.

ہماری بچّیاں، ہمارا ورثہ

ادریس بختیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بہیمیت سی بہیمیت ۔ درندگی بھی جس سے شرمائے۔بے غیرتی بھی جس کے آگے پانی بھرے۔جن لوگوں نے وحشیانہ کارروائی کر کے چودہ معصوم،بے گناہ بچیوں کو ہلاک کیا، اور جن لوگوں نے بانیِ پاکستان کی آخری رہائشگاہ کو تباہ کیا، ان کی صرف مذمت کافی نہیں ہے، انسانیت کے درجے سے یہ سب بہت گرے ہوئے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کا تعلق کسی فرقہ وارانہ تنظیم سے ہے یا یہ بلوچستان کی آزادی کے نام پر دہشت گردی کر رہے ہیں۔ دونوں واقعات چند گھنٹوں کے فرق سے ہوئے، دونوں ہی اندوہناک ہیں، دونوں نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ خواتین یونیورسٹی کی طالبات نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟ انہوں نے تو کبھی اس طرح سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں۔ وہ پھول سی بچیاں، سب بچیاں پھول سی ہوتی ہیں،ابھی تو اپنی عمر کے ابتدائی برسوں میں تھیں،تعلیم حاصل کرنے کی دھن میں مگن۔یہ ان کی زندگی کے بہترین لمحات تھے،تعلیم حاصل کرنا خودبہت فرحت بخش ہوتا ہے۔عمر کے آخری دنوں میں جب صرف تنہائی ساتھ ہوتی ہے، اپنے وہ دن بہت یاد آتے ہیں،سہارا دیتے ہیں، جب اسکول میں، کالج میں، یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے جایا کرتے تھے، وہ خوشگوار لمحے بہت ساتھ دیتے ہیں۔ ظالموں نے، نہیں یہ کوئی لفظ نہیں ہے، ان حملہ آوروں کیلئے جو بچیوں کی بس کو بم سے اڑاتے ہیں۔ درندے بھی بلا وجہ کسی کو نہیں مارتے۔ یہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ کسی نے کہا یہ مسلمان نہیں ہو سکتے،مسلمان تو کیا یہ انسان بھی نہیں ہوسکتے۔جس کے اپنے بچے ہوں، اپنی بچیاں ہوں اسے سب بچے سب بچیاں اپنے لگتے ہیں، اچھے لگتے ہیں۔ان حملہ آوروں کو مگر نہیں لگے،نہیں لگتے۔ بس میں سواروہ تیس چالیس بچیاں روز اپنی مادرِعلمی جاتی ہوں گی، ان کی آنکھوں میں، اور ان کے گھر والوں کی آنکھوں میں، بہت سے سپنے سجے ہوں گے، زندگی گزارنے کے ،ملک کی خدمت کرنے کے ، اور وہ سب جو اس عمر میں آگے بڑھنے کاحوصلہ دیتے ہیں۔ بم دھماکے کرنے والوں نے یہ سارے خواب چکنا چور کردیئے۔ چودہ بچیاں اپنی جان سے گئیں، ہم سے بہتر مقام انہیں ملے،والدین اور اقربا،ساری عمر مگر اس صدمے کے ساتھ موت جیسی زندگی گزاریں گے۔ان نابکار لوگوں کے ہاتھ مگر آیا کیا؟ انہیں ان معصوم بچیوں کو ہلاک کر کے کیا ملا؟ اگر یہ مذموم کارروائی فرقہ وارانہ تنظیم کی ہے، جس نے اس میں ملو ث ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے،تو اسے بھی کیا ملا؟ کسی کو کسی بھی فر قے ، زبان، ذات کے لوگوں کو ہلاک کرکے کیا ملتا ہے؟ کچھ نہیں ملتا۔ مل ہی نہیں سکتا، ایک ذلت آمیز خلشِ مسلسل کے سوا۔ کوئی مقصد وہ حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ شاید ہی کسی کو اور خود ان کو اندازہ ہو۔ وہ جو بھی مقصد ہو، ان بے گناہوں کے خون سے انہیں کچھ نہیں مل سکتا۔ منہ اپنا انہیں نے یہاں بھی کالا کیا، آخرت میں بھی۔ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے، یہاں تو مسلسل بے گناہوں کو قتل کیا جارہا ہے۔

