.

ہندوستانی سچ بمقابلہ پاکستانی سچ!

نجم ولی خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دُنیا نیوز نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو میاں عامر محمود میزبان تھے، برادر محترم سلمان غنی کی کاوش تھی کہ پاکستان اورہندوستان کے سچ آمنے سامنے تھے ، یہ ثابت ہو رہا تھا کہ سچ ہمیشہ دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک ہمار ا سچ ہوتا ہے اور ایک دوسروں کا، اگرسچ بولنے والے تحمل، تہذیب اور فراست کے مالک ہیں تو وہ یقینی طور پرایک نیا اور زیادہ بہتراور کسی حد تک متفقہ سچ بھی تخلیق کر سکتے ہیں، تخلیق کا عمل تکلیف دہ تو ہوتا ہے، مگر کڑوی حقیقتوں کو شوگر کوٹڈ کر کے بھی کھایا اور کھلایا جا سکتا ہے۔ ایسا ہی کچھ عمل چیئرمین فار انڈین فارن پالیسی ڈاکٹر وی پی ویدک کے ساتھ ڈنر میں دو، اڑھائی گھنٹے جاری رہا۔

ڈاکٹر وی پی ویدک ہندوستان کی نمائندگی کر رہے تھے، مجھے یوں لگ رہا تھا کہ ہم میاں عامر محمود کے ریسٹ ہاٶس میںنہیں بلکہ کسی کرکٹ گراٶنڈ میں ہیں، ایک ڈاکٹر ویدک اور مقابلے میں مجیب الرحمن شامی، عطاءالحق قاسمی، سجا دمیر، سہیل وڑائچ، سہیل احمد عرف عزیزی، ارشاد عارف، ایاز خان ، توفیق بٹ، وصی شاہ، اسد اللہ غالب، چودھری خادم حسین، عامر خاکوانی ، سیف الرحمان پر مشتمل پوری ٹیم، مگر ڈاکٹر ویدک کے پاس موقع کسی بیٹسمین کی طرح ہی تھا، کوئی ایک گیند کرواتا تھا اور کسی کی طرف سے بہترین فیلڈنگ کا مظاہرہ ہوجاتا تھا جیسے ڈاکٹر ویدک نے کشمیر کے تنازعے پر کہا ، یہ سوچ بھی ہے کہ پاکستان کشمیر کے ایشو کو چھوڑ کیوں نہیں دیتا تو ترنت جواب آیا کہ یہی کام بھارت کیوں نہیں کرلیتا، ہماری تو لائف لائن، یعنی پانی کی فراہمی ہی کشمیر سے وابستہ ہے۔

ڈاکٹر وی پی ویدک کا موقف تھا کہ بھارت دریاﺅں پر بند باندھ کے اور پاکستان کا پانی روک کے سندھ طاس معاہدے کی کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں کر رہا جس کی انہوں نے ماہرین سے تصدیق بھی کروائی ہے، مگر انہوں نے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو پاکستان کی ضرورت کا پانی ضرور اسے دینا چاہئے، خود آپ پانی ذخیرہ اور اس سے بجلی پیدا کرتے رہیں، مگر آپ کا ہمسایہ بوند بوند کو ترس رہا ہو، یہ جائز نہیں ہے۔ ڈاکٹر ویدک نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ کشمیریوں کاپاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ اسلام کا رشتہ بھی مضبوط ہو رہا ہے تاہم ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ایک طرف بھارت نے کشمیریوں کو دبا رکھا ہے تودوسری طرف پاکستان نے کشمیر کے ایک حصے پر قبضہ جما رکھا ہے لہٰذا صورت حال دونوں طرف ایک جیسی ہی ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ وہ بے نظیر بھٹو کے دور میں ان کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر سے ملے اور پوچھا کہ اگر پاکستانی کشمیر ایک الگ اور آزاد ریاست ہے تو اس کا ویزہ کہاں سے ملتا ہے، انہیں جواب ملا کہ کشمیری عہدے دار کی حیثیت تو اتنی ہی ہے جتنی کسی میونسپلٹی کے چیئرمین کی ہو سکتی ہے اور ڈاکٹر ویدک کے مطابق اسی قسم کی بات انہیں ہمارے مجاہد اول سردار عبدالقیوم سے سننے کو ملی۔

