.

ترکی کا مستقبل اور حالیہ مظاہرے

فرخ سہیل گوئندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میرے گزشتہ کالم ’’ترکی میں خزاں یا بہار؟‘‘ کے بعد بڑی تعداد میں قارئین نے ترکی کے حالیہ مظاہروں اور ترکی میں جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ ان سوالات میں خاص طور پر یہ پوچھا گیا کہ ان مظاہروں کے پیچھے غیر ملکی سازش تو نہیں؟ جیسا کہ ہمارے ہاں یہ عام روایت ہے، ہم اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں کا سہرا دوسروں کے سر ڈالتے ہیں۔ دوسرا سوال کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک حکومت جس نے پچھلے دس برسوں میں ترکی کو معاشی ترقی کی شاہراہ پر ڈال دیا ،اس کے خلاف وہاں کے عوام سڑکوں پر نکل آئے؟ ایک اور اہم سوال کیا کہ کیا فوج مداخلت تو نہیں کرے گی؟ اور اس کے علاوہ دیگر متعدد سوالات بھی کیے گئے جن کا تعلق وہاں پر سیکولر ازم، مذہبی سیاست، موجودہ پارٹی کے مستقبل، معیشت اور ترکی کے علاقائی کردار وغیرہ وغیرہ سے تھا۔ خود میرے لیے مطالعے کی بنیاد پر رائے قائم کرنے میں اس وقت آسانی پیدا ہوتی ہے کہ جب میں اپنی رائے قائم کرنے کے لیے اپنے آپ سے سوالات اٹھاتا ہوں۔

ترکی پچھلی ساڑھے تین دہائیوں سے میرا مطالعے اور مشاہدے کا موضوع ہے، لہٰذا جب دوست احباب نے حالیہ صورتِ حال پر سوالات اٹھائے تو مجھے بھی اپنی رائے کو پرکھنے کا موقع ملا۔ سوالات اٹھانے والوں میں عام قاری سے لے کر اہل علم و فکر لوگ بھی شامل ہیں، کئی دوستوں نے تو سوالات اٹھاتے ہوئے عملاً جوابات دیئے، یعنی اپنی آراء کو پیش کیا۔ لیکن سب سے دلچسپ سوالات وہ ہوتے ہیں جب آپ سوال اٹھاتے ہوئے جواب جاننے کے باوجود بالکل Blank انداز اپنائیں۔ ایسے ہی سوالات میرے محترم دوست وزیر اطلاعات و نشریات جناب پرویز رشید نے کیے، ان کے لیے تین اہم سوالات تھے۔ مظاہروں کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا فوج تو نہیں آجائے گی؟ خوش حالی اور ترقی کا سفر تو نہیں رک جائے گا؟ ترکی میں جاری ترقیاتی منصوبے تو نہیں رک جائیں گے؟ اور اگر کوئی انتہائی صورتِ حال جنم لیتی ہے تو کیا ہو گا (کیا حکومت ختم ہو جائے گی)؟ لہٰذا آج میں کوشش کروں گا کہ ترکی کے بارے میں چند Factual چیزیں سپردقلم کی جائیں۔

