.

سمیعہ نور کو سلام

بشریٰ اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واہ یہ کھلے ہوئے چہرے، ہری، نیلی، پیلی، اودی اور سرخ پوشاکیں، گھیردار فراکیں، چوڑی دار پاجامے، شنیل اور گوچی سے غسل کر کے سیدھی اسمبلیوں میں لینڈ کرنے والی، لشکتی پشکتی، ہماری خواتین نمائندگان۔۔۔! جنہیں دیکھ کر آنکھ تازہ ہوتی ہے اور دل پیہم ناامیدیوں کی آماجگاہ! ایک دفعہ پھر انہیں، اقتدار کی غلام گردشوں میں، اپنے خفی اور جلی جوہر دکھانے کا اجازت نامہ تو مل گیا ہے، مگر کیا۔۔۔ ہم انہیں ٹھنڈے ایوانوں اور وی آئی پی کلچر سے باہر، عمل کی دنیا میں، اپنے اپنے حصے کی حقیقی ذمہ داری نبھاتے بھی دیکھ سکیں گے؟ یا اس دفعہ بھی پرانی کشمالہ طارقین اور فردوس عاشقین محض ٹی وی شوز کی ’’ریٹنگ‘‘ بڑھانے کا آلہ ہی ثابت ہوں گی۔ کیا لچھے دار گفتگو، کرسپی فقروں، پارٹی ٹو پارٹی قلابازیوں اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے علاوہ بھی، یہ تیکھی اور طرحدار خواتین، عمل کے میدان میں کوئی تحریک برپا کرنے میں کامیاب ہو سکیں گی؟ یا پھر ہمیشہ کی طرح محض اسمبلیوں کا خوبصورت نمائشی حصہ بننے پر ہی اکتفا کریں گی؟؟ اور ان کے حصے کی ذمہ داریاں، اس دفعہ بھی ملالہ یوسف زئی اور سمیعہ نور جیسی اس قوم کی بیٹیوں کو اٹھانا پڑیں گی۔ اپنے اردگرد زندگی کی شمعیں روشن کرنے کے لئے، آئندہ بھی انہیں ہی اس شہادت گہہِ الفت میں اپنے سر پیش کرنے ہوں گے تاکہ یہ ملک علم کے اجالوں سے منور رہے ،اور زندگی کی روشنی اس کے تاریک درودیوار پر سایہ فگن رہے!

سن 470 قبل مسیح کے عظیم فلسفی سقراط نے کہا تھا ’’میں اپنے طرزِ عمل سے ثابت کر رہا ہوں کہ مجھے دانش سے عشق ہے‘‘، مگر حکومتی ایوانوں اور اقتدار کی نیم خنک رومانوی فضاؤں کو دانش سے ہمیشہ چڑ رہی ہے، یہ بھی ہمیں انسانی تاریخ کے مطالعے سے ہی معلوم ہوتا ہے۔۔۔ اور یہ بھی کہ، عورت نامی مخلوق چاہے وہ زمانہ قبل از مسیح کی رومانوی دیوی ہو یا متمدن زمانوں کی عورت۔۔۔ اسے یا تو خوبصورت ڈیکوریشن پیس سمجھا گیا ہے یا پھر۔۔۔پاؤں کی جوتی، جب چاہے پہن لی، جب چاہے اُتار لی! انہی رویوں کے خلاف سنجیدہ کردار ادا کرنے کے لئے زندگی کے ہر میدان میں ہمیں پڑھی لکھی باشعور خواتین قیادت کی ضرورت تھی! مگر اسمبلیوں میں 33پرسنٹ کی نمائندگی کے باوجود ہمیں نہ تو یہ کردار مشرف دور میں دکھائی دیا اور نہ ہی پی پی کے عوامی دور میں، جس کی شہید لیڈر سے ہزار سیاسی اختلافات کے باوجود، جبر کے خلاف اس کی ٹھوس اور مضبوط مزاحمت کا اعتراف اس کے دشمن بھی کرتے ہیں۔۔۔!

