.

کیا تقسیم اسکوائر تحریر اسکوائر بن سکتا ہے.... ؟

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے تاریخی شہر استنبول کے تقسیم اسکوائر سے شروع ہونے والے مظاہروں نے پورے ترکی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور یہ مظاہرے جو کہ چند ایک ایکٹویسٹوں نے تقسیم اسکوائر میں چند ایک درختوں کو اکھاڑنے اور اس جگہ پر سڑک تعمیرکرنے کے خلاف عوام کو اس صورتحال سے آگاہ کرنے کیلئے شروع کئے تھے جو دیکھتے ہی دیکھتے ہنگاموں کا روپ اختیار کرگئے اور پھر ان مظاہروں نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان مظاہروں اور ہنگاموں کی اصل وجہ کیا ہے اور عوام کیونکر اتنی بڑی تعداد میں پورے ملک میں حکومت کے خلاف متحد ہوگئے ہیں؟اصل وجہ بتانے سے قبل یہ عرض کرتا چلوں کہ یہ مظاہرے استنبول اور ملک کے دیگر شہروں میں صرف ایسے علاقوں میں ہو رہے ہیں جو شہر کے پوش ایریا ہیں اور جہاں پر زیادہ تر ترک ایلیٹ آباد ہے۔ اس کی وجہ جاننے سے قبل ہمیں ماضی پر ایک مختصر سی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہوگی۔ ترکی طویل عرصے سے بڑے پُر سکون طریقے سے ترقی کی راہ پر گامزن تھا اور یہ سلسلہ آج بھی پورے زورشور سے جاری ہے۔ ترکی میں اس قسم کے مظاہرے اس وقت دیکھنے کو ملے تھے جب ملک بھر میں پہلی ایردوان حکومت کے قیام کے بعد ملک کے نئے صدر کے انتخابات کا وقت آیا تھا۔ لوگ اس وقت بھی جوق درجوق ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں اپنے ہاتھوں میں ترکی کا پرچم لئے مختلف شہروں میں ہر روز ہی ایردوان حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا کرتے تھے۔

ان مظاہروں میں عوام کی بہت بڑی تعداد کی شرکت کی وجہ سے ان مظاہروں کو”ملین مارچ “ کے نام سے یاد کیا جانے لگا لیکن ایردوان حکومت نے اس وقت بھی ان مظاہروں کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے بلکہ انہوں نے عوام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور پہلے سے بھی زیادہ مینڈیٹ لے کر نہ صرف اپنی حکومت کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار کیا بلکہ اپنی ہی پارٹی کے دیگر رہنما عبداللہ گل کیلئے صدر منتخب ہونے کی بھی راہ ہموار کرڈالی۔ اس دور میں ترکی بھر میں ہونے والے مظاہروں کے بارے میں دنیا بھر کے ٹی وی چینلوں نے بڑی کوریج کی تھی اور تجزیہ کاروں نے ان ملین مارچوں کے سامنے ایردوان حکومت کے نہ ٹھہرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن جب انتخابات کا نتیجہ سامنے آیا تو جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی نے نہ صرف پہلے سے زیادہ ووٹ حاصل کئے بلکہ حزب اختلاف کی ری پبلیکن پیپلز پارٹی کی شرمناک شکست کے بعد یہ پارٹی ہی منتشر ہو کر رہ گئی اور اس دور سے اب تک اس جماعت کو ناکامیوں ہی کا منہ دیکھنا پڑرہا ہے اور آخر کار دس سال بعد اسے عوام کو متحرک کرنے کا ایک موقع میسر آیا ہے اور وہ بھلا کیسے اس موقع کو ہاتھوں سے نکلنے دے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پارٹی کے چیئرمین نے اپنی تمام مصروفیات منسوخ کرتے ہوئے فوری طور پر تقسیم میں گیزی پارک کا رخ اختیار کیا اور بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھونے کی کوشش کی لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ جماعت کیسے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے.

دنیا بھر کے میڈیا نے ترکی میں ہونے والے ان مظاہروں کو التحریر اسکوائر سے تشبیہ دینے کی کوشش کی ہے حالانکہ دونوں ممالک اور ان کے نظاموں میں بڑا نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ ترکی عالم اسلام میں مضبوط جمہوری بنیادوں پر استوار ایک سیکولر ملک ہے جبکہ مصر، تیونس، لیبیا اور مراکش جیسے عرب ممالک میں کبھی بھی جمہوریت نام کی کوئی چیز ہی موجود نہیں ہے۔ ان عرب ممالک میں ڈکٹیٹروں کی طویل حکومتوں کے بعد عوام آخر کار اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ملک میں جمہوری حکومتوں کو قائم کیا جبکہ ترکی میں اس کے قیام سے لے کر اب تک حکومتیں تبدیل ہوتی رہی ہیں اور جس جماعت کو عوام کا مینڈیٹ حاصل رہا ہے وہ اقتدار میں آتی رہی ہے۔

ترکی زبان میں ایک محاورہ ہے” بسا اوقات انسان کو آرام و سکون بھی کاٹتا ہے“ یہی صورتحال کچھ ترکی میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔ ترکی تاریخ کے سنہری دور میں داخل ہوچکا ہے اور اس نے اکیاون سال کے طویل عرصے کے بعد آئی ایم ایف سے نہ صرف چھٹکارا حاصل کیا ہے بلکہ وہ آئی ایم ایف کو قرضہ دینے والے چند ایک گنے چنے ممالک کی صف میں شامل ہوچکا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں بارہ سال قبل فی کس آمدنی صرف اٹھارہ سو ڈالر تھی اب بڑھ کر گیارہ ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ایردوان نے ایک ایسے ملک میں جہاں شرح سود 180 فیصد تک کی حد کو چھو رہی تھی کو کم کرتے ہوئے چار فیصد تک پہنچا دیا۔کیا ہم اس دور سے آنکھیں موند سکتے ہیں جب بوریوں کی بوریوں میں ترک لیرا بھرتے ہوئے مارکیٹ جایا جاتا تھا اور ان بوریوں سے صرف ایک آدھ چیز ہی خریدی جاتی تھی؟ ترکی جو کئی دہائیوں سے دہشت گری کی لپیٹ میں تھا آخر کار ملک کو دہشت گردی سے پاک کرایا اور دہشت گردوں کے سرغنہ سے سمجھوتہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ملک کی سرحدوں سے نکال باہر کرنے کا سامان کیا۔

تو پھر وجہ کیا ہے عوام کو اتناکچھ دینے کے باوجود ایردوان حکومت کے خلاف مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ایردوان حکومت کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں مذہبی مقامات، اسکولوں، لائبریریوں کے قریب شراب کی فروخت پر پابندی اور مختلف ممالک کو جانے والی فلائٹس جس میں سعودی عرب اور چند ایک عرب ممالک شامل ہیں میں شراب پیش کرنے پر پابندی ، اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو شراب کی فروخت پر پابندی عائد کرناہے جس کو ملک کی سیاسی جماعتوں نے اورخاص طور پر سوشل میڈیانے بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور سیکولر حلقوں کو اشتعال دلوانے کی کوشش کی گئی حالانکہ یہ حلقے اس بات سے پوری طرح واقف ہیں کہ یورپ اور متحدہ امریکہ میں بھی انہی اصولوں پر مکمل طور پر عملدرآمد کیا جاتا ہے اور ان تمام مقامات پر شراب وغیرہ فروخت نہیں کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا نے ٹرکش ایئر لائن میں ایئر ہوسٹس کو ڈارک ریڈ کلر کی لپ اسٹک استعمال کرنے پر پابندی لگانے کو بھی غلط طریقے سے اور بڑھا چڑھا کر پیش کیاحالانکہ ٹرکش ایئر لائن میں ایئر ہوسٹس کو بغیر میک اپ کے فرائض ادا کرنے کی اجازت ہی حاصل نہیں ہے لیکن اسے بھی جان بوجھ کر غلط رنگ دیا گیا۔

تقسیم اسکوائر کے واقعے کو سیکولر حلقوں نے سوشل میڈیا پر اپنی خواہشات کے عین مطابق پیش کیا۔ نام نہاد سیکولر حلقے جو اب بھی فوج پر نگاہیں مرکوز کئے ہوئے ہیں نے اس موقع سے فائد اٹھاتے ہوئے فیک ٹویٹر اور فیک فیس بک ایڈریس کے ذریعے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان مظاہروں کے مزید چار اور پانچ روز جاری رہنے کی صورت میں آئین کی رو سے اختیارات فوج کو حاصل ہونے سے متعلق خبروں نے بھی مظاہروں میں شامل عوام کے جوش و خروش کو ابھی تک قائم رکھا ہوا ہے۔ عوام چند دنوں کے اندر اندر حکومت کے گرنے کی امید سے مظاہروں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ حلقے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ فوج کے تعاون اور پشت پناہی کے بغیر اقتدار حاصل نہیں کرسکتے ہیں اس لئے فوج کو اشتعال دلوا کر ایردوان حکومت کی راہ کو مسدود کیا جاسکے۔

وزیراعظم ایردوان نے ان مظاہروں کے بعد بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حلقے اور جماعتیں جن کو اس بات پر خود بھی یقین ہے کہ وہ انتخابات کے ذریعے اقتدار حاصل نہیں کرسکتے ہیں نے آئندہ سال ملک بھر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے لوگوں کو بھڑکانے اور متحرک کرنے کا طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے ابھی سے اپنے لئے زمین ہموار کرنا شروع کردی ہے۔ وزیراعظم ایردوان نے اس موقع پر ان حلقوں سے سوال کیا کہ وہ اس وقت کہاں تھے جب پورے ملک میں درختوں کا قتل عام کیا جا رہا تھا؟ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے اپنے دور میں دس سال کے عرصے کے دوران غیر ممالک سے دس ملین پودے منگوا کر لگوائے جس کی ترکی کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حلقے درختوں کی خاطر نہیں بلکہ اپنے مفاد کو حاصل کرنے اور ملک کو نقصان پہنچانے کے لئے اس قسم کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟ کیا ایردوان حکومت بھی ان واقعات سے کوئی سبق حاصل کرتی ہے؟ پولیس کی جانب سے طاقت کا بے انتہا استعمال ایردوان حکومت کیلئے شرمندگی کا باعث نہیں بنا ہے؟ پولیس کو شاہ سے زیادہ شاہ پسند بننے سے گریز کرنے اور حالات سے نبٹنے اور حالات کی نزاکت بھانپنے کی ضرورت تھی۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.