.

آئی ٹی کی وزیر مملکت کا درست قبلہ

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پرویز رشید، احسن اقبال اور اسحاق ڈار کے ہوتے ہوئے میں سب سے پہلے انوشہ رحمن کے حوالے سے قلم اٹھاﺅں گا۔میں اس خاتون کو جانتا تک نہیں، خیال یہ تھا کہ آئی ٹی کی وزارت احسن اقبال کوملے گی، اسی خیال سے الیکشن کے فوری بعد مبارکباد کا ایک ایس ایم ایس بھیجا، پھر دو ایک مرتبہ فون بھی ملایا مگر جواب ندارد اور میں اقتدارمیں آنے والے پرندوں کو بھول گیا۔

انوشہ رحمن زبر دست کمٹ منٹ والی خاتون لگتی ہیں اور اپنے شعبے کی شناور، محض شد بد رکھنے والی نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ یوٹیوب کو پچھلی حکومت نے کہا تھا کہ گستاخ فلم ویب سائٹ سے ہٹا دو، لیکن انہوںنے نہیں سنی ،اب نئی حکومت کی طرف سے سخت پیغام جائے گا، یوٹیوب نے بات نہ مانی تو پھر گوگل سے بات کی جائے گی، اس نے بھی سنی ان سنی کر دی تو گوگل کو پاکستان میں بلاک کر دیا جائے گا۔ سرچ انجن اور بھی بہت ہیں، گوگل اس میدان میںتنہا نہیں۔

حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی والی فلم نے عالم اسلام کو تڑپا دیا تھا۔مگر یوٹیوب نے اس احتجاج پر کان نہیں دھرے ۔ نگران حکومت آئی تو نجم سیٹھی صاحب نے کہا کہ یو ٹیوب بحال کی جارہی ہے مگر چند ہی روز میں ان پر واضح ہو گیا کہ ان کے پاس یہ مینڈیٹ نہیں ،سو یو ٹیوب ابھی تک بند ہے اور جب تک میاں محمد شریف جیسے نیک طینت کی اولاد اقتدار میں ہے، مجھے یقین ہے کہ اس ویب سائٹ کو کوئی نہیں کھول سکتا۔رحمن ملک کو بہت گناہ گار سمجھا جاتا ہے مگر یو ٹیوب کو انہوں نے ہی بند کیا تھا۔

پچھلی حکومت نے سائبر کرائمز کا قانون منظور کرنا چاہا مگر شور مچ گیا کہ زرداری صاحب کے خلاف ایس ایم ایس مہم کو کنٹرول کرنے کی خاطریہ قانون لایا جا رہا ہے۔ یہ بد ظنی تھی ۔ آج پوری دنیا جدید ٹیکنالوجی کو لگام دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ہمارے لاءڈیپارٹمنٹ نے بھی سفارش کر دی ہے کہ ایس ایم ایس وغیرہ کو شہادت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔برطانیہ میں بچوں کے خلاف دو تین جرائم سر زد ہوئے ہیں، کسی اور نے نہیں ، خود وزیراعظم برطانیہ نے گوگل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بچوں کے خلاف جنسی تشدد کا مواد سرچ انجن سے ہٹا دے۔ گوگل کے سربراہ ایرک شمت نے ایک برطانوی یونیورسٹی میں لیکچر دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی حکومتوں اور کارپوریٹ شعبے کے درمیان سرد جنگ تیز ہو رہی ہے لیکن ایک وقت آئے گا جب میری کمپنی اس کائنات کا کنٹرول سنبھال چکی ہو گی۔ یہ بہت بڑا دعوی ہے۔ واقعی آج سوشل میڈیا اپنی طاقت دکھا رہا ہے ، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئی ٹی والوں نے حکومتی پابندیوں کی خلاف ورزی جاری رکھی تو ایک دن آئے گا جب آئی ٹی مالکان جیلوں کی ہو اکھا رہے ہوں گے اور ان کمپنیوں کی نکیل حکومت کے ہاتھ میں ہو گی۔

دنیا میں حکومت کرنےکا نظام صدیوں سے کچھ ہاتھوں میں چلا آرہا ہے، گوگل یہ شوق بھول جائے کہ وہ اس کائنات کا مالک و مختار بن جائے گا۔

مگر ذرا رکئے ، خود حکومتیں بھی آئی ٹی کے جرائم میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔امریکی حکومت نے دنیا بھر میں اپنا سائبرجاسوسی نظام پھیلا رکھا ہے۔ سی آئی اے، کے ہاتھوں کسی شخص کی نجی زندگی محفوظ نہیں رہ گئی۔ایران اس کا سب سے بڑا ٹارگٹ ہے جہاں سے چودہ ارب معلومات چوری کی گئیں، دوسرا بڑا ٹارگٹ پاکستان بنا جہاں سے ساڑھے تیرہ ارب معلومات پر ڈاکہ ڈالا گیا۔خود امریکی شہریوں کے تمام ٹیلی فون پیغامات پر حکومت کا پہرہ ہے ۔

