.

حج ۔ وزیر اعظم خود نوٹس لیں!

عرفان صدیقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا ایک اور حج اسکینڈل تشکیل پا رہا ہے؟

مجھے یقین ہے کہ اگر وزیر اعظم نواز شریف نے فوری براہ راست مداخلت نہ کی تو وہ بحران جنم لینے کو ہے، نوکر شاہی جس کا تانا بانا بڑی ہنر مندی سے بُن چکی ہے۔

حرم کعبہ کی توسیع کے باعث سعودی عرب کی حکومت نے اس سال مقامی حجاج کی تعداد میں پچاس فی صد اور بیرونی ممالک سے آنے والے حجاج کی تعداد میں بیس فی صد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ خاصی تاخیر سے اس وقت ہوا جب بیشتر ممالک اپنے طے شدہ پرانے کوٹے کے مطابق انتظامات کو آخری شکل دے چکے تھے۔ پاکستان کے لئے بھی مشکل پیدا ہوئی لیکن معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کے بجائے بیورو کریسی نے اس میں ایسی گرہیں ڈال دیں کہ ایک بڑے بحران کا سامنا ہوگیا۔ اگر صورتحال کو جوں کا توں چھوڑ دیا گیا تو ایک تلاطم کو نوشتہٴ دیوار جانیئے۔

بیس فی صد کٹوتی کے اعلان سے قبل پاکستان کے لئے حجاج کا متعین کوٹہ ایک لاکھ اسّی ہزارتھا۔ کئی برسوں سے طے شدہ فارمولے کے مطابق نصف حاجی (90ہزار) حکومتی انتظام کے تحت جاتے تھے اور نصف (90 ہزار) پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعے۔20 فیصد کٹوتی کے بعد ایک لاکھ اسّی ہزار کا کوٹہ کم ہو کر ایک لاکھ چوالیس ہزار رہ گیا ۔ طے شدہ فارمولے کا تقاضا تو یہ تھا کہ ایک لاکھ چوالیس ہزار میں سے نصف یعنی 72 ہزار حاجی حکومتی انتظام میں رہیں اور 72 ہزار کا کوٹہ پرائیویٹ حج کمپنیوں کو دے دیا جائے۔ یوں بیس فی صد کٹوتی کی زد حکومت اور پرائیویٹ کمپنیوں پر یکساں پڑتی۔

وزیر مذہبی امور سردار یوسف شستہ مزاج شخصیت ہیں۔ انہوں نے اس فارمولے کو منصفانہ خیال کیا، لہٰذا حکومت اور پرائیویٹ حج آپریٹرز کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں یہ اصول طے پا گیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں حیلہ تراش بیورو کریسی اپنے مخصوص ہنر کا مظاہرہ کرتے ہوئے داخل ہوئی اور سب کچھ تلپٹ کردیا۔ 29جون کی صبح، وزارت کی ویب سائٹ پر حج کمپنیوں کے نئے کوٹے کا اعلان کردیا گیا جس کے تحت کٹوتی کا کم و بیش سارا بوجھ ان کمپنیوں پر ڈال دیا گیا اور حکومتی کوٹے پر کوئی آنچ نہ آنے دی گئی۔ نوید دی گئی کہ اب کوٹے کی تقسیم پچاس فیصد کے بجائے 60 اور 40 کی بنیاد پر ہوگی یعنی حکومت 60 فیصد کوٹہ اپنے پاس رکھے گی جبکہ 40 فی صد کوٹہ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کو دیا جائے گا۔ اس یکطرفہ فیصلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ 72000 کے حکومت کوٹے میں تو 15000 کا مزید اضافہ ہوگیا جو 87000 تک جا پہنچا۔ دوسری طرف 72000 کا پرائیویٹ کوٹہ مزید کم کرکے 57000 کردیا گیا۔ گویا حکومت کے پرانے کوٹے (90 ہزار) میں صرف تین ہزار کی کمی ہوئی جبکہ پرائیویٹ کمپنیوں کے پرانے کوٹے (90 ہزار) میں 33 ہزار کی کمی کردی گئی۔ شماریات کے اس کرتب کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ حکومت نے اپنے کوٹے میں تو صرف 4 فیصد کمی کی جبکہ پرائیویٹ حج آپریٹرز پر 36 فی صد کا کلہاڑا چلادیا۔ نتیجہ یہ کہ گزشتہ برس تک تو حکومت اور پرائیویٹ کوٹہ برابر تھا لیکن اب دونوں کے درمیان 30000 کی خلیج ڈال دی گئی ہے۔