میرا دل تو چاہا کہ میں انہیں بتاﺅں سیاسی اختلافات بھی ایسی باتیں کروا دیتے ہیں، مگر مجھ سے پہلے، مجھ سے بہتر، جواب آ گیا کہ کیا آپ نے پاکستانی کشمیر کا دورہ کیا اور وہاں کشمیریوں سے حالات کے بارے جانا ہے، ہندوستانی سچ کے جواب میں باقی پاکستانی سچ میاں عامر محمود نے بولا کہ پورے کشمیر کی آبادی کم و بیش لاہور کی آبادی کے لگ بھگ ہے، مگر وہاں علیحدہ وزارت عظمیٰ، علیحدہ اسمبلی اور علیحدہ بلدیاتی ادارے ہیں۔ کشمیریوں کو آزاد کشمیر ہی نہیں بلکہ پاکستان کے اندر بھی ووٹ کا حق حاصل ہے، گویا انہیں ہم پاکستانیوں سے بھی دوگنے سیاسی حقوق حاصل ہیں۔ سب سے بڑی دلیل تو یہ تھی کہ ہندوستان نے اپنی پانچ لاکھ فوج محض کشمیرپر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے لگا رکھی ہے، جبکہ پاکستان کا ایک فوجی بھی اس کام کے لئے مخصوص نہیں۔

اس سچ پر تو ہم سب متفق تھے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بہتر ہونے چاہئیں، ڈاکٹر ویدک نے خواب دکھایا کہ اگر ہم اپنا ملک خطے میں تجارت کے لئے کھول دیتے ہیں تو ہمیں راہداری ہی اتنی ملے گی جو ہمارے بجٹ سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن پاکستانی سچ تو یہ تھا کہ بھارت نے افغانستان میں پاکستانی سرحد کے ساتھ بڑی تعداد میں قونصل خانے کھول کے صرف جاسوسی ہی نہیں بلکہ بد امنی کا بازار بھی گرم کر رکھا ہے اور ہندوستانی سچ یہ رہا کہ سفارت خانے اور قونصل خانے دنیا میں جس جگہ، جس بھی ملک کے ہوں، اگرآپ یہ سوچیں کہ جاسوسی کے لئے استعمال نہیں ہوں گے تو یہ آپ کی خام خیالی ہو گی، لہٰذا ہم سب نے مان لیا کہ سفارت اور قونصل خانوں کو جاسوسی کا ایک غیر تحریری اور غیر تسلیم شدہ حق حاصل ہے، مگر ڈاکٹر ویدک نے یہ واضح کرتے ہوئے کہ افغانوں کے بھارت میں تعلیم، صحت اور تجارتی مفادات کی خاطر صرف تین قونصل خانے پاکستانی سرحد کے قریبی علاقوں میں کھولے گئے ہیں، یہ تسلیم کر لیا کہ سفارت اور قونصل خانوںکو کسی طور بھی یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ مقامی رہنماﺅں کی خریدو فروخت کریں اوران کے ذریعے امن و امان اور ملکی سالمیت جیسے سنگین مسائل پیدا کر دیں۔

میری تشویش تھوڑی سی مختلف تھی، مَیں نے جانا کہ پاکستان اوربھارت دونوں کی سیاسی قیادت تو تعلقات بہتر کرناچاہتی ہے مگرڈاکٹر ویدک سے پوچھا کہ وہ دونوں ممالک کے دفاعی بجٹوں کو نظر میں رکھتے ہوئے بتائیں کہ دونوں طرف موجود سول و ملٹری بیورو کریسی بھی اس کی اجاز ت دے گی۔ ڈاکٹر ویدک نے اس سوال کو سب سے اہم قرار دیا۔ میرا خیال یہ بھی تھا کہ پاکستانی اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ ہندوستان کو ہی سمجھتے ہیں، مگر دوسری طرف ہندوستان کے لئے چین ، پاکستان سے بھی بڑا خطرہ ہے۔ ڈاکٹر ویدک نے ہندوستانی سچ تو یہ بتایا کہ ان کی فوج ہمیشہ سے یہ کہتی آئی ہے کہ نہ اس نے 1948ء میں حملہ کیا اور نہ ہی 1965ءمیں اس نے پہلے بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کی، اسی طرح 1971میں وہ بھارتی فوج کی بنگلہ دیش میں مداخلت کو مجبوری قرار دیتے ہیں کہ اس وقت وہاں کی مولانا بھاشانی جیسی لیڈر شپ بھارتی فوج کو ہیجڑا قرار دے رہی تھی اور بڑی تعداد میں بنگالی سرحد پار کر کے ہندوستان پہنچ چکے تھے ۔

