.

ترکی کے مظاہرے کیا ایردوان کو کمزور کرسکتے ہیں؟

ڈاکٹر فرقان حمید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی بارہ سال کے طویل عرصے کے بعد ایک بار پھر بحران کا شکار ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر ترکی کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو ترکی اپنے قیام سے لے کر اب تک ہمیشہ ہی ہر تین چار سال بعد سیاسی، اقتصادی، سماجی، معاشرتی، مذہبی اور ثقافتی غرض کے ہر قسم کے بحرانوں کا شکار ہوتا رہا ہے۔ یہ بحران اگرچہ خود ہی ترک قوم کی جانب سے کھڑے کئے جاتے رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی طرح یہاں پر بھی ہمیشہ ہی ان بحرانوں کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہی تلاش کئے جاتے رہے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی تک ترکی کے بحرانوں کے پیچھے برطانیہ، اس کے بعد روس اور متحدہ امریکہ اور ہمیشہ ہی اسرائیل کا ہاتھ ہونے پر یقین کیا جاتا رہا ہے اور بحرانوں کی وجوہات جاننے اور بحرانوں پر قابو پانے کے بجائے ان ممالک پر الزامات لگا کر آنکھیں ہی موندلی جاتی رہی ہیں اور اس طرح بحران کو جاری رکھنے کا خود ہی سبب بنتی رہی ہیں۔

اتاترک جو مردِ بحران تھے اور جنہوں نے نہ صرف اپنے دور کے تمام بحرانوں پر قابو پاتے ہوئے اپنی جماعت اور حکومت کو بحرانوں سے نبٹنے کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا تھا بدقسمتی سے ان کے بعدآنے والی حکومتوں نے اتاترک کی راہ تو نہ اپنائی لیکن ان کی جماعت ری پبلیکن پیپلزپارٹی نے ان کے نام کو اپنے مقاصد کے لئے نہ صرف استعمال کیا بلکہ اسے ایک نشے کا رنگ دے دیا اور پھر یہ جماعت خود بھی اس نشے کا شکار ہو کر رہ گئی۔ حالانکہ اتاترک انقلاب برپا کرنے والے اور بیمار ترکی کو توانائی بخشنے والے رہنما تھے۔ ترکی بڑا خوش قسمت ملک ہے کہ اس کو اتاترک جیسا رہنما ملا۔ یہ ایک حقیقت ہے دنیا میں اتاترک جیسے رہنما بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ (جس طرح ترکی میں اتاترک سے گہری محبت کی جاتی ہے کاش کہ ایسی گہری محبت پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناح سے ہو) ترکی میں اس بات پر سب کو پختہ یقین ہے کہ ”گر اتاترک نہ ہوتے تو ترکی بھی نہ ہوتا“ لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ صرف اتاترک کا نام ہی لیا جائے اور کام کچھ نہ کیا جائے۔بدقسمتی سے ترکی میں اتاترک کے نام کے نشے میں دُھت ری پبلیکن پیپلزپارٹی نے کبھی بھی اتاترک کی راہ پر چلنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے اور صرف اتاترک کے نام ہی کو گلے لگائے رکھا۔ یہ جماعت اتاترک کے نام کے نشے میں دُھت نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ان کو گلیوں اور سڑکوں پر لاکھڑا کرتی ہے۔ یہ نوجوان جنہیں ری پبلیکن پیپلزپارٹی کی آشیرباد حاصل ہے اتاترک کا نام استعمال کرنے کے سوا عملی طور پر ملک کے لئے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔

ترکی میں ماضی میں برسراقتدار تمام ہی جماعتیں اور حکومتیں ملک کی ترقی کے لئے کوئی بڑا منصوبہ بنانے کی صلاحیتوں ہی سے عاری رہی ہیں جس کی وجہ سے ملک پسماندگی کا شکار رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بارہ سال قبل تک ترکی کو دنیا میں کوئی خاص مقام حاصل نہ تھا بلکہ یہ ملک اپنے بحرانوں کی وجہ سے جانا پہچانا جاتا تھا اور ترک عوام غربت میں پسے ، کنویں کے مینڈک کی مانند زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔

لیکن پھر کیا ہوا؟ حالات کیسے بدلے؟ آج سے بارہ سال قبل ترکی میں ایک ایسے خاموش انقلاب نے جنم لینا شروع کر دیا جس کی نظیر ترکی کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یورپی یونین جو کبھی ترکی کو ذرہ بھر بھی اہمیت نہیں دیتی تھی اب ترکی کے بغیر یورپی یونین میں فیصلہ کرنے کا کوئی تصور ہی نہیں پایا جاتا۔نیٹو کا ادارہ ترکی کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوپاتا ہے۔ تمام اسلامی ممالک کے لئے ایک مثالی ملک کی حیثیت اختیار کرجانے والا یہ ملک بڑی سرعت سے اپنی منازل طے کرتے ہوئے دنیا کے پہلے دس ممالک کی صف میں شامل ہونے کی تگ و دو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اکیاون سال بعد آئی ایم ایف کا قرضہ اتارنے کے بعد اس ملک کے کریڈٹ ریٹنگ میں زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جو کہ یورپی یونین اور خاص طور پر اِس کے ہمسایہ ملک یونان کو ہضم نہیں ہو پا رہا ہے، ترکی کے خلاف مختلف سازشوں میں مصروف ہیں۔ ترکی میں جس طریقے سے سود کی شرح کو کم کیاگیا ہے وہ ایک معجزے سے کم نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ سود کے نظام کا کاروبار کرنے والے بینکار ترکی کے سیاسی استحکام اور شرح سود میں معجزے کی حد تک ہونے والی کمی سے بڑے نالاں ہیں نے ترکی کی اس مستحکم پوزیشن کو نقصان پہنچانے کیلئے ایک خاص طبقے کو سڑکوں پر لانے میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

