.

ترکی میں حکومت مخالف مظاہروں کی حقیقت

ڈاکٹر علی اکبر الازہری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج پاکستان میں نواز شریف کی حکومت کا پہلا دن ہے اور تلخی¿ حالات کی چکی میں پسے ہوئے پاکستانی شدید گرم موسم میں حکومت کی طرف سے کسی ابر بہار کی توقع رکھ رہے ہیں۔ نواز حکومت کی کارکردگی اور اسے درپیش چیلنجز کی نوعیت پر ہم حسب ضرورت قلم اٹھاتے رہیں گے مگر آج ہم برادر اسلامی ملک ترکی میں بپا ہنگامہ آرائی اور اسکے اسباب و مضمرات کو موضوع بنارہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے سے استنبول سمیت ترکی کے تمام بڑے شہروں میں احتجاجی جلوس، ہنگامہ آرائی اور حکومت مخالف مظاہرے دیکھنے میں آرہے ہیں۔ پاکستانی میڈیا پر حسب سابق ترکی اور شام وغیرہ کی صورت حال پر کوئی تفصیلی تجزیہ اور تبصرہ سننے اور دیکھنے کو نہیں ملا اسی طرح ہمارا میڈیا برما کے مظلوم و مقہور مسلمانوں پر ہونے والی قیامت سے بھی یکسر بے نیاز ہے۔

چند قومی روزناموں میں کچھ تحریریں دیکھنے کو ملی ہیں جن میں سے اکثر تفصیلات گمراہ کن ہیں مثلاً کچھ تجزیہ نگار استنبول کے تقسیم چوک کو مصر کے تحریر چوک سے تشبیہ دے رہے ہیں، اسی طرح دو روز قبل ایک صاحب نے ایک طویل مضمون میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ عرب انقلاب کی لہر کی طرح ترکی میں بھی حکومت مخالف انقلابی تحریک چل پڑی ہے۔ تیسرا غلط تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ ترک شہری موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں سے تنگ آچکے ہیں اس لئے حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آرہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب حسب سابق آرمی حکومت کا تختہ الٹادے گی۔

مندرجہ بالا تینوں پہلوﺅں پر غلط اور خود ساختہ انداز فکر سے اسباب اور نتائج کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم رجب طیب اردوان اور صدر عبداللہ گل ترک قوم کی اکثریت کے نمائندہ ہی نہیں محبوب لیڈر بھی ہیں۔ یہ کسی چور دروازے سے حکومت میں نہیں آئے اور نہ ان وقتی ہنگاموں سے ان کی مقبولیت میں کمی آنیوالی ہے۔ اسکی متعدد وجوہات ہیں۔ ترکی واحد مسلمان ملک ہے جہاں گذشتہ 88 سالوں سے تسلسل کے ساتھ انتخابات ہورہے ہیں اور لوگ پڑھے لکھے اور باشعور ہیں۔ عثمانی سلطنت کے خاتمے کے بعد جب مصطفی کمال نے سیکولر ترکی کی بنیاد رکھی تو اس کا پہلا اصول ہی آزاد جمہوری سیکولر نظام تھا۔ اس دوران کمال ازم اگرچہ اسلام مخالف اقدامات کی آخری حدوں تک پہنچ گیا اور فوجی حکمرانوں نے کئی حکومتوں کے تختے الٹے مگر انتخابات اور جمہوری عمل کا تسلسل جاری رہا۔

میں سنی سنائی بات پر نہیں بلکہ آنکھوں دیکھے مشاہدات کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ اس وقت پورے عالم اسلام میں ترک مسلمان سب سے زیادہ تعلیم یافتہ، متحمل مزاج، روشن دماغ، ترقی پسند، فرقہ واریت اور مذہبی مخاصمت سے نفرت کرنیوالے اور عظمت رفتہ کو حاصل کرنے میں دن رات ایک کرنیوالے لوگ ہیں۔ ان خوبیوں کے علاوہ انکی رگوں میں غیور سلجوقی اور عثمانی سلاطین اسلام کا خون دوڑ رہا ہے۔ وہ سالار کاروان عشق مولانا روم اور غیرت و حکمت دینی کے امین سعید نورسی کے اعلیٰ پاکیزہ جذبات کے نقیب ہیں۔ ان کے پاس فتح اللہ گولن جیسا عاشقِ رسول مصلح موجود ہے جس کی حکمت و دانش نے کروڑوں دلوں میں اسلام کی محبت و عظمت کی شمعیں روشن کررکھی ہیں۔

