.

دانا دشمن اور نادان دوست

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میاں محمد نواز شریف نے بلوچستان کی سول سوسائٹی کے مطالبے کو منظور کرتے ہوئے بلوچستان کے اپنی پارٹی کے چیف کی بجائے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک کو بطور وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد کر دیا ہے ۔ کچھ اخبارات نے انکے اس فیصلے کو انکی سیاسی قربانی قرار دیا ہے جبکہ خودنامزد وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ انہوں نے اقدار کے لئے اقتدار کی قربانی دی ہے ۔درحقیقت انہوں نے اس فیصلے کے ذریعے جمہوری سیاست کے لئے لازمی مثبت قدروں کی قدر کرتے ہوئے اپنے اقتدار کی بنیادیں مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے ۔جس طرح پیپلز پارٹی کے کچھ نظریاتی مبصروں کو یہ خوش فہمی لاحق ہو گئی تھی کہ تیرہ سال پہلے جیل میں جانے والے آصف علی زرداری آگ سے کندن بن کر نکلے ہیں ویسے ہی مسلم لیگ نون کے متوالے بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ تیرہ سالوں کی جلاوطنی اور اقتدار سے دوری نے میاں نواز شریف کو سیاست دان سے ”سٹیٹس مین “ میں تبدیل کر دیا ہے ۔

نیلسن منڈیلا سے پوچھا گیا کہ سیاست دان اور سٹیٹس مین میں کیا فرق ہوتا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ سیاست دان اگلے عام انتخابات کا سوچ رہا ہوتا ہے جبکہ سٹیٹس مین کو اگلی نسلوں کی فکر دامن گیر ہوتی ہے ۔ میرے خیال میں ان دونوں میں ایک اور فرق بھی ہوتا ہو گا سیاست دان عوامی مقبولیت حاصل کرنے یا عوامی نفرت کے قہر سے بچنے کے مشوروں پر فوری عمل کر لیتے ہیں جبکہ سٹیٹس مین ان مشوروں پر غور بھی کرتے ہوں گے۔

ہمارے ایک سیاست دان نے عوامی نفرت کے قہر سے بچنے کے لئے ”ختم نبوت “ کے معاملات سے زیادہ آگاہی یا دلچسپی کی عدم موجودگی کے باوجود احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے کوثر نیازی مشورے کو قبول کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی تھی اور 2013ء کے عام انتخابات میں دائیں بازو کے امیدواروں کی تکونی جنگ میں پیپلز پارٹی کے بغیر کسی انتخابی مہم کے جیت جانے کی احمقانہ امید کو بھی آنکھیں بند کرکے قبول کر لیا گیا تھا اور یہ بھلا دیا گیا تھا کہ وہ جس ووٹ بنک کو لوٹنے کا سوچ رہے ہیں وہ ان کی مخالفوں کاووٹ بنک ہے اور پیپلز پارٹی تو اب بائیں بازو کی بجائے دائیں بازو کی بھی نہیں رہنے دی گئی ۔ بالکل اس طرح پارٹی کے کچھ نادان دوست یا دانا دشمن متحدہ اپوزیشن یا گرینڈ حزب اختلاف بنانے کے مشورے دے رہے ہیں تاکہ پارٹی کا رہا سہا نام ونشان بھی غائب ہو جائے ۔

میاں محمد نواز شریف نے غالباً بلوچستان کی سول سوسائٹی کے مشورے پر غور کرنے کی زحمت کی ہو گئی اور بلوچستان کے لوگوں کو کچھ سالوں کے لئے سرداروں کے قبضے سے نجات دلانے اور انکے نرغے سے واگزار کرانے کے مشورے کو قابل قبول اور قابل عمل سمجھنا ہو گا کہ شائد اس سے بلوچستان کے مخدوش حالات میں کوئی افاقہ دیکھنے کو ملے چنانچہ یہ سیاسی قربانی سے زیادہ ”نظریہ ضرورت “ کی بات ہے ۔سیاسی قربانیوں کے گزشتہ پانچ سالوں میں بھی بہت تذکرے رہے بتایا گیا کہ قومی زندگی میں پہلی مرتبہ مصالحت اور مفاہمت کی حکومت کے حق میں صدارتی اختیارات کی قربانی دی جا رہی ہے اور ان صدارتی اختیارات کو وزیر اعظم کے حوالے کرنا واقعی ان اختیارات کی قربانی ثابت ہو ا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ قومی زندگی میں پہلی مرتبہ مرکزی یا وفاقی حکومت نے اپنے محکمے اور اختیارات صوبوں کے حوالے کرنے کی قربانی کا مظاہرہ کیا ہے مگر یہ بھی عام انتخابات میں اپنا ووٹ بنک بڑھانے کی ایک کوشش تھی جس کے مثبت نتائج منظر عام پر لائے نہ جاسکے۔ ان عام نام نہاد قربانیوں میں صحیح اور اصل قربانی پارٹی اور پارٹی کی لوکیشن میں شامل سیاسی جماعتوں کے ووٹروں کی قربانی تھی اور قربانی بھی ایسی کہ جس کا ثواب بھی پارٹی کے مخالفوں نے حاصل کیا اور ان مخالفوں میں پارٹی کے نادان دوست بھی شامل تھے ۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.