.

قطر، شام اور گنی پگز

سجاد میر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

محمود خاں اچکزئی کے بیان پر گفتگو قرض رہی۔ ایک بنیادی مسئلہ آن پڑا ہے جو اس خطے کی تاریخ میں سنگ میل ہو سکتا ہے۔ طالبان کو قطر میں دفتر کھولنے کی باضابطہ اجازت دے دی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ طالبان سے مذاکرات کے لئے تیار ہے۔ پہلے دن اطلاع دی گئی کہ اس میں پاکستان کا کوئی دخل نہیں، بلکہ یہ کہ اسے اس سارے معاملے سے گویا بے دخل کر دیا گیا ہے۔ اس پر دل دھڑکے کہ ہمارے ساتھ پھر وہی کھیل ہونے والا ہے جو روسی فوجوں کی واپسی کے بعد ہوا تھا۔ امریکہ نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا تھا۔ اگلے ہی روز ہر کارے خبر لائے کہ نہیں نہیں ایسا نہیں پاکستان تو ان کوششوں میں شامل رہا ہے جس کے نتیجے میں یہ برف پگھلی ہے۔ ایک سیدھی سچی بات تو بالکل سامنے کی ہے کہ اگر امریکہ کا حتمی ہدف پاکستان کو سزا دینا ہے اور وہ سارے پاپڑ اسی خاطر بیل رہا ہے تو دوسری بات ہے۔ اور اگر وہ اس خطے میں پائیدار امن چاہتا ہے اور اپنی پر امن واپسی بھی تو اسے ہماری مدد درکار ہے۔ ہمارا حال یہ ہوگیا ہے کہ وہ جو دوسری جنگ عظیم میں ہم دشمن کی توپوں میں کیڑے ڈالا کرتے تھے، اب بات بات میں اپنی توپوں میں کیڑے پڑنے کی خبر دے رہے ہیں (برسبیل تذکرہ محمود خاں اچکزئی کے بیان کا ایک رخ یہ بھی ممکن ہے، مگر فی الحال اس پر بات نہیںہو رہی) میں یہ بات پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ پاکستان کے لئے یہ دو سال بلکہ تیسرا بھی بہت اہم ۔ اس کا تعلق ستاروں کے علم سے ہے نہ اندر کی خبر سے۔ بلکہ سیدھا اس پس منظر سے ہے جس کا ابھی ذکر ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ امریکہ نے ایک دوسرے محاذ کھلنے کی نوید دی ہے۔ اس نے شام کی مدد کا فیصلہ کیا ہے۔ اوبامانے اس کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ شام کی مدد کا مطلب ہے شام کے باغیوں کی مدد ۔ اس مسئلے پر اس کی روس سے پنجہ آزمائی ہونے کی توقع ہے۔ خطے میں ایک نئی جنگ شروع ہو رہی ہے۔ یوں کہہ لیجئے اگر خطرہ ہمارے سروں سے ٹل گیا تو بھی اردگرد موجود رہے گا۔ سپر طاقتوں کا ٹکڑاﺅ اور ساتھ ہی ا مریکہ کے اس خطے میں دشمن نمبر ایک یعنی ایران سے تصادم لازمی دکھائی دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سمت بدلی ہے، مگر جنگ ہماری سرحدوں سے اب بھی دور نہیں۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس کا اسرائیلی مسلسل خواب دیکھتے آرہے ہیں۔ کسی طرح امریکہ کو ایران ، شام اور حزب اللہ سے ٹکڑا دیں۔ اس اعلان سے اسرائیلی کی تو گویا چاندی ہو جائے گی۔ کسی نے اسے اوباما کا ”مونیکا موومنٹ“ لکھا ہے۔ مطلب یہ کہ جس طرح مونیکا لونسکی کے معاملے نے امریکیوں کی توجہ ان اصل مسائل سے ہٹا دی تھی جن کو کلنٹن حل نہیں کر پا رہے تھے، اسی طرح اوباما کا یہ فیصلہ امریکیوں کی توجہ ان معاملوں سے ہٹا دے گا جو اوباما کی ناکامیاں یا وعدہ خلافیاں ہیں۔ جانے انہوں نے دنیا کوتجربہ گاہ بنا رکھا ہے۔ ذرا اور گہرائی میں جائیں تو یہ سب کچھ امریکی قیادت اکثر اوقات امریکی مفاد میں بھی نہیں کرتی۔ اسی لئے تو ان کے بعض فیصلے ہمیں سمجھ نہیں آتے۔ جانے کون سا فیصلہ وہاں کی وار انڈسٹری نے کرایا ہوتا ہے۔ کون سا آئل انڈسٹری نے ۔ کون سے فیصلے کے پیچھے بینکاری کا مافیا ہوتا ہے یا کارپوریٹ سیکٹر کا کھیل ہوتا ہے۔ یہ سب بااثر گروہ امریکہ کا مفاد عزیز رکھتے ہیں نہ وہاں کے عوام کا ۔ ان کے لئے اصل خدا ان کا اپنا مفاد ہے۔ صاف لفظوں میں اپنا کاروبار ہے۔

