.

چیلنجز اور توقعات

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میاں صاحب کی سیاست سردست اقدار کی سیاست نظر آتی ہے ۔ جس طرح خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو حکومت سازی دے کر جمہوریت پسندی کا مظاہرہ کیا گیا اور جس طرح بلوچستان کے حوالے سے وسیع القلبی کا مظاہرہ کرکے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو وزیراعلیٰ نامزد کیا گیا اس سے تو لگتا ہے کہ میاں صاحب بدل گئے ہیں اور واقعی وہ پاکستان کو بدلنا چاہتے ہیں لیکن امتحان ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ اس کا آغاز ہوگیا ہے ۔ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں بلکہ امتحان ہی امتحان ہیں۔ سندھ کا چیلنج بلوچستان سے کم نہیں جبکہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کا معاملہ ان سے بھی زیادہ گمبھیر ہے۔ پہلا امتحان ٹیم کی تشکیل کا درپیش ہے ۔

دیکھنا یہ ہے کہ میاں صاحب اس حوالے سے میرٹ اور حکمت سے کام لیتے ہیں یا پھر ماضی کی طرح خوشامدیوں میں پھنس کر دوست پروری‘ اقربا پروری اور پارٹی پروری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یقینا سیاست کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں اور پاکستان جیسے ملک میں مکمل میرٹ اور صلاحیت سے کام لینا مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے لیکن کلیدی عہدوں کیلئے تو اس سے کام لیا جاسکتا ہے ۔ میرٹ پر پورا اترنے والا کوئی فرد اس بنیاد پر مسترد نہیں ہونا چاہئے کہ وہ لیڈرشپ کے قریب یا چاپلوس نہیں تو اسی طرح اس بنیاد پر بھی کسی اہل کو مسترد نہیں ہونا چاہئے کہ قریب ہونے کی وجہ سے لوگ انگلی اٹھائیں گے ۔ خزانہ ‘ داخلہ ‘ خارجہ‘ دفاع‘ پانی و بجلی اور تعلیم کی وزارتوں اور گورنر خیبر پختونخوا کے مناصب پر تقرریوں کے ضمن میں اگر اہلیت اور صلاحیت کو مدنظر رکھ کر تعیناتی کی گئیں تو یہ مستقبل کی بہت ساری غلطیوں اور مجبوریوں پر پردہ ڈال دیں گی لیکن اگر یہاں غلطی کی گئی تو عمارت کی بنیاد ہی غلط ہوجائے گی اور خشت اول چون نہد معمار کج۔ تاثریا می رود دیوار کج کے مصداق آگے پھر جتنی بھی اچھی کوششیں کی جائیں ‘ نتیجہ خیز نہیں ہوسکیں گی۔

نہ جانے میاں صاحب کے گرد منڈلانے والے جاہ طلب لوگوں کو احساس ہے یا نہیں کہ یہ اقتدار پاکستان کے لئے بھی زندگی اور موت کا معاملہ ہے اور خود مسلم لیگ (ن) کیلئے بھی۔ اگر چالبازیوں سے کام لینے کی کوشش کی گئی تو مسلم لیگ(ن) کا اس سے بھی بدتر حشر ہوگا جو پیپلز پارٹی اور اے این پی کا ہوگیا ہے ۔ اب کے بار غلطی ہوگئی تو نہ جمہوریت کو دوسرا موقع ملے گا اور نہ پاکستان نئے تجربے کا متحمل ہوسکے گا۔ اس وقت پاکستان کی حکمرانی پل صراط پر سفر ہے ۔ ہم جیسے لوگ میرٹ کی دہائی دیں گے لیکن اگر عہدوں کی تقسیم کے وقت چھوٹے صوبوں اور پھر پنجاب کے اندر جنوبی اضلاع یا پھوٹوہار کو مناسب حصہ نہ دیا گیا تو ہم ہی شور مچائیں گے ۔

مسلم لیگ (ن) کو خاطر خواہ مینڈیٹ صرف پنجاب سے ملا ہے ۔ ابھی سے یہ آوازیں بلند ہونے لگی ہیں کہ وزیراعظم بھی پنجابی‘ اسپیکر بھی پنجابی اور چیئرمین سینیٹ بھی پنجابی ۔ پنجاب کے مقابلے میں چھوٹے صوبے یوں بھی احساس محرومی کے شکار ہوتے ہیں اور اب جبکہ ایک بھائی وزیراعظم ہوں گے اور دوسرے وزیراعلیٰ پنجاب تو یہ احساس مزید توانا ہوگا۔ یوں میرٹ کے ساتھ ساتھ اس عامل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ ہم جیسے لوگ دہائی دیں گے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پنگے بازی نہ کی جائے لیکن اگر خارجہ پالیسی اور نیشنل سیکورٹی کے حوالے سے میاں صاحب اپنے سول تصورات کے ساتھ آگے نہیں بڑھتے تو دہشت گردی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے اور نہ انتہاپسندی کا ۔ یوں یہ ایک اور امتحان ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لے کر ساتھ بھی چلایا جائے اور فرسودہ تصورات سے چٹکارا حاصل کرکے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کیلئے نئے اصول وضع کئے جائیں ۔

بلوچستان اور فاٹا کے حوالے سے سول اور ملٹری قیادت کو حقیقی معنوں میں ایک ہی رخ پر گامزن کرنے میں بڑے چیلنجز درپیش ہیں یعنی اسٹیبلشمنٹ کو ناراض بھی نہ کیا جائے اور ان کے روایتی تصورات کو من و عن قبول بھی نہ کیا جائے۔ یہ پل صراط پر سفر نہیں تو اور کیا ہے؟ اسی طرح معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے ۔ اس کو سنبھالا دینے کے لئے بڑی اور علاقائی طاقتوں کا تعاون ضروری ہے لیکن دوسری طرف میاں صاحب نے نعرہ بھی لگایا تھا اور ان سے مطالبہ بھی کیا جارہا ہے کہ وہ ان طاقتوں کے اثر سے آزاد خارجہ پالیسی کی طرف جائیں۔ ڈرون حملوں اور افغانستان کے معاملات پر امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں۔ اب اگر اول الذکر یعنی معیشت کی بحالی کو ترجیح بناتے ہیں تو یہ طاقتیں ناراض ہوتی ہیں اور اگر ان طاقتوں کو ناراض کرتے ہیں تو معیشت کو سہارا دینا مشکل ہوجاتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.