اب دیکھئے کہ اس غیر منصفانہ فیصلے میں کیا طوفان پل رہا ہے۔ وزارت مذہبی امور نے سعودی حکومت کے فیصلے سے قبل حج درخواستیں وصول کرنے کا عمل مکمل کرلیا۔ کہا جاتا ہے کہ وزارت کو 87000 کے لگ بھگ درخواستیں موصول ہوئیں جو پرانے متعین کوٹے (90ہزار) سے کم تھیں۔ چھانٹی کے بعد یہ تعداد مزید کم ہوسکتی ہے۔ نئے بندوبست کے تحت حکومت نے 20 فیصد کٹوتی کو غیر موثر بناتے ہوئے اپنے لئے 87000 کے کوٹے کی گنجائش نکال لی ہے۔ دوسری طرف پرائیویٹ حج آپریٹرز کو ایک بڑے امتحان سے دوچار کردیا ہے۔ وزارت مذہبی امور نے ان آپریٹرز کو فروری 2013ء کے اواخر میں باضابطہ طور پر اطلاع دی کہ وہ اپنے کوٹے کے مطابق حاجی رجسٹر کرلیں۔ اس سرکاری اطلاع کے ساتھ ہی پرائیویٹ حج کمپنیوں نے اپنے پرانے متعین کوٹے کے مطابق عازمین حج کی رجسٹریشن شروع کردی۔ اس حکومتی فرمان کی روشنی میں انہوں نے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں حاجیوں کی رہائش گاہوں کے معاہدے کرلئے اور کم و بیش پوری ادائیگی بھی کردی۔ اسی طرح ایام حج کے لئے مکتب اور دیگر سہولتوں کی خاطر معلمین کو بھی ادائیگیاں کردی گئیں۔ بیشتر نے ایئر لائنز سے اپنی مطلوب تاریخوں کے لئے نشستوں کی بکنگ بھی کرالی۔ خود وزارت کو کی جانے والی ادائیگیاں بھی کردی گئیں۔ اپنے عازمین حج کے فارم جمع کراتے ہوئے ان تمام ادائیگیوں کی رسیدیں اور دستاویزات بھی وزارت کو فراہم کردی گئیں۔

آتش فشاں کا دہانہ یہ ہے کہ وزارت مذہبی امور کے نئے شاہانہ فرمان کے بعد ہر پرائیویٹ حج کمپنی کو 36 فیصد ایسے حاجی کم کرنا ہوں گے جن کی ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔ 90 ہزار کا پرائیویٹ کوٹہ 57000 تک محدود کردینے سے 33 ہزار عازمین متاثر ہوں گے۔ یقیناً انہیں شدید ذہنی، قلبی اور روحانی صدمے سے گزرنا ہوگا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان کی ادا شدہ رقوم کی واپسی بھی یقینی نہ رہے گی۔ کروڑوں یا شاید اربوں روپے کی رقوم سعودی عرب کے ہوٹل مالکان، معلمین، ایئر لائنز اور سرکاری کھاتوں میں پھنس کر رہ جائے گی۔ یہ عازمین سراپا احتجاج ہوں گے اور ان کے ساتھ پرائیویٹ آپریٹر بھی مل جائیں گے جنہیں مجموعی طور پر اربوں روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔

حل کیا ہے؟ یہ کہ حکومت پچاس فیصد کا فارمولا قائم رکھے۔ 20 فیصد کٹوتی کے بعد 72 ہزار کا کوٹہ خود رکھ لے اور 72 ہزار کا پرائیویٹ آپریٹرز کو دے دے۔ ان آپریٹرز کو کہا گیا تھا کہ وہ 18جون تک حتمی طور پر اپنے فارم جمع کرادیں۔ یہ میعاد مزید ایک ہفتہ بڑھا دی جائے۔ 8جولائی تک کی مہلت گزرنے پر دیکھا جائے کہ پرائیویٹ آپریٹرز کتنے حاجیوں کی رجسٹریشن کرپائے ہیں۔ اگر یہ تعداد 72 ہزار سے کم ہے تو کسی کمپنی کی کوئی کٹوتی نہ کی جائے اور باقی حاجی حکومت اپنے کھاتے میں ڈال لے۔ جب آپریٹرز 20 فی صد کٹوتی پر تعاون کے لئے تیار ہیں تو کیا ایک طوفان اٹھانا ضروری ہے؟ اس حکومتی فیصلے کے بعد پہلے ہی حج فارموں کی خرید و فروخت کی منڈی لگ گئی ہے۔ ایک فارم کا نرخ چالیس ہزار روپے تک جا پہنچا ہے۔

وزارت کی طرف سے اخبارات کو فراہم کی جانے والی اطلاع میں بطور خاص کہا گیا کہ ”وزیراعظم نے اس پالیسی کی منظوری دے دی ہے“۔ میں کوشش کے باوجود اس اطلاع کی تصدیق یا تردید نہیں کرپایا۔ گمان یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کو معاملے کی پوری تفصیل اور نزاکتوں سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ غالباً ان کی منظوری بھی نہیں لی گئی۔ بہتر ہوگا کہ وزیراعظم کا اسٹاف خصوصاً ان کے پولیٹیکل سیکریٹری ڈاکٹر آصف کرمانی فوری طور پر یہ معاملہ وزیر اعظم کے علم میں لائیں۔ بیورو کریسی کے اس کھیل کو اسی مرحلے پر ناکام نہ بنا دیا گیا تو ایک نیا اسکینڈل انگڑائی لے گا۔ حکومت کو کانٹوں کی ایک ایسی فصل کاٹنا پڑ جائے گی جو چند کرتب کاروں نے بوئی ہے۔

پیپلزپارٹی کی رخصت ہونے والی حکومت کی سانسیں ڈوب رہی تھیں جب محض اربوں کے کمیشن کے لئے لشٹم پشٹم مکہ اور مدینہ کی رہائش گاہوں کے معاہدے کرلئے گئے۔ حاجی جائیں گے تو پتہ چلے گا کہ ان رہائش گاہوں کی حالت کیا ہے اور یہ حرمین سے کتنے کوس دور ہیں۔ احتجاج کا ایک طوفان اس وقت بھی اٹھے گا۔ شاید اس ضمن میں یہ حکومت کچھ نہ کرپائے لیکن جس ناانصافی کا ازالہ اس کے بس میں ہے، اس میں تو دیر نہ کرے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.