.

ان سوشل میڈیا

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام کا قلعہ‘ عالم اسلام کی امیدوں کا مرکز‘ ریاست مدینہ کے بعد دوسری نظریاتی ریاست‘ نہ جانے کیا کیا نام ہم نے رکھے ہیں اس پاکستان کے۔ لیکن مجموعی اخلاقیات ہماری ایسی کہ شیطان بھی پناہ مانگے۔ منافقت اتنی کہ عبداللہ ابن ابی بھی شرما جائے۔ ہر زبان پر انقلاب کا لفظ ہے اور ہر لیڈر اپنے آپ کو انقلابی باور کراتا ہے لیکن کوئی ”انقلابی“ اپنی زندگی میں رتی بھر مثبت تبدیلی لانے کو تیار نہیں۔اس قوم کی اکثریت کی ذہنی حالت دیکھنی ہو تو کسی وقت بس اڈوں پر موجود ٹائلٹ کے اندر جھانک کر دیکھ لیجئے ۔ وہاں کی گندگی ایک طرف ‘ دیواروں پر جو گندی زبان لکھی گئی ہوتی ہے اس سے اس قوم کی ذہنی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔

تنی ہمت اور صلاحیت تو ہم میں نہیں کہ اپنی کوئی چیز ایجاد کرسکیں لیکن مغرب جو چیزیں ایجاد کردیتا ہے ہم ان کا اس بیہودہ طریقے سے استعمال کرتے ہیں کہ موجد اپنی ایجادات پر پچھتانے لگ جاتے ہیں ۔ جاپان موٹر سائیکل بنا کر ہمارے پاس بھیجتا ہے اور ہم اس سے رکشے کا کام لیتے ہیں ۔ انٹرنیٹ کو علم، ترویج اور رابطے کے لئے ایجاد کیا گیا لیکن ہم میں سے اکثریت اسے فحش فلمیں دیکھنے اور دوسروں کا جینا حرام کرنے کے لئے استعمال کرنے لگے۔ موبائل فون کیسی زبردست ایجاد ہے اور اس کے ذریعے زندگی کتنی سہل ہوگئی لیکن ہم نے اسے پیسے اور وقت کے ضیاع یا پھر دوسروں کا جینا حرام کرنے کا ذریعہ بنا دیا ۔ آج بھی میرے فون میں334میسجز ایسے پڑے ہیں‘ جنہیں میں کھولنے اور دیکھنے سے قاصر ہوں۔ آخر ایک دن میں سیکڑوں مسیجز کون پڑھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض اوقات ضروری مسیج بھی پڑھنے سے رہ جاتا ہے ۔ کوئی لطیفے بھجواتا ہے ‘ کوئی اشعار‘ کوئی دعائیں‘ کوئی گالیاں ۔پھراسی تناسب سے روزانہ ہزاروں ای میل ہوجاتی ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ میں مزدوری کروں یا صرف ان کا مطالعہ ۔ یہی وجہ ہے کہ اب دوسروں کی خدمات لینی پڑ رہی ہے جومیرے لئے ضروری مسیج یا ای میل الگ کریں۔

چند سال قبل مغرب نے ایک اور سہولت سوشل میڈیا کے نام سے ایجاد کر لی۔ یوٹیوب‘ فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ کا بنیادی مقصد مفید معلومات کا تبادلہ اور ایک دوسرے کو اپنی حالت اور مثبت سرگرمیوں سے آگاہ کرنا تھا۔ اپنی تخلیقات کو دنیا تک پہنچانے اور دوسروں کی تخلیقات سے اپنے آپ کو آگاہ کرنے کا اس سے بہتر ذریعہ کوئی اور نہیں ہو سکتا ۔ اگر اس کا مثبت استعمال ہو تو اس سے بڑی غنیمت شاید ہی کوئی ہو لیکن یہ پاکستان کے بزدل اور غیرتہذیب یافتہ انقلابیوں کے ہاتھ کیا آیا کہ انہوں نے اسے بیہودگی ‘ فساد اور فتنہ پھیلانے کا سب سے موثر ذریعہ بنالیا۔ استعمال کرنے والوں کو چونکہ یہ سہولت میسر ہے کہ ان کے نام کا پتہ چلتا ہے ‘ مقام کا اور نہ اصلیت کا ‘ اس لئے ان کے دل میں جو آئے ‘ دوسروں کے بارے میں کہہ‘ لکھ اور پھیلادیتے ہیں ۔

