دس سال پہلے، دس سال بعد

منو بھائی
منو بھائی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

”برلن کی دیوار“ کے گرائے جانے سے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے جب دنیا پر روس کی ایٹمی طاقت کا رعب موجود تھا، کسی فکر مند محب وطن پاکستانی نے دوسرے پریشان حال محب وطن پاکستانی سے پوچھا کہ ہم دنیا کی دوسری سپر پاور روس کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اگر خدانخواستہ روس نے پاکستان پر قبضہ کر لیا تو ہم کیا کریں گے؟ دوسرے محب وطن پاکستانی کو جواب دیا کہ ہم نے کیا کرنا ہے، کچھ کرنا تو روسیوں کو پڑے گا تو اگلے سال اپنے ٹینک بلال گنج کی دکانوں پر ڈھونڈھ رہے ہوں گے۔

محب وطن پاکستانی کے جواب میں اگر ہمارا تھوڑا سا قومی کردار جھلکتا ہے تو بہت ساری حقیقت پسندی بھی پائی جاتی ہے۔ ابھی کل ہی ہماری اعلیٰ ترین عدالت نے فرمایا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کی حد ہو گئی ہے، یقین کر لینا چاہئے کہ ہماری اعلیٰ ترین عدالت کو یہ معلوم ہو گا کہ کرپشن کے پاکستانی سٹائل کی حد کیا ہوتی ہے؟ یہ حد ہر پاکستانی کو معلوم ہونی چاہئے کیونکہ جب تک حد معلوم نہ ہو حد سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔

نیٹو رہنمائی میں افغانستان میں داد شجاعت دینے والی فوجوں نے افغانستان کو فتح تو کر لیا ہے اور وہاں اپنا ایک صدر بھی بٹھا دیا ہے مگر افغانستان کے خلاف جنگ نہیں جیت سکا اور کچھ ایسی ہی خبریں بغداد سے بھی آ رہی ہیں لیکن مغربی فوجیں عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر وہاں سے جا چکی ہیں اور افغانستان سے بھی حفظ و امان کے حالات میں نکل جانا چاہتی ہیں اور ان کے تمام کمانڈر اس محفوظ و مامون واپسی کی کوششوں میں مصروف ہیں اور ”طالبان سے مذاکرات“ بھی ان کوششوں کا اہم حصہ بیان کئے جاتے ہیں۔ افغانستان میں موجودہ امریکی اور مغربی فوجوں کے ایک سرکردہ لیڈر جنرل کارٹر کا کہنا ہے کہ مغربی طاقتوں کو طالبان سے یہ مذاکرات دس سال پہلے شروع کرنے چاہئیں تھے۔

ان دس سالوں کے ذکر سے برطانوی جنرل یہ ظاہر کرنا نہیں چاہتے کہ مغربی طاقتوں کے مشورے سے جو مذاکرات شروع ہوتے ہیں، وہ مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی طرح کئی دہائیوں کو عبور کر جاتے ہیں پھر بھی ایجنڈے پر غور شروع نہیں ہوتا۔ اس سے نیٹو کے کمانڈر کی وہی مراد ہے کسی زمانے میں برطانیہ کے وزیراعظم سرونسنٹ چرچل کے اس فرمان کی تھی کہ ”قبائلی علاقوں کو خود ان کے گھروں میں قید کر دیا جائے“۔ مطلب قبائلی عوام کو قابو میں کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں رہائشی پلاٹ الاٹ کئے جائیں اور ان پلاٹوں پر مکان تعمیر کرنے کے لئے قرضے دیئے جائیں جب یہ مکان بن جائیں گے تو قبائلی عوام ان مکانوں کو اپنے گھر بنا لیں گے اور گھر بنانے کی یہ کوشش انہیں خود ان کے اپنے گھروں میں قید کر دے گی اور اس قید پر انگریزوں کی حکومت کا کوئی خرچہ نہیں آئے گا۔

بالکل یہی بات کچھ مختلف الفاظ اور لہجے میں جنرل نک کارٹر نے کہی ہے کہ اگر مغربی ملکوں نے دس سال پہلے طالبان سے مذاکرات شروع کئے ہوتے تو وہ آج مغربی ملکوں کی مالی امداد، قرضوں، فنی امداد، فوجی مدد، جدید ترین اسلحہ کی خریداری کے ساتھ منسلک دیگر مفادات اور اضافی فائدوں کے اس قدر پابند ہو چکے ہوتے کہ ڈرون حملوں کے تواتر و تسلسل پر بھی کسی احتجاج کی ضرورت محسوس نہ کرتے اور نیٹو کی فوجیں افغانستان سے کسی کو بتائے بغیر آرام سے چپ چاپ نکل گئی ہوتیں۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size