.

یہ امریکی مجرم یا انسانی آزادی کا محرم؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ جی ہاں امریکہ، جہاں کی سیروتفریح کرنے کیلئے وزٹ ویزا کا حصول بھی ایک بڑا کام سمجھا جاتا ہے جہاں کئی ملین افراد غیر قانونی طور پر قیام کرکے روزگار حاصل کرنے اور اپنے زیرکفیل لواحقین کی کفالت کیلئے خود کو سخت محنت ، تشویش ، خوف اور غیرقانونی قیام کے عملی خطرات کا سامنا کرتے ہوئے رہتے ہیں۔ گرین کارڈ اور شہریت کے حصول کیلئے سچ جھوٹ، خاندانوں کی توڑ پھوڑ اور اپنی ذات کی شکست و ریخت سے بھی گزرتے ہیں۔ امریکہ جو دنیا میں خوشحالی اور جمہوری نظام کی عمدہ ترین مثال اور عالمی طاقت سمجھا جاتا ہے، جی ہاں وہی امریکہ جو اپنے ایک شہری کی حفاظت اور رہائی کیلئے پاکستان سے تعلقات کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ دوسرے ملکوں کے شہریوں کے جان و مال پر اپنے شہری اور قومی مفاد کو ہر طور مقدم گردانتا ہے مگر یہ کیا ہوا؟ کیوں اور کیسے ہوا؟ وہ تو ایک 29 سالہ نوجوان پیدائشی امریکی شہری ہے جو صرف ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اس وقت نہ صرف تقریباً دو لاکھ ڈالرسالانہ تنخواہ لے رہا تھا بلکہ وہ جزائر ہوئی میں واقع نیشنل سیکورٹی ایجنسی جیسے انتہائی حساس ادارے میں تمام تر اعلیٰ سیکورٹی کلیئرنس کے ساتھ بااختیار منصبی ذمہ داریاں ادا کررہا تھا۔ اس سے قبل وہ امریکی سی آئی اے کی جانب سے سوئٹزرلینڈ میں امریکی سفارت خانہ میں ڈپلومیٹ کے روپ میں بھی متعین رہ چکا ہے۔

گزشتہ ماہ تک امریکہ کا یہ سابق فوجی اور سی آئی اے ایجنٹ اب امریکی نیشنل سیکورٹی کے انتہائی حساس اسٹیشن جزائر ہوائی میں خفیہ آپریشنز اور دنیا کے مختلف ممالک اور اندرون امریکہ سے انسانوں کے بارے میں ڈیٹا، ای میلز، فون کالز کا ریکارڈ، کریڈٹ کارڈ، فیس بک ، ایس ایم ایس ، یوٹیوب اور اسی نوعیت کے تمام کوائف اربوں کی تعداد میں جمع کرنے ، مانیٹر کرنے اور محفوظ کرنے کا کام کرتا رہا جبکہ امریکہ اور دنیا کے غیر ممالک کے شہریوں اور حکومتوں کو اس کام کے بارے میں قطعاً کوئی علم ہی نہیں تھا۔ وہ جزائر ہوائی میں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ پرسکون اور آرام کی زندگی بسر کررہا تھا اس کے متعدد رشتہ دار بھی امریکی حکومت کی ملازمت کررہے ہیں۔ مختصر الفاظ میں وہ ایک خوشحال، محب وطن ، برسرروزگار اور بااختیار منصب پر فائز امریکی شہری تھا اور سیکورٹی کلیئرنگ کے معیار کے ہر زاویئے اور پہلو سے بالکل موزوں تھا لیکن وہ 20 مئی کو ہوائی سے فلائٹ لیکر ہانگ کانگ آگیا جہاں وہ گمنام انداز میں خاموشی سے ایک ہوٹل میں مقیم رہا۔ اسی دوران مشہور برطانوی اخبار ”گارڈین“ اور امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ میں گمنام ذرائع سے انکشافاتی خبروں کی اشاعت نے صدر اوباما ،سی آئی اے، محکمہ دفاع، محکمہ خارجہ، حساس امریکی ادارے اور نیشنل سیکورٹی ایجنسی کو ہلا کررکھ دیا۔

خبر تھی کہ نیشنل سیکورٹی ایجنسی کا ادارہ انتہائی خفیہ طور پر امریکیوں اور غیرملکیوں کے بارے میں انتہائی ذاتی اور حساس معلومات اکٹھی کر رہا ہے اور یہ سلسلہ 2005ء سے جاری ہے اور مسلسل اضافہ اتنا ہورہا ہے کہ صرف مارچ 2013ء میں 97/ارب معلومات جن میں ایران سے 14/ارب اور پاکستان سے 13.5/ارب معلومات چرائی گئیں، خود امریکہ میں گوگل ، فیس بک، یوٹیوب ، انٹرنیٹ اور فونز کمپنیوں سے بھی ایک نظام PRISM کے ذریعے امریکی شہریوں کے بارے میں ایسی ہی معلومات اکٹھی کی گئیں جو امریکی شخصی آزادی کے اصولوں کے بھی منافی کام قرار دیا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ انکشاف بھی ہوا کہ صدر اوباما نے جو 20نکاتی خفیہ پالیسی کے علاوہ یہ ہدایت بھی کی ہے کہ غیرممالک میں امریکی مفادات کے منافی ٹارگٹ تلاش کرکے ان پر امریکی سائبر حملہ کرنے کے انتظامات کئے جائیں جس کا ایک مطلب یہ بھی لیا جارہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور ایسے ہی دیگر ٹارگٹ سائبر حملہ کی پہلی اور اعلان کے بغیر ہی ناکارہ بنادیئے جائیں۔ ان گمنام ذرائع کی اطلاعات ناقابل تردید ثابت ہوئیں اور صدر اوباما کو ندامت، امریکی کانگریس اراکین میں بحث اور امریکی شہریوں میں خدشات و تشویش کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اندیشوں اور خدشات کی بھرمار ہو گئی۔ امریکیوں کیلئے تشویش کی بات یہ تھی کہ دنیا بھر میں امریکی برتری کے قیام کے بڑے منصوبے کا ایک خفیہ حصہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔

