.

یہ شرمناک واردات!

عرفان صدیقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا اکیسویں صدی کی کسی بے ننگ و نام ریاست میں بھی ایسی حیا باختہ واردات کا تصور کیا جا سکتا ہے، جس کا تذکرہ اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے کیا اور جسے سن کر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بنچ بھی ششدر رہ گیا؟ پاکستانی ہونے کے ناتے سر ندامت سے جھک جاتاہے کہ اعلیٰ ترین ریاستی اور حکومتی سطح پر کیسے کیسے مکروہ ناٹک کھیلے جاتے رہے اور مال مسروقہ کے تحفظ کیلئے کیوں کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو تماشا بنا دیا گیا۔ حیف وہ ریاست کہ جس کے حکمران، ”واردایتے“ بن جائیں۔

سپریم کورٹ کا سہ رکنی بنچ این آر او کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔ ایسے طرفہ تماشے بھی شاید اسی مملکت خداداد کا مقدر ہیں کہ اعلیٰ ترین عدالتی فیصلوں کو چٹکیوں میں اڑا دیا جاتا ہے اور عدالتوں کو اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے پھر سے نشست جمانا پڑتی ہے۔ بدھ کو دوران سماعت اٹارنی جنرل نے انکشاف کیا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں سوئٹرز لینڈ کے حکام کو ایک خط لکھ دیا گیا کہ6 کروڑ ڈالر کے حوالے سے رکے ہوئے مقدمات کھول دیئے جائیں، لیکن کوئی دو ہفتے بعد اسی اتھارٹی کی طرف سے ایک اور خط لکھ دیا گیا کہ پہلا خط تو سپریم کورٹ کے کہنے پر محض ایک رسمی سیاسی کارروائی تھا۔حکومت پاکستان کا اصل موقف یہ ہے کہ سوئس مقدمات ہرگز نہ کھولے جائیں اور ہمیں اس مضمون کا ایک خط ارسال کر دیا جائے کہ معاملہ مکمل طور پر ٹھپ کر دیا گیا ہے۔ کورٹ روم نمبر ایک میں موجود افراد اور جج صاحبان ہکا بکا رہ گئے کہ کیا عدلیہ اور قوم کے ساتھ اتنا سنگین مذاق بھی ہو سکتا ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیق کی جائے۔ ایسا کرنے والوں کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔ اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ وزیراعظم کے حکم پر پہلے ہی ڈائریکٹر جنرل آئی بی اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ سوئس حکام کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے کہ پاکستان فیصلے کے خلاف اپیل کرنا چاہتا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس مقصد کے لئے وکلاء کی ایک فرم سے معاہدہ ہو گیا ہے۔

اس طلسم ہوش ربا کا آغاز1997ء سے ہوتا ہے جب بعض ٹھوس شواہد اور دستاویزات سے پتہ چلا کہ ایس جی ایس اور کوٹیکنکا معاہدوں میں کوئی 6 کروڑ ڈالر رشوت لی گئی اور یہ رقم سوئٹرز لینڈ کے بینکوں میں پڑی ہے۔ ریفرنس دائر کئے گئے اور سوئس جوڈیشل فورم کو بھی حرکت میں لایا گیا۔ تحقیق و تفتیش کا ذوق رکھنے والا کوئی ہنر مند صحافی چاہے تو پُراسراریت سے بھری رونگٹے کھڑے کر دینے والی ایک کتاب تیار ہو سکتی ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ معاملات خطرناک انداز سے آگے بڑھ رہے تھے۔ لگتا تھا کہ سوئس عدلیہ کسی واضح نتیجے پر پہنچنے ہی والی ہے کہ اکتوبر 1999ء کا انقلاب آگیا۔ مشرف کو کسی کی کرپشن سے کچھ ناتا نہ تھا۔ نواز شریف اس کا ہدف تھا جسے اس نے من پسند عدالتوں سے سزائیں دلوا کر جلا وطن کر دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور مشرف میں پس پردہ رابطوں کا سلسلہ شروع ہوا تو بی بی نے پہلی شرط یہ لگائی کہ ہمارے خلاف تمام مقدمات ختم کر دیئے جائیں۔ یہ شرط مان لی گئی، این آر او جاری ہو گیا۔ اس کی منظوری پارلیمینٹ سے نہ ملی، سپریم کورٹ نے اسے روز اول سے کالعدم قرار دے دیا۔ 16دسمبر 2009ء کے فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت این آر او کے تمام مقدمات کھولنے کا اہتمام کرے، چاہے وہ اندرون ملک ہیں یا بیرون ملک۔