عالمی تبدیلیوں پر سیاسی، سماجی اور مذہبی ترک قیادت سمیت عوام و خواص کی گہری نظر ہے۔ طیب اردوان کو اسلام پسند ترک نوجوان استنبول کا فاتح ثانی سمجھتے ہیں۔ انکی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) نے اگلے کئی عشروں کیلئے طویل، موثراور حیران کن منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ انکی معاشی ترکی اتنی حیران کن ہے کہ آج کے دور میں اسے جادو ہی کہا جاسکتا ہے۔ آج سے دس بارہ سال قبل کا ترکی لیرا آج کے لیرے کے مقابلے میں 12ہزار گناہ کمزور تھا۔ آج ترکش لیرا ڈالر کا مقابلہ کررہا ہے۔

جو ملک یورپ کا مردِ بیچار کہلاتا تھا اور اس کی معیشت غیر ملکی مالیاتی اداروں کے سہارے (موجودہ پاکستان کی طرح) بیساکھیوں پر چل رہی تھی آج وہ IMF کو قرض دینے کی پوزیشن میں آچکا ہے۔ اس نے یورپی یونین میں شمولیت کی بھیک مانگنے کے بجائے بعض یورپی ممالک کو اپنا حاشیہ بردار بنانا شروع کردیا ہے۔ 12 سال قبل ترکی میں فی کس سالانہ آمدنی 1800 ڈالر تھی جو اس وقت بڑھ کر 11000 ڈالر فی کس ہوچکی ہے۔ طیب اردوان کی مخلص، ذہین اور زیرک قیادت نے ترکی کو دہشت گردی کی لعنت سے بھی چھٹکارا دلادیا ہے۔ اس نے جنگجو کرد باغیوں سمیت دیگر سیکولر ترک مخالف قوتوں کو بھی قومی دھارے میں سمولیا ہے اور کئی دہائیوں تک جمہوری حکومتوں کے سروں پر تلوار کی طرح لٹکتی ہوئی فوج کے شرارتی جرنیلوں کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا ہے۔

اب بچے کھچے غیر مقبول سیاسی گروہ، کمال ازم کی اسلام مخالف باقیات اور بیرونی طاقتوں کے ایجنٹ آئے روز کوئی بہانہ تلاش کرکے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی ناکام کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ ہنگاموں میں بھی استنبول کے ایک پارک کے درختوں کو بہانہ بنایا گیا۔ حالانکہ استنبول تو دنیا کا خوبصورت ترین شہر ہے جس میں آبنائے فاسفورس کی دونوں جانب چنار کے درختوں کی بہار حد نظر تک آنکھوں کو تراوت بخشتی ہے۔ یہ سارے ہنگامے دراصل ان اسلام دشمن اور ترکی مخالف لوگوں کی طرف سے ہورہے ہیں جو شراب نوشی اور کھلے عام مردو خواتین کی غیر اخلاقی حرکات کیخلاف حالیہ قانون سازی کے مخالف ہیں۔ ترکی کی موجودہ حکومت حکمت اور تحمل کے تحت ترکی کی فضاﺅں کو اسلام مخالف کلچر اور دین مخالف آئین کو آہستہ آہستہ صاف کررہی ہے۔ اس عملِ تطہیر میں ترک عوام حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ ترکوں کی حب الوطنی، سمجھداری اور اسلام سے جذباتی وابستگی کے مظاہر بتارہے ہیں کہ ترک قوم ان ہنگاموں سے بھی مثبت نتائج حاصل کریگی۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.