.

زرداری صاحب ... جو کبھی سب پر بھاری تھے

عرفان صدیقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بدھ کی صبح میں یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ وقت کی کوئی کروٹ انسان کے قبضہٴ قدرت میں نہیں۔کوئی نہیں جانتا کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔ اگر اللہ کے کرم سے سب کچھ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوتا ہے تو اب سے کچھ گھنٹوں بعد قومی اسمبلی میاں محمد نواز شریف کو تیسری بار وزیراعظم پاکستان چن لے گی اور شام ڈھلے وہ صدر آصف علی زرداری سے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو بن جائیں گے۔

نیلے سوٹ اور سرخ ٹائی والے جوان رعنا، احسن اقبال سے مجھے بڑا پیار ہے۔ کل احسن کا فون آیا تو گپ شپ کے دوران کہنے لگا ”آپ گزشتہ پانچ برس کے دوران ایک نعرہ بڑے تواتر سے سنتے رہے ہیں کہ ”ایک زرداری سب پر بھاری“ یہ نعرہ اس تناظر میں لگایا جاتا تھا کہ زرداری صاحب نے اپنی شطرنجی سیاست سے تمام سیاستدانوں کو شکست دے دی ہے اور نوازشریف کو بھی چاروں شانے چت کرکے کنارے لگادیا ہے لیکن وقت کا فیصلہ تو یہ ہے کہ نوازشریف کی متوازن ، دھیمی ، سلجھی ہوئی اور اصولوں پر مبنی سیاست کی فتح ہوئی ہے اور صدر زرداری کی شطرنجی سیاست شکست خوردگی کے زخم چاٹ رہی ہے“۔

گفتگو کے دوران میں نے احسن کی بات کو زیادہ اہمیت نہ دی۔ یوں بھی وہ جلد وزیر ہونے والا ہے۔ زرداری صاحب سے مفاہمت کی رنگین رتوں میں وہ وزیر بنا تو اس نے اپنا فون بند کردیا تھا۔ مجھے اس تک رسائی کے لئے ایک کالم لکھنا پڑا تھا۔ زرداری صاحب کا کمال یہ ہے کہ صدارت کے دوران بھی انہوں نے وہ خاص سیل فون کبھی بند نہیں کیا جو وہ جیل کے دنوں میں استعمال کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی اپنے اے ڈی سی ، ملٹری سیکرٹری یا ایکسچینج کے ذریعے رابطہ نہیں کیا۔ جب کبھی چاہا خود ہی فون اٹھایا اور اپنے لہجے میں بے تکلفی کا رس گھولتے ہوئے بولے ”ہاں! کدھر غائب ہو!“ سو میں نے احسن کی بات کو نظرانداز کردیا۔

لیکن سچی بات یہ ہے کہ پچھلے کئی گھنٹوں سے میں واقعی سوچ رہا ہوں کہ وہ زرداری جو کل تک سب پہ بھاری تھے، جن کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ انہوں نے انتہائی زیرک اور بہترین چالیں چلنے والے سیاستدان کے طور پر اپنے سارے حریفوں کو انبوہ خس و خاشاک بنادیا ہے، جن کے بارے میں تاثر دیا جارہا تھا کہ وہ اس وقت میدان سیاست کے بہترین کھلاڑی ہیں، جن کے بارے میں باور کرایا جارہا تھا کہ سیاسی حکمت کاری میں کوئی ان کا ثانی نہیں، جن کے بارے میں یہ تاثر قائم کردیا گیا تھا کہ انہوں نے سادہ معصوم نواز شریف کو سیاسی شطرنج کا بے جان سا مہرہ بنا کے رکھ دیا ہے، جن کے بارے میں شوخ و شنگ میڈیا نے طے کردیا تھا کہ انہوں نے تمام سیاستدانوں کو مات دیتے ہوئے نہ صرف اپنا عرصہ اقتدار پورا کرلیا ہے بلکہ آنے والے زمانوں پر بھی اپنی مہر ثبت کردی ہے… کیا وہ واقعی ”بھاری“ ثابت ہوئے؟ کیا ان کا شطرنجی انداز سیاست واقعی ان کے لئے کامرانی کا پروانہ بنا؟ کیا واقعی وہ نواز شریف کے انداز سیاست کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے؟

تجزیاتی حاشیہ آرائی اور صحافیانہ موشگافیوں سے ہٹ کر 11مئی کے انتخابی نتائج کی روشنی میں دوٹوک بات کی جائے تو حاصل کلام صرف اس قدر ہے کہ سب پہ بھاری کہلانے والے زرداری ، واقعی سب سے ہلکے نکلے اور سب سے نرم رو، سلجھی ہوئی، متین اور متوازن سیاست کرنے والا نواز شریف وقت کی میزان میں بہت بھاری ثابت ہوا۔

