.

افغانستان ۔ تازہ مشاہدات

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان اور بالخصوص کابل شہر میری زندگی کے بڑے مخمصے بن گئے ہیں۔ آباؤاجداد کا مسکن ہونے کے ناتے یہ شہر اور ملک مجھے ہر وقت اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں۔ کابل کی تازہ اور دلکش ہوا میری تھکاوٹ کے خاتمے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہاں کے خوبصورت پہاڑ آنکھوں کی ٹھنڈک کا وسیلہ بنتے ہیں۔ یہاں کی موسیقی رلا بھی دیتی ہے اور اس کی تاثیر سے دل جھوم بھی اٹھتا ہے۔ یہاں کے دوستوں کی محبتیں‘ ان کی پُرتکلف دعوتیں اور ان کے ساتھ منائی جانے والی شامیں ‘جس راحت سے نوازتی ہیں‘ اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا لیکن دوسری طرف یہی دیس اور یہی شہر سکون کو غارت کرنے اور بے چینی میں اضافہ کرنے کا موجب بھی بنتے ہیں۔ ہر سفر میں کابل میں بڑھتے ہوئے کنفیوژن‘ یہاں ڈیرے ڈالے ہوئے عالمی اور علاقائی شاطروں کی سازشیں اور افغانوں کی آپس کی چپقلشیں اور نااتفاقیاں دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ اب کی بار بھی یہی متضاد احساسات لے کر اسلام آباد لوٹا ہوں۔ اپنی ٹیم کے علاوہ عقیل یوسف زئی‘ اسرار اتل اور کرن خان بھی کابل اور شمالی افغانستان کے سفر میں ساتھ رہے۔ ان کے ساتھ گپ شپ ‘ پاکستانی سفیر محمد صادق ‘ افغان پارلیمینٹ کے ڈپٹی اسپیکر میرویس یاسینی اور نوجوان ادیب‘ شاعر اور براڈکاسٹر ہارون حکیمی کے پُرتکلف عشائیے اور اس کے بعد کرن خان یا پھر عبداللہ مقری کی موسیقی کی محافل‘ یہ سب خوشگوار بھے تھے اور یادگار بھی۔ محمد صادق صاحب نے پورے سفارتی عملے کے ساتھ ساتھ جنوبی اور مشرقی افغانستان کے درجنوں پختون لیڈران کو جمع کر رکھا تھا۔ میرویس یاسینی کے ہاں نصف درجن سے زائد افغان پارلیمنٹیرین سے ملاقاتیں ہوئیں جبکہ ہارون حکیمی کے ہاں شاعر‘ ادیب ‘ حکومتی اہلکار اور صحافی جمع تھے ۔ محترم دوست ڈاکٹر عطاء اللہ واحد یار کے ساتھ وادی پنجشیر کا سفر ‘ احمد شاہ مسعود کی قبر پر حاضری اور وہاں پر پنجشیری دوستوں کی طرف سے روایتی ناشتے سے تواضع زندگی کے حسین ترین اور خوشگوار لمحات تھے جنہیں میں کبھی نہیں بھلا سکوں گا۔ سابق نائب صدر احمد ضیاء مسعود کے ساتھ انٹرویو جبکہ پروفیسر برہان الدین ربانی مرحوم کے صاحبزادے اور ہائی پیس کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی کے ساتھ چائے پر نشست کے ذریعے افغان قضیے کے بعض عجیب و غریب پہلوؤں سے آگاہی ہوئی۔ یہ سب تو تسکین اور راحت پہنچانے والی مصروفیات اور مشاہدات تھے، اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کیجئے۔

افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ میری نشست گیارہ جون کو صبح گیارہ بجے طے تھی اور میں نے 10 جون کو کابل جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ روانہ ہونے سے قبل خبر ملی کہ کابل ایئرپورٹ پر طالبان نے حملہ کیا ہے اور جوابی کارروائی میں سات خودکش طالبان مارے گئے ہیں۔ یہ جاننے کے لئے کہ فلائٹ تو کینسل نہیں ہوئی میں نے متعلقہ لوگوں سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ کابل ایئر پورٹ تو پروازوں کیلئے دوبارہ کھول دیا گیا ہے لیکن پی آئی اے کا جہاز بروقت گلگت سے اسلام آباد نہ پہنچنے کی وجہ سے فلائٹ ڈیڑھ گھنٹے لیٹ ہے یعنی سات خودکش حملہ آوروں کی کارروائی تو کابل ایئر پورٹ پر پروازوں کا شیڈول متاثر نہ کر سکی لیکن پی آئی اے کی معمول کی ابتری کی وجہ سے فلائٹ لیٹ ہے ۔ کابل کے ہوائی اڈے پر اترا تو وہاں سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ ہمارے جہاز کی لینڈنگ کے چند لمحے بعد افغان صدر حامد کرزئی نے قطر سے واپس پہنچنا تھا، ان کی خاطر کچھ غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے لیکن نہ تو پرواز دوسری طرف منتقل کی گئی اور نہ دیگر پروازوں کا شیڈول متاثر ہونے دیا گیا۔ اگلے روز جب میں کابل کے قصرصدارت میں موجود تھا تو دھماکے کی آواز سنائی دی ۔ فوراً اطلاع آئی کہ کابل کے سپریم کورٹ کے سامنے خودکش حملہ ہوا جس میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔

میرا خیال تھا کہ باہر نکلوں گا توشہر ویران ہو چکا ہو گا لیکن یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ ہر طرف معمول کی چہل پہل تھی اور لوگوں کو یہ احساس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ آج شہر میں کچھ ہوا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کابل اور افغانستان کے دیگر شہروں کے لوگ اب اس قدر خوگر غم ہو گئے ہیں کہ دھماکے اور ہلاکتیں ان کی معمولات پر کوئی اثر نہیں ڈالتیں۔ رات کو ہوٹل بھی کھچا کھچ بھرے تھے اور شادی گھر بھی سجے ہوئے تھے۔ اب کے بار افغان صدر حامد کرزئی کی حالت پہلے سے کئی گنا زیادہ قابل رحم دکھائی دی۔ پروفیسر برہان الدین ربانی اور افغان انٹیلی جنس کے سربراہ اسداللہ خان کو جس طرح خودکش حملے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا (برہان الدین ربانی کا قاتل بم پگڑی میں لے گیا تھا اور اسداللہ خالد کو مارنے والے نے بم آپریشن کے ذریعے جسم میں داخل کرایا تھا اور دونوں کو ایسے لوگوں نے نشانہ بنایا جو پہلے بھی ان سے ملتے رہے) اس کے بعد افغان صدر کی سیکورٹی کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا گیا ہے ۔ ان تک پہنچنے سے قبل ہر ملاقاتی کو سیکورٹی کی پانچ لہروں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ پولیس کا الگ‘ فوج کا الگ ‘ انٹیلی جنس کا الگ ‘ پروٹوکول ونگ کا الگ اور ذاتی عملے کا الگ انتظام ہے۔ سب ایک دوسرے پر چیک رکھتے ہیں اور سب ایک دوسرے کے تابع نہیں ہیں۔ افغان حکام الزام لگا رہے ہیں کہ ماضی میں ان کے لیڈروں کو نشانہ بنانے کے بیشتر منصوبے طالبان نے پاکستان میں تیار کئے‘ اس لئے پاکستانیوں اور پاکستان سے آئے ہوئے لوگوں کو زیادہ شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں اسکروٹنی کے خصوصی عمل سے گزارا جاتا ہے۔

حامد کرزئی کے پروٹوکول ونگ کے اہلکاروں کے ساتھ جب میں قصرصدارت پہنچا تو مجھے معمول کی چیکنگ کے بعد تو اندر جانے دیا گیا لیکن میرے پروڈیوسروں اور کیمرہ مین کو وہیں روکا گیا۔ کافی تاخیر کے بعد انہیں اندر تو آنے دیا گیا لیکن انٹرویو کے شروع ہونے تک حامد کرزئی کے احکامات کے باوجود پروٹوکول کا عملہ انہیں ریکارڈنگ کے مقام تک نہیں لاسکا اور صدر کی میڈیا ٹیم نے ریکارڈنگ کے دوران کیمرے آپریٹ کئے۔ واضح رہے کہ صدر کے انٹرویو ریکارڈ کرنے والے میڈیا پرسنز کو اپنے کیمرے ساتھ اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور وہ صرف وہاں پر موجود کیمروں سے ہی ریکارڈنگ کر سکتے ہیں۔ میری ٹیم جب اندر آئی تو تب تک ہم انٹرویو ریکارڈ کرچکے تھے۔ حامد کرزئی صاحب اور ان کے پروٹوکول کے حکام بار بار مجھ سے معذرت کررہے تھے اور میں مروت میں نہیں کوئی بات نہیں ‘ کوئی بات نہیں کی تکرار کررہا تھا۔ دراصل باقی ملک کی طرح قصر صدارت میں بھی مختلف لابیوں کے لوگ سرگرم عمل ہیں ۔ ایک لابی جو پاکستان کے ساتھ ان کے خوشگوار تعلقات کی مخالف ہے‘ پوری کوشش کرتی ہے کہ ہم جیسے لوگ ان سے نہ ملیں۔ ان کے گرد جمع ایک لابی کے لوگ اس وجہ سے پریشان تھے کہ کہیں پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال نہ کی جائے اور دوسری لابی اس سے پریشان رہتی ہے کہ کہیں پاکستان کے حق میں گفتگو نہ ہو جائے۔

