.

امریکا بھی ہے، بھارت بھی اور ہمیں بھی زندہ رہنا ہے

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم نالائقی اور بے حسی میں یکتا پاکستانی قائداعظم کے پاکستان جیسے ملک اور تحفے کی حفاظت تو کیا کرتے ہم تو اس شخصیت کی آرام گاہ کی حفاظت بھی نہ کر سکے جس کے ساتھ آج کے پاکستانیوں کی عقیدت سے معمور غیر معمولی جذباتی وابستگی تھی۔ صنوبروں کے دنیا کے دوسرے بڑے ذخیرے میں گھرا اور لیٹا ہوا لکڑی کا یہ مکان ہمارے بیمار قائد کی آخری آرامگاہ تھی۔

علالت کی شدت کی صورت میں وہ یہیں سے کراچی روانہ ہوئے اور وہاں ایک پرانی ایمبولینس میں لٹا دیے گئے جو راستے میں خراب ہو گئی۔ ایئر مارشل اصغر خان نے جذبات سے رندھی ہوئی آواز میں بچشم نم اس نیاز مند کو ایک دن بتایا کہ وہ اس وقت اپنے دفتر جا رہے تھے، سڑک پر رکی ہوئی اس ایمبولینس میں انھیں محترمہ فاطمہ جناح دکھائی دیں۔ ایئر مارشل گاڑی سے اتر کر فوراً ان کے پاس پہنچے اور ابھی سوچ رہے تھے کہ مسئلے کا کیا حل کیا جائے کہ گاڑی اسٹارٹ ہو گئی اور چل پڑی۔

بابائے قوم کی زندگی کے یہ گویا آخری لمحے تھے، وہ اس ناشکری قوم کو اس کے حال پر چھوڑ کر چل بسے۔ قوم کے پاس قائد کی یہی نشانی باقی تھی جس میں قائد کے استعمال کا کچھ سامان رکھا تھا اور صنوبر کی نایاب لکڑی کے وہ درودیوار تھے جن سے قائد کی خوشبو آتی تھی۔ یہ سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا۔ پوری قوم سوگوار ہو گئی، پہلے ہی اسی وقت بلوچستان سے ایک خوفناک خبر مل چکی تھی۔ بلوچستان میں ایک مدت سے جو قیامت برپا ہے، اس کی ایک حد زیارت کی تباہی تھی۔

وزیراعظم نے اس صوبے کو مقامی تنازعوں سے بچانے کی کوشش کی ہے اور ایک متفقہ حکومت بھی بن چکی ہے لیکن پاکستان کے بیرونی دشمنوں کے لیے یہ سب ناقابل قبول ہے۔ بلوچستان ان کے لیے آسان محاذ ہے جہاں وہ پاکستان کو انتہائی پریشانی میں مبتلا کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں، نئی حکومت کے ذریعے ہمیں پھر بتایا جا رہا ہے کہ بلوچستان میں غیر ملکی ہاتھ سرگرم ہے اور زیارت جیسی پاکستانی عمارت کو اسی ہاتھ سے جلایاہے لیکن کیا اٹھارہ کروڑ کی یہ ریاست ایک ہاتھ کو تلاش نہیں کر سکتی یا اس کی جرات نہیں کر سکتی۔

ہر پاکستانی کو سوائے حکمرانوں کے یہ معلوم ہے کہ یہ ہاتھ بھارتی ہاتھ ہے اور امریکا کو اس خطے میں اسی ہاتھ کی بالادستی مطلوب ہے۔ ہماری حالت تو یہ ہے کہ گزشتہ عبوری حکومت کے ارکان کی نامزدگی امریکا نے کی تھی۔ چنانچہ ہماری نئی منتخب حکومت بھی امریکی خوشنودی کی بے تابانہ طالب رہتی ہے۔ ہمارا بجٹ خدا جانے کس کا بجٹ ہے جو ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔ کچھ پہلے ہمارے ایک مالیاتی ماہر کئی ہفتہ امریکا میں رہے اور اپنیذہن میں بجٹ کے خدوخال بناتے رہے۔

ایک مدت سے ہماری حکومتیں امریکا کے اس قدر قریب جاتی رہیں کہ ہم آج ڈرون جہاز اپنے ملک سے اڑاتے ہیں اور اپنے ملک پر برساتے ہیں مگر اس میں امریکا کا کیا قصور۔ ہم جغرافیائی اعتبار سے جس خطے میں واقع ہیں اس کی نزاکت کا احساس ہمیں خود ہونا چاہیے اور اپنے اس قدرتی اثاثے کی حفاظت صرف ہمارا فرض ہے ،کوئی دوسرا اس سے فائدہ تو اٹھا سکتا ہے لیکن اس کی حفاظت اس کی ذمے داری ہر گز نہیں ہے۔ ہماری کمزوری بڑھتی جا رہی ہے یہ تو کوئی بھی نہیں کہتا کہ ہم امریکا سے جنگ کریں، آج تو کوئی بھی امریکا کے مدمقابل نہیں ہے، وہ انسانی تاریخ کی اکلوتی سپر پاور ہے لیکن دنیا میں طاقت ور اور کمزور ایک ساتھ زندہ رہے ہیں بس کمزوری میں زندگی کرنے کا سلیقہ چاہیے۔