ادھر پہلے ہی وارداتوں کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ اپریل میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی لیکن اٹارنی جنرل ملک قیوم کو اپنے عہدے پر برقرار رکھا گیا حالانکہ پی پی پی کو ان سے سخت شکایتیں تھیں۔ انہیں یہ مشن سونپا گیا کہ وہ سوئس مقدمات کی بندش کا اہتمام کریں۔ وہ جنیوا گئے۔ پی پی حکومت کے قیام کے ایک ماہ بعد 22 مئی 2008ء کو اٹارنی جنرل ملک قیوم نے ایک خط میں سوئس حکام کو آگاہ کیا کہ این آر او کے بعد حکومت پاکستان نے تمام مقدمات بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے لہٰذا ہم 6 کروڑ ڈالر سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ سو مقدمہ بند کر دیا جائے۔ مقدمہ بند ہو گیا، این آر او کی قسمت کا فیصلہ ابھی نہیں ہو پایا تھا کہ نومبر کی ایک یخ بستہ صبح، برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن ، نیب کے ایک اہلکار دانشور ملک کے ہمراہ جنیوا پہنچے۔ انہوں نے وکیل کی مزاحمت کے باوجود سوئس مقدمات سے متعلق اصل دستاویزات کے بارہ بکس ٹرالیوں پہ لادے اور گاڑیوں میں بھر کے لے گئے۔ یہ سارا منظر جیو کے ایک مشاق کیمرہ مین نے محفوظ کر لیا معلوم نہیں وہ دستاویزات اب کہاں ہیں۔

سولہ دسمبر2009ء کو فیصلہ آیا لیکن حکومت گلی ڈنڈا کھیلتی رہی۔ پے در پے فیصلوں اور ہدایات کے باوجود حکومت سوئس حکام کو یہ خط لکھنے سے گریزاں رہی کہ ملک قیوم کا خط واپس لیا جاتا ہے اور مقدمات پر کارروائی جاری رکھی جائے۔ کم و بیش تین سال گزر گئے اسی دوران وزیر اعظم گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں گھر جانا پڑا۔ راجہ پرویزاشرف نے وزارت عظمیٰ کی مسند سنبھالی۔ نومبر 2012ء کے آغاز میں حکومت نے بظاہر یہ موقف اختیار کیا کہ ہم خط لکھنے کو تیار ہیں ۔ اس سے کچھ دن قبل وزیز قانون فاروق نائیک نے جنیوا کا ایک خفیہ دورہ بھی کیا پھر ایک مسودہ تیار ہوا۔ عدلیہ نے اس کی منظوری دی۔ 5 نومبر 2012ء کو سیکریٹری قانون یاسمین عباسی کی طرف سے ایک نہایت ہی مختصر خط سوئس حکام کو ارسال کر دیا گیا جس میں ملک قیوم کا خط واپس لینے اور مقدمہ بحال کرنے کی اطلاع دے دی گئی۔

