.

'اقتدار سے اقتدار تک کی جنگ'

زاہدہ حنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ذرا یاد کیجیے کہ چند ہفتوں پہلے ملک کے نامی گرامی جوتشی اور ستارہ شناس سر جوڑے بیٹھے تھے اور بہ اصرار یہ کہتے تھے کہ میاں نواز شریف کی جیت کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ ان ہی میں سے چند وہ بھی تھے جو گھما پھرا کر صدر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو جان کا صدقہ نکالنے کا مشورہ بھی دے رہے تھے۔ ہمارے یہاں سب ہی جانتے ہیں کہ ایسے’ مشوروں‘ کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کھل کر یہ کہتے تھے کہ پچھلے انتخابات نے بے نظیر بھٹو جیسی سیاستدان کی بھینٹ لی اور اس مرتبہ بھی کسی بڑے سیاستدان کی جان جائے گی۔ بعض کی طرف سے یہ کہا جارہا تھا کہ اہم سیاستدانوں کو ذاتی طور پر انتخابی مہم نہیں چلانی چاہیے کیونکہ اس میں جان کو خطرہ ہے۔

پیپلز پارٹی کے اہم اراکین نے اسی خوف سے انتخابی مہم سے کنارہ کیا جب کہ شریف برادران اور عمران خان ان مشوروں اور تنبیہوں کو خاطر میں نہیں لائے۔ یہ لوگ میدان میں نکلے اور انھوں نے کسی نوعیت کی انٹیلی جنس رپورٹ پر کان نہیں دھرے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پی ٹی آئی اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت بن کر ابھری اور آج پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ تیسری مرتبہ وزیر اعظم کا حلف اٹھا رہے ہیں۔ یہ سطریں جب لکھی جارہی ہیں تو میاں صاحب کے حلف اٹھانے میں دو دن رہ گئے ہیں۔ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد سے کئی ناقابل یقین واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ یہ تمام واقعات ایک بدلے ہوئے سیاسی کلچر کی جھلکیاں دکھارہے ہیں۔

یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ میاں نواز شریف نے سیاست شروع کی تو سرد جنگ اپنے عروج پرتھی اور وہ اسی کے انداز اور پینتروں سے لیس ہوکر میدان میں اترے تھے۔ انھوں نے بلندیوں کا سفر طے کیا، دو مرتبہ وزیر اعظم ہوئے، معزول ہوئے، توہین و تذلیل کے مرحلوں سے گزرے، قریب ترین ساتھیوں کی غداری کا زہر ان کی نس نس میں اترا۔ بیٹی، بیٹے اور شریک حیات کی جان کا دھڑکا لگا رہا۔ پھانسی کا پھندا سر پر جھولتا رہا۔ شاید تنہائی اور مہیب سناٹے کی ان ہی مسافتوں کو طے کرتے ہوئے کوئی رات ان پر اس طرح گزری اور کوئی سحر اس انداز میں طلوع ہوئی کہ ان کی کایا کلپ ہوئی۔

ایسی کایا کلپ جس کا ذکر جاتک کہانیوں میں ملتا ہے۔ وہ ایک سیاستدان تھے جسے ہر قیمت پر اقتدار کی خواہش ہوتی ہے، جو اپنے حریفوں کو زچ کرنے اور خاک چٹانے کے لیے سب کچھ کر گزرتا ہے۔ لیکن ان کے دل کی کسی درز سے رواداری، گداز، مروت اور افہام وتفہیم کی ایسی سرسبز کونپل پھوٹی جس نے انھیں اپنی سب سے بڑی حریف بے نظیر بھٹو کی طرف مفاہمت کے سفر پر روانہ کیا۔ وہ سفر جس کا آغاز میثاق جمہوریت پر دستخط سے ہوا اور جس کا انجام راولپنڈی کے ایک اسپتال میں ان کے جسد خاکی پر میاں صاحب کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوؤں کی صورت ہم نے دیکھا۔

مفاہمت کے اس سفر پر یہ بھی ہواکہ پنجاب میں گورنر راج لگا، شہباز شریف اپنے عہدے سے معزول ہوئے۔ کیسا سنہرا موقع تھا کہ وہ ڈٹ کر پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کا مقابلہ کرتے۔ ان کے اپنے ساتھیوں کی بھی یہی خواہش تھی لیکن انھوں نے اپنے دوستوں اور دشمنوں دونوں کی یہ آرزو پوری نہ کی اور سب کو حیران کیا۔ 2009 میں عدلیہ کی بحالی کے لیے خم ٹھونک کر نکلے اور اپنی اس تحریک میں کامیاب بھی رہے۔ لیکن یہ کوئی ذاتی جھگڑا نہ تھا، ایک ادارے کی توقیر اور اس کی سربلندی کا معاملہ تھا۔ اس ٹکراؤ کے بعد وہ ایک بار پھر گونگے کا گڑ کھا کر بیٹھ گئے اور کبھی کوئی ایسا اقدام نہ کیا جس سے لڑکھڑاتی ہوئی جمہوریت کو دھکا لگے اور اس کے دشمنوں کو موقع ملے کہ وہ اسے اپنے قدموں تلے روند دیں۔

2008 سے 2013 تک انھوں نے کیسے کیسے طعنے نہیں سہے اور دشنام کے کتنے زہریلے تیر ان تک نہ آئے لیکن انھوںنے کبھی کسی بات کا جواب نہیں دیا۔ حد تو یہ ہے کہ جب وہ انتخابی مہم پر نکلے اور ان کے ایک اعلیٰ تعلیم اور ’نوجوان‘ حریف نے سلطان راہی کے انداز میں انھیں ’اوئے نوازے‘ کہہ کر بار بار للکارا ، تب بھی انھوں نے کوئی اوچھی بات نہیں کہی۔ یہ بھی وقت کی ستم ظریفی ہے کہ جب ان کے اس حریف کے ساتھ ایک حادثہ ہوا اور الیکشن ختم ہوئے تو وہ پھولوں کو گلدستہ لے کر اس کی عیادت کو چلے گئے۔

