.

ملا عمر کے 5 پیارے

اسلم خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر امن مذاکرات کا مستقبل کیا ہو گا؟ کامیابی یاناکامی ۔۔۔ گزشتہ شام شروع ہونے والی شبینہ محفل میں اس پر غور و خوض ہوتا رہا۔ افغان صدر حامد کرزئی کے شور شرابے کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری ان کی دلجوئی کے لیے میدان میں آئے ہیں۔ دفتر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جان کیری دورۂ دوحہ کے دوران طالبان نمایندگان سے باضابطہ ملاقات نہیں کریں گے۔ چوری چھپے تو وہ گزشتہ ایک سال سے طالبان سے میل ملاقات اور مذاکرات کرتے رہے ہیں جس پر اب بھی کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔

کامیابی بظاہر بحران کا شکار امن مذاکرات کا مقدر ہے، یقینی کامیابی کہ امریکی 12 سال سے جاری اس لاحاصل جنگ سے اُکتا چکے ہیں، تھک چکے ہیں ۔

قطری حکام نے امریکیوں کے کہنے پر طالبان کے دفتر پر لہراتا ہوا پرچم سرنگوں کرا دیا ہے جب کہ دفتر کے باہر لگا ہوا بورڈ بھی اتروا دیا ہے۔ ان علامتی اقدامات کا مقصد حامد کرزئی کی دلجوئی مقصود ہے جو اس کے بعد مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادہ ہو جائیں گے کہ افغان اپنی عزت نفس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے خواہ وہ کٹھ پتلی حکمران ہوں۔

ان علامتی اقدامات کے بعد حقیقت حال کچھ یوں ہے کہ طالبان کے سیاسی دفتر کی چار دیواری میں امارات اسلامی افغانستان کا بورڈ تاحال لگا ہوا ہے اسی طرح طالبان کا جھنڈا وقتی مصلحت کے تحت سرنگوں ضرور ہوا ہے لیکن ’’فلیگ پوسٹ‘‘ سے اتارا نہیں گیا۔

دُنیا کی طویل اور مہنگی ترین جنگ 12 سال کے بعد پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق عارضی التوا کا شکار ہے۔ دُنیا کی واحد سپر طاقت امریکا نادیدہ سایوں کے ساتھ ساتھ مذاکرات کو بچانے کے لیے علامتی اقدامات میں مصروف ہے۔ امریکا نے باضابطہ بیرونی بورڈ ہٹانے اور طالبان کا جھنڈا جھکانے جیسے ’اہم‘ اقدامات پر قطری حکام کی خدمات کو سراہا ہے ۔

جون 2012ء سے جاری ان خفیہ مذاکرات کے تمام مراحل طے ہو چکے ہیں جس کے بعد قطر میں طالبان کا سیاسی دفتر کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان مذاکرات میں افغان تنازع کے اہم ترین دو فریقین کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ افغان صدر حامد کرزئی تو شور مچا رہے تھے ان کی اشک شوئی کی جا رہی ہے لیکن پاکستان کو اعتماد میں نہ لینے پر پارلیمان میں چند باخبر ارکان نے صدائے احتجاج بلند کی ہے لیکن نگار خانے میں طوطی کی کمزور اور ڈوبتی ہوئی آواز کون سنتا ہے، ہماری اشک شوئی کے لیے وزیر خارجہ جان کیری اسلام آباد آئیں گے۔

ایک سال پر محیط خفیہ مذاکرات میں بحالی امن کے منصوبے کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ اب تو امریکی رائے عامہ کو مطمئن کرنے کے لیے سفارتی دھوکہ دہی ’Smoke Sereen‘ کی واردات ایسی ہنر مندی اور پرکاری سے کی جائے گی کہ نقل پر اصل کا گمان ہو گا۔ پہلے مرحلے پر اعتماد سازی کے لیے قیدیوں کا تبادلہ ہو گا، طالبان گذشتہ تین سال سے قید امریکی سارجنٹ Bowe Bergdahl کا تبادلہ اپنے 5 پیاروں سے کریں گے جو بدنام زمانہ قید خانے گوانتاموبے میں مدتوں سے قید ہیں۔

ملا محمد عمر کے ان 5 پیاروں کے بارے میں دستیاب معلومات کے مطابق سب سے اہم قیدی ملا محمد فضل، نائب وزیر دفاع اور شمالی افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کے کمانڈر تھے۔ انھیں نومبر 2001ء میں مزار شریف کے محاذ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ قلعہ جنگی کے بدنام زمانہ قید خانے میں ہونے والی قیدیوں کی بغاوت کی قیادت بھی ملا فضل نے کی تھی جس میں سی آئی اے کے ایک اہلکار Johnny Michael Spann مارا گیا تھا۔

دوسرے رہائی پانے والے قیدی ملا نور اللہ نوری ہوں گے جو امریکی کو شناخت کر کے موت کے گھاٹ اتارنے میں پیش پیش رہے تھے۔ طالبان افواج کے لیے سامان رسد اور گولہ بارو د اور مالی وسائل جمع کرتے تھے۔

