الطاف حُسین ۔ پھِر چھا گئے !

اثر چوہان
اثر چوہان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

جون 1967ء کی ”عرب ۔ اسرائیل جنگ “ میں عربوں کو شکست ہوئی تو مِصر کے صدر جمال عبدالناصر نے مِصر کی قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ عرب جمہوریہ کے صدر کی حیثیت سے جنگ میں عربوں کی شکست کی خود ذمہ داری قبول کرتے ہُوئے صدارت سے استعفیٰ دے دیا اور اس طرح کی جذباتی تقریر کی کہ سارے ارکانِ اسمبلی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور انہوں نے صدر ناصر سے اپیل کی کہ ”وہ اپنے عہدے سے مستعفی نہ ہوں اور عرب دُنیا کی قیادت کرتے رہیں“۔ اُس دَور میں الیکٹرانک میڈیا اِتنا ترقی یافتہ نہیں تھا جِتنا کہ اب ہے۔

ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین نے رضاکارانہ طور پر ایم کیو ایم کی قیادت سے سبکدوش ہونے اور تمام اختیارات ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا اعلان کِیا تو کراچی کے نائن زیرو پر اکٹھے ہو کر ایم کیو ایم کے ہزاروں کارکنوں نے الطاف بھائی سے اپنی عقیدت اور محبت کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اُن سے اپیل کی کہ وہ ایم کیو ایم کی قیادت کرتے رہیں۔ چنانچہ الطاف صاحب نے اپنا فیصلہ واپس لے لِیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون وزیرِ اعظم پاکستان سے مذاکرات کر رہے تھے تو اُسی وقت جناب الطاف حُسین الیکٹرانک میڈیا پر گونج رہے تھے۔ گذشتہ دِنوں ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تفتیش کے سِلسلے میں لندن میں سکاٹ لینڈ یارڈ اور لندن کی میٹرو پولِٹن پولیس کی طرف سے الطاف صاحب کے گھر چھاپہ مارنے اور کچھ چیزیں لے جانے پر انہوں نے احتجاج کِیا اور کہا کہ ”سکاٹ لینڈ یارڈ اور پولیس جو چیزیں میرے گھر سے لے گئی مُجھے اُن کی فہرست بھی نہیں دی گئی۔

کروڑوں لوگوں کے قائد (الطاف حُسین) کے گھر چھاپے کے بعد اخلاقی تقاضا یہی ہے کہ میں ایم کیو ایم کی قیادت سے سبکدوش ہو جاﺅں۔ انہوں نے کہا کہ ۔”امریکہ ہو یا برطانیہ، کسی بھی مُلک کی اسٹیبلشمنٹ کے لئے کسی شخص کی جان لینا مُشکل کام نہیں ہے“۔

برطانوی شہری جناب الطاف حُسین نے برطانیہ کے لئے ”برطانوی سامراج “ کی ترکیب استعمال کی اور تاریخ بھی بیان کی کہ کِس طرح برطانوی لوگ تاجر بن کر ہندوستان میں آئے اور تاجدار بن گئے اور پھر کِس طرح بھارت کے لیڈروں محمد علی جناحؒ، علاّمہ اقبالؒ ، گاندھی جی اور بھگت سِنگھ نے جدوجہد کر کے انگریزوں کو ہندوستان سے نِکالا۔ برطانوی مظالم سے ہی آزادی کی کئی تحریکوں نے جنم لِیا“۔

الطاف صاحب نے 1919ء میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں نہتے ہندوستانیوں پر جنرل ڈائر کے حُکم سے فائرنگ کے بعد ہلاکتوں کا بھی ذِکر کِیا اور دُنیا کے مختلف مُلکوں کے انقلابی لیڈروں چین کے ماﺅزے تُنگ، ویت نام کے ہوچی مِنہ اور شمالی کوریا کے کامریڈ۔کِم اِل۔سُنگ کا ذِکر کرتے ہوں اعلان کِیا کہ”اِس وقت ساری دُنیا میں، مَیں اکیلا لیڈر ہوں جو غریبوں کے حق میں، انقلاب کی بات کرتا ہے اور اگر مجھے برطانیہ میں مار دِیا گیا تو میرے خون سے پاکستان میں سچا انقلاب آئے گا۔ مَیں نے برطانیہ میں کوئی قانون نہیں توڑا اور نہ توڑوں گا۔ مجھے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں پھنسانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ مَیں عدالت میں، اپنا مقدمہ خود لڑوں گا اور اپنی ترجمانی کے لئے، کوئی وکیل، بیرسٹر یا سولِسٹر مقرر نہیں کروں گا“۔

