.

دنیا میں برلسکونی ایک نہیں

تنویر قیصر شاہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں تو ایک سابق حکمران،جو صدر بھی رہے اور چیف آف آرمی اسٹاف بھی،پر باقاعدہ مقدمہ چلانے کی ابھی ابتدائی تیاریاں ہو رہی ہیں لیکن ایک معروف مغربی ملک کے سابق حکمران کو ججوں نے سزا بھی سناڈالی ہے۔دونوں حکمرانوں پر الزامات مختلف نوعیت کے ہیں۔اوّل الذکر پر مبینہ طور پر آئین کی خلاف ورزی کی تہمت ہے جب کہ ثانی الذکر پر الزام سراسر اخلاقیات کو پامال کرنے کا ہے۔

اٹلی (جہاں کے مصوروں،جوتوں اور مافیا کی دنیا بھر میں شہرت ہے) کے سابق وزیرِاعظم برلسکونی کو اطالوی ججوں نے 24 جون 2013ء کو سات سال کی سزا سنائی ہے۔برلسکونی،جس کی عمر اِس وقت 76برس ہے،اٹلی کا ارب پتی سیاستدان ہے لیکن افسوس کہ وزارتِ عُظمیٰ کے عہدے پر متمکن ہوتے ہوئے وہ اخلاقیات کی پابندی کرسکے نہ حسینوں کے جھرمٹ میں خود پر قابو پاسکے۔

اُن کے قدم ایک بار لڑکھڑائے تو لڑکھڑاتے ہی چلے گئے،چنانچہ ہوس کی دلدل میں غلطاں برلسکونی آج سات سال کی سزا کا سامنا کررہے ہیں۔اُنہوں نے فیصلے کے خلاف اپیل بھی کی ہے۔ممکن ہے فیصلہ اُن کے حق میں آئے اور وہ کبھی جیل کی ہوا نہ کھائیں لیکن سارے ملک میں اُن کا نام شرمندگی اور ندامت کا عنوان بن چکا ہے۔عالم لوہار نے کہاتھا:’’عشق لوہارا زندہ رہندا‘ بھانویں داڑھی ہوجائے چِٹی‘‘زرد چہرے کے ساتھ بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑے برلسکونی نے عشق تو کیا لیکن سکون سے محروم رہے۔سچ یہ ہے کہ اقتدار بعض اوقات گمراہ بھی کرتا ہے اور ذلت ورسوائی کا باعث بھی بنتا ہے۔برلسکونی اِس کی چلتی پھرتی تصویر بن گیا ہے ۔غالباً عبرت کی تصویر بھی۔

اٹلی،جو کبھی ڈاؤنچی ایسے لافانی مصور کا مسکن رہا ہے،کے اِس سابق وزیرِاعظم اور ملزم برلسکونی پر الزام ہے کہ اُس نے دورانِ اقتدار ایک سترہ سالہ مراکشی خاتون(کریمہ المحروج) سے غیرقانونی تعلقات استوار کیے،سرکاری خزانے سے اُس کے نازنخرے برداشت کیے اور سچے عاشق ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔یہ بھی الزام عائد کیاگیا ہے کہ برلسکونی نے اپنے مالدار دوستوں کے توسط سے کریمہ کی بار بار مالی اعانت بھی کی اور اُسے سرکاری پروٹوکول بھی دیا جاتا رہا۔

کیس کے ابتدائی ایام میں کریمہ،جس کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ وہ مصر کے سابق صدر حُسنی مبارک کی قریبی عزیزہ بھی ہے،نے اعترافِ گناہ بھی کیا تھا اور وہ اِس بات کی بھی معترف تھی کہ اُس نے برلسکونی کی جیب سے 85لاکھ ڈالر بھی نکلوائے لیکن جب مقدمے کا گھیرا تنگ ہونے لگا تو وہ چالبازحسینہ کی طرح مُکرگئی۔بجا کہاجاتا ہے کہ مغرب کے انداز نرالے ہیں۔اطالوی عدالت کو اِس بات پر اعتراض نہیں ہے کہ برلسکونی غیراخلاقی فعل کے مرتکب کیوں ہوئے؟ اعتراض محض یہ ہے کہ اُنہوں نے ایک کم عمر(سترہ سالہ)خاتون کے ساتھ معاملات آگے کیوں بڑھائے۔

(اٹلی میں بلوغت کی عمراٹھارہ سال ہے)۔فیصلے کے بعد یہ سابق اطالوی وزیرِاعظم اب کبھی کوئی سرکاری عہدہ حاصل نہیں کرسکے گا۔مغربی ممالک نے ایک معیار قائم کررکھا ہے جس پر وہ پورا اُترنے کی حتمی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ہمارے ایک معتبر اور معروف ناول نگار شوکت صدیقی نے اپنے مشہور ناول’’جانگلوس‘‘ میں لکھا ہے کہ ایوبی دَور میں لاہور میں امرا،نوکرشاہی اور جاگیرداروں نے ایک Key Clubقائم کر رکھا تھا جہاں دادِعیش دی جاتی تھی۔ برلسکونی سکینڈل میں کریمہ’’صاحبہ‘‘(جس کی عمر اب20سال ہے) نے بھی انکشاف کیا ہے کہ برلسکونی نے بھی سرکاری محلات کے تہ خانوں میں اِس طرح کے’’کی کلب‘‘قائم کررکھے تھے۔اِس الزام میں مراکشی حسینہ نے لیبیا کے سابق سربراہ کرنل قذافی کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے کی گندی حرکت کی ہے۔