ترکی میں برسراقتدار جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے 2002 ء سے اب تک ملک میں سات بار عام اور بلدیاتی انتخابات کروا چکی ہے اور ان تمام انتخابات میں پہلے سے زیادہ ووٹ حاصل کرتے ہوئے اپنی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط بناتی چلی آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم ایردوان نے ان کی حکومت کے خلاف جاری مظاہروں کا اہتمام کرنے والی جماعت ری پبلیکن پیپلزپارٹی کو سات ماہ کے اندر اندر ملک کے تمام علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا چیلنج بھی پیش کر دیا ہے۔ ایردوان جو ہر ماہ بڑی باقاعدگی سے سیاسی صورتحال سے باخبر رہنے کیلئے ملک بھر میں سروے کراتے رہتے ہیں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ماہ مئی میں کرائے جانے والے سروے میں ان کی جماعت کو چون فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل ہو چکی ہے اور اس حمایت میں مزید اضافے کی بھی توقع ہے تو انہوں نے ملک میں سات ماہ بعد بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان بھی کردیا ہے تاکہ بیلٹ بکس کے ذریعے ری پبلیکن پیپلزپارٹی کو اپنی قوت کا بھی اندازہ ہو جائے۔ اس سے قبل استنبول بلدیہ کے میئر قادر توپباش نے گیزی پاک (تفریح پارک) سے متعلق ریفرنڈم کرانے کی بھی تجویز پیش کی ہے لیکن مخالفین کی طرف سے استنبول بلدیہ کے میئر کی اس تجویز کو مسترد کردیا گیا ہے۔ جس پر وزیراعظم ایردوان نے کہا ہے کہ ”یہ چند لوگ دراصل اپنی شکست پہلے ہی تسلیم کرچکے ہیں اور وہ صرف علاقے میں گڑبڑ پیدا کرتے ہوئے ان کی حکومت کو بدنام کرنے اور ملک میں ہونے والے ترقی کے پہیے کو صرف جام کرنا چاہتے ہیں“۔

وزیراعظم ایردوان نے اپنے ایک خطاب میں گیزی پارک (تفریح پارک) میں اور گھروں میں برتن اور چمچے بجاکر ان کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو برتن ہاتھ میں لینے کے بجائے لیپ ٹاپ ہاتھ میں لیتے ہوئے وقت ضائع کرنے کے بجائے قوم کی خدمت کرنے اورماحولیات کو بہتربنانے میں اپنی رعنائیاں صرف کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اپنی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے استنبول بلدیہ کے میئر کے فرائض اس وقت سنبھالے تھے جب استنبول دنیا کے غلیظ ترین شہر کے طور پر جانا اور پہچانا جاتا تھا اور شہر میں ہر طرف کوڑے کرکٹ ہی کے ڈھیر ہوا کرتے تھے۔ شہر کے باسیوں کو پینے اور نہانے تک کا پانی نصیب نہ تھا۔ انہوں نے استنبول کو نہ صرف وافر مقدار میں پانی فراہم کیا بلکہ آئندہ سو سال تک کے لئے پانی کی تمام مشکلات کو دور کردیا ہے۔انہوں نے اس شہر کو دنیا کا خوبصورت ترین شہر بنادیا اورHabitat نے ان کے دور میں شہر کے صفائی ستھرائی اور سرسبزو شاداب ہونے کا سر ٹیفکیٹ جاری کرتے ہوئے اپنی مہر بھی ثبت کردی۔ وزیراعظم ایردوان نے اپنے ایک خطاب میں ترکی کے دارالحکومت انقرہ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ شہر سے انقرہ ایئر پورٹ تک کا راستہ جو کہ بنجر، خشک اور چٹیل تھا کو انہی کی حکومت کے دور میں سرسبز و شاداب بنایا گیا ہے اور وہ انقرہ کو مزید خوبصورت اور سرسبز و شاداب بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

ایردوان اس بات سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ بیلٹ بکس پر یقین نہ رکھنے والے حلقوں نے صرف بلدیاتی انتخابات کی فضا خراب کرنے کے لئے ان مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ وزیراعظم ایردوان نے اسی وجہ سے اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لئے پندرہ جون کو انقرہ میں اور سولہ جون کو استنبول میں اوپر تلے عوامی اجتماعات کا بندوبست کرتے ہوئے اپنی بھرپور قوت کا مظاہرہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ایردوان اس بات پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں کہ ”عوام ہی نے انہیں اقتدار فراہم کیا ہے اور عوام ہی ان کو اقتدار سے دور کرسکتے ہیں“۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.