.

قائد اعظم کی یادگاروں سے بے حسی

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کھیلن کو مانگے چاند۔ میں ایک نرالی فرمائش کرنے والا ہوں۔ اور وہ بھی اس وزیر اعظم سے جن کی انتخابی مہم کے دوران اشتھاروں میں باقاعدگی سے قائد اعظم کی تصویر دیکھنے کو ملتی رہی اور لوگوں نے قائد اعظم کے مشن کی تکمیل کے لئے ن لیگ کے بکسے ووٹوں سے بھر دیئے۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد نصف شب کے ہنگامے میں میاں نواز شریف تھکی آنکھوں کے ساتھ ٹی وی کیمروں کے سامنے آئے، انہوں نے اپنی شاندار فتح کا اعلان کیا ۔

اگلے دن جشن فتح شروع ہو گیا، ن لیگ کو اس کا حق پہنچتا تھا، مگر اس کے اشتھاروں سے قائد اعظم کی تصویر غائب ہو گئی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میری آنکھوں پر تعصب کی عینک چڑھ گئی ہو اور مجھے یہ تصویر نظر نہ آئی ہو۔ لیکن اگر تصویر غائب ہوئی تو ایک لحاظ سے المیہ ہے، شاید اس تعویذ کی انہیں اب ضرورت نہ تھی۔

زیارت میں قائد ریذیڈنسی کے سانحے کے بعدوزیر داخلہ چودھری نثار نے صوبے کے وزیر اعلی اور وفاقی وزیر اطلاعات کی موجودگی میں عہد کیا کہ آئندہ تاریخی یادگاروں کی حفاظت کی جائے گی۔

ہفتے کے روز پاکستان سوگوار تھا، دن کے ابتدائی لمحات میں قائد کے نظریے اور اس کی علامت کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور پھر معصوم طالبات کی بس اڑا دی گئی۔ زخمیوں کو علاج معالجے کے لئے جس ہسپتال میں منتقل کیا گیا، اس کو بھی بموں کا نشانہ بنا دیا گیا۔پاکستان اور بلوچستان لہو لہان تھے، زخموں سے چور تھے۔

اسی روز سہہ پہر کوہم چند دوست اس سانحے پر آنسو بہانے کے لئے ایک ہوٹل میں جمع تھے۔ قائد کی یادگار زیارت ریذیڈنسی کا نوحہ پڑھا گیا۔اور اس حوالے سے اندیشہ ہائے دور دراز کی نشاندہی کی گئی۔ہر آنکھ نم تھی۔اور دلا سا دینے والا کوئی نہ تھا۔

محفل میں شریک ضیا شاہد نے بتایا کہ کس طرح ان کی یہ کوشش ناکام ہوئی کہ حکومت پاکستان لندن میں اس فلیٹ کو خرید کر قومی یادگار کے طور پر محفوظ کر دے جس میں قائد اعظم زمانہ طالب علمی کے دوران قیام پذیر ہوئے، وہ جنرل مشرف سے ملے، شوکت عزیز سے ملے، وزیر خارجہ خورشید قصوری سے ملے، ایک ہی جواب تھا کہ فلیٹ کی زیادہ قیمت مانگی جا رہی ہے، کسی نے یہ بھی پوچھا کہ اس فلیٹ میں آپ کی دلچسپی کیا ہے۔بعد میں وہ چودھری پرویز الہی سے اس وقت ملے جب وہ ڈپٹی وزیر اعظم کے منصب پر فائز تھے، ان سے یہ بھی کہا کہ حکومت پیسے ادا نہیں کرتی تو چودھری صاحب اپنی جیب سے قیمت ادا کر دیں اور قوم کے نام وقف کر دیں۔

لندن میں اب ہر کس وناکس کا فلیٹ ہے، قیمتی سے قیمتی اور سستے سے سستے علاقوں میں ہر کسی نے اپنی بساط کے مطابق سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ون پاﺅنڈ فش کی دکان بھی سجی نظر آتی ہے۔

مگر لندن میں کوئی بے گھر ہے تو پاکستان کا خالق۔

نمبر 35 رسل روڈ کنسنگٹن، میں قائد اعظم نے اوائل جوانی کے وہ لمحات بسر کئے جب وہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے گئے تھے، یہیں ان کے ذہن میں وہ مقدمہ بھی آیا جو آگے چل کر انہوںنے اپنی قوم کے لئے لڑا ، قائد اعظم زندگی بھر کوئی مقدمہ نہیں ہارے ، یہ مقدمہ بھی جیت کر اس دنیا ئے فانی سے رخصت ہوئے۔

زندہ قومیں اپنے اسلاف کی یادگاروں کو محفوظ بناتی ہیں، آنے والی نسلوں کے لئے یہ نشانیاں مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔

لندن میں ہر تیسرے گھر پر کسی نہ کسی تاریخی شخصیت کے نام کی تختی نصب ہے۔شیکسپیئر کی یاد گار پر ہر کوئی جاتا ہے۔ لیک ڈسٹرکٹ میں ورڈز ورتھ کی کٹیا آج بھی اصلی حالت میں محفوظ ہے۔ اور شکاگو کے باہر ایک سڑک کے کنارے شاعر برنز کی جھگی نما رہائش گاہ بھی محفوظ ہے۔ جاپان کے کیوٹو پارک کے ایک بنچ پر چین کا انقلابی وزیر اعظم چو این لائی کتابوں کو ازبر کیا کرتا تھا، اس کا بنچ وہاں آج بھی رکھا ہوا ہے اور تو اور ہیرو شیما کی جس عمارت پر ایٹم بم گرا ، وہ اسی حالت میں آج بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ میں نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، دنیا بھر سے لاکھوں سیاح ان کو ہر سال دیکھتے ہیں اور تاریخ سے اپنا رشتہ مستحکم کرتے ہیں۔

کیا ہم زندہ قوم نہیں ہیں۔ کیا ہمیں اپنے ا سلاف سے کوئی شغف باقی نہیں رہا۔

شکریہ عثمانی ترکوں کا جنہوں نے جنگ خندق کے ہر مورچے پر ایک یادگاری مسجد تعمیر کر کے ان مقامات کوایک مجسم تاریخ کی شکل دے دی ہے۔میں اپنے دوست اور اسحاق ڈار کے کلاس فیلو اور میاںنواز شریف کے عزیز از جان دوست احمد سعید چمن کا مشکور ہوں کہ انہوںنے میرے لئے وزٹ ویزے کا اہتمام کیا، میں طائف گیا، وہ پتھر جس کو پہاڑ کی چوٹی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر لڑھکایا گیا تھا، وہ زندہ معجزے کی شکل میں آج بھی موجود ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر کو تیزی سے اپنی طرف آتے دیکھ کر سر کو کہنی سے ڈھانپنے کی کوشش کی، خدا کی قدرت ،پتھر وہیں اٹک گیا اور صدیوں سے اٹکا ہوا ہے، عثمانیوں نے اس کے قریب یادگار کے طور پر ایک مسجد تعمیر کر دی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بے حد لہو لہان تھے، اوباش ان کے پیچھے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے ایک انگوروں کا باغ دیکھا اور اس کا رخ کیا، باغ کے یہودی مالک نے ان کی بپتا سنی ، وہ اوباش نوجوانوں کے سامنے ڈٹ گیا، اس نے زخم صاف کئے، کھانے کو انگور پیش کیے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سستانے کے لئے لیٹ گئے۔

عثمانیوں نے یہاں بھی ایک یادگاری مسجد تعمیر کر دی ہے، وہاں تک جانے کے لئے سڑک نہیں تھی، طائف اسلامی کانفرنس میں جنرل ضیا الحق نے فرمائش کر دی کہ وہ اس مسجد میں حاضر ہو کر دو نفل ادا کرنا چاہتے ہیں ، سعودیوں نے راتوں رات چھوٹی سی سڑک بنا دی ۔اب مسجد مقفل پڑی ہے، اس کی دیواریں اس قدر اونچی ہیںکہ کوئی اندر جھانک بھی نہیں سکتا، بس چشم تصور میں اپنے حضور کی کلفت کو محسوس کر سکتا ہے۔ قلب وروح میں ٹیسیں اٹھتی ہیں اورآنسوں کی جھڑی رکنے کا نام نہیں لیتی۔

ہم گنہ گاروں کی سرزمین پر پیغمبر تو نہیں آ ئے لیکن ان پیغمبروں کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے لئے ہمیں آزاد مملکت، پاکستان کا تحفہ پیش کرنے والے یہاں ضرور پید ا ہوئے۔

کیا قائد اعظم ثانی سے یہ توقع رکھی جائے کہ وہ ملک کے اندر اور ملک سے باہر قائد اعظم کی یادگاروں کو محفوظ بنائیں گے اور نمبر 35 رسل روڈ ، کنسنگٹن ، لندن کا فلیٹ ،حکومتی خزانے یا اپنی جیب خاص سے خرید کر نئی نسلوں کا قائد اعظم سے رشتہ جوڑنے کی کوشش کریں گے۔

بحریہ ٹاﺅن والے ملک ریاض، سخاوت کاکوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے، ان کے لئے بھی یہ کوئی بڑی بات نہیں۔
کھیلن کو میں نے چاند مانگ لیا ہے، یہ جھولی قوم کی طرف سے پھیلائی ہے۔ایک چھوٹی سی فرمائش اور۔ میں نےquiadazam.com کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ مجھے قائد کی تصویریں درکار ہیں، ان پر لکھی کتابوں کی ضرورت ہے اور اگر فلمیں بھی مل جائیں تو کیا کہنے، نایاب ذخیرہ ایک جگہ جمع ہو جائے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نواءے وقت'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.