.

میرؔ دل چاہتا ہے کیا کیا کچھ!

بشریٰ اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کہتے ہیں جہاں محبت کام نہ آئے، وہاں جنگ کام آتی ہے، اور جہاں جنگ سے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں۔۔۔ وہاں جنگ بندی! کہ عقلمند وہی ہے، جو وقت کے اشارے پہچانے۔۔۔ اور ہوا کے رُخ سے سمتوں کا تعین حاصل کر سکے! نوازشریف تیسری دفعہ وزیراعظم منتخب ہو گئے، اور صدر زرداری نے ن لیگ کی اس فتح کا اقرار کھلے دل سے کر لیا۔۔۔ البتہ چک شہزاد کے وی وی آئی پی رہائشی جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی نومنتخب وزیراعظم کے متعلق کیا رائے ہے، اور اپنے مخصوص انداز میں انہوں نے اس پر کیا تبصرہ فرمایا ہو گا۔۔۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا!

قرآن کا وعدہ ہے ’’ہم انسانوں کے درمیان دنوں کو پھیرتے رہتے ہیں‘‘۔ اس حقیقت کی ایک چھوٹی سی مثال، 12 اکتوبر 99ء سے 6 جون 13ء کی شکل میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔۔۔ اور سندھ کے کرشماتی لیڈر کی جماعت، جسے چاروں صوبوں کے مابین زنجیر سمجھا جاتا تھا، آج اس کے سکڑے سمٹے وجود کو سندھ کی صوبائی اسمبلی میں پڑا دیکھ کر بھی، دنوں کے پھیرے جانے کی حقیقت روزِ روشن کی طرح سامنے آنے لگتی ہے! یہ کچھ زیادہ پرانی بات تو نہیں، جب ہر جانب یہ تاثر عام تھا کہ جن چاہے تو چھوڑ دے مگر بھٹو نہ چھوڑے۔۔۔کہ یہ وہ جن ہے، جو پچھلے چالیس برسوں سے، خیبر سے کیماڑی تک، عوام کے سروں پر چڑھ کر بولتا تھا۔۔۔ اور جسے نہ تو ضیاء الحق کے کوڑے، عقوبت خانے اور جلاوطنیوں کی سزائیں اتار سکیں اور نہ ہی پرویز مشرف کا این آر او۔۔۔! مگر اسے اتارا تو کس نے؟ خود مردِ حُر نے، کہ جن ہمیشہ بڑے عامل ہی اُتارا کرتے ہیں، اور اتارنے کے طریقوں میں سب سے آزمودہ طریقہ وہی ہوتا ہے، جو بھٹو سائیں کے داماد جی نے اختیار کیا،

عوام کے سروں پر مختلف ڈیزائن اور سائز کے اتنے جوتے برسائے، کہ بالآخر چالیس برسوں کے بعد، جن اُتر گیا اور ایسا اُترا، کہ دوبارہ چڑھنے کا کوئی چانس ہی باقی نہیں رہ گیا! اب صدر زرداری اس تکلیف دہ حقیقت کو مانیں چاہے نہ مانیں۔۔۔ ان کی مرضی۔۔۔! بلاول زرداری کے ساتھ بھٹو کا پھندنا لگانے سے علاوہ نام کی خوبصورتی کے اور کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔۔۔ بھٹوز کی تاثیراپنی جگہ، مگر انہیں اب یہ تسلیم کر لینا چاہئے، کہ کثرتِ استعمال سے اب اس نام کی تاثیر ختم ہو چکی ہے اور حقائق بتاتے ہیں، اب یہ ملک پاؤں پاؤں چلتا جس مقام پر آ چکا ہے، وہاں ناموں کی نہیں، کاموں میں تاثیر کی ضرورت ہے! جن اُتر چکے، آسیب جا چکے، اور عوام کو ہوش آ چکی! اب بھٹوز کے سابقے لاحقے نہیں۔۔۔ محبت کی پرانی قسمیں وعدے نہیں۔۔۔ عمل کی ضرورت ہے۔۔۔ ٹھوس اور سنجیدہ عمل کی، جس کی تاثیر براہ راست عوام تک پہنچے، اب تعویذ گنڈے، اور دم دعا کے زمانے گئے!

