.

امریکا کے سامنے ہماری کیا اوقات

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خدا کی یہ زمین گناہوں سے بھری ہے یا نہیں وزیروں سے ضرور بھر گئی ہے جس طرف دیکھیں کوئی نہ کوئی وزیر دکھائی دیتا ہے، وہ تو سنا ہے کہ بڑے وزیروں نے چھوٹے وزیروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں پر جھنڈے نہ لہرائیں ورنہ آپ دیکھئے کہ ہر سمت کسی نہ کسی پرچم کے لہرانے کی سرسراہٹ محسوس ہوتی اور اس گاڑی کے اندر کوئی وزیر بیٹھا ہوا دکھائی دیتا۔

یعنی کوئی وزیر قومی پرچم کے سائے سے محروم لیکن جس کسی نے اس پرچم کو گاڑیوں پر لہرانے سے منع کیا ہے اس نے دراصل قومی پرچم کی عزت کی ہے، اس پر اس کا شکریہ اور اس امید کے ساتھ وہ قوم کی عزت کا آیندہ بھی خیال رکھے گا، ویسے سب سے پہلا خیال تو یہ ہے کہ کوئی وزیر کرپشن نہیں کرے گا، اس پر وزارتیں رواں ہونے دیں تو گفتگو ہو گی بلکہ ہوتی رہے گی فی الوقت تو میں ایک المیے کی خبر دے رہا ہوں کہ والدین کا پہلا کام اولاد کی تربیت اور تحفظ ہوتا ہے لیکن بعض بدقسمت لالچی والدین اولاد بھی ’’بیچ‘‘ دیتے ہیں۔

یہ وزیر اعظم گیلانی کا زمانہ تھا جب لوگ گم کیے جا رہے تھے اور ان کے وارث اسلام آباد کے ایوانوں کے سامنے بین کیا کرتے تھے۔ انھی دنوں سید منور حسن نے ایک ایسے ہی جلسے میں بدعا کی کہ یا اللہ جو ان لوگوں کو گم کر رہے ہیں، انھیں اس کی سزا دے۔ یہ اللہ کی ذات دیکھتی ہے کہ کسی دعا یا بد دعا کی قبولیت کا کون سا وقت ہوتا ہے۔

خبر یہ ہے کہ گیلانی صاحب کے نوجوان بیٹے کو الیکشن کے دنوں میں کسی نے اغوا کیا۔ اب تازہ اطلاع یہ ہے کہ علی حیدر گیلانی کو اغوا کنندوں نے پاکستان سے باہر کے اغوا کنندوں کے ہاتھ بیس کروڑ روپے میں مستقل بیچ دیا ہے۔ لعنت ہے اس دولت پر جو نا جائز ہے اور جس کی سزا قابل برداشت نہیں ہوتی۔ میرے گھر والے پھل فروٹ وغیرہ پہلے نوکروں کو دیتے ہیں پھر اپنے بچوں کو۔ بچوں کا اللہ تعالیٰ مالک اور محافظ ہے۔ ہم تو پیار کر سکتے ہیں یا ان کی تکلیف پر اور پیٹ سکتے ہیں۔

میں ایک مستقل کالم ڈی آئی جی ذوالفقار چیمہ پر لکھنا چاہتا تھا کہ بیچ میں کچھ اور ہو گیا۔ بہر کیف چیمہ جیسے یاد گار اور قوم کے عقلمند اور مستعد خدمت گاروں کا تو ہر حال میں ذکر ہو سکتا ہے اور میں بہت جلد ایسے چند پاکستانی اہلکاروں کا ذکر کروں گا جن کے نام سے میرا دل ہر وقت آباد رہتا ہے۔ سچ پوچھئے تو مجھے یہ پاکستانی فرض شناس بڑا حوصلہ دیتے ہیں اور جینا آسان کرتے ہیں ورنہ آج کے دولت پرست اور اقتدار کے لیے پاگل بڑے لوگوں نے تو ہمیں جہنم میں پھینک دیا تھا۔

