.

عوام کو حق دو

طلعت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتخابات کے نتائج کے بعد اب حکومتیں بن گئی ہیں۔ اس ملک کے عوام کو کچھ لوٹانے کا وقت آ گیا ہے۔ بیسیوں سال ہو ئے کہ قوم نے کوئی سیاسی خوشخبری سنی ہو، اب اگر خوشخبری نہیں تو بد خبری سے قوم کو بچانے کا وقت آ گیا ہے۔ ہمارے ملک میں ریاست اور حکومتوں نے ہمیشہ ہم سے قربانیاں مانگیں‘ کبھی جان کی کبھی مال کی، کبھی ووٹ مانگے ہیں اور کبھی ملک کو بچانے کے لیے ووٹ۔ درست ہے کہ ہم میں سے چند طبقے ٹیکس نہیں دیتے مگر یہ وہی طبقات ہیں جو سیاست پر خاموشی سے اجارہ داری قائم کیے ہو ئے ہیں۔

اوسط پاکستانی ملک کے لیے سر کٹوانے کے لیے ہمیشہ تیار رہا ہے، ٹیکس دیتا ہے اور بد ترین حکمرانوں کو جمہوریت کے نام پر خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کی روایت کا علمبردار ہے۔ مگر اب بہت ہو چکی، اب عام پاکستانیوں سے مسائل کھینچنے اور ان کو مسائل میں مختلف حیلوں سے گھرے رکھنے کی تاریخ کو بدلنا ہو گا۔ پنجاب کی حکومت سے توقع ہے کہ وہ اپنے تاریخی مینڈیٹ کو اس صوبے میں موجود تین بڑے مسائل کو حل کرنے کے لیے استعمال کرے گی۔ تھانہ کچہری، صحت اور تعلیم اور پھر اس کے ساتھ ساتھ اس پر عموماً توجہ نہیں دی جا تی، پینے کا صاف پانی اور شہروں میں صفائی اور ستھرائی۔ یہ تمام کام بڑی شہ سرخیاں بنانے والے نہیں ہیں، ہاں اگر دانش اسکول جیسے مہنگے منصوبے تیار کیے جائیں تو تشہیر آسان ہے۔

روزمرہ کی زندگی میں عام شہری کو جس جبر اور قہر سے تھانے اور کچہری میں سے گزرنا پڑتا ہے، اس کا اندازہ میٹنگز روم میں بیٹھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔ ایک جم غفیر ہے جو روزانہ ان راہ داریوں میں بے موت مارا جاتا ہے۔ جہاں پر ایف آئی آریں بکتی ہیں اور مقدمات افراد کی عمروں سے زیادہ طویل مدت میں بھی طے نہیں ہوتے۔ پنجاب کے تھانے اور کچہریاں تبدیلی مانگتی ہیں۔ ایسی ہی تبدیلی وہ اسکول اور بنیادی صحت کے مراکز چاہتے ہیں جہاں نہ کھیل کے میدان ہیں اور نہ دوائیاں، نہ چھوٹے چھوٹے بچوں کے لیے رفع حاجت کی سہولت اور نہ کوئی ایسا ڈاکٹر جو ہر وقت بنیادی بیماریوں کے علاج کے لیے موجود ہو۔ صوبے کے اندرون ہر گلی میں دو نمبر اسکول اور دس نمبر ڈاکٹر اور حکیم قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے تعلیم اور صحت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔

ان شعبوں میں اگر انقلابی اور فوری تبدیلی نہ آئی تو شہباز شریف کے نعرے کسی کام نہیں آئیں گے۔ شہروں کو صاف رکھنا اور غلاظت سے بھرے ہوئے پانی کے ذخائر کو صاف کرنا بھی شہریوں کی بنیادی ضرورت ہے۔ گندگی کے ڈھیروں میں اور گدلے تالابوں کے کنارے عالی شان منصوبے پرانی قبروں پر نئے کتبے کی طرح لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ پٹواری کلچر کے خاتمے کا جو بیڑہ اٹھایا گیا ہے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ لینڈ مافیا اس نظام کی جڑوں کو کھا گیا ہے۔ پٹواری کے لٹھے کو کمپیوٹر کی دستاویز میں تبدیل کرنے کا پراجیکٹ ہر ضلعے میں مکمل ہونا چاہیے۔ کوئی زمین کا لین دین ْریکارڈ پر لائے بغیر مکمل نہیں ہو نا چاہیے اور پھر یہ ریکارڈ عام جانچ پڑتال کے لیے بروقت مہیا بھی ہو نا چاہیے۔

خیبر پختونخوا کی حکومت کے سامنے مسائل کا پہاڑ بھی ہے اور ان توقعات کا انبار بھی جو انھوں نے اپنے وعدوں سے خود ہی کھڑا کیا ہے۔ اس خطے میں سب سے بڑا مسئلہ عام مگر منظم جرائم اور دہشت گردی میں گٹھ جوڑ کا ہے۔ اس خونی اتحاد کو توڑنے کے لیے جس ادارے کا سہارا لیا جاتا ہے، اس کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ اس وقت خیبر پختونخوا کی پولیس تمام تر قربانیوں کے باوجود بر وقت وسائل مہیا نہ کیے جانے کی وجہ سے حوصلہ ہار رہی ہے۔ پولیس انٹیلی جنس کے ادارے کی تربیت انتہائی کمزور ہے جب کہ مد مقابل دنیا بھر سے دی جا نے والی امداد کے ذریعے حملہ آور ہو تا ہے۔ پولیس کی تنظیمی صلاحیت بڑھائے بغیر یہ صوبہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ فر نٹیئر کانسٹبلیری کو ایک منظم فورس میں تبدیل کیے بغیر خیبر پختونخوا کے ضلعوں کو غیر بندوبستی علاقوں سے آنے والے خلفشار سے نہیں بچایا جا سکتا۔