دنیا بھر میں اقتدار کی غلام گردشوں میں ہوس کاری کے تحت جنم لینے والے برلسکونی تنہا ںہیں۔ایک زمانہ تھا کہ پاکستانی عوام نے بھی اپنے ایک ’’برلسکونی‘‘کا گھناؤنا چہرہ دیکھا۔تقریباً44سال قبل جب پاکستان کا سفینہ ڈوب رہا تھا اور ہندو ہمارا ایک بازو کاٹ کرلے جا رہا تھا،ہمارے ہاں ایک حکمران بھی ’’برلسکونی‘‘بن گئے تھے۔ہرقسم کی شرم وحیا بالائے طاق رکھتے ہوئے ۔آج بھی اُس شخص کا نام کراہت اور حقارت سے لیاجاتا ہے لیکن افسوس بعدازمرگ اُسے قومی پرچم میں لپیٹ کر اور اکیس توپوں کی سلامی دے کر قبر کے سپردکیاگیا۔کیسی کیسی غلیظ اور کریہہ المنظر کہانیوں نے اُس دورمیں جنم لیاتھا۔شرمناک اور وحشتناک۔اُنہیں دہرانے اور اُن کی یاد آفرینی کا فائدہ؟ہمارا یہ رنگ رنگیلا حکمران ایسا بدنام ہوا کہ اُس کا ذکر کرنے سے دانستہ اجتناب کیاجاتا ہے۔ایک ناقابلِ رشک حکمران۔

امریکا میں بھی ایک ’’برلسکونی‘‘نے وہائٹ ہاؤس کی محفوظ ترین عمارت میں جنم لیاتھا۔صدرِ امریکا بِل کلنٹن کی شکل میں۔90ء کے عشرے میں یہ صاحب دوبار امریکی صدر منتخب ہوئے۔لائق فائق اور خوبصورت اہلیہ(ہلیری کلنٹن) کی رفاقت بھی میسر تھی لیکن وہائٹ ہاؤس میں انٹرن شپ کرنے والی نوخیزمونیکالیونسکی کو دیکھا تو جذبات قابو میں نہ رہے۔اِس یہودی حسینہ نے بھی صدر صاحب کا دماغ ایسا گھمایا کہ وہ ہوش وحواس کھوبیٹھے۔

مونیکالیونسکی سے دوستی کے ایام ہی میں صدرِامریکا کلنٹن صاحب کے نئے انداز میں سگارپینے نے بھی شہرت حاصل کی۔بے خودی کی رَو میں بہنے والے اور فربہ اندام مونیکا کے عشق میں گرفتار کلنٹن کی آنکھیں اُس وقت کھلیں جب ایک بڑے ثبوت کے ساتھ صدرِ امریکا کی Impeachmentہونے لگی لیکن اب کیا ہوسکتا تھا؟ اِس سے پہلے کہ اُنہیں ذلت کے ساتھ واشنگٹن کے قصرِ ابیض سے نکلنا پڑتا،ہلیری کلنٹن شیرنی کی طرح اپنے شوہرکے دفاع میں سامنے آئیں۔قسمت بھی مہربان تھی اور کچھ ہلیری کی جادونگاہی کا اثر،کلنٹن کڑے احتساب سے بچ گئے اور یوں ماتھے پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رسوائی کا داغ لگنے سے محفوظ رہے۔اِسی وہائٹ ہاؤس کے ایک اور مکین،صدر جان ایف کینیڈی،بھی تو معروف اداکارہ مارلن منرو کی زُلفِ گرہ گیر کے اسیر ہوئے اور جیکی ایسی حسین بیوی کو فراموش کربیٹھے۔

وہ چوری چھپے ملتے لیکن خفیہ والوں کی نظروں کو کب تک جُل دے سکتے تھے؟پھر اِس عشقِ بلاخیزکی اُنہیں سزا بھی بھگتنا پڑی۔کہاجاتا ہے کہ اُن کے قتل کے عوامل میں سے ایک عنصریہ بھی کارفرماتھا کہ اُنہوں نے ہالی وُڈ کی اداکارہ کو دل دے کر امریکی صدارت کی عظمت اور شان وشوکت کو بٹہ لگانے کی جسارت کی تھی۔اگر ہم IN SIDE THE WHITE HOUSE نامی کتاب کا صبر سے مطالعہ کریں تو عیاں ہوتا ہے کہ وہائٹ ہاؤس کے کئی سابقہ صدور ’’برلسکونی‘‘ کا عملی کردار ادا کرتے رہے۔

اقتدارگمراہ کرتا ہے اور زیادہ ومطلق اقتدار زیادہ گمراہ کرتاہے۔اِس کی ایک مثال آج کل اسلام آباد میں دیکھی جارہی ہے۔ایک سابق مطلق حکمران کی شکل میں۔اِسی لیے تو ہمارے عظیم بزرگوں نے اقتدار کے سائے سے دور رہنا پسند کیاکہ اقتدار کا حساب کتاب بھی بڑا ہی سخت ہوگا لیکن کیاکِیاجائے کہ اقتدار کی کشش دل ونگاہ کو خیرہ کردیتی ہے اور پھر کئی برلسکونی پیداہوتے ہیں۔برلسکونی دنیا کا پہلا آدمی ہے نہ آخری۔

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.