آپ اپنے سے زیادہ طاقت ور سے مصالحت کر سکتے ہیں، کچھ لو اور دو کر سکتے ہیں، ہرطاقت ور کمزوروں کا محتاج بھی ہوتا ہے ورنہ اس کی طاقت کیسے قائم ہو۔کمزوری کے باوجود کمزوروں کے پاس کچھ ایسا ہوتا ہے کہ طاقت ور اس کا محتاج ہو جاتا ہے، اس کی واضح مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ امریکا کو افغانستان سے نکلنا ہے اور وہ اس مشکل وقت میں اس علاقے کے کمزوروں کا محتاج ہے، آخر اس کے ہیرو کب تک بچوں کے پیمپر استعمال کرتے رہیں گے۔ ہم امریکا سے کچھ نہ کچھ لے سکتے ہیں اور یہ سب ہماری دانش اور سیاسی تدبر پر منحصر ہے کہ کیا اور کتنا لے سکتا ہے یا ایک بازاری آدمی کی طرح ایک ٹیلی فون پر قدم ٹیک سکتے ہیں بلکہ ڈھیر ہو سکتے ہیں۔ انتہا ہے کہ اس واقعہ کا ہمارے نمایندے نے بڑے فخر کے ساتھ ذکر کیا بہر کیف عرض یہ ہے کہ بڑے سے بڑا طاقت ور بھی کبھی ناساز گار حالات میں پھنس سکتا ہے۔

سیاسی تدبر کا یہی وقت ہوتا ہے بشرطیکہ یہ سیاسی تدبر کہیں موجود بھی ہو۔ یہ سیاست کی بلندی اور شعور کا اگلا مقام ہوتا ہے۔ اس وقت ہم نے شاید امریکا کی پونچھ پر پاؤں رکھا ہوا ہے یا یوں کہیں کہ اس کا پونچھ ہمارے پاؤں کے نیچے آ گیا ہے۔

ہمیں امریکا میں موجود اپنی مال و منال کے تحفظ سے زیادہ بھارت جیسے دشمن سے تحفظ کی ضرورت ہے جو امریکا کی سرپرستی میں ہمیں حد سے زیادہ تنگ کر رہا ہے۔ ہم امریکا سے عرض کر سکتے ہیں کہ بھارت کو اپنی جگہ رکھیں اسے آگے بڑھنے سے روکیں کیونکہ بھارت کے ساتھ تو ہم لڑتے ہی رہتے ہیں، امریکا کے ساتھ نہیں لڑ سکتے۔ امریکا کی عالمی سیاسی ضرورتوں میں ہمیں زندگی چاہیے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اصل بات تو اپنے حکمرانوں سے کرنی ہے لیکن کس سے کریں جو پاکستان اور بھارت کی ثقافت کو ایک جیسا سمجھتے ہیں اور بھارت کے ہر جال میں پھنسنے کے لیے تیار ہیں۔ بھارت کی ثقافت ایسی ہے کہ ہم اس کے مدت سے اسیر ہیں۔

گندمی رنگ بھی ہوزلف سیہ فام بھی ہو
مرغ دل کیوں نہ پھنسے دانہ بھی ہو دام بھی ہو

لیکن یہ ثقافتی رشتے اور تعلقات برسوں صدیوں سے چلے آ رہے ہیں، ہمارے اور کئی مغل بادشاہ ہندوراج کماریوں کی اولاد تھے۔ مگر ہم نے ان تعلقات سے لطف بھی لیا ہے، انھیں نبھایا بھی ہے اور مرضی کے ساتھ زندگی بھی بسر کی ہے۔ اب جب ہم بھارت سے الگ ہو چکے ہیں تو الگ رہ کر بھی ہم امن کے ساتھ زندگی بسر کر سکتے ہیں، وہ اپنی جگہ خوش ہم اپنی جگہ۔ ہمیں تو اپنا ملک جس میں ضرورت سے زیادہ وسائل موجود ہیں ایک معقول کھاتا پیتا ملک بنانا ہے جس کی کوئی عزت بھی ہو اور جو طاقت وروں سے ان کے مقام و مرتبہ کا اعتراف کر کے بات کر سکے اور اپنا مطلب نکال سکے۔

افسوس کہ ہم جرمن نہیں ہیں، روس کیخاتمے کے بعد جب امریکا نے تمام جنگی خرچہ دوسروں سے وصول کیا تھا تو ان دنوں جدہ میں مجھے ایک جرمن صحافی مل گیا، اس نے مجھے بتایا کہ درست پہلے تو ہمیں مشرقی جرمنی کو اپنے برابر کرنا ہے اور اس میں ہمارے پندرہ برس لگیں گے پھرہم امریکا سے اپنی رقم بمعہ سود وصول کر لیں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.