.

قطر مذاکرات۔ کیا مسئلہ حل ہوگا؟

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ اور طالبان کا آمنے سامنے بیٹھ جانا اور قطر میں طالبان کے رابطہ دفتر کا قائم ہوجانا‘ یہ معمولی نہیں غیرمعمولی پیشرفت ہے جو اچانک نہیں ہوئی بلکہ یہ فریقین کے تقریباً دو سال کے خفیہ رابطوں ‘ پاکستان‘ ترکی اور سعودی عرب جیسے ممالک کی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ پاکستان کے لئے یہ پیشرفت یوں بھی خوش آئند ہے کہ اب کی بار یہ رابطے پاکستان ہی کے ذریعے ہوئے ہیں‘ طالبان پاکستان ہی کے راستے دوحہ تک پہنچے اور جو کچھ ہورہا ہے اس سے پاکستان صرف آگاہ نہیں بلکہ اس کا کرزئی حکومت سے زیادہ اہم کردار بھی ہے۔ ماضی کی تمام کانفرنسیں‘ جرگے اور کوششیں اس لئے ناکام ہوئیں کہ ان میں اہم ترین فریق یعنی طالبان شریک نہیں ہوتے تھے اور حالیہ پیشرفت سے زیادہ توقعات اس لئے وابستہ کی جارہی ہیں کہ اس میں دو اہم ترین فریق یعنی امریکہ اور طالبان آمنے سامنے بیٹھیں گے ۔ تیسرا بنیادی فریق یعنی افغان حکومت اگرچہ سردست ناراض ہے اور تعاون کے بجائے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن توقع کی جارہی ہے کہ وہ یا پھر اس کی ہائی پیس کونسل مذاکرات کا حصہ بن جائے گی۔ چوتھا اہم ترین فریق یعنی پاکستان بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔

یوں یہ کانفرنس مسئلے کے حل کی تمہید بن سکتی ہے لیکن کیا یہ افغان اور اس سے جڑے پاکستان کے قضیے کے حل کا ذریعہ ہوسکتا ہے؟ جس طریقے سے معاملہ آگے بڑھ رہا ہے‘ اس کے تناظر میں مذکورہ سوال کا جواب تلاش کیا جائے تو جواب نفی میں آتا ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ امریکہ اور طالبان کے مسائل یا ترجیحات کچھ اور ہیں جبکہ افغانستان اور پاکستان کے قضیے کو حل کرنے کے لئے کچھ اور بھی کرنا ہوگا۔ امریکہ اس وقت افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے ۔ 2014کے بعد اگر چند اڈوں کو قائم رکھنے کیلئے راستہ ہموار ہوا تو فبہا لیکن اگر یہ بھی ممکن نہ ہوا تو امریکی نکل جائیں گے ۔ ان کو صرف فیس سیونگ چاہئے ۔ وہ اپنے عوام کو یہ بتاسکتے ہیں کہ ہم نے اسامہ بن لادن کو مار دیا اور القاعدہ کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ نائن الیون کی طرح کی کوئی کارروائی امریکہ کے خلاف کرے ۔ وہ فیس سیونگ کیلئے طالبان سے یہ مطالبہ کریں گے کہ وہ یہ وعدہ کرلیں کہ القاعدہ کو افغانستان میں اڈے بنانے نہیں دیں گے اور طالبان بڑی آسانی کے ساتھ یہ مطالبہ مان سکتے ہیں ۔

دوسری طرف طالبان کا امریکہ سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ افغانستان سے نکل جائے اور مذاکرات نہ بھی ہوں تو امریکی 2014ء تک ان کا یہ مطالبہ پورا کردیں گے لیکن افغانستان میں امن کے لئے صرف امریکہ اور طالبان کا اتفاق کافی نہیں ۔ اس امن کے لئے امریکہ اور طالبان سے بڑھ کر افغانستان کے مختلف دھڑوں کی آپس میں مفاہمت ضروری ہے اور اس مفاہمت کے لئے افغانستان کے پڑوسی ممالک جیسے پاکستان ‘ ایران ‘ روس ‘ چین اور وسط ایشیائی ریاستوں کا بالخصوص اور ترکی‘ سعودی عرب اور ہندوستان کا بالعموم اتفاق ضروری ہے ۔ افغانستان کے اندر کے کرداروں کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں یعنی طالبان اور گلبدین حکمت یار کے ساتھ منسلک حزب اسلامی جو مزاحمت کررہے ہیں کو ہم ایک فریق جبکہ تاجک‘ ازبک‘ ہزارہ اور وہ پختون جو کابل میں بچھائی گئی سیاسی بساط کا حصہ ہیں‘ کو ہم دوسرا فریق کہہ سکتے ہیں ۔ حامد کرزئی کی گرفت کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو اور وہ چاہے کتنے ہی متنازع کیوں نہ ہو لیکن ان کی حکومت ان طبقات کی نمائندگی کر رہی ہے۔ اب یہ سب طالبان کے ساتھ مفاہمت کے خواہشمند ہیں لیکن صرف اس صورت میں کہ طالبان آئین کے تحت سیاسی نظام کا حصہ بن جائیں لیکن اگر ملامحمد عمر امیرالمومنین کی حیثیت سے اور طالبان اپنے سابقہ نظام کے تحت واپس آتے ہیں تو وہ ان تمام کو کسی صورت قابل قبول نہیں ۔