اوپر میں نے تجربہ گاہ کا ذکر کیا۔ اس حوالے سے ابھی چار چھ دن پہلے ہی ایک آرٹیکل نظر سے گزرا جو ایک اسرائیل نژاد برطانوی کا ہے۔ دراصل یہ ایک فلم پر ہے جو اسرائیل کی جنگی انڈسٹری کے جرائم کو چاک کر تی ہے۔ اس فلم کا نام ہے لیب یعنی تجربہ گاہ۔ فلم سے یہ پتا چلتا ہے کہ اسرائیل کی وار انڈسٹری سالانہ7 بلین ڈالر کماتی ہے جو اسرائیل کی کل برآمدات کا 20 فیصد ہے۔ کوئی ڈیڑھ لاکھ خاندانوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔ اس انڈسٹری نے غزہ اور اردن کے مشرقی کنارے کو لیبارٹری بنا رکھا ہے جہاں کے نہتے مظلوم شہریوں کو وہ گنی پگز سمجھتے ہیں جن پر سائنسدان تجربات کرتے رہتے ہیں۔ اسرائیل، جنوبی لبنان میں حسن نصر اللہ کی حزب اللہ کے مقابلے میں جنگ ہار گیا۔ مگر اس کی وار انڈسٹری جیت گئی۔ دنیا نے اسرائیلی ہتھیاروں کا عملی مظاہرہ دیکھا۔

اگر تل ابیب پر راکٹوں سے حملہ ہوتا ہے تو اس پر اس کے شہریوں یا سیاستدانوں کو تو تشویش ہو سکتی ہے۔ مگر اس جنگی صنعت کے لئے یہ اپنے اینٹی میزائل سسٹم کو ٹیسٹ کرنے کا موقع ہے۔ ایسی شقاوت قلبی ہوتی ہے ان مفاد پرستوں کو۔ سائنسدان کو گنی پگ سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی، وہ ان سے مذاکرات بھی نہیں کرتا، ان کی رضا بھی نہیں پوچھتا۔ یہ رو سیاہی ظالمانہ رشتہ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے فوجی مقاصد نہیں، بلکہ اپنے نئے سسٹم، نئے ڈاکٹرائن کو ٹیسٹ کرنے کا موقع ہے۔ جو حکومت اپنے ہاں دہشت گردی کو کچلنا چاہے گی یا دہشت گردی کے نام پر حریت کی تحریکوں کو دہانا چاہے گی، اس کے لئے اسرائیل سے بہتر رول ماڈل کون ہوسکتا ہے۔ اس کے لئے نئے داکٹرائن، نئے سسٹم، نئے ہتھیار اسے اور کہاں سے مل سکتے ہیں۔ بھارت یونہی تو اسرائیل سے اسلحہ نہیں خریدتا یا اس سے فوجی تعاون نہیں کرتا۔ اسے اپنے ہاں کشمیر ہی نہیں نکسل باڑی وغیرہ علاقوں میں بھی ”عوامی شورشوں“ کو کچلنا ہے۔ یہ تو اسرائیل کی وار انڈسٹری کا حال ہے، امریکہ کا تو حال نہ پوچھئے۔ آنزن ہاور نے جس ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کی بات کی تھی اور جسے آج کل ملٹری سکیورٹی کمپلیکس کا نام دیا جاتا ہے، ایک ایسا عفریت ہے جو امریکی اقدار، کلچر اور سیاست سب کو نگل گیا ہے۔

کہنے کو تو نو قدامت پسند بھی جمہوریت کی بات کرتے ہیں، مگر ان کی جمہوریت بزور جبرلائی جاتی ہے جیسی انہوں نے عراق میں کوشش کی۔ اسی طرح اے عزیزان من، یہ بات سمجھ لیجئے کہ طالبان سے بات کا آغاز کرتے ہی وہ ایک نیا محاذ کھول چکے ہیں۔ اب وہ شام میں القاعدہ کو ہتھیار اور سرمایہ فراہم کریں گے تاکہ وہ بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑ سکیں۔

ملاحظہ فرمائیے، اخلاقیات کا اعلیٰ معیار۔ یہاں افغانستان میں یہ کہا جا رہا ہے کہ آپ آئین کو مانیں جو ہم نے بنا کر آپ کے دیس کو دیا ہے اور القاعدہ سے ہر قسم کا رابطہ ختم کر دیں۔ بالکل اس طرح جیسے خود کی تو طالبان سے بات چیت جاری ہے اور ہمیں حکم دیا جا رہا ہے کہ خبردار جو اپنے طالبان سے مذاکرات کئے۔ جونہی تم مذاکرات کا ڈول ڈالنے کا سوچو گے، ہم طالبان کے اس لیڈر کو ڈرون سے اڑا دیں گے جس کے دماغ میں تم سے مذاکرات کا خیال تک آیا۔ ہم تو بہت پاجی ہیں، مگر وہ بھی تو ایسے پوتر نہیں۔

پھر کہہ دوں کہ یہ بھی حوالہ اچکزئی صاحب کی شعلہ بیانی کی طرف نہیں۔ ابھی تو ہمیں بھی تیل دیکھنا ہے اور تیل کی دھار۔ بلوچستان میں ہم نے جو حل آزمانے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے لئے ابھی بہت سوں کے ناز نخرے برداشت کرنا پڑیں گے۔ آخر انہوں نے بھی تو سیاست کرنا ہے۔ تو عرض یہ ہے کہ قطر مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی شام کا محاذ بھی کھول دیا گیا ہے۔ ویسے تو یہاں بہت کچھ ہو رہا ہے۔ خدا کرے کہ سب اندیشے غلط ہوں۔ اور اب بات سیدھی راہ پر چل نکلے۔ ایسا ہوگا، خدا ہی جانے، اپنے خدشات البتہ میںنے بیان کر دیئے۔

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.