.

ترکی کے لیے دعا

حسن نثار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میرے دادا اور والد محترم مرحوم کی اللہ مغفرت فرمائے دونوں کو مطالعہ کا شوق نہیں جنون تھا اور اسی حوالہ سے تین عادتیں مشترک تھیں۔ مطالعہ کے دوران مخصوص پیرے یا سطریں انڈر لائن کرنا، کتاب کے آخری ایک دو خالی صفحات پر کتاب کی سمری اور اپنا تبصرہ لکھنا اور بہت ہی پسندیدہ کتابوں کو بار بار پڑھنا۔ میاں چنوں میں ہمارے ہیڈ ماسٹر تھے عاصی صاحب جو اکثر دادا جی کو کہتے ”میاں صاحب! شیکسپیئر آپ کو زبانی یاد ہے، پھر بھی آپ اسے پڑھتے ہی رہتے ہیں۔“

دادا جی نے زندگی بھر پڑھنے اور کھانا کھانے کیلئے میز کرسی استعمال نہیں کی۔ ہمیشہ فرش پر بیٹھ کر پڑھتے اور کھانا کھاتے اور اٹھتے ہی وہ چھوٹا سا قالین لپیٹ کر رکھ دیتے جو اسی مقصد کیلئے مخصوص تھا۔ ان کے نزدیک اونچی جگہ پر بیٹھ کر کھانا اور پڑھنا رزق اور علم کے ساتھ بدتمیزی کے مترادف تھا۔ بہرحال اباجی کی فیورٹ ترین کتابوں میں سے ایک تھی جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک کے بارے آرم سٹرانگ کی شہرہٴ آفاق کتاب "Grey Wolf" جو انہیں تقریباً زبانی یاد ہو چکی تھی۔ میں نے بھی یہ کتاب پہلی بار میٹرک کے آگے پیچھے پڑھی اور پھر اسے بار بار پڑھا۔ اس کتاب نے مجھے ترکوں، ترکی اور اتاترک کے سحر میں مبتلا کردیا جس کی انتہا یہ کہ ایک بار میں نے خواب میں اتاترک کو درہ دانیال میں جنگ لڑتے دیکھا۔ یہی وہ "Grey Wolf" تھا جس نے سابق سپر پاور اور تب کے "Sick man of Europe" یعنی ترکی کو برطانوی، فرانسیسی اور یونانی فوجوں کے فولادی پنجوں سے چھڑا کر ترکی کو اس کے پیروں پر مضبوطی سے کھڑا کردیا۔ اتاترک نہ ہوتا تو ترکی اور ترک آج نجانے کہاں اور کس حال میں ہوتے۔

جنرل پرویز مشرف نے ”ٹیک اوور“ کے بعد ایک تقریر میں اتاترک کو اپنا ہیرو قرار دیا تو میں نے اتاترک کے چند واقعات اور تقریروں کے اقتباسات کے ساتھ کالم میں لکھا کہ ”حضور! یہ تھا اتاترک تو کیا ا ٓپ میں اپنے اس ہیرو جیسا حوصلہ اور حکمت موجود ہے؟“

آج مصطفی کمال کا یہی ترکی لرزاں و ترساں ہے۔ اس کے استحکام پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ احتجاج، مار دھاڑ، قتل و غارت جاری ہے اور بظاہر معاملہ سنبھلتا دکھائی نہیں دے رہا تو میں اس پر اتنا ہی دکھی ہوں جتنا پاکستان کے عدم استحکام پر۔ بظاہر مسئلہ ”تقسیم سکوائر“ کے درختوں کی کٹائی سے شروع ہوا لیکن بات اس سے کچھ آگے کی ہے جسے سمجھنے کیلئے ترک وزیراعظم کے ان بیانات پرغور کرنا ہوگا کہ … ”میرے مخالفین مسجدوں میں شراب پیتے اور خواتین کے سکارف نوچتے ہیں۔“ دوسری طرف مظاہروں میں سیکولر پارٹیوں کے پرچم اور اتاترک کی تصویریں لہراتی ہیں۔ عوام کی ایک بڑی تعداد وزیراعظم کو شخصی حکمرانی کا طعنہ دے رہی ہے۔ غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ ترکی اتاترک (ترکوں کا باپ) کی کوششوں سے ایک لبرل اور سیکولر ملک کے طور پر معرض وجود میں آیا جبکہ موجودہ وزیراعظم طیب اردگان تاریخ کا پہیہ ریورس کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

