.

ترکی ۔ اسلام اور مغرب کی کشمکش کا اہم محاذ

ڈاکٹر علی اکبر الازہری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برادر مسلمان ملک ترکی میں عالمی استعمار اپنے فطری اتحادیوں سمیت، فکری، سیاسی اور معاشی انتشار اور انارکی کا میدان سجانے جارہا ہے۔ یوں تو پاکستان سمیت تقریباً 5 درجن مسلمان ممالک اغیار کی ریشہ دوانیوں کا شکار رہتے ہیں مگر ترکی ان کی توجہات اور مہربانیوں کا خاص مرکز بن رہا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں اس کا سیاسی تاریخی پہلو سرِ فہرست ہے۔ عثمانی ترکوں نے روم کے قدیم مرکز استنبول کو فتح کرنے کے بعد سپر طاقت کے طور پر تقریباً 5صدیاں دنیا کے بیشتر خطوں پر شاندار حکومت کی ہے اور یورپی اقوام سے خراج لیا ہے۔

دوسرا بڑا سبب گذشتہ دس سالوں میں موجودہ حکومت کی سرپرستی میں ترکی کی غیر معمولی سیاسی استحکام اور معاشی ترقی ہے۔ ابھی کل کی بات ہے ترکی کو ہر شخص یورپ کا ”مردِ بیمار“ کہتا تھا مگر آج وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوکر دنیا کی ساتویں بڑی معیشت بن چکا ہے۔ امریکہ سمیت مغربی طاقتیں اچانک ”سپرمین“ بنتے دیکھ کر سٹ پٹا گئی ہیں۔ مغربی پریشانی اور کشمکش کی تیسری اور بنیادی وجہ اس کا مسلم تشخص ہے جو مضبوط دینی اقدار کے احیا اور جمہوری اداروں کے استحکام سے تقریباً ناقابل شکست ہوچکا ہے۔ مغربی مفکرین، سیاسی اور معاشی ماہرین سرپکڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ ”یہ ٹوٹا ہوا تارہ کیسے مہ¿ کامل بن گیا“ بالکل اسی طرح جیسے افغانستان میں جاری روس امریکہ سرد جنگ کے دوران پاکستان خاموشی کے ساتھ ایٹمی قوت بن گیا تھا جس کی سزا وہ ابھی تک بھگت رہا ہے۔میں نے ایک گذشتہ کالم میں بھی واضح کیا تھا کہ ہمارے ہاں ترکی سے متعلق تجزیہ نگار مغربی میڈیا سے حاصل ہونے والی جانبدارانہ معلومات کی بنیاد پر تبصرے اور تجزیئے چھاپ رہے ہیں جو زمینی حقائق سے قطعاً مختلف بلکہ حقیقت کے برعکس ہیں۔ جہاں تک موجودہ احتجاجی تحریک اور ہنگامہ آرائی کے محرکات کا تعلق ہے تو ان میں اسلام دشمنی کا عنصر سب سے نمایاں ہے۔

حالیہ ہنگاموں کی کوریج کے لئے تمام امریکی اور یورپی میڈیا کی ٹیمیں کئی ہفتے پہلے استنبول پہنچ چکی تھیں۔ ترکی کے تحقیقاتی اداروں نے ہر چیز عوام کے سامنے کھول کر رکھ دی ہے۔ چند ہزار لوگوں کے احتجاج کو براہ راست 8،9 گھنٹے بغیر کسی توقف کے دکھایا گیا جبکہ اسی دوران انقرہ اور استنبول میں حکومت کی حمایت کرنے والوں کے 5 سے 10 لاکھ لوگوں کے تاریخی اجتماعات کو چند لمحوں کی کوریج کیا پیغام دے رہی ہے؟ بلکہ CNN نے انقرہ میں اردوان کے حمایتی اجتماع کو ڈھٹائی کے ساتھ مخالف احتجاج کے طور پر دکھایا۔

ترک وزیراعظم نے ایک تقریر کے دوران یہ بھی کہا کہ مظاہرین ایک مسجد میں شراب نوشی بھی کرتے رہے اور مقدس زمین پر جوتے اتارے بغیر پھرتے رہے۔ لیکن ترکی کے ایک اخبار میں مسجد کے امام نے اسکی واقعہ کی تردید کی۔ صرف ایک چوراہے پر بلڈنگ قائم کرنے کیلئے اتنا احتجاج اور مظاہروں میں سیکولر سیاسی عناصر کے ملوث ہونے کے حقائق دیکھ کر عوام الناس کو احتجاج کی حقیقت سمجھ آگئی اور طیب اردوان کی حمایت میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔ اس احتجاج کے پیچھے اپوزیشن کی وہ سیکولر پارٹیاں تھیں جو فوجی آمریت کی چھتری میں سیاست کی عادی رہی ہےں جن کے عہد میں ترکی کی معیشت بدترین حالت میں رہی۔ ترک عوام یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں، انہیں اپنی حقیقی شناخت اور اپنے حقیقی قائدین کا بھی ادراک ہے اور وہ عالمی سازشوں کا علم بھی رکھتے ہیں۔ وہ اپنی زندگیوں میں آنے والی خوشحالی اور اس کے محرکات سے خوب آگاہ ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ عالمی استعمار اور اس کے نمائندے ترک قوم کو باعزت مقام پر نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس لئے وہ حتی المقدور ایسی کاوشوں میں اپنا حصہ ڈالیں گے جو ان کی ترقی کے سفر میں معاون بن رہی ہیں اور ایسے سازشی ہتھکنڈوں سے گریز کریں گے جو انہیں انارکی پریشانی اور مفلوک الحالی کے سوا کچھ نہیں دے سکتے۔

اس دوران کئی دلچسپ حقائق منظر عام پر آئے ہیں جو پاکستان کے تحقیقاتی اداروں کیلئے بھی سبق آموز ہیں ۔ استنبول میں موجود میرے باخبر دوست محمد نور دوحان کے مطابق احتجاج کیلئے آمادگی پر فی کس 200 لیرے (10300 روپے) تقسیم کئے گئے جو سادہ کپڑوں میں موجود پولیس اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے لوگوں نے بھی وصول کئے۔ بعد ازاں اس کرنسی کے ذریعے ان بنکوں کا کھوج لگایا گیا اور ان ذرائع کا علم بھی لگالیا گیا جو بیرون ملک سے یہ سرمایہ ان بنکوں میں بھیج رہے تھے۔ ان معلومات میں پتہ چلا کہ یورپ کے تیس سے زائد بڑے بڑے کاروباری اداروں نے براہ راست اس خلفشار کیلئے فنڈنگ کی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ اس انتشار کی تیاریاں کئی مہینوں سے کی جارہی تھیں مگر انہیں مناسب موقع کی تلاش تھی جو تقسیم چوک کے چند درختوں کی کٹائی نے فراہم کردیا۔ احتجاج میں مالی معاونت کرنے والی ایک مقامی کاروباری ترکی کمپنی کوچ (Kog) بھی ہے جو ترک یہودیوں کی ملکیت ہے اس نے گذشتہ سال استنبول کے مضافات میں ایک یونیورسٹی بنانے کے لئے ہزاروں درخت کاٹ دیئے مگر وہاں کسی سیکولر جماعت نے احتجاج نہیں کیا۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.