تیسرے قیدی ملا محمد نبی، جلال الدین حقانی کے معتمد ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

چوتھے قیدی سابق گورنر ہرات، ملا خیر اللہ خیر خواہ، اسامہ بن لادن اور ملا عمر سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔ نرم مزاج اور اعتدال پسند ملا خیر خواہ، افغان صدر حامد کرزئی کے ذاتی دوستوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ ایران اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف طالبان کے سخت گیر رویے کے برعکس ایرانی حکام سے قریبی تعلقات کے لیے متحرک رہے۔ وہ طالبان کے سخت گیر رویوں کے شدید ناقد تھے۔

طالبان انتظامیہ کے محکمہ جا سوسی کے سابق نائب سربراہ عبدالحق واثق کو انتہائی خطرناک قیدی تصور کیا جاتا ہے جن کی رہائی سے شدید مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔ ملاواثق پر انسانیت کے خلاف جرائم اور ہزاروں افراد کو دوران تفتیش مارنے کا الزام ہے۔ ان کے القاعدہ قیادت سے بھی قریبی مراسم رہے۔

ملا عمر کے 5 پیاروں کی رہائی پر امریکی انتظامیہ میں بڑی لے دے ہو رہی ہے کہ اگر ان سینئر طالبان رہنماؤں کو رہائی کے لیے افغانستان بھجوا دیا گیا یا قطر منتقل کر دیا گیا تو مذاکرات کے سارے کارڈ امریکیوں کے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ سخت گیر حکام، سی آئی اے کے اہلکار Johnny Michael Spann کے قتل میں ملا فضل اور ملا نوری پر امریکی عدالتوں میں مقدمات چلوانا چاہتے ہیں۔

واقفان حال کا اصرار ہے کہ افغانستان سے واپسی کے محفوظ راستوں کی تلاش میں امریکی حکمت کار طالبان سے پیا ر کی ایسی پینگیں بڑھا چکے ہیں کہ اب واپسی کے سارے راستے بند ہو چکے ہیں، بعض امریکی ارکان کانگریس، خواہش کے باوجود اس عمل میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے۔ صرف لا حاصل شور شرابہ کر سکتے ہیں جو وہ کیے جا رہے ہیں۔

اعتماد سازی کے ان اقدامات کے بعد عملاً امریکیوں کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ ایک نوجوان سارجنٹ Johnny Michael Spann اور طالبان کے وعدہ فردا جس کی کوئی بھی تعبیر کی جا سکتی ہے کہ لفظوں کے کھیل میں شاطر کشمیری کھلاڑی بھی افغانوں سے مار کھا جاتے ہیں، دانش مند امریکی تو کسی شمار قطار میں بھی نہیں ہیں۔

بعض امریکی دل جلے مسلم دنیا کے بارے میں امریکی حکمت عملی پر بڑے دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں۔ ایک دوست خاتون نے لکھا ’واہ ہماری پالیسیوں کے بھی کیا کہنے۔ صدام کو نکالا تو ایران، عراق کا والی وارث بن رہا ہے۔ قذافی کی چھٹی کرائی تو القاعدہ کے ہمدرد لیبیا پر قبضہ کر چکے ہیں، حزب اللہ لبنان کے بعد شام میں بھی ہمارے گوریلوں کا مقابلہ کر رہی ہے جب کہ القاعدہ کے ہمنوا یہاں پر بھی کئی محاذوں پر برسر پیکار ہیں۔ بشار الاسد کی شکست کے بعد ان کی بندوقیں ہمارے سینے چھلنی کر رہی ہوں گی۔ مصر پر اخوان المسلمین حکمرانی کر رہے ہیں۔ جنہوں نے روشن خیال لیکن بد عنوان حسنی مبارک کو پنجرے میں بند کر رکھا ہے۔ رہا ترکی کی تو اس کا سیکولر ڈھانچہ طیب رجب اردگان کے ٹھنڈے مزاج اور بصیرت آموز منصوبہ بندی کی وجہ سے شدید بھونچال کا شکار ہے۔ بظاہر صورتحال معمول کے مطابق دکھائی دیتی ہے۔ عرب اسپرنگ کی لہر کو حکمت عملی کے تحت زیر زمین لے جایا گیا ہے۔ اس کے برسر زمین آنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں امن کے بچے کھچے جزیرے بھی نوجوانوں کے جدید ٹیکنالوجی سے مزین انقلاب کی نذر ہو جائیں گے۔

حرف آخر یہ کہ سعودی عرب میں غیر قانونی مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی خاموشی پر بعض احباب نے توجہ دلائی ہے۔ عثمان احسن، برطانیہ سے طارق ساہی، یاسر محمود نے جماعت اسلامی کے پی کے اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کے سربراہ صاحبزادہ طارق اللہ کے اسمبلی میں خطاب اور اس نازک معاملے پر احتجاجی خبروں کے لنک بھجوائے ہیں جب کہ کامران خا ن نیازی نے بتایا ہے کہ عراق میں بھی پاکستانی ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہیں اور انھیں ویزے کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.