مشرق وسطیٰ، ایشیاء اور افریقہ کے حکمران طبقوں کے افراد کی ذاتی زندگی، نقل و حرکت ، سوچ اور عمل اور دولت کی تفصیلات سمیت اور بھی بہت کچھ ڈیٹا کی شکل میں امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے پاس محفوظ ہو گیا جو ان کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔دوسری جانب امریکی کانگریس اور امریکی عوام میں ذاتی آزادی کے حوالے سے سیاسی اسکینڈل بن گیا اور امریکی تصور آزادی پر بھی منفی اثر پڑا ۔صدر اوباما کا امیج متاثر ہوا۔ اس کے علاوہ اس ڈیٹا کو منظر عام پر لانے والے کی نشاندہی بھی نہیں ہو پا رہی تھی اور اس فعل کی وجوہات و محرکات کا پتہ چلانا بھی ضروری تھا۔ دونوں امریکی اور برطانوی اخباروں نے خبر کا ذریعہ خفیہ ہی رکھا۔ 9جون کی دوپہر کو بریکنگ نیوز کے ذریعے اس بات کی نشاندہی ہو گئی کہ نیشنل سیکورٹی ایجنسی کا یہ خفیہ آپریشن اور ڈیٹا بے نقاب کرنے والا اس ایجنسی کا ایک نوجوان ملازم29سالہ امریکی ایڈورڈ جوزف سنوڈن ہے جو جزائر ہوائی میں متعین تھا اور وہ اہم ذمہ داری پر ایجنسی کے اسٹیشن پر بااختیار اور تمام خفیہ معلومات تک سرائی رکھنے والا شخص ہے اس نوجوان نے ہانگ کانگ میں6جون کو ایک انٹرویو بھی ریکارڈ کرایا تھا جو9جون کو سامنے آ گیا اس میں امریکی نوجوان نے ڈیٹا چرا کر اسے میڈیا تک پہنچانے کے بارے میں محرکات اور وجوہات بھی بیان کی تھیں، جو قدرے مختلف اور منفرد یوں ہیں کہ وہ اپنے اس فعل کے بعد بھی خود کو محب وطن امریکی کہتا ہے۔ یہ راز چرانے کی وجہ نہ تو اس کو بیچ کر دولت کمانا بتایا ہے نہ ہی کسی امریکہ دشمن ملک کے ساتھ کوئی تعاون ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قارئین کو یہ طے کرنا ہے کہ آیا ایڈورڈ جوزف سنوڈن نے امریکہ سے غداری کی ہے یا امریکی و انسانی اقدار اور حقوق کی خاطر اس نے ہیرو کا کردار ادا کیا ہے وہ امریکی مجرم ہے یا انسانی حقوق کے اصولوں کا ”محرم“ ہے؟امریکی حکومت اسے غیر ذمہ دارانہ ،امریکہ دشمن فعل قرار دے رہی ہے۔ ایڈورڈ کا کہنا ہے کہ یہ خفیہ امریکی آپریشن امریکی عوام کی سلامتی اور نمائندگی کے نام پر انہی کی آزادیوں پر ڈاکہ ہے۔

ایسے انسانوں کی بھی نگرانی اور شخصی آزادی سلب کی جا رہی ہے جو بالکل بے گناہ اور امن پسند اور دہشت گردی کے خلاف ہیں،بقول ایڈورڈ یہ خفیہ امریکی آپریشن اتنے بڑے پیمانے پر اتنی زیادہ معلومات حاصل کر رہا ہے کہ سابق فوجی اور سی آئی اے افسر ہونے کے باوجود وہ برداشت نہیں کر سکا لہٰذا اس کے خطرات اور عوام کے نام پر حکومتی ادارے یا عوام کی آزادی سلب کرنے کا کام کر رہے ہیں لہٰذا اس نے عوام کے سامنے معاملہ لا کر عوام کو فیصلہ کرنے کا موقع دیا ہے کہ وہ طے کریں کہ کیا کرنا ہے؟ انسانی آزادی و حقوق کے بارے میں یہ خفیہ آپریشن اور معلومات انسانی اقدار کی توہین و پامالی کے مترادف ہیں۔ ایڈورڈ کا بارہ منٹ سے زائد کا وڈیو انٹرویو دیکھنے اور سننے سے تعلق رکھتا ہے۔قارئین اور امریکی عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن مجرم اور امریکی غدار ہے یا انسانی حقوق اقدار کی خاطر حکومتوں کے خفیہ آپریشنز کو بے نقاب کرنے والا ہیرو ؟ اس واقعہ کے اتنے عالمی اور امریکی پہلو ہیں کہ جن کے سامنے آنے میں وقت لگے گا ۔ فی الحال تو پاکستان سے صرف ایک ماہ میں13.5/ارب فائلوں کا معاملہ اور سائبر حملے سے ٹارگٹ پر سوچ بچار کرناپاکستانی حکمرانوں کی ضرورت ہے۔ کیا ہم نے خودسپردگی اور غلامی قبول کرنے کی ٹھان لی ہے؟ اس واقعہ سے پاکستانی مفادات کو کیا فائدہ یا نقصان ہوا، کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.