اور اصل کایا کلپ تو ہم سب نے اس وقت دیکھی جب وہ بلوچستان کے ناراض دوستوں کو منارہے تھے ۔گھنٹوں بعد ملاقات ختم ہوئی تو اعلان کیا کہ بلوچستان اسمبلی میں اکثریت ہماری ہے لیکن یہ وقت بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنے کا ہے۔ انھوں نے صرف یہی نہیں کہا بلکہ وزارت اعلیٰ کے لیے نیشنل پارٹی کے عبدالمالک کو نامزد کیا جن کا تعلق متوسط طبقے سے ہے۔

ایک ناقابل یقین بات کہ بلوچستان پر کسی سردار کے بجائے ایک ایسے شخص کی حکومت ہو جو ابتداء سے بائیں بازو کی طلبہ سیاست میں سرگرم رہا۔ ایم بی بی ایس کیا اور پھر آنکھوں کے علاج کے لیے ڈپلوما کیا۔ وہ بصارت سے محروم لوگوں کا علاج کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود ’’دیدۂ بینا‘‘ رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ چند دن ڈھاکا میں گزرے جب پائلر کے کرامت علی، ایس پی او کے نصیر میمن اور نیشنل پارٹی کے یہ بلوچ رہنما، ہم سب ساتھ ’’پورو بانی ہوٹل‘‘ میں ناشتے کی میز پر اکٹھے ہوتے تھے۔

شائستہ اور نرم مزاج مالک صاحب کی شگفتہ بیانی سنتے ہوئے میں سوچتی تھی کہ بلوچستان کو بے سبب سنگلاخ پہاڑوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ یہاں کیسے میٹھے لوگ پیدا ہوتے ہیں اور پھر ملک کے ٹھیکیدار کچھ لوگ انھیں ’’غدار‘‘ اور ’’وطن‘‘ فروش کہہ کر مار دیتے ہیں۔ کتنے ہی جوہر قابل اس طور خاک میں ملا دیے گئے۔

نیشنل پارٹی سے ڈاکٹر عبدالمالک اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے گورنر بلوچستان کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے وہ جملہ کہا جسے ان کی موجودہ شخصیت کی کلید کہا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم اقتدار کی نہیں، اقدار کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔‘

ان کا یہی رویہ ہے جس نے محمود اچکزئی اور حاصل بزنجو ایسے کٹر قوم پرستوں کو یہ جملہ کہنے پر مجبور کیا کہ ’بلوچ اور پشتون آج پنجاب کے ساتھ ہیں۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میاںنواز شریف نے بلوچوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اس پر سب بلوچ ان کے شکر گزار ہیں۔ اگر پنجاب ایک قدم آگے بڑھائے تو بلوچ دو قدم آگے بڑھائیں گے۔ ہم دو روٹی اور ایک گلاس لسی سے بھی خوش ہوجاتے ہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان پر نفرتیں پھیلانے کے الزام لگتے رہتے ہیں وہ جمہوری رویہ چاہتے تھے جو آج انھیں مل گیا ہے۔ نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو نے کہا کہ ہم ثابت کریں گے کہ بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے صوبہ میں مسخ شدہ لاشوں اور لاپتا افراد کا سلسلہ ختم کریں گے۔
بلوچستان کے سیاستدانوں سے یہ میاں صاحب کی معاملت تھی، اس میں وہ جتنی لچک دکھاتے ، وہ کم تھی، کیونکہ یہ ہمارا وہ صوبہ ہے جس کے لیے اگر یہ کہا جائے کہ ’’دل ہمہ داغ داغ شد، پنبہ کُجا کُجا نہم‘‘ ( دل میں زخم ہی زخم ہیں، مرہم کہاں کہاں لگایا جائے) اور میاں صاحب قومی اسمبلی میں پہنچے تو حلف اٹھانے سے پہلے قومی اسمبلی کی اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ اسپیکر صاحبہ نے ان کا استقبال اپنے چیمبر میں کیا۔ اس موقعے پر میاں نواز شریف نے اسپیکر کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور انھیں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کے اچھے اوریاد گار اسپیکروں میں سے ایک اسپیکر قرار دیا۔ میاںنواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے غیر جانبدارانہ کردار نے نہ صرف اسپیکر کے عہدے کی عزت بڑھائی بلکہ پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ فہمیدہ مرزا اور پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس کا تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ میاں نواز شریف چل کر ان کے چیمبر میں آئیں گے اور انھیں یوں خراج تحسین پیش کریں گے۔

آنے والے دن ہم سب کے لیے اپنے دامن میں کیا لارہے ہیں یہ کون جان سکتا ہے۔ پاکستان اور میاں صاحب کے دشمنوں نے آپس میں کیا مشورے کیے ہیں اور ان کی راہ میں کون سے دامِ ہم رنگ زمیں بچھانے کے منصوبے بنائے ہیں، ہم کیا کہہ سکتے ہیں، لیکن ہمیں یہ ضرور جان لینا چاہیے کہ میاں محمد شریف کے گھر پیدا ہونے والے بیٹے محمد نواز کی کایا کلپ ہوگئی ہے اور وہ اقتدار کے بجائے اقدار کی جنگ لڑنے کے لیے نکلا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہوتی ہے جس میں حصہ لینا خوش نصیبی ہے۔ اسی بازی کے بارے میں فیض صاحب نے کہا تھا کہ ’’ ہارے بھی تو بازی مات نہیں۔‘‘

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.