مجھے یاد ہے انہی نیلی، پیلی، ہری اور اودی پوشاکوں کی جھلمل اور ٹی وی شوز کی ریٹنگ کے زمانوں میں، بارہ سالہ ملالہ نے علم و دانش کے حق میں پہلی مضبوط اور توانا آواز اٹھائی، اور اس آواز کو مرنے سے بچانے کے لئے، ان شر کی قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہو گئی، جو لڑکیوں کے سکول جلانے، اور انہیں جہالت کے اندھیروں میں غرق کرنے کے لئے، جھرنوں کی وادی میں کھلے عام دندنا رہی تھیں۔۔۔! میرا شہید، تیرا شہید کے نعرے، عورتوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر دُرے مارنے، اور سیاہ گھوڑے پر سوار ہو کر، اپنے ایف ایم ریڈیو کے ذریعے فتوے جاری کرنے والے مولوی فضل اللہ کے خوف سے نہ صرف سوات کے درودیوار کانپ رہے تھے، بلکہ اسلام آباد تک اس کے سیاہ گھوڑے کی ٹاپیں سنائی دینے لگی تھیں۔۔۔ جب بارہ سالہ ملالہ، ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری۔۔۔ زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری‘‘ کی تفسیر بن کر، سامنے آئی، اور اس نے دنیا پر ثابت کر دیا، نمائندگی کے لئے خوشنما پوشاکوں، سیاسی بیساکھیوں اور ٹی وی شوز پر مسلسل موجودگیوں کی نہیں، حقیقی کردار کی ضرورت ہے! جو سیاسی وابستگیاں بدلنے، رٹے رٹائے بیانات کے پٹاخے چھوڑنے، اور جائز ناجائز طریقوں سے ایوانوں میں گھسنے سے ہرگز حاصل نہیں ہوتا،اس کے لئے ملالہ جیسے جذبے، اور سمیعہ نور جیسے دل کی ضرورت ہے، جو خدا اور مخلوقِ خدا کی محبت سے بھرے ہوئے پیمانے کی طرح چھلک چھلک پڑتا ہے۔۔۔ تو پھر ایسے سلسلے ظہور میں آتے ہیں، جن پر قربانیاں فخر کرتی ہیں اور شہادتیں ناز!

مجھے نہیں معلوم رتبہ گر، سمیعہ نور کی قربانی کو کس ’’کیٹگری‘‘ میں ڈالتے ہیں، اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم، میرے شہید، تیرے شہید کی افراتفری اور کنفیوژن میں، سمیعہ نور کی شہادت کس جگہ ’’بیٹھتی ‘‘ ہے؟ مگر میں یہ ضرور جانتی ہوں کہ بارگاہِ عشق میں، جس عجزوانکساری سے، اس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے، اس نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔۔۔ اور میں جو ’’درآمدی‘‘ ہیروز کو سلیوٹ پیش کر کر کے تھک چکی تھی، اس سچ مچ کی ہیرو کو سلام پیش کرتے ہوئے، اپنے اندر اک نئی طاقت اور توانائی محسوس کر رہی ہوں، ایسی ہی توانائی جس کا ذائقہ فاطمہ بنت عبداللہ کی جرأت کی داستان پڑھتے ہوئے کہیں رگوں میں پل بھر کے لئے ابھرتا تھا اور معدوم ہو جاتا تھا، سمیعہ نور نے اس ذائقے کی شیرینی میرے مقدر کا حصہ کر کے، یہ ثابت کر دیا ہے، اس ملک کی عورت کتنی باوقار اور سربلند ہے، اور ایثاروقربانی کا جذبہ اسے اندر سے ہمہ وقت کس قدر سرشار رکھتا ہے! شہادت کے فضائل پر خطبے جاری کرنے، اور شہید کے مقام و مرتبے پر بلندوبالا الفاظ میں آتشیں تقریریں کر کے ایک کلمہ گو کے ہاتھوں، دوسرے کلمہ گو کا گلا کٹوانے والوں کے لئے تو سمیعہ نور کی شہادت شاید کوئی معانی نہ رکھتی ہو، مگر ہائی پروفائل بیگمات، اور اپنی سوکالڈ نمائندہ سیاسی خواتین سے مایوس، ان تمام ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے لئے سمیعہ نور کی قربانی، ان کا سر فخر سے بلند کرنے کا باعث ہے۔۔۔!

شہادت کے بلند درجے پر فائز، گجرات کی اس گمنام معلمہ نے، معصوم بچوں کی جان بچاتے ہوئے، اپنی جان کو بارگاہِ وفا میں جس جرأت مندی اور بہادری سے پیش کیا ہے، اس کی مثال کم ہی دکھائی دیتی ہے۔۔۔ این جی اوز اور امریکہ کی نگاہ بے شک ملالہ یوسف زئی کے علاوہ، کسی پر نہ پڑے، مگر یہ حقیقت ہے کہ گجرات کی یہ شہید معلمہ، اس بارگاہ میں قبولیت حاصل کر چکی ہے، جس کے سامنے تمام دنیاوی ’’سندیں‘‘ ہیچ ہیں، قوم کی اس بیٹی کو سلام پیش کرتے ہوئے، میں ایک دفعہ پھر خود کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔۔!

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.