.

فوج کو مت گھسیٹیے!

تنویر قیصر شاہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جون کا مہینہ چڑھتے ہی امیرِ جماعتِ اسلامی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔وجہ؟حالیہ انتخابات میں اجتماعی ناکامی اور مایوسی لیکن جماعت والوں نے اُن کا استعفیٰ قبول نہ کیا اور کہا:مایوسی کی بھلا کیا بات ہے؟یہ تو اسٹیبلشمنٹ کا کیادھرا ہے۔

جماعتِ اسلامی پاکستان کی ایک ایسی پارٹی ہے جس کے قائدین مذہب کے نام پر،دیگر مذہبی رہنمائوں کی طرح سیاست کرتے ہیں لیکن بوجوہ اِنہیں آج تک کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے،چند سال قبل،جماعت والوں کو پاکستان کے ایک صوبے میں جُزوی حکمرانی کا موقع تو یقیناً ملا لیکن انھوں نے قابلِ رشک روایات کو مستحکم کرنے کا مظاہرہ نہ کیا۔یہ ایم ایم اے تھی جس کے دورِ حکومت میں خیبرپختونخواہ کے بیشتر علاقوں میں القاعدہ اور طالبان نے ریاستِ پاکستان کے خلاف مضبوط قلعہ بندیاں کیں اور جماعتِ اسلامی سمیت ایم ایم اے کی تمام مذہبی جماعتوں نے دانستہ آنکھیں بند کیے رکھیں۔اِس کا ہلاکت خیز اور خونریزخمیازہ پورے پاکستان کو اب تک بھگتنا پڑرہا ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ قاضی حسین احمد صاحب مرحوم ومغفور کے جماعتِ اسلامی کی امارت سے علیحدہ ہوتے ہی جماعتِ اسلامی ضُعف اور نامقبولیت کا شکار ہونے لگی۔نوبت ایں جا رسید کہ اب سید منورحسن صاحب غصے سے مغلوب ہو کر محض دوسروں پر الزامات عائد کر دیتے ہیں۔ اِس کا ایک مظاہرہ اُس شام سامنے آیا جب وہ ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے ایک پروگرام میں جلوہ گرہوئے لیکن سوالات کا جواب دینے کے بجائے غصے میں آگئے اور پروگرام سے نکل گئے۔جماعت کے ہم نظریہ (اخوان المسلمین)مصر میں برسرِ اقتدار ہیں لیکن صدر مُرسی صاحب بھی عوام کے سوالات کا شافی جواب دینے کے بجائے ہمہ وقت ان سے برسرِ پیکار رہتے ہیں اور اب اپنی نامقبولیت کے آخری درجے پرفائز ہوچکے ہیں۔

’’ہمارے‘‘ سید منورحسن صاحب نے گزشتہ روز فرمایا:’’فوج نے انتخابات میں مداخلت کرکے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے۔‘‘اِس الزام کی کوئی دلیل؟ وہ شاہ صاحب کے پاس،حسبِ سابق،نہیں ہے اور نہ ہی آپ نے پریس کانفرنس میں کوئی فیکٹ شِیٹ پیش کی۔ہم سمجھتے ہیں کہ فوج، جسے بدقسمتی سے بہت سے محاذوں کا سامنا ہے، کوسیاسی مفادات کی خاطر سرِبازار گھسیٹنے سے ہم سب کو باز رہنا چاہیے۔ اگرفوج واقعی انتخابات میں دخیل تھی تو سوال یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی کے ایک’’سورج‘‘ کیسے جیت گئے جواب خیبرپختونخواہ حکومت میں سینئر وزارت لینے کے لیے پَرتول رہے ہیں۔اسلام آباد میں جماعتِ اسلامی کے ایک معروف امیدوار میاں محمد اسلم بھی انتھک کوششوں کے باوجود مسترد کر دیے گئے۔اُن کے مقابل عوام نے پی ٹی آئی کے امیدوار جناب جاوید ہاشمی کو جیت سے ہمکنار کردیا۔سید منورحسن صاحب، یہ سب فوج کی مرضی سے نہیں ہوا۔معروف برطانوی وزیرِاعظم ونسٹن چرچل نے جنگِ عظیم دوم جیت کر برطانوی عوام کی جھولی میں ڈال دی لیکن اِسی برطانوی عوام نے انتخابات میں چرچل کو بُری طرح مسترد کردیا۔توکیااُسے بھی ’’فوج‘‘ نے مداخلت کرکے شکست سے دوچار کیاتھا؟

فوج پر الزام عائد کرنے سے قبل اپنے الفاظ کو خوب تول لینا چاہیے۔واقعہ یہ ہے فوج کی نمایندگی کرتے ہوئے سپہ سالارِ پاکستان جنرل پرویزکیانی انتخابات کے حوالے سے گزشتہ دوسال سے مسلسل جو وعدے اور بیانات جاری کررہے تھے،سب اخلاص کے ساتھ پورے کردیے۔اِس کے باوصف ظالمانہ طریقے سے فوج کو اپنے معاملات میں لپیٹنا اور گھسیٹنا جاری ہے۔چند روز قبل سیالکوٹ کے ایک معروف سیاستدان، جو زمانہ طالب علمی سے بھٹو کے زبردست جیالے چلے آرہے ہیں،مجھے ملنے دفتر تشریف لائے۔پیپلزپارٹی نے بوجوہ،جس میں منظوراحمد وٹو صاحب کی پرخاش زیادہ شامل تھی،اُنہیں ٹکٹ نہ دیا تو وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑے ہوگئے لیکن اپنے حریف سے محض چند ووٹوں سے ہارگئے۔ملاقات کے دوران اُنہوں نے بھی بین السطور فوج اور سیالکوٹ کے اعلیٰ انتظامی افسران کو رگیدنے کی کوشش کی اور کہا:’’اگر اِن کی مداخلت نہ ہوتی تو میری فتح’’وَٹ‘‘ پر پڑی تھی۔‘‘وہ محض فوج پر غصہ نکال رہے تھے۔ اگراپنی شکست میں وہ فوج کی مداخلت کا ذکرکرتے ہیں تو اِس پرکفِ افسوس ہی ملاجاسکتا ہے۔