ترکی کی اساس ترک قوم پرستی اور سیکولر ازم پر ہے۔ اس فکر نے اس قوم کے وجود کو برقرار رکھا، اگر ترک عوام غازی مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں یورپ کی اتحادی افواج کو اپنی سرزمین پر شکست دے کر باہر نہ نکالتے تو ترکی کی تقسیم کے بعد، فرانس، برطانیہ، یونان، روس، آرمینیا اور دیگر کئی ریاستیں تاریخی دعوے داری کرکے اس پر قبضہ جما چکی ہوتیں۔ ترک عوام ، جس میں اناطولیہ کے کسان اور شہروں کی مڈل کلاس شامل تھی، انہوں نے غیر ملکی حملہ آوروں کو شکست کے بعد ایک نئی قوم اور نئی ریاست (جمہوریہ ترکیہ) کی بنیاد رکھی۔ اس انقلاب میں اتاترک کی قیادت میں ایک عوامی انقلاب برپا کیا گیا اور ریاست کی روح ترک نیشنل ازم تھی، جس نے قومی اتحاد کی شان دار تاریخ مرتب کی اور لوگ فرقوں، عقیدوں اور مذہبی تقسیم سے بالاتر ہو کر ایک قوم کی حیثیت سے اپنا وجود منوانے اور برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ ترک قوم نے پچھلے نوے برسوں میں اس اتحاد کو برقرار رکھا۔ نوے کی دہائی کے بعد جب سرد جنگ کا خاتمہ ہوا اور امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگی منصوبے عمل پذیر کیے تو اس کے پاس ان خطوں کو تقسیم کرنے کے لیے اہم ترین ہتھیار یہ تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کو فرقوں اور عقیدوں کی بنیاد پر تقسیم کر دیا جائے۔ اس کا آغاز، عراق، شام اور لبنان میں کیا جا چکا ہے۔ شام ایک سنی اکثریتی ملک ہے اور ایک مذہبی اقلیت علوی وہاں کا حکمران طبقہ ہے، جو طاقت کے زور پر بشارالاسد کی حکومت کو ہر حال میں قائم رکھنا چاہتا ہے، جب کہ اس کے پڑوس میں مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے سنگم پر واقع ملک ترکی کی آبادی کے تقریباً 20 فیصد حصے کا تعلق علوی یا قزلباش فرقے سے ہے، جنہوں نے ترک قومیت کی بنیاد پر پچھلے نوے برسوں میں ترکی کی سیاست، سماجیت اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن حالیہ حکومت کے چند اقدامات نے ترکی کی سیکولر اور قوم پرست بنیادوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ خصوصاً جب موجودہ حکومت نے اپنی پارلیمنٹ سے شام سے جنگ کرنے کی اجازت لی جس پر دیگر تمام جماعتوں نے مخالفت کی۔ اگر ترکی کو مشرقِ وسطیٰ کی امریکی جنگوں کا حصہ بننا ہے تو ترکی کا اندرونی استحکام خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔

موجودہ حکومت نے جب خطے میں امریکی جنگی منصوبوں کے تحت مداخلت کا اعلان کیا تو ترک علویوں کو نوے برسوں میں پہلی بار اپنے آپ کو ترک ریاست میں محدود ہونے کا احساس ہوا اور اس نے اس وقت جلتی پر تیل کا کام کیا جب وزیراعظم طیب اردوآن اور صدر عبداللہ گل نے 31مئی 2013ء کو استنبول کے یورپ اور ایشیا کو ملانے کے لیے تیسرے پل کا نام سلطان یاوز سلیم پر رکھا، جس کو ترک تاریخ میں علویوں کا قاتل کہا جاتا ہے۔ سلطان سلیم نے 1514ء میں نسل کشی کرتے ہوئے 40,000 سے زائد اناطولی علویوں کو صرف ایک وقت میں قتل کیا۔ اس پل کے افتتاح کے موقع پر صدر عبداللہ گل نے کہا کہ ’’ہم نے سوچ سمجھ کر اس پل کا نام سلطان یاوز سلیم پر رکھا ہے‘‘۔ اس نام کے آمرانہ فیصلے سے ترک قوم میں دراڑیں ڈالنے کا آغاز ہوا۔ بادشاہوں کی تاریخ کو اسلام کی تاریخ سے مربوط کرنے کے اس آمرانہ فیصلے کے بعد علویوں اور دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے اعلان کیا کہ ہم اس پل کے نام پر احتجاج کرتے رہیں گے۔ اور یوں ترک قومیت میں بادشاہوں کی تاریخ میں اسلام ڈھونڈنے سے دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