اس کے ساتھ ساتھ سیاست میں گھسے ہو ئے جرائم پیشہ مافیا کے لمبے ہاتھ بھی قطع کرنے ہوں گے۔ سیاحت، جنگلات اور اس صوبے کے دوسرے بیش بہا حکومتی خزانے ان گروہوں کے قبضے میں ہیں جو سیاست دانوں کو خریدنے اور سیاست کو اپنے تحفظ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں مسئلہ ڈرونز کا نہیں ان’’ڈانز‘‘ کا ہے جو بے چہرہ ہونے کے باوجود اس صوبے کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں رکھے ہو ئے ہیں۔ ان کو گرانے کا بندوبست کرنا ہے۔

بلوچستان میں دو بڑے کام کرنے ہیں، ایک تو بدعنوانی کی آکاس بیل کو سختی سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ ماضی میں دیے جانے والے وسائل اور پراجیکٹس پر مبنی ایک رپورٹ تیار کرنے کی ضرورت ہے تا کہ قوم کو اپنے وسائل کے استعمال کے حقائق سے آگاہی ہو۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر اس صوبے میں ترقیاتی ترجیحات کا تعین کرنا ہو گا۔ آغاز حقوق بلوچستان جیسے منصوبے اس صوبے کے دکھ کم نہیں کر سکے ‘ اس مرتبہ یہ غلطی نہیں دہرانی۔ دوسرا کام ریاست کی عمل داری کو پورے صوبے میں پھیلانا ہے۔

فر نٹیئر کانسٹبلیری اور فوج کا کردار اس وقت ختم ہو گا جب پولیس اس قابل بنائی جائے گی کہ وہ امن و امان کی تمام تر ذمے داریاں خود سنبھال سکے اور پھر اس میں ہونے والی بھول چوک پر خود کو احتساب کے لیے پیش کرے۔ اگر سیکیورٹی کے اداروں کی موجودہ کھچڑی پکی رہی تو پھر بلوچستان میں پیش رفت مشکل ہو گی۔ اس صوبے کے باسیوں کی ناراضی کو دور کرنے کے لیے اداروں کے ذریعے سہولیات پہنچانے کے نظام کو موثر بنانا ہو گا۔ ناراضیاں، خوف اور غصے کی خار دار جھاڑیاں ہیں۔ بہتر حکومتی کارکردگی زمین کی ساخت کو تبدیل کر سکتی ہے۔

صوبہ سندھ میں جو کام کرنے کو تھا وہ تو ہوا نہیں یعنی محترم قائم علی شاہ کی جگہ کسی ایسی شخصیت کو ذمے داریاں دینا جو اس عظیم خطے میں پھیلے ہوئے خلفشار اور بے بسی کو دور کرنے کی تدبیر اور جرات رکھتا ہو لیکن اگر کہیں کرشمے کی کوئی گنجائش باقی ہے تو پھر قائم علی شاہ کو سب سے پہلے کراچی میں ہونے والے روزانہ کے فساد پر قابو پانا ہو گا۔ روز روز کی ہڑتال، بوری بند لاشیں، ہر وقت لٹ جانے کا خدشہ اور لوٹے جانے کی وارداتوں نے اس خوف ناک بے چینی کو جنم دے دیا ہے جس کا گلا گھونٹے بغیر سندھ کی حکومت کسی قسم کی کامیابی کا کوئی دعویٰ نہیں کر سکتی۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھ کے دوسرے ضلعوں میں چھائے غربت کے اندھیرے اور لاقانونیت کو بھی دور کرنا ہے۔ ان علاقوں میں سفر کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ غربت کیا چیز ہے اور ظلم کتنا دبیز ہو سکتا ہے۔

آپ کو بد عنوانی اور بد حکمرانی کے ثبوت حاصل کرنے کے لیے خاص تحقیق کی ضرورت نہیں ہے، دریائے سندھ کے آر پار شہروں اور گوٹھوں میں سے گاڑی چلاتے ہوئے گزر جایئے آپ خود ہی جان جائیں گے کہ یہاں کے باسیوں کی گردن کے گرد استحصالی سیاست نے کیسا پھندہ کسا ہوا ہے۔ اگرچہ قائم علی شاہ اسی سیاست کا حصہ ہیں مگر پھر بھی یہ امید کی جا سکتی ہے کہ شاید ان کی جماعت سندھیوں کا وہ قرضہ واپس کر دے جو اس نے ہر انتخاب میں مانگا ہے۔ مرکز کی حکومت کو کیا کرنا ہے، اس کے لیے مجھے کابینہ کے بننے کا انتظار ہے جو یہ جملے لکھے جانے تک معرض وجود میں نہیں آئی ہے ۔ اس کے لیے اگلے ہفتے کا کالم پڑھیے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.