قومی لیڈروں کے سروں کو کبھی رقاصاؤں کے بدن پر لگایا گیا ہوتا ہے ‘ کبھی بندر کے جسم پر ہمارے قومی لیڈروں کے سر لگے نظر آتے ہیں‘ کبھی گدھے اور کبھی کتے کے جسم پر۔ قومی لیڈروں اور دینی شخصیات تک کو گالیوں سے نوازا جاتا ہے ۔ کامران شفیع ‘ نصرت جاوید ‘ عرفان صدیقی ‘ عطاء الحق قاسمی اور اسی قبیلے کے دیگر دانشوروں کو برابھلا کہا جاتا ہے۔ یہ بے شرم لوگ خواتین کو بھی نہیں بخشتے ۔ کشمالہ طارق‘ ماروی میمن‘ فوزیہ قصوری اور شیریں مزاری کے بارے میں ایسی ایسی بکواس کی گئی جو صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو ماں بہن کے رشتے کی قدر سے ناآشنا ہوں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو بڑے انقلابی اور غیرت مند سمجھتے ہیں لیکن یہ سب سے بڑے بے غیرت ہیں کیونکہ سامنے آکر اپنے خیالات کا اظہار بھی نہیں کرسکتے ۔ جو لوگ ٹی وی پر آکر بولتے ہیں ‘ اسٹیج پر سامنے آتے ہیں یا اخبار میں لکھتے ہیں ‘ وہ پوری دنیا کے سامنے آکر ایسا کرتے ہیں ۔ یوں وہ جس بھی نظریئے کے حامل ہوں بہرحال غیرت مند ہوتے ہیں لیکن وہ لوگ جو سامنے آکر اپنی شناخت بھی واضح نہیں کرتے ‘ انہیں کیا بے غیرت اور بے شرم کے سوا کوئی اور نام دیا جاسکتا ہے۔ اب ایک نیا سلسلہ شروع کردیاگیا ہے کہ مختلف لوگوں کی ویڈیوز کے مختلف حصے جوڑ کر ان کو اپنے انداز میں ایڈٹ کرکے لوگوں کو بے وقوف بنانے اور اس شخصیت کو بدنام کرنے کے لئے پیش کردیا جاتا ہے۔

دوسری طرف اس میڈیا کی وجہ سے ملک ہر وقت افواہوں کی زد میں رہتا ہے۔ لوگ افواہیں گھڑ لیتے ہیں اور پھر وہ سیکنڈوں میں پورے ملک تو کیا پوری دنیا میں پھیل جاتے ہیں ۔ وہ میڈیا جو ترقی یافتہ لوگوں نے مہذب لوگوں کیلئے ایجاد کیا تھا، بدتہذیبوں کے ہاتھ آکر بدتہذیبی پھلارہا ہے اور پاکستان سے مشرقی اقدار کا جنازہ نکالنے کا موجب بن رہا ہے ۔ دنیا میں اسے سوشل میڈیا کانام دیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں وہ بدکرداروں کے ہاتھ آکر ان سوشل میڈیا بن گیا ہے ۔ اب تو یہ دونمبری زوروں پر ہے کہ فیس بک اور ٹویٹر پر مختلف لوگوں کے جعلی اکاؤنٹس بنائے جاتے ہیں اور پھر ان سے اپنی مرضی کی تشہیری مہم چلائی جاتی ہے۔ آپ فیس بک یا ٹیوٹر پر کسی بھی مشہور شخصیت کا نام سرچ میں دے دیں تو آپ کو اس کے کئی اکاؤنٹس نظر آجائیں گے ۔ انتخابی مہم کے دوران تبلیغی جماعت کے اہم رہنما اور پورے پاکستان بلکہ عالم اسلام کے لئے قابل احترام شخصیت مولانا طارق جمیل کا جعلی فیس بک اکاؤنٹ بنایا گیا اور اسے ایک سیاسی جماعت کے حق میں اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا رہا جس کی وجہ سے مجبور ہوکر ان کو وضاحتی ویڈیو جاری کرنی پڑی ۔