جناب مجیب الرحمن شامی نے اس پرکیا خوب سوال کیا کہ کیا اس دلیل کی بنیاد پر پاکستان کو افغانستان میں فوجیں داخل کردینی چاہئیں۔ ڈاکٹر ویدک نے ہندوستانی سچ کو جاری رکھتے ہوئے کہا ، بھارتی فوج کہتی ہے کہ اس نے کبھی پاکستان پر حملہ نہیں کیا اور دوسرے یہ کہ ہندوستانی جرنیل، ماٹھے سے ماٹھے وزیر دفاع کے سامنے چوں چرا تک نہیں کر سکتے، مگر دوسری طرف برطانوی دور سے ورثے میں ملنے والی بیوروکریسی بھی ایک بہت بڑی طاقت ہے، ایک کمزور وزیراعظم کسی جوائنٹ سیکرٹری کی سمری کو مسترد نہیں کر سکتا، پاک بھارت تعلقات میں انقلابی تبدیلیوں کے لئے مضبوط قوت فیصلہ اور قوت ارادی کے وزیراعظم درکار ہیں جو روایتی سمریوں کو مسترد کر کے سیاسی فیصلے لے سکیں۔

ڈاکٹر ویدک نے سچ بولا کہ اگر پاک بھارت تعلقات درست ہو بھی جاتے ہیں تو بھی بھارت چین کی وجہ سے اس پوزیشن میں نہیں ہوگا کہ اپنے دفاعی بجٹ کو کم کرکے وہی پیسہ اپنے غریب عوام پر خرچ کر سکے جس پر میں نے سوچا کہ پاکستان پھر اپنی تھوڑی بہت تیاری کس طرح چھوڑ سکتا ہے۔ ڈاکٹر ویدک نے کھلی ڈلی آفر دی کہ وہ تو سچ کی تلاش میں آئی ایس آئی والوں سے بھی ملنے اور ان کے ثبوت لے جا کے اپنے میڈیا، سیاست دانوں اور عوام کے سامنے پیش کرنے کے لئے تیار ہیں، مگر وہ کائیاں شخص ہیں، جانتے ہیں کہ پھر جواب میں ” را“ بھی بہت سارے ثبوت ان کی جھولی میں ڈال دے گی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاک بھارت تعلقات چند ملاقاتوں سے درست ہونے والے نہیں، ہاتھوں سے لگائی گرہیں دانتوں سے کھولنا ہوں گی۔جس طرح سرحدپار بہت سارے لوگوں کے مفادات اسی میں ہیں کہ بھارت کے سامنے چین اورپاکستان کے دو بھوت مسلسل کھڑے رکھے جائیں ، اسی طرح سچ تو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سب بھارت سے اچھے تعلقات کے حامی نہیں۔ میں اتنا دعویٰ ضرور کر سکتا ہوں کہ جنگ کوئی ذی شعور بھی نہیں چاہتا اور جب ہم ہتھیاروں کی جنگ نہیں چاہتے تو پھر دلائل کی ہونی چاہئے۔ حکومتوں، سیاست دانوں، بیوروکریٹوں کے ساتھ ساتھ مکالمے کی ایک سطح ہم صحافیوں اور عوام کی بھی ہے اورمیاں عامر محمود کے عشائیے کے بعد ڈاکٹر ویدک سے ایسی جنگ کی دعوت آج محترم ڈاکٹر جاوید اکرم کی میزبانی میں ہے۔۔ آپ کیا کہتے ہیں ہندوستانی اورپاکستانی سچ کایہ مقابلہ جاری رہنا چاہئے یا نہیں !

بہ شکریہ روزنامہ 'پاکستان'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.