میرے نزدیک نہ خارجہ پالیسی، نہ معاشیات، نہ ترقیاتی منصوبے اس بے چینی کے پیچھے ہیں۔ اصل بات رویوں کی ہے یا کمیونی کیشن گیپ کی کیونکہ بین السطور ہر جگہ اس بات کی جھلک موجود ہے اور محسوس ہوتی ہے کہ عام ترکوں کے نزدیک ترکوں سے ان کا ”اتا“ یعنی باپ، اس کا امیج، اس کا وژن اور اس کی لیگس چھینی جارہی ہے جو ترکوں کیلئے ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہوگا کیونکہ ترک کبھی غلام نہیں رہے بلکہ اس کے بالکل برعکس سپر پاور ہونے کا مزہ چکھ رہے ہیں تو دوسری طرف ایک سیکولر ملک ہونے کا تجربہ جو کسی بھی قیمت پر بنیاد پرستی کی طرف انہیں مائل نہیں کرسکتا اور ان کی انسپائریشن کا سرچشمہ ترک فوج ہے جو مصطفی کمال کے ساتھ اٹوٹ رشتے میں بندھی خود کو ”نظریہٴ ترکی“ کی محافظ سمجھتی ہے اور ایساسمجھنے میں خاصی حد تک حق بجانب بھی ہے کیونکہ ان کا کیس ہماری افواج سے مختلف ہے۔ پاکستان فوج نہیں ، قانون دان، سیاستدان اور مدیر محمد علی جناح کی جان لیوا کوششوں کا ثمر ہے جبکہ ترکی اتاترک اور اس کے جی دار، وطن پرست سپاہیوں کی حیران کن اور خیرہ کن قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ یہاں ضمناً یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ 1938ء میں جب ترکی کے مرد آہن اتاترک اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ہمارے بابائے قوم نے اتاترک کو اپنے عہد کاعظیم ترین مسلمان ہی نہیں بلکہ تاریخ عالم کے عظیم ترین لوگوں میں سے ایک قرار دیا تھا۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ عظیم اتاترک کے بہت سے فیصلے خلافت کی بوسیدگی اور ”شیخ الاسلام“ ٹائپ لوگوں کا شدید ترین ردعمل تھے جنہوں نے ترکی میں نہ میڈیکل کالج کھلنے دیئے نہ پرنٹنگ پریس لگنے دیئے کہ ان کے نزدیک یہ سب کچھ ”غیر اسلامی“ تھا۔ ایسی ذہنیت پر مصطفی کمال جیسے وطن پرست کا ایسا ردعمل قابل فہم تھا لیکن ترکی کے موجودہ حکمرانوں کا مصطفی کمال کے ردعمل پر ردعمل نامناسب ہے کہ نہ مصطفی کمال والی انتہا نہ طیب اردگان والی انتہا … اعتدال، میانہ روی اور توازن ہی ترکی کو موجودہ صورتحال سے نکال سکتا ہے۔ ورنہ وقتی طور پر ”مرض“ دبا بھی لیا گیا تو کسی بھی وقت اس سے زیادہ شدت کے ساتھ سر اٹھائے گا۔ دین مبین کے حوالہ سے علی شریعتی صاحب کا یہ ارشاد مجھے ہمیشہ یاد رہتا ہے۔

"CHANGING RULES FOR THE CHANGING NEEDS AND UNCHANGING RULES FOR THE UNCHANGING NEEDS."

آپ اپنے ملک میں تو جو چاہیں ”بین“ کردیں۔ مغرب کا کیا کریں گے جہاں کروڑوں مسلمان بستے ہیں۔ سب کچھ کھلا ہے۔ لیکن بیشمار ہیں جنہوں نے کبھی کسی ”پب“ … ”کیسینو“ یا ”فحش کلب“ میں جھانک کر بھی نہیں دیکھا اور دراصل یہی خوبصورتی ہے، مسلمان بھوکا مر جائے گا ”پورک“ کے پاس نہیں پھٹکے گا تو انتہا پسندی سے بچتے ہوئے اعتدال اور میانہ روی کہ اس”گلوبل ویلیج“ کے بھی کچھ تقاضے ہیں … کون سا ملک ایسا ہے جو گلوبل بینکنگ سسٹم کو بائی پاس کرنے کی جرأت کر کے زندہ رہ سکے؟ اور کیا یہ عجیب ترین حقیقت نہیں کہ مجھے حج اور عمرے کیلئے پاسپورٹ اور ویزے کی ضرورت پڑتی ہے۔

دعا ہے کہ ہمارے ترک بھائی جلد از جلد اپنی تاریخ کے اس نازک مرحلہ سے بخوبی گذر کر پھر سے اپنی کھوئی ہوئی عظمت و راحت حاصل کرسکیں اور ان کے صدقے ”اسلام کے قلعہ“ کو بھی قرار نصیب ہو۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.