.

حساس اداروں کو مبارک باد کیوں؟

منو بھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میرے ماموں کی ملازمہ سکینہ ماسی نے نماز کے دوران سلام پھیرتے ہوئے ”السلام وعلیکم و رحمة اللہ“ کہنے کی بجائے ”السلام و علیکم بشیرے کے ابو“کہا تو میری حیرت دور کرنے کے لئے ماموں جان نے بتایا کہ مشرقی تہذیب الاخلاق کے تحت بیویاں سرعام شوہروں کے نام احتراماً نہیں لے سکتیں اور رحمت اللہ سکینہ بی بی کے شوہر ہیں، شاید اسی احترام کے تحت ہم اپنے بعض سرکاری اداروں کے نام لینے کی بجائے انہیں ”حساس ادارے“ پکارتے ہیں اور پروا نہیں کرتے کہ یوں دیگر تمام سرکاری ادارے ”بے حس“ قرار پائیں گے جس طرح پولیس کی ایک فورس ”شاہین فورس“ قرار پائی تھی تو پولیس کی دیگر تمام فورسز پر ”گدھ فورسز“ کا الزام عائد ہو سکتا تھا۔

بے حس اداروں کو حساس اداروں کے معاملات میں دخل دینے کی اجازت نہیں ہوگی مگر یہ ضرور واضح ہونا چاہئے کہ جناب امین فہیم نے تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے پر میاں محمد نواز شریف کے علاوہ حساس اداروں کو مبارک باد کیوں دی ہے؟ میاں صاحب کے اس عظیم، انوکھے اور منفرد کارنامے میں حساس اداروں کا کیا دخل ہو سکتا ہے، جبکہ ملک میں جمہوری طرز حکومت کی بحالی ہو چکی ہے اور دیگر تمام اختیارات وزیراعظم کے حوالے کرنے کے باوصف ”سپریم کمانڈر“ کے اختیارات ابھی تک صدر آصف علی زرداری کے پاس ہی ہیں اور یقینا حساس ادارے بھی دیگر فوجی اداروں کی طرح سپریم کمانڈر کے ماتحت ہوں گے۔

پوری دنیا کے سیاسی لیڈر میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو ان کے اس نمایاں تاریخی کارنامے پر مبارکباد دے رہے ہیں کہ تیسری مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم اور صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے ہیں مگر جس طرح کسی سید، کسی خوبصورت اور امیر گھرانے میں پیدا والے شخص سے پوچھا جا سکتا ہے کہ سید ہونے، خوبصورت ہونے اور امیر گھرانے میں پیدا ہونے میں تمہارا اپنا کمال کیا ہے اور کسی نیچے اور غریب گھر میں جنم لینے والا بدصورت شخص پوچھ سکتا ہے کہ اس میں میرا اپنا کمال کیا ہے…

ویسے بھی سوچا جا سکتا ہے کہ اگر فوجی حکمران نے محض اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے سول سیاست دانوں کے تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی عائد فرمائی تھی تو اس میں میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کا کیا کمال تھا اور ان کے تیسری مرتبہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بننے میں بہت سارا دخل سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کا بھی ہے کہ جنہوں نے میاں نواز شریف کے دوسرے دور حکومت کو مکمل ہونے نہیں دیا تھا اور 1999ء میں ان کے اقتدار پر قبضہ کر کے جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور کیا تھا اور اس میں شائد صدر آصف علی زرداری اور ان کی پارٹی کی حکومت کی ”ناکردہ کاریوں“ کا بھی بہت سارا دخل ہو گا کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو تیسری مرتبہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھانے کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔

اس طرز استدلال کے تحت یہ بھی سوچا جا سکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اگر پھانسی پر لٹکائے جانے کے بعد تیسری مرتبہ حکومت کر چکے ہیں تو اس کا کچھ کریڈٹ جنرل ضیاء الحق اور ان کے ”رفقائے کار“ کے علاوہ ان کے سامنے دمیں ہلانے والے سیاست دانوں اور عدالت عظمیٰ کے مسندوں پر براجمان ”انصاف“ کرنے والوں کو بھی جائے گا، شاعر نے صحیح کہا تھا کہ بہت سی سعادتوں کا حصول محض زور بازو کا محتاج نہیں ہوتا۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.