زرداری صاحب نے محترمہ کی شہادت کے فوراً بعد اپنے ذہن میں آنے والے سیاسی موسموں کا ایک زائچہ تیار کرلیا تھا۔ ان کے نقشہ کار کے پانچ بنیادی نکات تھے۔ پہلا یہ کہ وزارت عظمیٰ کسی ایسے پنجابی سیاستدان کو سونپ دی جائے جو امانت و دیانت کے حوالے سے خاصے لچک دار کردار کا حامل ہو۔ دوسرا یہ کہ موقع ملتے ہی وہ پرویز مشرف کو بے دخل کرکے ایوان صدر پہ قبضہ کرلیں تیسرا یہ کہ وہ ماضی کے تمام خرخشوں کو بھلا کر مشرف کی ساری کنیزان حرم کو اپنی سیاسی حویلی کی زینت بنا کر نواز شریف کی محتاجی سے نکل جائیں، چوتھا یہ کہ امریکہ ، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور دیگر تعلق داروں کی ہر ممکن دلداری کرتے ہوئے ساری توجہ اپنے پانچ سالہ اقتدار پر مرکوز کردیں اور پانچواں یہ کہ وہ نواز شریف کے سیاسی قلعے، پنجاب کو سر کرنے کے لئے ایسی لشکرکشی کریں کہ میاں صاحب سنبھل ہی نہ پائیں اور پیپلز پارٹی ایک فاتح کے طور پر ابھر آئے۔ اس پیکیج کو انہوں نے ”مفاہمت“ کا نام دیا۔

9مارچ2008ء کے معاہدہ بھوربن سے شروع ہونے والا سفر زرداری صاحب کی کہہ مکرنیوں کا سفر تھا۔ میاں صاحب نے اس کے باوجود ججوں کی بحالی کے لئے یکے بعد دو معاہدے کئے۔ اسے میاں صاحب کی سادگی سمجھا گیا۔ پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد (طے شدہ معاہدے کے برعکس) ایوان صدر پر زرداری صاحب کے قبضے کو میاں صاحب کے بھولپن سے تعبیر کیا گیا۔ آئینی ترامیم میں میاں صاحب کے تعاون کو زرداری صاحب کی ہنرمندی کا شاہکار قرار دیا گیا۔ جمہوریت کے تحفظ کے لئے میاں صاحب کے بے لچک کردار اور حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کی چھوٹ کو بھی زرداری کے جادو کا کرشمہ سمجھا گیا۔ زرداری صاحب کی ”فتوحات“ اور میاں صاحب کی ”پیہم شکستوں“ کا یہ سفر انتخابات سے پہلے نگران حکومتوں کے قیام تک جاری رہا جب مرکز اور پنجاب سمیت زرداری صاحب اپنے نامزدگان کا تقرر کرانے میں کامیاب ہوگئے اور مسلم لیگ (ن) منہ دیکھتی رہ گئی۔

انتخابی کامیابی کے لئے زرداری صاحب کی شاطرانہ حکمت کاری صرف اس نکتے پہ مرکوز رہی کہ ”صاف چلی شفاف چلی“ کو ہر ممکن مدد دی جائے، خفیہ کاروں کے ذریعے اسے مالی وسائل فراہم کئے جائیں۔ اس کے جلسوں کی رونق بڑھائی جائے، اسے اس قدر اجالا اور اچھالا جائے کہ نواز شریف کا ووٹ بینک کھا جائے اور نتیجتاً پیپلز پارٹی ایک بار پھر اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوجائے۔

لیکن 11مئی کا سورج شطرنجی سیاست کا نوحہ پڑھتا ہوا طلوع ہوا۔ ”صاف چلی شفاف چلی“ خود زرداری صاحب کا ذخیرہ چٹ کرگئی۔ پیپلز پارٹی وفاق کی زنجیر کے بجائے سندھ کے کھونٹے سے بندھی ایک تڑی مڑی سی رسی بن گئی اور اس کی اتحادی ”ق“ لیگ ، اس بازار کی عمر رسیدہ نائکہ بن کے رہ گئی۔ شطرنجی سیاست کے کرشماتی پینتروں کے باوجود ، صدر زرداری اپنی کئی مہمات میں ناکام رہے۔ ایک سال پیچ و تاب کھانے کے باوجود وہ عدلیہ کی بحالی اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کا راستہ نہ روک سکے۔ ڈوگر کورٹس سے من پسند فیصلے لینے کے باوجود وہ نوازاور شہباز کو سیاست سے باہر نہ کرسکے۔ اپنے لشکریوں کے ذریعے جسٹس افتخار محمد چوہدری پر کئی شدید حملوں کے باوجود وہ ان کا بال تک بیکا نہ کرسکے۔ گورنر راج کے ”گناہ بے لذت“ کے باوجود وہ پنجاب میں اپنی حکومت نہ بناسکے۔ فتنہ پرور گورنر لگانے کے باوجود وہ دیوانہ خو شہباز شریف کی شاندار کارکردگی کا راستہ نہ روک سکے۔ لاہور میں اربوں روپے کا محل تعمیر کرلینے کے باوجود وہ اپنی پارٹی کے تن مردہ میں جان نہ ڈال سکے۔ بھٹو اور بے نظیر کی جماعت کو ”سیاسی نوادرات“ کی جھولی میں ڈالنے کے باوجود ان کے ہاتھ خالی رہے۔

نواز شریف کے حلف اٹھاتے ہی ”سب پہ بھاری“ زرداری نہایت ہلکے ہوجائیں گے۔ مشرف کے ہم پلہ اقتدار و اختیار کے بعد اب انہیں باقی ماندہ روز وشب ، چوہدری فضل الٰہی مرحوم کے سے انداز میں گزارنا پڑیں گے۔ نواز شریف کے انداز سیاست کو عوام نے تاریخی پذیرائی بخشی ہے۔ لاریب کہ ازل اور ابد کی حدوں سے بھی ماوریٰ ، ”بھاری“ ذات صرف خالق کائنات کی ہے جو دنوں کے الٹ پھیر سے انسان کو غوروفکر کا پیغام دیتی رہتی ہے لیکن انسان سوچتا ہی کب ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.