.

خود کش حملے: بین الاقوامی سیاست کی قیمت

حافظ شفیق الرحمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہر خود کش حملہ شہریوں کے لیے یقیناً قیامتِ صغریٰ کا پیغام لاتاہے۔جب بھی اس قسم کا کوئی بہیمانہ واقعہ جنم لیتا ہے تو اعلیٰ حکومتی شخصیات کی جانب سے الگ الگ تعزیتی پیغامات کااجراء کیا جاتا ہے، شہید ہونے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی جاتی ہے اور واقعہ کو درندگی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی جاتی ہے : ’’ ذمہ دار قانون کے شکنجے سے بچ نہیں سکتے، ملزموں کو نشان عبرت بنا دیں گے‘‘اس یقین دہانی کے باوجود خودکش دھماکے ایک معمول بن چکے ہیں۔ صدر مملکت، وزیراعظم اور صوبوں کے وزرائے اعلیٰ خودکش دھماکے کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں جبکہ وزیر داخلہ ’’حسب روایت‘‘ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ’’فوری تحقیقات‘‘ کا حکم دینے میں ایک لحظہ کی تاخیر نہیں کرتے۔یہ صرف خانہ پری ، زبانی جمع خرچ اور کاغذبازی ہوتی ہے۔۔۔ حکمرانوں اورسیاسی رہنماؤں کی جانب سے خودکش حملے کی مذمت کی جاتی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض مذمتی بیانوں کے اجراء سے دہشت گردانہ واقعات کا سدباب کیا جا سکتا ہے؟

صوبائی یا وفاقی حکومت کی جانب سے کسی بھی ہولناک واقعہ کے فوری بعد شہداء کے ورثاء کیلئے چند لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کیلئے ایک ایک لاکھ روپے کی امداد کا اعلان ایک روایت بن چکا ہے۔ جاں بحق ہو جانے کی صورت میں کسی ایک انسان کے ورثاء کو کسی بھی حکومت کی جانب سے دی جانے والی یہ رقم کیا ان کے پیاروں کے ادھ کٹے ترشے ہوئے ناخن کا بھی کسی طور نعم البدل ہو سکتی ہے۔۔۔ اوپر تلے خودکش حملوں کی وارداتیں اس جانب انگشت نمائی کرتی ہیں کہ قیام امن و امان اور نفاذِ قانون کے ذمہ دار ادارے اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔۔۔صرف ناکام نہیں بلکہ بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔

ہمارے ہاں جب بھی ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو وزارت داخلہ چند فرقہ پرست تنظیموں کو کالعدم قرار دے کر پابندی عائد کر دیتی ہے۔۔۔اِدھر پابندی عائد ہوتی ہے اور اُدھر اگلے ہی لمحے یہ تنظیمیں نام بدل کر دوبارہ میدان میں موجود ہوتی ہیں۔

پھر کوئی نہ کوئی غیر ملکی نشریاتی ادارہ آگے بڑھتا ہے اور انکشاف کرتا ہے کہ ’’حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرلی ہے‘‘ ۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ ہر واردات کے بعد مبینہ دہشت گرد تنظیم کے ترجمان اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے غیر ملکی نشریاتی اداروں ہی کا انتخاب کیوں کرتے اور اطلاع دینے کیلئے انہی کے نمائندے سے رابطہ کیوں کرتے ہیں؟ یہ شواہد در حقیقت پاکستان میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مداخلت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دہشت گرد تنظیم کے ترجمان انتہائی مشکل پسند ثابت ہوئے ہیں کہ سات سمندر پار امریکی اور مغربی ممالک کی خبر رساں ایجنسیوں اور ابلاغیاتی اداروں سے رابطہ کرتے ہیں۔ یہ رابطہ آخر وہ کس ذریعہ مواصلات سے کرتے ہیں؟سیٹلائٹ موبائل سے یا میل سروس سے۔یہ کوئی نہیں بتاتا۔ آخر ان کے ٹیلیفونک رابطے سے ان کی کمین گاہ کا کھوج کیوں نہیں لگایا جاتا؟۔۔۔کیا پاکستانی وزارت داخلہ کے پاس سراغرسانی کا ایسا کوئی سسٹم نہیں؟ واضح رہے کہ 2010ء میں خودکش بم دھماکوں میں پشاور سرفہرست رہا تھا۔