بظاہر کارروائی ختم ہو گئی سپریم کورٹ بھی مطمئن ہو گئی کہ بالآخر اس کے فیصلے پر عملدرآمد ہوگیا لیکن اقتدار کی راہداریوں میں ایک نئی واردات کی کھچڑی پکنے لگی۔ محض سترہ دن بعد انتہائی خفیہ طریقے سے ایک اورمفصل خط یاسمین عباسی کی طرف سے ایک لافرم کے سربراہ، نکولس جنیڈنگ کو ارسال کر دیا گیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ پہلا خط تو سپریم کورٹ کی تلقین کے مطابق محض ”سیاسی نوعیت“ کا تھا۔ اصل حقائق یہ ہیں کہ زرداری صاحب کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں۔ یوں بھی صدر کو استثنیٰ حاصل ہے لہٰذا 5 نومبر2012ء کے خط پر کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ معاملے کا باب ہمیشہ کے لئے بند کرتے ہوئے ہمیں مطلع کر دیا جائے۔

سوئس حکام نے دونوں خطوط کا جائزہ لینے کے بعد، دوسرے خط کو بنیاد بناتے ہوئے 14 فروری 2013ء کو فیصلہ کیا کہ اب مزید کارروائی کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ حکومت پاکستان اپنے مطالبے سے دستبردار ہو گئی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی نوزائیدہ حکومت کو ابھی ایک ماہ بھی نہیں ہوا۔ اسے سوئس فیصلے کی خبر ملی تو دوسرے پُراسرار خط کی تلاش شروع ہوئی۔ اس کا کہیں کوئی سراغ نہ ملا۔ سوئس حکام سے پوچھا گیا کہ آپ22 نومبر 2012ء کے کون سے خط کا حوالہ دے رہے ہیں تو اس کی نقل فراہم کر دی گئی۔ تب پتہ چلا کہ اس مکروہ واردات کے خدوخال کیا ہیں؟ اگر دو رکنی کمیٹی نے تندہی سے کام کیا تواس جادو نگری کے اور بہت سے طلسمات سے پردہ اٹھ جائے گا۔

لوٹ مار کے بے کراں سلسلوں اور کرپشن کے حجم کا تصور کیا جائے تو 6 کروڑ ڈالر یا6 /ارب روپے کی رقم شاید بہت بڑی نہیں لگتی۔ کبھی کوئی بے لاگ نظام قضا رائج ہوا تو پتہ چلے گا کہ اس کم نصیب قوم کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا لیکن سوئس مقدمات اور 6 کروڑ ڈالر کا معاملہ یقینا ایک ایسی داستان ہے جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کاایک دل گداز نوحہ کہا جا سکتا ہے۔ اگر اس ریاست کی رگوں میں کچھ حرارت موجود ہے، اگر یہاں آئین اور قانون نام کی کسی شے کی کار فرمائی ہے، اگر یہاں انصاف کا کوئی نظام رائج ہے، اگر یہاں سول سوسائٹی کی نبضیں دھڑک رہی ہیں، اور اگر یہاں کا میڈیا چونچال پن سے ہٹ کر کوئی مثبت کردار ادا کرنے کی سکت رکھتا ہے تو اس واردات کے سارے کرداروں کو ضرور منظر عام پر لایا جانا چاہئے۔

کہا گیا”مشرف کو نہ چھیڑو، اداروں میں تصادم ہو جائے گا“۔ اب آواز اٹھی ہے ”یہ زرداری کے خلافی انتقامی کارروائی ہے“۔ محبان وطن کے ایک حلقے نے صدا لگائی۔ ”حکومت مسائل حل کرے نان ایشوز میں نہ پڑے“۔ اگر ایسا ہی ہے تو بند کر دیجئے فریب کاریوں کا یہ سارا تماشا۔ بھاڑ میں جائیں آئین، قانون اور عدالتیں۔ یا طے کر لیجئے کہ یہ سب کچھ تو رہے گا لیکن آئین، قانون اور انصاف کی تلواریں صرف ناداروں، لاچاروں اور بے سہاروں کا لہو پیا کریں گی۔ سیاسی اور فوجی اشرافیہ کو مکمل استثنیٰ حاصل رہے گا کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ اداروں میں تصادم ہو یا کسی کے خلاف کارروائی سے انتقام کی بو آئے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.