ان بچیوں کا قتل تو انتہا درجے کی ذلت آمیز کارروائی ہے۔تحقیقات اس بات کی بھی ہونی چاہئے کہ اس بس کی باقائدہ تلاشی کیوں نہیں لی گئی جس میں ان بچیوں کو سفر کرنا تھا۔ کوئٹہ، بلکہ بلوچستان میں، جہاں امن و امان کی صورت حال دگر گوں ہیں، اس طرح کے احتیاط کی ضرورت عام جگہوں سے بہت زیادہ ہے کہ سوار ہونے سے پہلے بس کی پوری طرح تلاشی لی جائے۔ احتیاط کی جاتی تو اتنا نقصان نہ ہوتا۔ انتہا درجے کی ذلت آمیز کارروائی زیارت میں بابائے قوم کی آخری رہائش گاہ کی تباہی بھی ہے۔سارا دن، اور دوسرے دن بھی، بچوں کا ایک ہی سوال تھا: راکٹ کس نے مارے؟ انہیں کیا فائدہ ہوا؟یہ کون لوگ ہیں؟ حکومت کچھ کر کیوں نہیں رہی؟ حکومت کچھ کرتی کیوں نہیں ہے؟ بچے کچھ برس پہلے زیارت میں اس ریذیڈنسی کی زیارت کر چکے تھے۔انہوں نے وہاں قائداعظم کے ا ستعمال میں رہنے والی اشیاء بھی دیکھی تھیں۔تصویریں بھی ان کے پاس ہیں، یادیں بھی۔ دکھ ان کاذاتی بھی ہے، اور اجتماعی بھی۔ ایسی جگہ آپ جائیں جہاں کبھی محمد علی جناح رہے ہوں تو ایک رفاقت سی اس جگہ سے ہو ہی جاتی ہے۔ دکھ ان کو ہے،وہ تصویر انہوں نے پہلے ہی دن دیکھی جس میں ریذیڈنسی تباہ شدہ نظر آ رہی تھی۔

غصہ انہیں ان دہشت گردوں پر بھی تھاجنہوں نے راکٹ مارے، اور ان پر بھی جو شروع میں کہتے رہے کہ جزوی نقصان ہوا ہے۔اصل میں تو یہ تاریخی یادگار ساری ہی تباہ کردی گئی ہے۔ بچے سوال پوچھتے رہے۔راکٹ کس نے مارے؟ کہیں سے تو آئے ہوں گے ؟پتہ کیوں نہیں چل رہا؟کیا بتاتا۔کسے معلوم کہ یہ کون لوگ ہیں؟اس تباہ کاری کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ بی ایل اے،یا اس طرح کے دوسرے ناموں کے پیچھے کون ہے؟ وہ جو ان معاملات پر نظر رکھنے کے ذمہ دار ہیں،جن کے فرائض میں یہ شامل ہے،انہیں خودکچھ پتہ نہیں ،اگر پتہ ہے تو وہ بتاتے نہیں۔نہ بتائیں،کوئی کارروائی تو کریں۔مانا کہ دہشت گردوں کو ایک قسم کی منفی برتری حاصل ہوتی ہے، کہ ان کے ہدف کا،ان کی سازشوں کا پتہ صرف انہیں ہی ہوتا ہے۔ وہ ان جانے میں حملہ کرتے ہیں، اکثر نہتے لوگوں پر، بچیوں پر۔ تو کیا انہیں آزاد چھوڑ دیا جائے؟ یا ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں؟ نہیں یوں نہیں ہو سکتا۔ مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ سب کو مل کربیٹھنا ہوگا، مل کر اس ناسور کو ختم کرنا ہوگا۔ اس کی جڑیں تلاش کریں، وہ وجوہات ڈھونڈیں جو ان عناصر کو قوت فراہم کرتی ہیں۔

بلوچستان کے مسائل بہت پیچیدہ ہیں، ان پر بار بار بات ہوتی ہے، بہت سے فورم پر۔ حل بھی تجویز ہوتے ہیں۔ عمل کم ہی ہوتا ہے۔ معاملات ہم نے بگاڑے ہیں، حکومتوں نے۔ بلوچ عوام کو ہم نے بہت دکھ دئے ہیں۔ اب ان کا مداوہ ہونا چاہئے۔ اس لئے بھی کہ شر پسند عناصراُن کوتاہیوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں، ہم عرصہ سے جن کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان اداروں کی بھی ذمہ داری ہے جن کے فرائض میں دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا شامل ہے۔ خفیہ ادارے ہی دہشت گردوں کا پتہ لگاتے ہیں،ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں،اگر وہ اس طرف توجہ دیں۔یہ ادارے اگر توجہ دیتے تو قوم کی معصوم بچیاں آج بھی ،اور کل بھی، اپنے اس شغل میں مصروف ہوتیں جس کا حکم نبی کریم نے دیاہے، تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔اور وہ تاریخی یادگار بھی محفوظ ہوتی جس میں قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری دن گزارے۔

قومی ورثہ کا نقصان صدیوں کا پچھتاوا ہے۔ اور اس دوسرے عنصر کے خلاف بھی مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے جو فرقہ واریت کے لہو سے پلتا ہے۔ اس میں اِدھر کے بھی ہیں اور اُدھر کے بھی، سب طرف کے لوگ فرقہ واریت کی اس آگ کو اپنے اپنے حصے کا ایندھن فراہم کرتے ہیں ۔ اس میں سب ہی جلتے ہیں، جلے جا رہے ہیں، جلائے جا رہے ہیں۔ اس پر بھی غور کریں، ٹھنڈے دل سے۔ اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں، اپنی اپنی صفوں کا جائزہ لیں، اپنے اپنے رویوں کو پرکھیں۔ معاملات تبھی ٹھیک ہونگے۔ وقت کا تقاضہ ہے،اور ضرورت بھی شدید کہ ان تمام عناصر کی بیخ کنی کی جائے جو دہشت گردی میں ملوث ہیں، جو نفرتوں کو ہوا دیتے ہیں، اِدھر کے ہوں یا اُدھر کے۔ یوں دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے، نہ اِدھر کا نہ اُدھر کا۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.