ہم نے ان دنوں امریکا سے متھا لگانے کا اعلان کر رکھا ہے، اسے صرف اعلان ہی سمجھیے۔گزشتہ دنوں امریکی افسر اعلیٰ کو اسلام آباد میں احتجاجی مراسلہ دینے کے لیے بلایا گیا لیکن باتوں باتوں میں ایسے تلخی ہو گئی کہ امریکی افسر ہاتھ ملائے بغیر غضبناک نظروں سے دیکھتا ہوا چلا گیا۔ ڈرون حملے بدستور جاری ہیں۔ امریکا رعونت کے عروج پر ہے، آپ ڈرون گرا سکتے ہیں لیکن اس کے بعد یہ ڈرون آپ کو برباد کر دیں گے پھر آپ لوڈشیڈنگ ہی نہیں بجلی بھی بھول جائیں گے، میں تو ان لوگوں میں سے ہوں جو سر پر کفن باندھ لینا چاہتے ہیں ۔

لیکن ہم نے تو اپنی قوم کو آرائشی ملبوسات کے لیے تیار کیا ہے بہر کیف امریکا ہمیں کوئی مالو مصلی سمجھتا ہے اور جب ہم ڈرون حملوں پر احتجاج اپنے اخبارات میں چھپواتے ہیں تو امریکی حکمران نہیں ان کے افسر ہنستے ہیں، امریکی حکمرانوں کو اتنی فرصت کہاں۔ ہم جو ہیں جیسے ہیں جتنے پانی میں ہیں ہمیں امریکا کے ساتھ رہنا ہے ورنہ ہمارے جعلی حکمران پرویز مشرف نے ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دینی تھی لیکن اجازت کہاں جواب میں رضا مندانہ اور نیاز مندانہ خاموشی اختیار کرنی تھی اور بس۔

امریکا اپنے مقاصد کے لیے افغانستان میں آیا اور پھر مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں گھس گیا اور تباہی پھیلا دی۔ پاکستان بھی اسی نواح میں آباد ہے لیکن ہم نے اپنے نادر جغرافیہ کو اپنے لیے ایک آزمائش بنا لیا ہے، پہلے روس آیا اسی جغرافیہ کو ذہن میں رکھ کر لیکن روس کو عقلمند اور درد مند پاکستانیوں سے واسطہ پڑ گیا اور اسے اس گستاخی کی ایسی سزا ملی کہ روئے زمین سے اس کا نام تک مٹ گیا۔ مگر جب دوسری سپر پاور امریکا یہاں آیا تو اس کے استقبال کے لیے جناب جنرل پرویز مشرف ہمارے تخت پر قابض تھے اور حملہ آوروں کو فرشی سلام کر رہے تھے۔

آج ہم امریکا کے سامنے مالو مصلی بنے ہوئے ہیں اور جان کی امان پاتے ہیں۔ ہم جب دنیا کے لیے امریکا سے بھی بڑھ کر طاقت ور تھے اور ساتھ ہی انصاف کے علمبردار بھی تو ہمارے سامنے کون تھا۔ آج میں اپنے وزیروں کو دیکھتا ہوں تو شرمسار بھی ہوتا ہوں اور بے بس بھی محسوس کرتا ہوں کہ ہم نے جو قوم بنائی ہے اس میں سے یہی لوگ ہی وزیر بننے تھے۔ اللہ ہم پر رحم کرے۔ جب ہمارے بعض وزیروں کی آل اولاد امریکی شہری ہو اور جب کئی وزیروں کا مال و منال امریکا میں ہو تو وہ ’’کیا مالو مصلی‘‘ نہیں ہوں گے۔ امریکا ان کی دلجوئی کیوں کرے گا جب کہ وہ سب امریکا کیاطاعت پر فخر کرتے ہوں۔

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.