انٹرویو کے مندرجات تو آپ اتوار کی شام دس بج کر پانچ منٹ پر جیو نیوز پر ملاحظہ کر لیں گے لیکن ایک نئی چیز جو اس سفر میں واضح طور پر مجھے محسوس ہوئی وہ پاکستان اور شمال کے لیڈروں کی پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت اور حامد کرزئی جیسے پختونوں سے دوری یا پھر اس حوالے سے اس کیمپ کی پریشانی ہے۔ اب کے بار کسی تاجک ‘ ازبک یا ہزارہ لیڈر سے میں نے پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں سنی لیکن حامد کرزئی کے کیمپ کے لوگ پاکستان سے شدید نالاں نظر آئے۔ ماضی میں وہ پاکستان مخالف اقدامات کیلئے شمال کے لوگوں کو الزام دیتے تھے لیکن اب وہ پاکستان اور شمال کے لیڈروں کی قربت سے پریشان ہیں۔گزشتہ دو تین ماہ کے دوران افغانستان کے مشرقی اور پختون صوبوں میں پاکستان کے خلاف کئی بار مظاہرے ہوئے اور بعض جگہوں پر پاکستانی پرچم بھی نذرآتش کیا گیا لیکن غیرپختون لیڈروں نے مظاہرے تو کیا پاکستان کے خلاف لب کشائی سے بھی گریز کیا۔ حامد کرزئی صاحب ڈیورنڈ لائن کے ایشو کو تازہ کر کے اس کے ذریعے پاکستان کو زیردباؤ لانا چاہتے ہیں لیکن شمال کے لیڈر اس حوالے سے یا تو خاموش یا پھر بڑی حد تک پاکستان کے موقف کے حامی ہیں۔ افغانستان کے پختونوں کی یہ بھی بدقسمتی ہے کہ ان کی پوری قیادت تقسیم ہے۔ پہلی تقسیم تو طالبان اور غیر طالبان کی ہے۔ حزب اسلامی جو افغانستان کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ہے‘ تین حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔کابل میں بیٹھا کم و بیش ہر پختون لیڈر دوسرے پختون کا مخالف اور اگلے انتخابات کے لئے صدارتی امیدوار ہے۔ حامد کرزئی کا کیمپ ابھی تک اپنے امیدوار کا تعین نہیں کر سکا۔

دوسری طرف شمال کے لیڈر منظم ہیں اور ان کے چند صدارتی امیدوار واضح ہو گئے ہیں اور ابھی سے انتخابی مہم میں مصروف ہو گئے ہیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ حامد کرزئی صاحب ایک بار پھر پاکستان مخالف رجحان سے واپسی اختیار کرکے پاکستان کے ساتھ ازسرنو دوستی کی نئی اور شاید آخری کوشش کر رہے ہیں‘ تبھی تو انہوں نے میرے ساتھ انٹرویو پر آمادگی ظاہر کی جس میں انہوں نے میاں نوازشریف کی بھرپور تعریف کے ساتھ ساتھ ڈرون حملوں اور تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات جیسے ایشوز پر پاکستان کی حمایت کی۔ اسی طرح انہوں نے پچھلے انٹرویو کی طرح اب کے بار پھر یہ اعلان کیا کہ امریکہ یا کسی اور ملک کے ساتھ کسی جنگ کی صورت میں افغانستان‘ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگا تاہم مجھے محسوس ہوا کہ اب کے بار وہ ڈیورنڈ لائن اور تحریک طالبان پاکستان کے ایشو کو ایک بارگیننگ چپ کے طور پر بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح نواز شریف اور باقی سیاسی قیادت کے بارے میں محبت بھرا جبکہ پاکستانی فوج کے بارے میں سخت لہجہ استعمال کرکے وہ پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں لیکن شاید کرزئی صاحب یہ حقیقت نہیں سمجھ رہے کہ میاں نوازشریف ان کی طرح مجبور نہیں‘ وہ ان کی طرح مختلف لابیوں میں پھنسے نہیں ہیں اور وہ ان کی طرح جذبات میں بھی نہیں آتے۔کرزئی صاحب نے دس سالہ اقتدار میں بہت کچھ سیکھا ہے تو نواز شریف صاحب نے کئی سالہ جلاوطنی اور قیدوبند میں بہت کچھ سیکھا ہے

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.