اسی طرح میرا اصل ٹویٹر اکاؤنٹ (saleemKhansafi)ہے لیکن (saleemsafigeo) کے نام سے ایک جعلی اکاؤنٹ بنایا گیا ۔ اس پر تسلسل کے ساتھ پی ٹی آئی کے حق میں اور اس کی مخالف جماعتوں کے خلاف مہم چلائی جاتی رہی۔ میں نے اپنے ٹی وی پروگرام اور دیگر ذرائع سے اس سے متعلق لوگوں کو متنبہ کیا تو (saleemkhansafi1)یعنی ”ون“ کے حرف کا اضافہ کرکے ایک نیا اکاؤنٹ بنایا گیا۔ لوگوں کو یقین دلانے کے لئے اس پر میری بعض اصل چیزیں بھی شئر کی جاتی ہیں۔ اب اس اکاؤنٹ سے سلیم صافی بن کر کبھی تو بلاول بھٹو زرداری کو ‘ کبھی آصفہ زرداری کو ‘ کبھی شیری رحمن ( جو میدان صحافت میں ہماری استاد ہونے کی وجہ سے بے حد قابل احترام ہے) اور کبھی شہباز شریف یا نوازشریف کے بارے میں خرافات پر مبنی پیغامات پھیلائے جاتے ہیں لیکن گزشتہ روز تو سید یوسف رضاگیلانی کے مغوی بیٹے علی حیدر گیلانی سے متعلق غلط معلومات دے کر حد کردی گئی۔ گیلانی صاحب جیسے بھی ہیں‘ ایک باپ ہیں ‘ ان کی اہلیہ ماں ہے اور موسیٰ گیلانی ایک بھائی ہے ۔ ان پر اس وقت جو کچھ گزر رہی ہے ‘ اس کی وجہ سے ہر صاحب دل کو ان سے ہمدردی ہوگی ۔ میں نے ان کے دکھ کو اس قدر محسوس کیا ہے کہ جب یہ حادثہ ہوگیا تو میں نے جیو کے مزاحیہ پروگراموں کی ٹیم سے التجا کی کہ وہ اگلے دنوں میں گیلانی صاحب کو معاف رکھیں لیکن بدقسمتی سے اب میرا نام استعمال کرکے اس خاندان کے جذبات سے کھیلا گیا ۔ ٹویٹر پر اس پیغام کے آتے ہی مجھے موسیٰ گیلانی نے فون کیا اوراپنی بے چینی کا اظہار کیا ۔ پھر یوسف رضا گیلانی صاحب کا فون آیا اور مجھے رات گئے جاکر ان کو وضاحت کرنی پڑی ۔ اب میں سوال کرتا ہوں کہ یہ انقلابیت ہے یا کمینگی ؟ اور یہ بہادری ہے یا بے غیرتی ؟

ہم جیسے لوگوں کو تو ٹی وی کی سہولت بھی میسر ہے اور اخبار کا بھی لیکن سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس یہ سہولیت میسر نہیں، وہ اپنی وضاحتیں کہاں دیتے پھریں گے؟ پچھلے پانچ سال تو رحمن ملک صاحب مختار کل تھے ۔ ان سے اس طرح کے معاملات میں خیر کی توقع عبث تھی۔ اب وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان اور آئی ٹی کی وزیرمملکت محترمہ انوشہ رحمن سے گزارش ہے کہ وہ پہلی فرصت میں اس ان سوشل میڈیا کو سوشل بنانے کی طرف توجہ دے ۔ مدعا ہر گز یہ نہیں کہ ان چیزوں کو بند کردیا جائے ۔ مقصود یہ ہے کہ ان کو حقیقی معنوں میں سوشل میڈیا بنانے کا اہتمام کیا جائے ۔ یہ سب مفید ایجادات ہیں اور ان سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسلئے یوٹیوب پر سعودی عرب کی طرح فلٹر لگا کر اسے فوراً کھول دیا جائے ۔ فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ کے سلسلے میں جو بین الاقوامی معاہدے درکار ہیں‘ فوراً ان پردستخط کرلیا جائے اور اس کا غلط استعمال کرنے والے چند جعلسازوں کا سراغ لگا کر انہیں نمونہ عبرت بنا دیا جائے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.