سنہ1977ء میں، جب لاہور ہائی کورٹ میں صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری کے والد نواب محمد احمد خان کے قتل کی سازش میں ”بڑے مُلزم “معزول وزیرِاعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمہ چل رہا تھا تو بھٹو صاحب اور اُن کے وکلاء نے بھی فوجداری مقدمے کو سیاسی مقدمہ بنا کر لڑا تھا۔ بھٹو صاحب نے لاہور ہائی کورٹ میں جو بیان حلفی دِیا تھا (جِسے پیپلز پارٹی نے فوراً ہی "Commitment To The History" کے عنوان سے کتابچے کی شکل میں شائع بھی کر دِیا تھا)۔ وہ فی الحقیقت، بہترین، عالمی، سیاسی ادب میں شمار کِیا جا سکتا ہے لیکن بہترین سیاسی ادب کے۔ تخلیق کار۔ کو پھانسی دے دی گئی تھی۔

اُس وقت اگر الیکٹرانک میڈیا اتنا زوردار ہوتا تو نہ جانے جنابِ بھٹو کا بیان حلفی کیا رنگ لاتا ؟۔جب کہ پاکستان بھر میں بھٹو صاحب کے حق میں اُن کی پارٹی کے کارکن احتجاجی مظاہرے بھی کر رہے تھے۔ جناب الطاف حُسین کوفی الحال ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش میں ۔” بڑا مُلزم“۔ نہیں ٹھہرایا گیا۔ اُن کے بھتیجے افتخار حُسین کو گرفتار کر کے ضمانت پر رہا بھی کیا جا چکا ہے۔ اگر الطاف صاحب نے، برطانیہ کا کوئی قانون نہیں توڑا اور نہ ہی توڑنا چاہتے ہیں تو اُنہیں ایم کیو ایم کی قیادت سے مستعفی ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو جب جیل گئے تھے تو انہوں نے بیگم نصرت بھٹو کو پارٹی کی چیئر پرسن بنا دِیا تھا ۔ ابھی تو الطاف صاحب کے خلاف مقدمے کی سماعت ہی شروع نہیں ہوئی اور نہ ہی اُن کی گرفتاری ہُوئی ہے۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف ججز کی برطرفی، محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواب محمد اکبر بگٹی کے قتل کے مقدمات میں گرفتار ہیں اور اُن پر غدّاری کا مقدمہ بھی ہے، جِس میں انہیں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے لیکن انہوں نے اپنی آل پاکستان مسلم لیگ کی صدارت سے استعفیٰ نہیں دیا۔

سکاٹ لینڈ یارڈ اور میٹرو پولیٹن پولیس کی طرف سے عمران فاروق قتل کیس کی تفتیش کے بعد جب چالان عدالت میں پیش ہو گا تو فیصلہ میرٹ پر ہی ہو گا لیکن الطاف صاحب نے براہِ راست حکومتِ برطانیہ کو پارٹی بنا لِیا ہے اور یہاں تک کہہ دِیا ہے کہ ”برطانوی اسٹیبلشمنٹ اِس خوبصورتی سے میری جان لے سکتی ہے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ جناب آصف علی زرداری کے خلاف دو عہدے رکھنے پر لاہور ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت ہو رہی تھی۔ 17مارچ کو ہائی کورٹ نے حُکم دیا کہ ”صدر زرداری 29 مارچ تک ایک عہدہ چھوڑ دیں!“۔ جنابِ زرداری نے 22 مارچ کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ چھوڑ دیا۔ اگر ہائی کورٹ کا حُکم نہ ہوتا تو زرداری صاحب اپنے ۔”رُوحانی والد“۔ اور ۔”شہید اہلیہ“۔ کی پارٹی کا عہدہ ہر گز نہ چھوڑتے۔

جناب الطاف حُسین کو تو برطانیہ یا پاکستان کی کسی بھی عدالت نے ایم کیو ایم کی قیادت چھوڑنے کا حُکم نہیں دِیا تھا۔ ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ نے الطاف بھائی سے اپیل کی ہے کہ ” آپ کو میرے مقتول شوہر کا واسطہ کہ آپ ایم کیو ایم کی قیادت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ واپس لے لیں“۔ اِس کا مطلب یہ ہُوا کہ مقتول کی بیوہ کو تو الطاف بھائی پر کوئی شک ہی نہیں ہے۔ الطاف حُسین اگر پاکستان میں ہوتے اور اُن پر کسی کے بھی قتل کا مقدمہ ہوتا تو مقتول کے ورثاء اُن سے خوں بہا (دیت) لے کر یا راہِ للّہ معاف کر سکتے تھے لیکن برطانیہ میں تو”قانونِ شریعت“۔ نہیں ہے۔ بہرحال جناب الطاف حُسین کی تقریر خوب رہی اور وہ کئی گھنٹوں تک الیکٹرانک میڈیا پر چھائے رہے۔ اِس بات کی تو داد دینا پڑے گی کہ انہوں نے برطانیہ کے شہری ہونے کے ناتے۔ اُسے للکارا خوب ہے اور وہ کینیڈین ڈاکٹر طاہر اُلقادری سے بازی لے گئے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں