.

توانائی بحران کا نرالا حل

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزارت عظمی کا حلف لینے کے بعد اور کابینہ کی تشکیل سے بھی پہلے توانائی بحران کے حل پر ایک اعلی سطحی اجلاس میں غوروخوض ہوا۔اس میٹنگ میں بہترین دماغ اکٹھے کئے گئے،ملک کے عام شہری کو اس اجلاس سے کوئی خوشخبری سننے کو نہیں ملی۔

مگر اس بات کی داد ضرور دی جانی چاہئے کہ درد مندی کا احساس موجود ہے اور توانائی بحران کو فوقیت دی جا رہی ہے۔پسینے میں شرابو ر اور اندھیروں میںڈوبی قوم کو طفل تسلی دینے کے لئے میرے پاس اور کوئی منطق نہیں۔

عالی دماغ اور عالی مرتبت ماہرین کے اس اجلاس میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے نکتے پر تو غور ہوا، کوئلہ پاکستان میں وافر ہے لیکن اس سے بھی وافر پانی ہے ، اس کاذکر شاید ہی کسی زبان پر آیا ہو، پانی سے سستی بجلی پیدا ہوتی ہے، بھاشہ ڈیم کا آغاز ہو چکا ہے اور کالاغ ڈیم کی فیزیبلیٹی تیار ہے۔ میاں نواز شریف کو یاد ہوگا کہ ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد انہوں نے جو اعلانات کئے تھے، ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کالا باغ ڈیم تعمیر کیا جائے گا۔ اب اس کا دور دور تک ذکر اذکار نہیں ملتا۔اس وقت بھی میاں صاحب کے پاس ہیوی مینڈیٹ تھا اور آج بھی ہے۔بس عزم و حوصلے کی ضرورت ہے۔

چند روز پہلے میری ملاقات اس بھارتی دانش ور اور صحافی سے ہوئی جو اپنے آپ کو خارجہ امور کے کسی ادارے کا سربراہ کہتے ہیں۔یہ ہیں ڈاکٹر ویدک صاحب۔ میری ان سے ملاقات میاں عامرمحمود کے ضیافت کدے میں ہوئی۔انہوں نے جب یہ اعتراف کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف بھارت کی آبی جارحیت سے آگاہ نہیں تو لاہور کے ایک درجن کے قریب دانشور حیرت میں ڈوب گئے کہ بھارت، پاکستان، افغانستان اور علاقے کے دیگر ممالک کے حکمرانوں سے ذاتی تعلقات کا دعوی کرنےوالے ڈاکٹر ویدک صاحب یہ بھی نہیں جانتے کہ بھارت نے سندھ طاس کے معاہدے کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے پاکستان کو بے آب و گیاہ صحرا میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔اوراس کی تکمیل کے لئے اٹوٹ انگ کشمیر کی گردان کئے چلے جا رہا ہے۔

اور اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہوگی کہ دشمن کا سلوک اپنی جگہ پر مگر صوبہ خیبر پی کے، سندھ اور بلوچستان جو اپنی محرومیوں کا رونا روتے نہیں تھکتے، ان تینوں صوبوں نے وفاقیت کی روح کوکچلتے ہوئے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کو شعار بنا رکھا ہے۔محض اس بنا پر کہ اس کا محل وقوع پنجاب ہے۔میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ تینوں صوبے پنجاب کے وزیر اعظم، پنجاب کے صدر، پنجاب کے اسپیکر اور پنجاب کے آرمی چیف کو کیسے برداشت کر لیتے ہیں، جس اسپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ جمہوری اور ریاستی عمل میں شریک ہیں ، اسی جذبے سے کام لیتے ہوئے ان تینوں صوبوں کو کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر بھی آمادہ ہو جا نا چاہئے ورنہ اندھیرے سدا مقدر بنے رہیں گے۔مگر پہلے قیادت بھی تو اس منصوبے کو ایجنڈے میں سر فہرست رکھے۔ لاہور کی اعلی سطحی میٹنگ نے اس حل کو فہرست میں شامل کرنا مناسب ہی نہیں سمجھا۔

دریائی پانی کی تقسیم اور اس کے استعمال کا جھگڑا صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان ہی سر دردی کا با عث نہیں، دنیا کے کئی ممالک ایسے مسائل سے دو چار ہیں۔ ان دنوں ایتھوپیا میں دریائے نیل کا رخ موڑ کر ایک ہائیڈل ڈیم کی تعمیرپر مصر اور سوڈان نے شور مچا رکھا ہے۔ ایتھوپیا، نیل کا منبع ہے اور یہ دریا صدیوں سے راونڈا، تنزانیا، یوگنڈا، جنوبی سوڈان، سوڈان اور مصر میں بہہ رہا ہے. دنیا کے اس طویل ترین دریا کے کنارے ،انسانی تہذیب کے امین ہیں اور انسانی خون سے لہو لہان بھی۔ نامعلوم کتنی جنگیں اس کے پانیوں پر بالادستی کے لئے لڑی گئیں۔ مصر نے اس پر سب سے بڑا ڈیم بنا رکھا ہے مگر اب وہ ایتھوپیا کے حق کو چیلنج کر رہا ہے۔ یورپ میں دریائے ڈینیوب کئی ملکوں کی سرحدیں بنانے اور بگاڑنے کا باعث بنتا رہا۔ جرمنی کے سرسبزو شاداب جنگل بلیک فارسٹ سے دو چھوٹی چھوٹی ندیاں نکلتی ہیںجو بویریا میں ڈینیوب کے نام سے ایک دریا کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ جرمنی سے یہ دریا آسٹریا کا رخ کرتا ہے اور وی آناکو چھوتا ہواچیکو سلوواکیہ اور ہنگری کی سرحد بناتا ہے۔ یوگو سلاویہ میں اس کا پاٹ وسیع ہو جاتا ہے اور یہ رومانیہ کی سرحد کے ساتھ بہنے لگتا ہے۔ بلغاریہ کے بعد یہ دریادلدل کی صورت میں پورٹ سعید پر بلیک سی کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ رومانوی تذکرہ پڑھتے ہوئے آپ کو یاد نہیں رہا ہوگا کہ ڈینیوب کتنے یورپی ملکوں سے گزرتا ہے، ان ممالک نے صدیوں کے جھگڑوں کے بعد بالآخر ایک ساتھ جینا کیسے سیکھ لیا ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین بھی دریائی پانی کا جھگڑا گرم رہتا ہے، خود بھارت کے اندر مختلف دریاﺅں کے پانی کی تقسیم کے تنازعات بھی چلتے رہتے ہیں، اس لحاظ سے پاکستان اور بھارت یا پاکستان کے چاروں صوبوں کے درمیان دریائی پانی کی آویزش پر کسی کو اچنبھا نہیں ہونا چاہئے۔لیکن دنیا ایسے تنازعات کا منصفانہ اور با عزت حل تلاش کرلیتی ہے اورہم ان مسائل کو پس پشت ڈال کو سو جانے کے عادی ہو چکے ہیں۔

پاکستان زندگی اور موت کے مابین پل صراط پر لٹکا ہو اہے۔ ہم ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ عقل کے گھوڑے دوڑا رہے ہیں۔چہروں پر سنجیدگی طاری کر کے عوام کو ہمدردی اور غمگساری کا تاثر دے رہے ہیں۔مگر ہمیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ لے دے کے ایک کوئلہ ہے جس کی دلالی کر سکتے ہیں۔کبھی ہمیں ونڈ پاور کے خواب دکھائے جاتے ہیں، زرداری صاحب نے چین کے نصف درجن دورے کئے، یہ دیکھنے کے لئے کہ اس نے چھوٹے چھوٹے ڈیم کیسے بنائے ہیں۔کبھی ہمارے ہاتھ میں سولر لیمپ تھمادیئے جاتے ہیں ، اب خوش خبری دی گئی ہے کہ ساڑھے بارہ ایکڑ سے کم کے کاشتکار کو سولر پمپ رعایتی دیا جائے گا۔حکومت بھی یہاں ہے، چھوٹے کسان بھی یہیں ہیں۔چھوٹے کسانوں کو کسی حکومت نے یہ بہلاوہ بھی دیا تھا کہ ہر ایک کو ساڑھے بارہ ایکڑ زمین ضرور دی جائے گی۔ یہ وعدہ اس ملک میں تو پورا نہیں ہوا ، اگر ہوا تو کوئی میری تصحیح کر دے، میں پیدا ہوا تھا تو میرے پاس دو ایکڑ زمین تھی اور آج چھیاسٹھ سال بعد بھی یہی زمین ہے، میں جن کسانوں کو جانتا ہوں، ان کی زمین نے بھی انڈے بچے نہیں دیئے، اب ان زمینوں کو سولر پمپ دینے کا اعلان خوش کن ضرور ہے مگرزمینیں ان لوگوں کو ملیں جن کے پاس پہلے ہی سینکڑوںہزاروں ایکڑ زمین تھی، جو انگریزوں نے غداری کے صلے میں دی تھیں۔بکری پال، گھوڑے پال، کبھی کسی بہانے، کبھی کسی بہانے، یہی سب کچھ ہتھیاتے رہے۔اب سولر پمپ بھی وہی لے جائیں گے ، اپنے مزارعوں کے شناختی کارڈز پر۔ اور گھروں میں ڈیجیٹل کارڈز اور سمارٹ میٹرز پر بجلی ملے گی ۔ یوسف رضاگیلانی صاحب دن اور رات کے میٹروں کے چکر میں پھنسا گئے جن کی وجہ سے یونٹ پندرہ روپے کا ہوگیا، اب اسمارٹ میٹر اور پری پیڈ کارڈز، بلوں کی شکل میں بجلی گرائیں گے، لوگ بجلی مانگتے ہیں ، جواب میں ان کے میٹر تبدیل کئے جا رہے ہیں تا کہ بلوں میں ہوش ربااضافہ ہو جائے۔ ہے نا توانائی کے بحران کا آسان اور نرالا حل ۔۔۔ اور مانگو بجلی۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.