.

میں ایک سورما صحافی ہوں

طلعت حسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میں ایک سورما صحافی ہوں جو اپنی چھاتی پر کئی تمغے سجا ئے ہو ئے ہے۔ کچھ تمغے میں نے خود بھی چسپاں کرلیے ہیں۔ کچھ مجھے حادثاتی طور پر ملے ہیں۔ اور کچھ ایسے ہیں جنھیں اس شعبے میں ایک طویل عرصہ گزار کر میں اپنا حق سمجھتا ہوں۔ پچھلے چند برسوں سے ٹی وی نے مجھے گھر گھر میں متعارف کرا دیا ہے۔

ہر کوئی میرا نام جانتا ہے۔ چہرہ پہچانتا ہے یا کم از کم میں خود کو اس دھوکے میں یقیناً رکھنا چاہتا ہوں کہ ایسا ہے۔ اب میں ہاتھ ہلا ہلا کر سینہ پھلا ئے یہ دعویٰ کرتا ہوا سنا جاتا ہوں کہ میں آزاد ہوں۔ مرضی کے مطابق بولتا ہوں حسب منشاء قلم استعمال کرتا ہوں اور کوئی مجھے ڈکٹیٹ نہیں کرا سکتا نہ ہی میرا ہاتھ پکڑ سکتا ہے۔ مگر آج مجھے آپ سے سچ بولنا ہے۔ یہ کیفیت مجھ پر کبھی کبھی طاری ہوتی ہے۔ لہٰذا جو میں کہنے جا رہا ہوں غور سے پڑھیے گا۔ میں آپ کو بتاتا ہوں میں کیا نہیں لکھ سکتا ہوں۔ کو ن سے موضوعات ہیں جن پر نظر دوڑاتے ہو ئے میں گھبراتا ہوں۔

حقائق سے آنکھیں چراتا ہوں۔ کون سے خوف مجھ پر روزانہ حملہ آور ہو تے ہیں اور میں اپنے قلعے کی فصیل کو چھوڑ کر پسپا ئی اختیار کر لیتا ہوں، میں اور میرے وہ ساتھی جو میرے لکھے کو چھاپنے کے ذمے دار ہیں آزاد نہیں۔ میں جرات نہیں کر سکتا کہ آ پ کو کراچی میں ہو نے والی خون ریزی کی اصل وجوہات بتائوں۔ میری ہمت جواب دے جاتی ہے جب میں بوری بند لاشوں کے پیچھے ہونے والی خونی سیاست کی گھتیاں سلجھانے لگتا ہوں۔ میں ملک سے باہرموجود قیادت پرتنقید نہیں کر سکتا۔ میں حکومتی اور سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں کے بار ے میں آپ کو نہیں بتا سکتا، مجھے پتہ ہے اگر میں نے غلطی سے کراچی کو جلانے کی سازش کے بار ے میں کچھ کہہ دیا تو وہ نہ ٹی وی پر چلے گا اور نہ ہی وہ چھپے گا۔

میر ے دوست صحافی پردے کے پیچھے مجھ سے اتفاق کر تے ہیں کہ اُن کے حالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں مگر اپنی ناکامی کون مانتا ہے۔ اپنے عیب بیان کرنے کی ہمت کس میں ہے۔ نوکری سب کو پیاری ہے۔ پیسے کے بغیر وقت گزارنا مشکل ہے اور زندگی محض بیزاری ہے۔ لہٰذا نہ میں خود سکت پاتا ہوں نہ دوست حوصلہ بندھاتے ہیں۔ لہٰذا کراچی کے بار ے میں ایک ہی رٹ ہے کہ اس کی خرابی میں سب نے حصہ ڈالا ہے۔ یہ جملہ سن کر آپ کے کان پک گئے ہوں گے، میری بھی زبان تھک گئی ہے لیکن کیا کروں دوسرا جملہ لکھنے کی گنجائش موجود نہیں۔

اسی طرح کا ایک ممنوعہ موضوع میرے اپنے شعبے میں موجود کالی بھیڑیں ہیں۔ یہ لوگ اپنی خواہشیں پوری کر نے کے لیے دہائیوں کی کاوش سے تیار کیے ہوئے صحافتی معیاراور اقدار کو پس پشت ڈال گئے ہیں۔ بعض نے تو قلم کو اسکول کی ویگن کی طرح کرائے پر دیا ہوا ہے جو ایک مہینے ایک محلے میں گھومتی ہے اور اگلے مہینے بہتر دام بٹورنے کے لیے کسی اور جگہ متعین ہو جاتی ہے۔ایسے لوگوں نے صحافت کو بدنام کر دیا ہے۔انھیں نہ اپنی ذمے داری کا احساس ہے نہ دوسروں کے حقوق کا۔ ان میں سیاسی جماعتوں کے پٹھو ہیں اور یا اس شعبے میں اُس محنتی اکثریت کے نام کو بیچنے والے جو باوجود مشکل حالات کے خاموشی سے اپنے صحافیانہ فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اِس مخصوص گروہ کے چند افراد نہ جانے کن ایجنڈوں پر کام کرتے ہیں۔