مسلم لیگ(نون)اقتدار میں ہے۔مرکز میں بھی اور دوصوبوں میں بھی۔وہ انتخابات میں فوج کی مداخلت کا ذکرسرے سے نہیں کررہی لیکن حیرت خیز بات یہ ہے کہ فاتح پارٹی کے وہ لوگ جنھیں انتخابات میں خاک چاٹنا پڑی ہے،وہ پارٹی پالیسی سے صریح انحراف کرتے ہوئے اپنی شکست کاملبہ فوج پر ڈال رہے ہیں اور شرمندہ بھی نہیں ہورہے۔اِن میں ایک صاحب شکیل اعوان ہیں جو راولپنڈی سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ گزشتہ دور میں مسلم لیگ(ن) کے ایم این اے رہے حالانکہ وہ سماجی ،معاشی اور سیاسی اعتبار سے ’’ماہتڑ‘‘ ہی ہیں۔جناب نوازشریف نے اُن پردستِ شفقت رکھاتو وہ راولپنڈی کے ایک ضمنی انتخاب میں جیت گئے اور مزے کرتے رہے۔

نوازشریف صاحب نے ایک بار پھر مہربانی کی اور اُنہیں حالیہ انتخابات میں قومی اسمبلی کے لیے ٹکٹ سے سرفراز کیا لیکن وہ جیت نہ سکے۔اب یکم جون2013ء کو اِنہی شکیل اعوان صاحب نے اپنے ایک بیان میں فرمایا ہے:’’مجھے خفیہ ہاتھوں نے ہرایا ہے۔‘‘سبحان اللہ۔شکیل اعوان صاحب کو بے چارہ اور بے سہارا کہہ کرنظرانداز توکیاجاسکتا ہے لیکن فوج پر اُن کے الفاظ کو نظرانداز نہیں کیاجانا چاہیے۔مقامِ شکر ہے کہ ابھی تک راولپنڈی سے ہارنے والے مسلم لیگ نون کے رہنما حنیف عباسی صاحب(ایفی ڈرین فیم) نے جذبات اور غصے سے مغلوب ہو کر فوج کے خلاف کسی شکوے کا اظہار نہیں کیا۔اپنی ہر نااہلی اور ناکامی کی ذمے داری فوج پر ڈالنے کا یہ تماشا آخرکب تک جاری رہے گا؟ کیا ایسے تہمت تراش’’دوستوں‘‘ کے ہوتے ہوئے دشمنوں کی ضرورت رہتی ہے؟

ماضی میں لاریب سیکیورٹی اداروں کی طرف سے سیاست میں مداخلت ہوتی رہی ہے اور سرِ عام ہوتی رہیں۔‘‘آئی جے آئی‘‘ کی صورت گری،جس میں مسلم لیگ بھی شامل تھی اور جماعتِ اسلامی بھی،اِس واضح مداخلت کا ایک بڑا نشان تھی۔اِس میں خفیہ اداروں کی طرف سے سیاستدانوں کو فنڈز بھی فراہم کیے گئے اور ووٹوں کی اعانت بھی دی گئی(یاد کیجیے سپریم کورٹ میں اصغرخان کیس)لیکن اُس وقت جماعتِ اسلامی اور اِس کے کسی امیر کو یہ مداخلت ناپسندنہیں تھی۔واقعہ یہ ہے کہ جنرل ایوب خان،جنرل ضیاء الحق اورجنرل پرویزمشرف نے سیاست میں براہِ راست مداخلتیں کرکے ملک وقوم کو جو سنگین نقصانات پہنچائے،اِس سے جنرل پرویزکیانی خوب آگاہ ہیں،چنانچہ اِسی خیال سے وہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کسی بھی شکل میں سیاست میں دخیل نہ ہوئے اور کئی بار مواقع ملنے کے باوجوداقتدار پر شب خون مارا نہ جمہوریت کو نقصان پہنچنے دیا۔

اگرچہ میڈیا کے ایک حصے نے تسلسل کے ساتھ فوج کے سربراہ کوبار بار انگیخت دی کہ وہ آگے بڑھ کر اقتدار کا جام تھام لیں ۔اب بعض اطراف وجوانب سے اِسی فوج اور اس کے سربراہ پر انتخابات میں مداخلت اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اِسے ایک اوچھی اور ملک دشمن حرکت کے علاوہ اور کیا نام دیاجاسکتا ہے؟اللہ ہمیں بدگمانیوں سے محفوظ رکھے۔اللہ کے آخری رسولؐ پر اُترنے والی اللہ کی آخری کتاب میں بدگمانوں کے بارے میں سخت وعید سنائی گئی ہے لیکن حیرت ہے کہ بعض جماعتیں اور اُن کے رہبرورہنما سب کچھ جانتے ہوئے بھی فوج کے خلاف بدگمانیوں کا اظہار کررہے ہیں۔ہم اُن کے لیے بس دُعا ہی کرسکتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ا"ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.