ترکی کے موجودہ معاشی استحکام کا سفر جنرل کنعان ایورن کے 12ستمبر 1981ء کے مارشل لاء کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے ایک نئے شخص ترگت اوزال کو میدانِ سیاست میں متعارف کروا کر آمریت سے جمہوریت کی Transition کی۔ ترکی نے اسّی کی دہائی کے وسط میں بحیثیت قوم ایک ایسا اقتصادی انفراسٹرکچر قائم کر لیا تھا، جس نے ترکی کو اگلے چند برسوں میں خطہ کی معاشی طور پر مضبوط قوموں میں کھڑا کر دینا تھا۔ لہٰذا ترگت اوزال کے بعد یلدرم الکبت، مسعود یلماز، تانسو چلر، سلیمان ڈیمرل، نجم الدین اربکان اور بلند ایجوت کی حکومتیں قائم ہوئیں اور ہر آنے والی حکومت میں ترکی تیز رفتار ترقی کا سفر کرتا چلا گیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ دس برسوں میں اقتصادی و معاشی ترقی کا منصوبہ بلندایجوت مرحوم کے وزیر خزانہ کمال درویش کے اقتصادی منصوبوں پر عمل داری کے تحت جاری ہے۔ لہٰذا اگر موجودہ حکومت آئندہ انتخابات میں شکست بھی کھا جاتی ہے تو بھی ترکی کی اقتصادی ترقی کا سفر نہیں رکے گا۔
ترک فوج پر تبصرہ کرتے ہوئے ہمارے تجزیہ نگاراس کو برصغیر کی کلونیل افواج کے تناظر میں دیکھتے ہیں، جب کہ ترک فوج کی تاریخ چرچل اور دیگر مغربی سامراجیوں کو شکست دینے سے عبارت ہے اور اس کی جھولی میں کوئی شکست نہیں۔ ترک فوج کلونیل فوج نہیں بلکہ ایک نیشنل آرمی ہے اور جدید ترکی کی بنیاد میں اناطولیہ کے کسانوں اور ترک افواج کا برابر حصہ ہے۔ ترکی میں فوج کو احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ترکی میں فوجی آمریتوں کو وہاں کے عوام نے کبھی قبول نہیں کیا، آج ترکی جس Democratization کے عمل میں داخل ہو چکا ہے وہاں پر مستقبل قریب میں کسی فوجی مداخلت کے امکانات موجود نہیں۔

ترکی کے موجودہ حالات کا موازنہ مصر، تیونس اور مراکش سے نہیں کیا جا سکتا کہ وہاں پر Dictiatorial Regimes تھیں، جب کہ ترکی میں ایک جمہوری حکومت اور ڈھانچا موجود ہے۔ عوام ترک حکومت کے آمرانہ رویوں اور پالیسیوں کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں، یعنی وہ جمہوریت کے نگہبان ہیں۔ ترکی میں پچھلے بیس برسوں سے ایک نعرہ ہے More Democracy ،لہٰذا موجودہ مظاہرے تین مرتبہ منتخب ہونے والی حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے Authoritative رجحانات کے خلاف ہیں۔

ترکی معاشی ترقی کے تیز رفتار سفر پر گامزن ہے، لیکن چند حقائق بڑے تلخ ہیں کہ ترکی کی اوسط جی ڈی پی گروتھ 8فیصد سے گر کر 3.0فیصد پر آ چکی ہے اور نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح میں حیرت ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ترکی خطے کا مہنگا ترین ملک بنتا جارہا ہے اور موجودہ حکومت اس کے ویلفیئر کردار کو محدود کرتے ہوئے کارپوریٹ ڈیموکریسی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور عالمی سرمایہ داری کے رجحانات نے ترکی کے ویلفیئر ریاست کے تشخص کو مسخ کرنا شروع کر دیا ہے جس کے سبب وہاں کے عام آدمی کی زندگی مشینی زندگی بنتی جارہی ہے۔ تعلیم، صحت، سفر اور دیگر ریاستی ذمہ داریوں سے ہاتھ اٹھانے کے عمل نے ترک عوام میں بے چینی پھیلا دی ہے اور سب سے اہم بات کہ موجودہ حکومت نے شخصی آزادیوں کو مذہب کے نام پر کنٹرول کرنا چاہا ہے۔ اگر یہ سختیاں جاری رہیں تو موجودہ مقبول جماعت آئندہ انتخابات میں وہ اکثریت حاصل نہیں کر سکتی جو اس نے دو سال قبل حاصل کی تھی۔ البتہ ایک بات طے ہے کہ ترکی ایک مضبوط جمہوریت کے سفر کی جانب بڑھتا چلا جائے گا اورترک قوم 2023ء میں اپنی جمہوریہ کی صدسالہ تقریبات منانے کا اہتمام کر رہی ہے۔ لیکن یہ بات مدِنظر رکھنی چاہیے کہ ترکی کو فوجی مداخلت سے زیادہ، مذہبی عقیدوں کی بنیادوں پر تقسیم ترک قوم مستقبل میں خطرات کے سامان پیدا کر سکتی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.