.

بے نظیر دن!

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جی ہاں، آج محترمہ بے نظیر بھٹو کا جنم دن ہے، اس کی پارٹی کا و ہ حصہ جو اسے اب بھی مانتا ہے، اس کی سالگرہ کے کیک کاٹے گا۔مگر شاید اب کوئی جوش وجذبہ دیکھنے کو نہ ملے۔محترمہ کو بھلایا نہیں جا سکتا، انہوں نے قومی اور عالمی تاریخ کے صفحات پر کئی انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ وہ عالم اسلام میں پہلی منتخب خاتون وزیر اعظم بنیں۔ اس خطے میں بیگم حسینہ واجد اور بیگم خالدہ ضیا کی طرح انہیں کٹھن مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا، اندرا گاندھی بھی کچھ زیادہ خوش قسمت نہیں تھیں۔ اور سری لنکا کی بندرا نائیکے بھی نت نئے چیلنجوں سے عہدہ برآ ہوئیں۔

میں نہیں کہہ سکتا کہ محترمہ کے قد کاٹھ کا موازنہ برطانوی خاتون وزیر اعظم مسز تھیچر اور جرمنی کی موجودہ چانسلر انجیلا مرکل سے کیا جائے تو کیا رائے سامنے آئے گی۔ مگر محترمہ نے بہرحال ایک منفرد کردار ادا کیا اور یہی ان کی شخصیت کو تاریخ میں زندہ رکھنے کا باعث بنے گا۔ آج کا دن کسی طور پر محترمہ کے لئے راحت کا باعث نہیں ،ان کی پارٹی کو حالیہ الیکشن میں بری طرح شکست ہوئی، میں نے لکھا کہ پٹائی ہوئی تو بعض قارئین نے اس پر احتجاج کیا، یہ ان کا حق تھا۔ بات پیپلز پارٹی کی پنجاب میں شکست کے حوالے سے کی جائے تو یہ پٹائی سے بھی کچھ زیادہ تھی۔ آج جتنے کیک کاٹے جائیں، جہاں جہاں بھی کاٹے جائیں، مجھے دکھ سے کہنا پڑے گا کہ محترمہ کی روح ان تقاریب میں تالی نہیں بجا سکے گی۔ اور اس کے لئے وہ اپنے پرانے حلیف اور حریف میاں منظور وٹو ہی کو مطعون کریں گی اور شاید بعض بیگمات کو بھی جنہوں نے اپنے ارد گرد حاشیہ بردار خواتین میں ٹکٹیں ایسے بانٹیں جیسے اندھا ریوڑیاں بانٹتا ہے۔

محترمہ کو اپنی دیرینہ ہمدم اور دم ساز ناہید خان سے بھی بڑے گلے ہوں گے جو ناراض ہو کر کنارے پر بیٹھ گئیں، اب وہ اس کوشش میں ہیں کہ وہ پارٹی کے تار تار دامن کو رفو کریں۔ خیر، مسلم لیگیں تو آج تک اکٹھی نہیں ہو سکیں۔ اب پیپلز پارٹی کے تنکے، کون جمع کر پائے گا، یہ معجزہ تو ہونے سے رہا۔ محترمہ خوش قسمت تھیں، منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئیں، ان کی سیاسی تربیت ذوالفقار علی بھٹو جیسے نابغہ عصر نے کی۔کم سنی میں انہوں نے اپنے چاروں طرف اقتدار دیکھا، والد ایوب خان کے وزیر ، پھر سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، صدر اور ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم۔ اور یہ کہانی یہیں ختم ہو جاتی ہے،پھر بھٹو نے غلطیاں کی، کارکنوں کو دور پھینکا اور جاگیر دار، وڈیرے، پتھاریدار، سرمایہ دار ارد گرد اکٹھے کرلئے، نو عمر بے نظیر کے لئے یہ سب کچھ سمجھنا ممکن نہ تھا۔اور اسی جھٹپٹے کے عالم میں حکومت ختم ، جیل کی کال کوٹھڑی،ماں اور بیٹی جیلوں کے چکر لگانے پر مجبور۔ اور پھر پھانسی ہو گئی، بیٹی اپنے باپ کا آخری دیدار بھی نہ کر سکی۔

مزاحمت کا ایک طویل دور شروع ہو گیا، ماں اور بیٹی نے راکھ کی چنگاریوں کو بھجنے نہیں دیا، ماریں کھائیں،جلا وطنی برداشت کی۔ مگر اپنے کارکنوںکے حوصلے بلند رکھے ۔بے نظیر کے انکلز ایک ایک کر کے پرے ہٹتے چلے گئے،خاندان پر یہ بہت برا وقت تھا، ایک بھائی جلاوطنی میں فرانس میں زہر خورانی سے چل بسا، دوسرا کراچی کی سڑک پر چھلنی کر دیا گیا جب محترمہ خود حکومت میں تھیں۔محترمہ کو ان کی کڑی جدو جہد کا پھل تو مل گیا، جلا وطنی سے واپسی پر لاہور میں فقید المثال استقبال ہوا۔پھر دو بار اقتدار بھی ملا۔مگر آخری تجزیے میں یہی کہا جائے گا کہ محترمہ کو جہانبانی کا تجربہ نہ تھا، مشیروں نے انہیں ہمیشہ زک پہنچائی۔

