.

ترکی میں سیاسی کشمکش

نصرت مرزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے کئی دوست ایسے ہیں جن کے ہم بہی خواہ ہیں اور وہ ہمارے۔ ان کے خلاف لکھتے ہوئے قلم رک جاتا ہے البتہ دوستانہ مشورہ دینے کا ارادہ ہو تو چل پڑتا ہے۔ ان دوستوں میں چین، ترکی، سعودی عرب، ایران اور کئی دیگر ممالک شامل ہیں۔ ترکی ہمارا ایسا دوست ہے جس پر ایک زمانہ میں ہم نے جان چھڑکی تو اپنا ایسا گرویدہ بنا لیا کہ جب ہم 1986ء میں ترکی گئے اور ایک چھوٹے سے قصبے میں سیاحوں کے ساتھ پہنچے تو کوئی ترکی ہمیں کھانا کھلائے بغیر جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔ محبت کا یہ عالم کہ بچھا جاتا اور اصرار در اصرار کہ کسی طرح میں رک جاوٴں۔ یہ واقعہ ہمارے ساتھہ ہی نہیں ہر پاکستانی کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ تاہم اس وقت ترکی ایک سیاسی کشمکش میں مبتلا ہے اور ہم نے اس سلسلے میں طیب اردگان کو مشورہ دیا تھا کہ شام کے معاملات سے دور رہا جائے اس سے اغیار کے آکٹوپس منصوبے وابستہ ہیں۔ وہ ایک ہی وار میں ترکی کو نقصان اور ترکی میں اسلام دوست جسٹس و ترقی (جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ )پارٹی جس کو عرف عام میںAKP کہتے ہیں کا خاتمہ چاہتے ہیں اور ترکی کو یورپی یونین میں شمولیت کے ناممکن خیالات میں گم رکھنا چاہتے ہیں خود ترکی کے صدر عبداللہ گل اس خواب کی تکمیل کے خواب میں مبتلا ہیں۔ وہ امریکی لابی اور غیراسلامی و غیرمذہبی روایات کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ دونوں کی کشمکش اب منظرعام پر آگئی ہے۔ مصر کے تحریر اسکوائر کی طرح انقرہ کے تقسیم اسکوائر پر امریکہ نواز اور لادینی لوگوں نے کیمپ لگا دیئے ہیں۔ طیب اردگان نے اُن سے تقسیم اسکوائر خالی تو کرا لیا ہے مگر جدوجہد جاری ہے اور انہوں نے پھر سے خیمے لگالئے ہیں اور وہاں سیاسی کشمکش میں تیزی آرہی ہے۔ امریکی دانشور ایرون اسٹین جن کا فارن پالیسی جریدے میں مئی کے دوسرے ہفتے میں ایک مضمون شائع ہوا لکھا ہے کہ طیب اردگان نے اگرچہ 50 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں اور اپنے اتحادیوں کو قابلیت کے ساتھ اپنا ساتھی بنا رکھا ہے اور انہوں نے اپنے بیرونی اور اندرونی مخالفین کو بھی قابو میں رکھا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ اب باقی پچاس فیصد ”عرب بہار“ کی طرح ”ترکی بہار“ کے پھول اگانے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ تیونس اور مصر جہاں اخوان المسلمین کی حکومت آگئی ہے وہاں بھی عرب بہار جس سے اسلام پرست حکمران بن گئے ہیں۔ اُن کے خلاف اب باقی پچاس فیصد عوام صف آرا ہورہی ہے اور جس میں امریکا اور مغرب مدد کررہے ہیں۔ اُنہی کی مدد سے ترکی میں بھی لادینی طاقتیں طیب اردگان کے خلاف مظاہرے کررہی ہیں۔ عبداللہ گل کہتے ہیں کہ جمہوریت صرف ووٹ لینے کا نام نہیں ہے کہ آپ ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوگئے بلکہ یہ ہے کہ مخالف عوام کو زمانہ موجود میں کیا مشکلات ہیں، کیا شکایات ہیں، اُن کو سننا اور رفع کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ طیب اردگان نے تین مرتبہ الیکشن میں کامیابی حاصل کی ہے اور دو ریفرنڈم بھی جیتے ہیں۔ اس وقت کی کشمکش کی بنیاد یہ ہے کہ عبداللہ گل کا صدارتی عہدہ 2015ء میں ختم ہورہا ہے اور طیب اردگان زیادہ اختیارات کے ساتھ صدر بننا چاہتے ہیں اور ترکی کی خلافت کے احیاء کا سودا اپنے دماغ میں سمائے بیٹھے ہیں۔ ترکی کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اِن مظاہروں پر اُن کا ردعمل یہ ہے کہ میرے خلاف مظاہرہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جو لادین ہیں اور جو غیرملکی طاقتوں کے اشارے پر میرے خلاف محاذ آرائی کررہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خواتین کے اسکارف پہننے کا مذاق اڑاتے ہیں اور پکے مغرب زدہ بننا چاہتے ہیں۔ اسلامی اقدار کو خیرباد کہنے والے لوگ دراصل مسجد میں بیٹھ کر شراب پینا چاہتے ہیں اس پر مجھے غالب کا یہ شعر یاد آ گیا

واعظ مجھے بھی شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر
یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو
اقبال نے اس پر کہا تھا
مسجد خدا کا گھر ہے پینے کی جگہ نہیں
کافر کے دل میں جا وہاں خدا نہیں
فراز نے اس پر یہ نکتہ لگایا
کافر کے دل سے آیا ہوں میں یہ دیکھ کر
خدا موجود ہے وہاں، پر اُسے پتہ نہیں
یہ دوسری بحث ہوجائے گی آمدم برسرمطلب

ترکی دُنیا کی ساتویں بڑی معیشت بن چکی ہے اس نے ”صفر مخاصمت“ کی پالیسی وضع کی مگر بعد میں وہ عرب اسرائیل لڑائی، ایران کے ایٹمی پروگرام، کردوں کی علیحدگی اور امریکا اور برطانیہ کی حمایت کے باوجود یورپی یونین میں ترکی کی عدم شمولیت کے مسائل میں الجھا تاہم 2011ء میں بھی اردگان نے پچاس فیصد ووٹ لے کر عوامی حمایت برقرار رکھی۔ اُن کی حمایت میں ترکی کے رجعت پسند، معاشی امراء، اناطولین عوام“ کرد آبادی کا ایک حصہ اور ترکی قوم پرستوں کو اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے۔ اُن کے مخالفین میں لیبر یونین، مخالف سیاسی پارٹیاں، لادینی افراد اور اتاترک کے کچھ حامی ساتھ ہیں۔

اس طرح اصل جنگ اسلامی اور لادینی قوتوں کے درمیان ہے اور مغرب اس میں بھرپور حصہ ڈال رہا ہے۔ یوں وہ طاقتیں ترکی کو لادینی ریاست بنانے اور فوجی آمریت کو بحال کرنے اور ترکی کی معیشت کو تباہ کرنے طیب اردگان کی حکومت گرانے کے لئے پورا زور لگا رہی ہیں جبکہ طیب اردگان ترکی کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کا خواب عوام کو دکھا رہے ہیں جس سے لگتا ہے کہ وہ کامیاب ہوجائیں گے اگرچہ کشمکش جاری رہے گی۔ بہرحال شام میں مہم جوئی سے گریز کرنا چاہئے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ طیب اردگان نے علیحدگی پسند کردوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.