ناقابلِ شناخت دہشت گرد اڑھائی عشروں سے عبادت گاہوں، دانش گاہوں، علاج گاہوں، جنازہ گاہوں ، شاہراہوں اور جلسہ گاہوں کو نشانہ بناتے چلے آ رہے ہیں۔ اس قسم کے مذموم واقعات میں آج تک ہزاروں افراد زندگی ایسی انمول متاع سے محروم ہو چکے ہیں۔ طویل عرصہ گزر چکنے کے باوجود حساس اداروں کی قابل ذکر کارکردگی سامنے نہیں آ سکی۔ ان اداروں کی تعداد ڈیڑھ درجن کے قریب بتائی جاتی ہے۔ اب تو عام شہری اربابِ حکومت سے یہ استفسار کر رہا ہے کہ امریکہ کے شہر نیویارک میں 2001ء میں صر ف ایک بار نائن الیون ہوا ، سخت ترین حکومتی اقدامات کی وجہ سے دہشت گرد ایسی کسی کارروائی کا ارتکاب کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اسی طرح برطانیہ کے شہر لندن میں صرف ایک بار سیون سیون ہواا ور آج تک وہاں امن و امان اور قانون کے نفاذ کے ذمہ دار ادارے اس حد تک فعال اور متحرک ہیں کہ دوبارہ کسی دہشت گرد کو ایسی واردات کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔11ستمبر 2001ء سے 20جون 2013ء تک پاکستان میں آئے رو زکسی نہ کسی شہر میں نائن الیون اور سیون سیون نما دہشت ناک واقعات ہوتے ہیں لیکن تمام تر دعووں کے باوجود کوئی بھی حکومت ان واقعات کے ذمہ داران کو نکیل ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔۔۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان خودکش حملوں کے اصل محرکات و اسباب پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا ۔

ایجنسیوں کا بنیادی فریضہ کسی بھی متوقع ہولناک حادثے اور جان لیوا واقعہ کے حوالے سے انتظامیہ کو پہلے سے باخبر کرنا ہوتا ہے جبکہ پولیس کا کام حساس ایام اور مواقع پر حفاظتی انتظامات کو اس حد تک فول پروف بنانا ہوتا ہے کہ کہیں کوئی سقم یا رخنہ نہ رہ جائے جس سے فائدہ اُٹھا کر تخریب کار عناصر دہشت گردانہ کارروائی کے ارتکاب میں کامیاب ہوں۔ ایجنسیوں اور انتظامیہ کے مابین مکمل روابط نہ ہونے کی وجہ سے عوامی اور شہری حلقوں میں احساس عد م تحفظ بڑھ جاتا ہے۔کسی ایک تخریب کاری کی واردات کا بلا روک ٹوک کامیابی سے ہم کنار ہونا عام آدمی کو یہ باور کرواتا ہے کہ دہشت گردوں اور تخریب کاروں کا نیٹ ورک نہ صرف یہ کہ انتہائی مضبوط و مربوط ہے بلکہ وہ حکومت اور عوام دونوں کے لیے ایک ناقابل تسخیر چیلنج کی حیثیت اختیا رکر چکا ہے۔

میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ اس قسم کے ہولناک اور لرزہ خیز واقعات کے ماسٹر مائنڈز قطعاً پاکستانی نہیں ہو سکتے۔ بعض حلقوں کے اس الزام سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ماسٹر مائنڈز افغانستان میں قائم بھارت کے دو درجن سے زائد قونصل خانوں اور بگرام ایئر بیس میں قائم اتحادیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر میں چھپے بیٹھے ہیں لیکن یہاں بلوچی گاندھی عبدالصمد خان اچکزئی کے صاحبزادے محمود خان اچکزئی کے یہ الفاظ بھی لائق توجہ ہیں کہ ہماری جو ایجنسیاں گدلے پانی کی تہ سے سوئی بھی نکال لاتی ہیں، آخر ان کی راہ میں کیا امر مانع ہے کہ ان غیر ملکی دہشت گردوں کی شناخت کرنے میں بھی ناکام ہیں ان کی بیخ کنی تو دور کی بات ہے۔ عوام کو یہ بتایا جائے کہ ہماری یہ پولیس بہادر جو انگریز کے دور میں ہوا سونگھ کر مجرموں کا سراغ لگا لیا کرتی تھی، آخر اسے کونسا سانپ سونگھ گیا ہے کہ دہشت گرد اُن کے ناکوں کے باوجود اُن کی آنکھوں کے سامنے دندناتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور وہ تصویر حیرت بنے اُنہیں تکتے رہتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف مسلط کردہ امریکی جنگ ایک ایسی خوفناک جنگ ہے جس میں اب تک 50 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ۔قومی معیشت کو92ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا اور خودکش حملوں کی وجہ سے پورا ملک میدانِ جنگ بن کر رہ گیا ہے ایسے حالات میں بین الاقوامی برادری کا رویہ ہمدردانہ اور مشفقانہ ہونا چاہیے تھا لیکن اس کے برعکس امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ بدستور کر رہے ہیں۔ امریکہ نے بظاہر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں فرنٹ لائن سٹیٹ کا درجہ دیا لیکن ہمیشہ امتیازی سلوک روا رکھا۔ہماری فضائی حدود اور سڑکیں تباہ کرنے کے باوجود جو امداد دی گئی وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے اور اس امداد کو بھی نت نئی پابندیوں اور دھمکیوں سے مشروط کر دیا گیا۔یہ پرلے درجے کی ڈھٹائی ہے۔اس کے باوجود پاکستانی حکمرانوں کا رویہ مدافعانہ رہا ہے۔۔۔کڑوا سچ تو یہ ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سیاست کی بڑی قیمت ادا کر رہا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نئی بات'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.