کرپشن کے قصے عام ہوئے۔محترمہ کو ذاتی طور پر مال ودولت کی ضرورت نہ تھی، مگر ہر بار حکومت ٹوٹی تو کرپشن کے الزامات پر۔اور یہی لالچی اور بے مغز مشیر ایک بار پھر محترمہ کی طویل جلا وطنی کا باعث بنے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ایک خاتون کو حکمران کے طور پر قبول نہیں کیا ، ان کے مقابلے میں اسلامی جمہوری اتحاد کھڑا کر دیا گیا۔اس اتحاد کا بن جانا مخالفوں کی کامیابی نہیں ، محترمہ کی نا تجربہ کاری پر دلالت کرتا ہے۔وہ دور اندیشی سے کام نہ لے سکیں اور اقتدار کی راہداریوں میں ہونے والی کھسر پھسر پر نظر رکھنے میں ناکام رہیں۔مگر تاریخ میں محترمہ کو ایک بہادر اور فائٹر شخصیت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔حالات سے سبق سیکھنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ لندن میں میاں نواز شریف کے ساتھ میثاق جمہوریت پر متفق ہونا ان کے تدبر کی علامت ہے۔ اسی میثاق کی قوت پر وہ اپنی دوسری جلاوطنی ختم کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ انہیں طعنہ تو دیا جاتا ہے کہ این آر او کیا مگر انہوں نے اسی این آر او کو پاﺅں تلے مسل ڈالا۔

عالمی ضامنوں کا جبر تو یہ تھا کہ وہ الیکشن کے بعد آئیں گی مگر پرویز مشرف اور ان کے حلیفوں کے اقتدار میں جم جانے کے بعد ان کی دال کیا گلنی تھی، چنا نچہ محترمہ نے ضامنوں کے جبر کی پروا نہ کی اور وہ کراچی میں اتر گئیں جہاں کئی سو لاشوں کا ڈھیر لگا۔محترمہ جانتی تھیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، وہ باہر گئیں ، گھر اور اولاد کے معاملات سمیٹے، پھر واپس آئیں اور راولپنڈی کے لیاقت باغ میں شہید کر دی گئیں۔ وہ اس انجام سے باخبر تھیں۔یہی ایک جرات محترمہ کو تاریخ میں زندہ جاوید بناتی ہے ۔ان کے بعد ان کی خاندانی وراثت تو زرداری صاحب کے حصے میں آنی ہی تھی،لیکن سیاسی وراثت بھی بھٹو خاندان سے نکل گئی۔جناب زرداری کا دعوی ہے کہ انہوں نے مفاہمت سے کام لے کر کشتی کو طوفانوں سے نکالا۔اب ایوان صدر میں ان کے دن بھی پورے ہونے والے ہیں۔اس کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ چراغوں میں تیل کہاں سے آئے گا۔محترمہ کی سیاسی میراث کے دعوے دار طاقت پکڑ رہے ہیں۔الیکشنوں نے پارٹی کا کچومر نکا ل دیا ہے۔گلگت بلتسان اور آزاد کشمیر میں حکومت تو ہے مگر اس کے دانت نہیں۔سندھ میں ایک تلاطم برپا ہے۔زرداری صاحب کے گرد بھی نادان دوستوں کا ہجوم ہے جنہوں نے جی بھر کے اقتدار سے فائدہ اٹھایا مگر پارٹی اور اس کے لئے قربانیاں دینے والی بے نظیرکو زندہ رکھنے کے لئے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ایک ہزار روپیہ کسی کا ملا یا نہیں ، اب یہ نام اس پروگرام کو نہیں مل سکتا،اس لئے کہ قائد اعظم کے نام کو ہٹا کر ایک تعلیمی ادارہ بھٹو کے نام پر کر دیا گیا۔ ایسااقتدار کے نشے میں تو کیا جا سکتا ہے مگر ادھر نشہ ہرن ہوا ، ادھر یہ چونچلے ختم۔ اب تو زرداری صاحب کو محترمہ کے نقوش پا، پہ سیاست کرنا ہوگی، بھٹو کے کارکنوں کو اپنے گرد جمع کرنا ہو گا، وہ جیل اور اقتدار کے ساتھیوں کو خدا حافظ کہیں اور محترمہ کے کردار کا چراغ روشن کریں۔پروانے خود بخود جمع ہو جائیں گے۔ اورخدا کے لئے وہ سندھ کارڈ کے استعمال سے نہ ڈرائیں ، اور پارٹی کو نوڈیرو تک محدود نہ کربیٹھیں۔ سوچئے کہ ق لیگ کا طنطنہ کہاں گیا۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.