گھناﺅنے جرائم ہو رہے ہیں اس کی تفصیل کم ہی میڈیا میں آپاتی ہے ۔ ایک چھوٹا سا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ میرے اپنے نام سے میری تصویر چسپاں کر کے فیس بک کے تقریباً 15سے 20 اکاﺅنٹس بنے ہوئے ہیں ان سب میں ملا کر تقریباً دو لاکھ کے قریب فینز ہیں۔ فینز میں سے بیشتر کا تاثر یہی ہے کہ یہ سارے اکاﺅنٹس میرے ہیں جب کہ میں نے انہی ”فیک“ اکاﺅنٹس کی وجہ سے مجبور ہو کر چند ماہ پہلے بے دلی سے فیس بک اکاﺅنٹ بنایا تھا۔ جس کا ایڈریس ہر کالم کے آخر میں درج ہوتا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھی۔ خیر بارک اوبامہ کی مثال ہو یا مصطفی کا حادثہ یا میرے اپنے نام کے درجنوں جعلی اکاﺅنٹس کا معاملہ قارئین کے لیے سب درج کر نے کا ایک ہی مقصد ہے کہ ہمارے بچے ہماری نسلِ نو ہماری قیمتی ترین متاع ہے۔ یوں بھی بدامنی معاشی وسماجی پستی نے ہمارے لیے ایک اولاد ہی کی خوشی باقی رہنے دی ہے۔ کون چاہے گا کہ ان کی اولاد رائج اخلاقی اقدار سے ہٹ کر پستی کا شکار ہو۔ بے راہ روی کی طرف جائے یا ہر اجنبی ہر ایرے غیرے تک اس کی رسائی ہو؟؟؟ نتیجتاً مصطفی جیسے واقعات و حادثات بھی ہو سکتے ہیں اور بچیوں کے معاملے میں ان کی عصمتیں تک غیر محفوظ ہو جاتی ہیں ۔ کوئی احمق اور جاہل ہی ہو گا جو بچوں یا بچیوں کے کمپیوٹرکے استعمال پر جو علم اور انفارمیشن کا منبع بن چکا ہے قدغن لگانا چاہے گا لیکن اگر بچوں اور بچیوں کے اخلاق، عصمت اور زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو، مصطفی جیسے حادثات پیش آرہے ہوں تو کیا پھر بھی ان پہ نظر رکھے بغیر انہیں کمپیوٹر پر ہر قسم کے سوشل میڈیا کے استعمال کی آزادی دی جا سکتی ہے….؟؟؟ یہ فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے کہ آپ اپنے بچے کو کتنی آزادی دینا چاہتے ہیں۔

میرے نزدیک فیس بک کی دنیا ایک ایسے جنگل کی طرح ہے جس میں دیکھنے کو یقینا بہت کچھ ہے مگر اس جنگل میں خونخوار و آوارہ بھوکے بھیڑیے خون آلود دانت نکالے شکار کو بھنبھوڑنے کیلئے بے چین ، معصوموں کی بُو سونگھتے پھر رہے ہیں۔ لہٰذا اول تو اس جنگل میں کم ازکم بچوں کو جانے ہی نہ دیا جائے اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ بچے کی گروتھ اور دانائی اس کے بغیر ممکن نہیں ہے تو کم ازکم تمام تر حفاظتی اقدامات کر کے” جنگل“ کی سیر وقت بچے پر کڑی نظر رکھی جائے تا کہ وہ جنگل کا حُسن بھی دیکھ لے جو سیکھنا ہے سیکھ بھی لے اور خونخوار بھوکے بھیڑیوں سے بھی اُس کو بچایا جا سکے۔ اگر فیس بک کے استعمال کے بغیر دم ہی نکلنے لگے تو…. ورنہ سچ پوچھیں تو بچوں کے لیے گریز ہی بہتر ہے۔

اپنے بچے کے لیے اس فیصلے کا اختیار آپ کے پاس ہے کہ آپ اسے سوشل میڈیا کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں مگر یہ طے ہے کہ اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کے صدر بارک اوبامہ نے امریکہ میں رہتے ہوئے بھی اپنی بچیوں کو فیس بک کے استعمال کی اجازت نہیں دی ہے۔ کیا خیال ہے واحد سپر پاور امریکہ کا صدر بارک اوبامہ بے وقوف ہے کیا….؟؟؟

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.