انٹرنیٹ کے فوائد اپنی جگہ لیکن ایک مفید چیز کوقتل و غارت کا لائسنس تو نہیں دیا جاسکتا۔برطانیہ میں جس شخص نے پانچ سالہ اپریل جونز کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، اس کے کمپیوٹر کی جانچ پڑتال سے پتہ چلا کہ اسے بچوں کے ساتھ زیادتی کی تصاویر اور فلمیں دیکھنے کا جنون تھا۔پاکستان میں فیس بک پر دوستی کے ذریعے اغوا کی ایک واردات ہو چکی ہے اور نوائے وقت میں احسان شوکت کی رپورٹ ہے کہ لاہور میں موبائل پر دوستی کر کے لوٹنے اور قتل کرنے والی حسینائیں سر گرم عمل ہیں۔

کون دعویٰ کرسکتا ہے کہ ہمارے تھانے سائبر تفتیش کی ابجد سے بھی واقف ہیں۔ایف آئی اے میں ایک سائبر ونگ ہے لیکن پچھلے پانچ برسوں میں میری ویب سائٹ چار مرتبہ ہیک ہوئی ، دو مرتبہ تو اس پر بھارتی ترنگا اور دیوی دیوتاﺅں کی تصاویر حاوی ہو گئیں، قرآن پاک کی تفاسیر، احادیث پاک کے مجموعے اور سیرت مطہرہ کا ذخیرہ ، بہت کچھ تہہ و بالا کر دیا گیا،مگرایف آئی اے ایک بھی واقعے میں میری مدد نہیں کر سکی۔ 1999ءکی بات ہے، پاکستان ابھی انفارمیشن ٹیکنالوجی میں گھٹنوں کے بل بھی نہیں چل پایا تھا۔ اس وقت بھارتی را نے میری ویب سائٹ کو نہ صرف ہیک کیا بلکہ اس کے حقوق بھی اپنے نام کرا لئے اور اسے بنگلور کے کمپیوٹر پر منتقل کر دیا۔ میرا جرم یہ تھا کہ میں انٹرنیٹ پر کارگل کی جنگ کی کوریج کر رہا تھا اور خاص طور پر پی ٹی وی کو لائیو چلا رہا تھا، جبکہ بھارت نے پی ٹی وی دیکھنے کی ممانعت کر رکھی تھی۔ یہ الگ قصہ ہے کہ میں تین دن میں اپنی ویب سائٹ واپس لینے میں کامیاب ہو گیا، مگر اپنے زور بازو سے۔

پاکستان سائبر کی دنیا میںبد ترین افلاس کا شکار ہے۔ نئی حکومت کی ترجیح دیکھئے کہ اس کے لئے کوئی مکمل وزیر بھی نہیں چنا گیا۔کئی برس گزر گئے پاکستان وہ فلٹر نہیں لگا سکا جس کی مدد سے خلاف اسلام اور خلاف قانون مواد کے سامنے بند باندھا جا سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک انفارمیشن منسٹر آتا ہے جو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے دور ہوتا ہے اور جس وزیر کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ دیا جاتا ہے، وہ اطلاعات کی گتھیوں کو سلجھانے کے قابل نہیں ہوتا۔ قومی سطح پرفیس بک، یو ٹیوب،اور سوشل میڈیا پر دل پشوری اور گپ بازی ہماری منزل مراد بن چکی۔یہ افلاس ہے ، سراسر ذہنی افلاس، کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں۔

انوشہ رحمان کی تنہا آواز غنیمت تو ہے مگر کافی نہیں، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں اور بھی ایسی آوازیں بلند ہونی چاہئیں۔ڈرون حملے تو چند جانیں لیتے ہیں لیکن سائبر حملوں میں ہماری ساڑھے تیرہ ارب معلومات ہڑپ کر لی گئی ہیں۔ڈرون حملے ہمارے اقتدار اعلی کو روندتے ہیں تو سائبر حملے ،ہمارے اقتدار اعلی اور ہماری غیرت اور حمیت، دونوں کو تہس نہس کر ر ہے ہیں ۔ کچھ خیال آیا آپ کو بھی !!!

میاں نواز شریف ہر چند ایک منتخب حکمران ہیں مگر وہ کارپوریٹ کلچر کو خوب سمجھتے ہیں ، کیا کسی روز وہ گوگل کے سربراہ کو جاتی عمرہ کی چلچلاتی دھوپ میں مدعو کریں گے اور ان کو طارق فاطمی کی زبان میں نہیں ، اپنے کارپوریٹ لہجے میں سمجھائیں گے کہ اگر گوگل کو پاکستان میں بند کر دیاجائے تو ان کی کمپنی کو کتنے ارب کھرب کا نقصان ہو گا۔یہ حساب اسحاق ڈار سے بہتر کون لگا سکتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ نوائے وقت

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.