تیسری دفعہ ، مسندِ اقتدار پر بیٹھنے والے نوازشریف کی خوش نصیبی اپنی جگہ مسلم، مگر انہیں معلوم ہونا چاہئے، جس ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے انہوں نے اتنی محنت کی ہے، وہ ملک اس وقت مسائل کا نہیں، بحرانوں کا گھر بنا ہوا ہے، خوفناک شکلوں اور کریہہ چہروں والے ممبران، عفریتوں کی طرح منہ کھولے، ہماری امیدیں نگلنے کے لئے بے تاب کھڑے ہیں۔۔۔! بلندوبانگ دعوے، منجھی ہوئی تقریریں، خوش نما وعدے، فضول خرچیوں سے بچنے کے لئے پہلے قدم پر اٹھائے جانے والے ضمنی اقدامات، حرفِ اول کے طور پر تو ٹھیک ہیں، مگر آگے چل کر، ان کے اندر سے کیا ’’برآمد‘‘ ہوتا ہے، اس کا اندازہ جلد ہی ہو جائے گا، ہمیں بھی۔۔۔اور ملک کو بھی! حالیہ انتخابات میں، عوام نے جس بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے، اور تبدیلی کے لئے جس طرح وہ گھروں سے نکلے ہیں، اس کے بعد یہ کہنا کچھ زیادہ غلط نہ ہو گا، کہ آئندہ مسندِ اقتدار پر وہی ٹکے گا، جو کچھ کر کے دکھائے گا۔۔۔ اب پرانے جن اور پرانے ہتھکنڈے کام نہ آئیں گے!

اس قہر کی گرمی میں، بجلی بجلی کوکتے، سڑکوں پر نکلے ہوئے لوگ اپنے نئے وزیراعظم سے کیا چاہتے ہیں۔۔۔ بلکہ یہ کہیں تو زیادہ درست ہو گا، کہ کیا کیا چاہتے ہیں۔۔۔ بقول میر تقی میرؔ ، وصل ان کا نصیب ہو جائے، میرؔ دل چاہتا ہے، کیا کیا کچھ‘‘۔ اس کیا کیا کچھ میں، کیا کیا کچھ شامل ہے، شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اس ملک کا بچہ بچہ ان بیماریوں کا نبض شناس ہے، جنہیں ہم بحران اور مسائل کہتے ہیں۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے نوازشریف کی ابتدا کیسی ہوتی ہے۔۔۔ کہاں سے ہوتی ہے؟ سرِدست بجلی بحران، کہ اس نے ہر سطح پر انسانی زندگی کا گھیراؤ کر رکھا ہے۔۔۔ معیشت کی تباہ حالی، بدامنی، اور دہشت گردی جیسے جناتی مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر اپنا حل مانگتے ہیں۔۔۔اور اس کے بعد، ترقی و تعمیر کے وہ سلسلے، جو عرصہ دراز سے یہاں کسی نے نہیں دیکھے! میاں نوازشریف اور برادرِ خورد میاں شہباز شریف کو چاہئے کہ شیر شاہ سوری کے کردار کو وقتی طور پر مؤخر کریں، اور اس ملک کے جناتی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں، مان لیں اس ملک کا گزارہ میٹرو بسوں اور سڑکوں کے بغیر تو ہو سکتا ہے مگر بجلی کے بغیر نہیں۔۔۔ معاشی و اقتصادی ترقی کے بغیر نہیں۔۔۔ صحت، تعلیم اور بنیادی اشیائے ضروریہ کے بغیر نہیں۔۔۔! مانا شہباز شریف بہت بڑے جن ہیں، اور بوتل سے باہر بھی آ چکے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جن کی کارکردگی کیا ہوتی ہے؟ یاد رہے اب سستی روٹی، لیپ ٹاپ، آشیانہ سکیم اور میٹرو بس مارکہ کارکردگی سے یہ ملک اور اس میں رہنے والوں کا مستقبل نہیں بچایا جا سکتا؟

یہ ’’جن‘‘ جو اپنی پوری طاقت اور توانائی کے ساتھ ہمارے درمیان موجود ہے۔۔۔ اسے اب ٹھوس اور ترجیحی اقدامات کے ذریعے اپنی ’’جناتی قوتوں‘‘ کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔۔۔ وگرنہ اس کا حال بھی وہی ہو گا، جو انڈس ویلی میں، پچھلے چار عشروں سے ہے جمالو کی تھاپ پر رقص کرتے اس داستانی ’’جن‘‘ کا ہوا، جسے زرداری نامی عامل بابا نے محض چند برسوں میں یوں اتارا کہ اب اس کا سایہ بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا، کہتے ہیں جہاں محبت کام نہ آئے، وہاں جنگ کام آتی ہے، اور جہاں جنگ سے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں وہاں جنگ بندی! عقلمند وہی ہے جو قت کے اشارے پہچانے اور ہوا کے رُخ سے سمتوں کا تعین حاصل کر سکے!!

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.