.

گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے

انور غازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے بعد برطانیہ نے بھی انٹرنیٹ کی جاسوسی اور معلومات چرانا شروع کردی ہیں۔ اس سے پہلے امریکا کے بارے میں انکشاف ہوا کہ امریکا کی نیشنل سیکورٹی ایجنسی نے رواں سال پاکستان، ایران اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک سے ٹیلی فون، انٹرنیٹ کے ذریعے 87 ارب انٹیلی جنس معلومات حاصل کی ہیں۔ قارئین! پس منظر کے طورپر یاد رہے نائن الیون کے بعد امریکا نے اسلامی ممالک پر شکنجہ کسنے اور ان کی جاسوسی کرنے کی کوششیں کی تھیں۔ امریکا نے ”یو ایس اے پیٹریاٹ“ "USA, PATRIOT ACT" کے نام سے ایک ایکٹ نافذ کردیا تھا جس کے تحت امریکا کا وفاقی قانون اور جاسوسی کے لیے نظام میں بہتری لائی گئی۔ ایک ایسا نظام تشکیل دیا گیا جس کے تحت اب امریکا کے کسی بینک کے کسی مالیاتی ادارے میں کھلنے والے نئے اکاؤنٹس، کرنسی کی بڑی آمدروفت اور امداد کے لیے جاری ہونے والے چیکوں کی پڑتال ممکن ہو سکے گی۔ دہشت گردی کی تعریف وسیع کی گئی۔ امریکا میں موجود غیر ملکیوں کے لیے نئے قوانین بنائے گئے۔ لوکل اور فیڈرل گورنمنٹ کو دہشت گردی کے مقابلے کے لیے امداد دی گئی۔ ملک میں 56 جوائنٹ ٹیررزم ٹاسک فورسز اور 100 اینٹی ٹیررزم ٹیمیں تشکیل دی گئیں جو صوبائی حکومتوں اور فیڈرل گورنمنٹ کے درمیان تعاون اور مہارت بڑھانے میں مصروف ہیں۔ ادارے نے اس قانون کے تحت "GREEN QUEST" کے نام سے ایک آپریشن شروع کیا جس نے دہشت گردوں کو سرمائے کی ترسیل روکنے کے لیے دنیا بھر میں سرگرم عمل 192 تنظیموں اور افراد کے اثاثے منجمد کر دیئے۔ سرحدوں اور سمندری حدود کی حفاظت کے لیے ہوم لینڈ سیکیورٹی نے یہ اقدامات کیے۔ ادارے نے امیگریشن کے دفتروں کو حکم جاری کیا وہ امریکا آنے کے خواہش مند غیر ملکیوں کے ویزوں کی مدت کم کردیں۔ اس سے پہلے امریکا کے امیگریشن آفسز کم از کم چھ ماہ کے لیے ویزا جاری کرتے تھے۔ نئے اقدامات کے بعد اب صرف اتنے دنوں کے لیے ”بی ٹو“ ویزا جاری کیا جا سکے گا جتنے دنوں میں سیّاح کا کام ختم ہوسکتا ہے۔

امریکا کے نئے امیگریشن رولز کے مطابق اب امریکا میں پڑھائی کے لیے آنے والے طالب علموں کو باقاعدہ اسٹوڈنٹ ویزا لے کر امریکا آنا پڑے گا۔نئے رولز کے مطابق مواصلاتی سیکیورٹی کے سلسلے میں ہوم لینڈ سیکیورٹی نے مندرجہ ذیل اقدامات کیے: تمام ایئرپورٹس پر تلاشی اور پڑتال کے لیے 17 ہزار نئے افراد بھرتی کیے گئے، فیڈرل ایئرمارشل پروگرام کا ادارہ وسیع کر دیا گیا۔ تمام ایئرپورٹوں پر فیڈرل سیکیورٹی ڈائریکٹرز متعین کر دیئے گئے۔ یہ تجربہ کار افسر ہیں جو ایئرپورٹ کی سیکیورٹی، ہواباز کمپنیوں کی پڑتال اور روش کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ ادارے نے مسافروں کے لیے بورڈنگ کا نیا طریقہ کار طے کیا۔ پائلٹس کی ٹریننگ کا بندو بست کیا اور جہازوں کو ہائی جیکنگ سے بچانے کے لیے اسکیننگ کے لیے نظام وضع کیے۔ تمام ایئرپورٹوں پر چیکنگ کا ایک خفیہ نظام لگا دیا گیا جو ساتھ ساتھ تمام مسافروں اوران کے سامان کی پڑتال کرتا رہتا ہے۔

اب آتے ہیں امریکا کی تازہ واردات کی طرف! 8جون 2013ء کو انکشاف ہوا امریکا نے دنیا کی 97 ارب خفیہ معلومات چرالی ہیں۔ امریکا کی نیشنل سیکورٹی ایجنسی نے فیس بک، یوٹیوب، اسکائپ، ایپل، پال ٹاک، گوگل، مائیکروسافٹ اور یاہو کے ذریعے دنیا بھر سے انتہائی حساس ڈیٹا چرالیا۔ اس انکشاف کے بعد پوری دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ یہ رازدان سی آئی اے کا سابق ٹیکنیکل کنسلٹنٹ ایڈورڈ اسنوڈین تھا۔ اسنوڈین نے 2003ء میں امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس تربیت کے دوران اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور یوں اسے فوج سے علیحدہ کردیا گیا۔ یہ اس کے بعدمیری لینڈ میں امریکا کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی ”این ایس اے“ کے ہیڈکوارٹرز کے ساتھ فورٹ میٹڈ منتقل ہوگیا۔ اس نے پہلی نوکری نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی میری لینڈ یونیورسٹی میں واقع خفیہ مرکز میں بطورگارڈ شروع کی اور اس کے بعد خفیہ ایجنسی سی آئی اے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سکیورٹی کے شعبے میں کام کرنا شروع کردیا۔