پاکستان کے چہروں پر روزانہ تیزاب پھینک کر اِن کو خوشی محسوس ہوتی ہے۔ قومی سلامتی کے معاملوں کو ٹھوکروں سے اُڑا تے ہیں۔ رائی کا پہاڑ بناتے ہیں۔ گندی نالیوں میں ہاتھ مارتے ہیں۔ مگر خود کو سنہری کاریگر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ میں اِن کے بار ے میں نہیں لکھ سکتا کیونکہ پولیس والوں کی طرح میں بھی اپنے پیٹی بھائی کے فلسفے کی بیماری میں مبتلا ہوں۔ میں ان کے جھوٹ پہچانتے ہو ئے بھی اُن کو سچ سمجھتا ہوں۔

ان کا ماضی عیاں ہونے کے باوجود ان کے راز افشا کرتے ہوئے میں گھبراتا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ کہیں ان کے ہاتھوں مارا نہ جائوں۔ ان کی تہمت لگانے کی فیکٹریاںدن رات چلتی ہیں۔ ایسے ایسے افسانے گھڑسکتے ہیں کہ کیا کوئی قابل جادوگر نظر کا دھوکہ دیتا ہوگا۔ ان کے تعلقات کا جال بھی وسیع ہے۔ طالبان بھی ان کے یار ہیں اور امریکی بھی ان کے مددگاروں میں شامل ہیں۔ یہ خودکش حملہ آوروں کے ساتھ بھی ہیں اور ان حملوں میں مارے جانے والوں کے لواحقین کے دکھ میں شریک نظر آتے ہیں میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ان کے بارے میں نہیں لکھ سکتا۔

میں امریکا کے خلاف بھی تسلسل سے نہیں لکھ سکتا۔ میرا واشنگٹن سے کوئی جھگڑا نہیں، ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ میں تیسری دنیا میں کام کرنے والے چوتھے درجے کا صحافی ہوں اور وہ سوپر پاور۔ اگرچہ میرے اور واشنگٹن کے میعار یکسر مختلف ہیں۔ اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ میں نے انتہائی غصے میں بھی کبھی چیونٹی کو نقصان پہنچانے کا نہیں سوچا۔ بہرحال امریکی طاقت میں برتر ہیں انھی کا میعار غالب ہے۔ میں یہاں یہ تصحیح بھی کرنا چاہوں گا کہ میں امریکا کے خوف کی وجہ سے چپ سادھے ہوئے نہیں ہوں۔ میری جان، شام، عراق، لیبیا، افغانستان، فلسطین کے مسلمانوں سے زیادہ قیمتی تو نہیں ہے کہ میں اُس کے چلے جانے کی تشویش میں مبتلا ہو کے حق گوئی کا راستہ ترک کر دوں۔

میں خاموش اِس وجہ سے ہوں کہ ہمارے ذرایع ابلاغ کے نظام میں جو اثر و رسوخ امریکا اور اُس کے اتحادی ممالک نے حاصل کر لیا ہے اُسکی موجودگی میں بات کرنا فضول ہے۔ پروپیگنڈے کا ایک نقارخانہ ہے جس میں ایک طوطی کی آواز نے دبنا ہی ہے۔ کون سا ادارہ ایسا ہے جہاں ان کے حامی اور دوست موجود نہیں ہیں۔ یہ کرکٹ میں بھی موجود ہیں‘ حکومتوں میں بھی شامل ہوجاتے ہیں ہیں۔ کبھی سفیر بن جاتے ہیں اور پھر دوبارہ صحافی اور مدیر بننے میں بھی دیر نہیں لگتی۔ اِن کے بارے میں لکھوں گا تو اپنا ہی سرپھوڑوں گا۔

اِس کے علاوہ دہشت گردوں کے بارے میں بھی نہیں لکھ سکتا جن کے سامنے ریاست منہ نہیں کھولتی، منتخب حکومتیں راستہ تبدیل کر کے آئیں بائیں شائیں کرتی ہوئی اپنی توجہ کہیں اور مبذول کر لیتی ہیں۔ اُن سے میں سینگ کیسے لڑا سکتا ہوں۔ ریاست کے ادارے مجھے چاہے جتنے بھی لیکچر دے لیں جب میں ان سب کو حفاظتی حصار میں دیکھتا ہوں تو اپنی گردن کی فکر کرتے ہوئے ہونٹ سی لیتا ہوں۔

مجھے معلوم ہے کہ دہشتگردی افغانستان اور ہندوستان کی سرزمین سے باقاعدہ منصوبے کے تحت پھیلائی جا رہی ہے۔ میں نے کچھ شواہد بھی دیکھے ہیں مگر پھر حکومت اور ریاست کارروائی نہیں کرتی تو میں اکیلا کیا تیر مار لوں گا۔ ویسے بھی شاہ رخ خان اور کترینہ کیف کے جادو میں مبتلا قوم کو میں ان سازشوں سے آگاہ کر کے کتنی کامیابی حاصل کر لوں گا۔ امن کے حامیوں کے رقص مسحور کن ہیں۔ میری باتیں خشک اور چکا چوند سے عاری چندھیائی ہوئی آنکھیں کب کھلتی ہیں۔ مستی کی افیون کے بیوپاری کب حقائق بیان کرنے دیتے ہیں۔ لہٰذا میں انھی موضوعات پر لکھوں گا جو میں لکھ سکتا ہوں، جو چھپ سکتے ہیں جس سے ہماری نوکریاں بچ سکتی ہیں۔ کاروبار بڑھ سکتے ہیں۔ آپ کو یہ پسند ہوں یا نہ ہو ں میں یہی موضوعات آپ پر ٹھونسوں گا کیونکہ میں ایک سورما صحافی ہوں جس کے سر پر ایک بلند تاج اور چھاتی پر تمغے سجے ہوئے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.