پختون تو طالبان کی زیادہ مزاحمت نہ کریں لیکن ازبک‘ تاجک اور ہزارہ روسی‘ ایرانی یا کسی اور بیرونی قوت کو تو قبول کرسکتے ہیں لیکن سابقہ حیثیت میں طالبان کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ دوسری طرف طالبان نے امیرالمومنین کی حیثیت سے ملامحمد عمر کی بیعت کررکھی ہے ۔ اب امیرالمومنین کسی آئین کے تابع ہوسکتے ہیں ‘ نہ وہ کسی نظام میں صدر یا وزیراعظم بن سکتے ہیں ۔ اسی طرح جب تک طالبان اس بیعت میں بندھے ہوئے ہیں ‘ وہ بھی کسی دوسرے فرد یا آئین کی وفاداری کا حلف نہیں اٹھاسکتے ۔کابل کے سیاسی نظام کا حصہ بننے والے افغانوں کو دوحہ دفتر کو امارات اسلامی کا نام دینے پر اس لئے اعتراض ہے کہ وہ طالبان کو اپنی حکومت کے متوازی حکومت ماننے کو تیار نہیں ۔ ان کی ترجمانی کرتے ہوئے حامد کرزئی کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ ایک سیاسی گروہ کے طور پر تو بات ہوسکتی ہے لیکن اگر وہ امارات اسلامی کے جھنڈے تلے آتے ہیں تو پھر ان سے بات نہیں ہوسکتی ۔

دوسری طرف طالبان افغان حکومت کو کوئی وقعت دینے کو تیار نہیں ۔ وہ کرزئی حکومت کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ یا پھر اس کے ہائی پیس کونسل کے ساتھ بطور ایک سیاسی فریق کے تو بات ہوسکتی ہے لیکن اگر وہ حکومت کے طور پر سامنے آتی ہے تو وہ اس کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ۔ طالبان بھی گزشتہ دس سال سے مزاحمت کررہے ہیں اورحکمت یار کی زیر قیادت حزب اسلامی نے بھی امریکہ اوراس کے اتحادیوں کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے لیکن یہ دونوں ایک پرچم تلے جمع ہونے کو تیار نہیں۔ چند سال قبل دونوں کے کچھ بہی خواہوں نے کوشش کی کہ طالبان اور حزب اسلامی کو ایک پلیٹ فارم پر لے آئیں لیکن طالبان کی طرف سے اشتراک کار کیلئے بیعت کی شرط رکھی گئی جبکہ گلبدین حکمت یار اس پر تیار نہ تھے ۔ اسی طرح کابل آئین اور سیاسی نظام کے تحت جمع ہونے والے عناصر بھی مخالف سمتوں میں جارہے ہیں ۔ ان میں سے کسی کی مہار امریکہ کے ہاتھ میں ہے‘ کسی کی جرمنی ‘ کسی کی ترکی‘ کسی کی ایران ‘ کسی کی پاکستان ‘کسی کی روس اور کسی کی کسی اور ملک کے ہاتھ میں ہے۔

افغانستان میں استحکام کے لئے ان متحارب اور متنوع قوتوں کے درمیان مفاہمت ضروری ہے جو قطر مذاکرات کے نتیجے میں حاصل ہوتی نظر نہیں آرہی ۔ سردست امریکہ سب سے زیادہ افغانستان کی داخلی سیاست پر حاوی نظر آتا ہے اور عام تاثر یہ لیا جاتا ہے کہ اگر وہ کسی حل پر طالبان کے ساتھ متفق ہوگیا تو باقی ماندہ افغانوں کے لئے قابل قبول ہوگا لیکن ایسے عالم میں جبکہ امریکہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ افغانستان میں موجود ہے ‘ حامد کرزئی ان کو آنکھیں دکھا رہا ہے ۔ وہ آج امریکہ کے کم اور اپنے جذبات یا پھر کچھ اور ملکوں کے زیادہ زیراثر ہیں لیکن جس دن امریکہ نکل جائے گا ‘ اس دن امریکہ کا رہا سہا اثر بھی ختم ہوجائے گا اور ایک بار پھر افغانستان میں پڑوسی یا پھر وہاں پر لسانی‘ ثقافتی اور مالی رشتوں کے حامل ممالک موثر ہوجائیں گے ۔ ایران قطر مذاکرات پر خوش نہیں ہے ۔ روس اور ہندوستان نے امریکہ اورپاکستان کے مقابلے میں حامد کرزئی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے دوحہ مذاکرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ جس سے واضح ہے کہ ابھی امریکہ نکلا نہیں اور افغانستان کے پڑوسی اور دیگر بااثر ممالک کی پراکسی وار گرم ہوگئی ہے۔

مکرر عرض ہے کہ امریکہ کا مسئلہ صرف اور صرف افغانستان سے فیس سیونگ کے ساتھ انخلاء ہے جبکہ طالبان کی ترجیح غیرملکی افواج کو نکالنا ہے لیکن پاکستان کی ترجیح امریکہ اور طالبان کی مفاہمت سے بڑھ کر مختلف افغان دھڑوں کے مابین مفاہمت ہونی چاہئے اور یہ کام تمام افغان دھڑوں کے ساتھ بہترین تعلقات کار و تعاون یا پھر پڑوسی اور دیگر بااثر ممالک کے ساتھ اشتراک کار کے بغیر ممکن نہیں ۔ اگر افغانستان کے اندر استحکام نہیں آتا تو محض غیرملکی افواج کا نکلنا افغانستان اور پاکستان کے مسائل کو کم کرنے کے بجائے بڑھانے کا موجب بنے گا اور میں نہیں سمجھتا کہ افغانستان میں دائمی استحکام پڑوسی اور خطے کے دیگر اہم ممالک کے درمیان کسی قابل عمل فارمولے پر اتفاق کے بغیر آسکتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.