اسنوڈین 2007ء میں جنیوا میں سفارت کار کے روپ میں سی آئی اے کی پوسٹ پر تعینات ہوگیا۔ ایڈورڈ اسنوڈین 2009ء میں سی آئی اے کو چھوڑکر نیشنل سکیورٹی ایجنسی میں بیرونی کنٹریکٹرز کے طور پر ملازم ہوگیا۔ اسنوڈین امریکا کے خفیہ نظام، خفیہ ایجنسیوں اور سراغ رساں نیٹ ورک کی رگ رگ سے واقف ہے۔ گارجین نے اس انکشاف کے اگلے ہی روز اسنوڈین کا پورا انٹرویو شائع کردیا۔ اسنوڈین کا کہنا تھا: ”میں ایسے معاشرے میں نہیں رہنا چاہتا جہاں اس قسم کا مکروہ کام کیا جائے۔ میں ایسی دنیا میں نہیں رہنا چاہتا جہاں ہر وہ چیز جو میں کروں یا کہوں اس کو ریکارڈ کیا جائے۔ میں نے جنیوا میں جو دیکھا اس نے مجھے فریب سے باہر نکال دیا۔ میں سوچنے پر مجبور ہوا میری حکومت کس طرح کام کرتی ہے اور اس کا دنیا پر کیا اثر پڑتا ہے۔ میرا خیال تھا 2008ء کے انتخاب میں صدر اوباما کے آنے کے بعد امریکی پالیسیوں میں تبدیلی آ ئے گی، لیکن صدر اوباما نے سابقہ پالیسیوں کو جاری رکھا۔“
اسنوڈین کے ان انکشافات کے بعد امریکی انتظامیہ حواس باختہ ہوگئی۔ امریکی سینیٹ، کانگریس، ایف بی آئی، ہوم لینڈ سیکورٹی، سی آئی اے، وائٹ ہاؤس، کاؤنٹر ٹیررازم آفیشل اور جسٹس ڈپارٹمنٹ چراغ پا ہوگئیں۔ نارتھ کیرولینا کے حکام نے یو ایس نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے ساتھ مل کر اسنوڈین کے خلاف مقدمہ درج کروادیا۔ یو ایس نیشنل سیکورٹی ایجنسی کا موقف ہے اسنوڈین نے نہ صرف ملکی راز افشا کیے، قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا بلکہ اس نے حلف سے بھی روگردانی کی، لہٰذا اس کے خلاف کریمنل ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ اسنوڈین اس وقت ہانگ کانگ میں رہائش پذیر ہے۔ گارجین نے بعدازاں یہ انکشافات بھی کیے کہ امریکن نیشنل سیکورٹی ایجنسی نے ایران کی 14 ارب، پاکستان کی 13.5 ارب، اردن کی 12.7ارب، مصر کی 7.6ارب اور بھارت کی 6.3 ارب خفیہ معلومات چرائی ہیں۔ یہ انکشافات ہوئے تو دنیا بھر سے شدید ردعمل سامنے آنا شروع ہوگیا۔ چہرے سے نقاب الٹا تو امریکا کا بھیانک چہرہ سامنے آ گیا اور اس وقت امریکا پر لعن طعن جاری ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکی وزارت خارجہ سے معلومات چرانے پر وضاحت طلب کرلی ہے اور مصر، اردن، ایران اور بھارت کی طرف سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ عرب ممالک کی طرف سے وضاحت بھی مانگی گئی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکا کے جاسوسی کے اس سسٹم کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ ساتھ ہی ساتھ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے تسلیم کیا حکومت انٹرنیٹ کمپنیوں سے صارفین کی بات چیت کا ریکارڈ حاصل کرتی ہے اور معلومات حاصل کرنے کی پالیسی کا ہدف صرف غیر ملکی ہیں، لیکن امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا موقف عجیب ہے۔ اوباما کا کہنا تھا جب میں نے صدر کی ذمہ داری اٹھالی اس وقت دونوں پروگراموں کے بارے میں کافی شکوک پائے جاتے تھے، مگر ان کی جانچ پڑتال اور اس میں مزید حفاظتی انتظامات کے بعد فیصلہ کیا یہ پروگرام چلنا چاہیے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی حکومت کے خفیہ طور پر معلومات جمع کرنے کے عمل کوحیرت انگیز قرار دیا۔ ایڈورڈ اسنوڈین پہلا امریکی اہلکار نہیں جس نے امریکا کے حقیقی چہرے کو دنیا پر عیاں کردیا ہو۔ اس سے پہلے بھی گھر کے بھیدی لنکا ڈھاتے رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں یہ لوگ معتدل دنیا کے محسن ہیں۔ اگر امریکا کے اندر چند ایسے لوگ سامنے آجائیں اور امریکا کے خوفناک چہرے سے نقاب اُٹھالیں تو یقیناً یہ دنیا پُرامن ہو جائے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.