یوم آزادی امریکا پر .... دورہ چین!

اثر چوہان
اثر چوہان
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان مئی 1950ء میں امریکہ کے دَورے پر گئے۔ اُنہیں اُس دَور کی دوسری سُپر پاور۔ سوویت یونین کی طرف سے دَورے کی پہلے دعوت دی گئی تھی ۔ بعض دانشوروں کا خیال تھا کہ”اگر وزیرِاعظم لیاقت علی خان امریکہ سے پہلے سوویت یونین کا دَورہ کرتے تو پاکستان کا سیاسی اور معاشی نقشہ ہی کچھ اور ہوتا!“۔ کیسے ہوتا؟۔ جب لیاقت علی خان۔ سوویت یونین کے کمیونزم یا سوشلزم کودِل سے قبول ہی نہیں کرتے تھے۔ ملاقات کے دَوران اُس دَور کے صدر امریکہ مسٹر ہَیری ایسٹرومین نے وزیرِاعظم لیاقت علی خان سے پوچھا کہ”بانی پاکستان مسٹر محمدعلی جناح نے اپنی ایک تقریر میں اسلامی سوشلزم کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ اُسے کیا سمجھا جائے ؟“۔ تو وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے کہا۔” قائدِاعظم کی استعمال کی گئی ترکیب کا مفہوم ہے سماجی اور معاشی انصاف !“۔

صدر ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ کے انتخابی منشور میں مُلک میں ”اسلامی سوشلزم“ کے نفاذ کا وعدہ کِیا گیا تھا۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے جب 30 نومبر 1967ء کو پاکستان پیپلزپارٹی بنائی تو پارٹی کا ایک راہنما اصول تھا۔”سوشلزم ہماری معیشت ہے“۔ لیکن پارٹی کی اصولی کمیٹی کے رُکن اور ہفت روزہ ” نُصرت“ کے چیف ایڈیٹر جناب حنیف رامے نے(جو کنونشن مسلم لیگ مغربی پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات رہے تھے) کمیونزم اور سوشلزم سے خائف لوگوں کی تسلی کے لئے ”اسلامی سوشلزم“کے نفاذ کو پارٹی کا مقصد قرار دیا۔ بھٹو صاحب غیر ملکی میڈیا اور بار ایسوسی ایشنز سے خطاب کرتے ہُوئے ”سوشلزم“۔کو پارٹی کا مقصد بیان کرتے تھے اور عام جلسوں میں ”اسلامی سوشلزم“ کی. سن 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں عوامی جمہوریہ چین نے پاکستان کی بھرپور امداد کی تھی۔ بھٹو صاحب یہ تاثر دینے میں کامیاب رہے کہ اُن کی سفارتی کوششوں سے چین نے پاکستان کو امداد دی ہے۔ سوویت یونین کی طرح عوامی جمہوریہ چین نے کسی بھی مُلک سے دوستی کرکے وہاں”انقلاب“ ایکسپورٹ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ پاکستان میں کسی بھی پارٹی کی حکومت رہی ہوچین ۔ پاکستان اور پاکستان کے عوام سے دوستی رکھتا ہے۔

میاں نواز شریف کی وزارتِ عُظمیٰ کے دونوں ادوار میں پاکستان اور چِین کے ہر شعبے میں تعلقات مضبوط ہُوئے۔ دوسرے دَور میں میاں صاحب 28 جون 1999ء کو بیجنگ گئے جہاں اُن کے وزیرِاعظم Zhu Rongji سے مذاکرات ہُوئے۔ اِن مذاکرات سے متعلق"The China Daily" نے لِکھا تھا کہ وزیرِاعظم عوامی جمہوریہ چین”مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازع سمجھتے ہیں جِس کے لئے مذاکرات بے حد ضروری ہیں“۔ اُن دِنوں ہمارے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کی کارگل میں ”مُہم جوئی“ کی وجہ سے پاکستان اور بھارت میں زبردست کشیدگی تھی اور امریکی صدر بِل کلنٹن نے اپنا سارا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال دِیا تھا۔ وہ وزیرِاعظم میاں نواز شریف سے ناراض تھے۔ دو جولائی 1999ء کو امریکی کانگریس نے ایک قرارداد منظور کر کے پاکستان کو دئیے جانے والے آئی۔ایم ۔ایف عالمی بنک اور ایشیئن بنک کے تمام قرضے اُس وقت تک معطل کرا دئیے جب تک پاکستان کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے پار کارگل پر قابض مجاہدین کو واپس نہ بُلا لے “۔

چار جولائی کو امریکہ کے یومِ آزادی کے موقع پر پورے مُلک میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ صدر امریکہ کسی بھی غیر ملکی سربراہ سے ملاقات نہیں کرتا لیکن سپیشل کیس کے طور پر صدر بل کلنٹن نے 4 جولائی1999ءکو وزیرِاعظم نواز شریف سے تین گھنٹے تک ملاقات کی۔ وزیرِاعظم پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے بعض علاقوں پر قابض مجاہدین کو واپس بلانے کا وعدہ کر لِیا۔ چھے جولائی کو وزیرِاعظم پاکستا نلندن کی ٹین ڈاﺅننگ سٹریٹ میں برطانوی وزیرِاعظم مسٹر ٹونی بلیئر سے صِرف 30 منٹ تک ملاقات کر سکے۔ امریکہ، برطانیہ اور اُن کے اتحادی ملکوں میں پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا ہو رہا تھا اور اُس کے ذمہ دار تھے جنرل پرویز مشرف. دراصل وزیرِاعظم نواز شریف سے صدر بِل کلنٹن کی ناراضی کی اصل وجہ یہ تھی کہ اُن کے منع کرنے کے باوجود وزیرِاعظم پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکا کر کے پاکستان کے ایٹمی قوّت بننے کا اعلان کر دیا تھا۔ 12اکتوبر 1999ءکو جنرل پرویز مشرف نے وزیرِاعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ اُلٹ کراِقتدار پر قبضہ کر لِیا۔ جنرل پرویز مشرف کے"Memoir" (سوانح) "In The Line Of Fire" کے عنوان سے یکم اگست 2006ء کو شائع ہُوئے۔ کتاب پوری دُنیا میں فروخت ہُوئی۔ خاص طور پر امریکہ میں۔ کتاب میں ایک باب "The Kargil Conflict" (کارگل کا تنازع) بھی ہے۔ اِس باب میں جنرل پرویز مشرف نے کارگل کا سارا ملبہ اُس دَور کے وزیرِاعظم نواز شریف پر ڈال دِیا۔ جنرل پرویز مشرف کی کتاب کا جو اب معروف صحافی اور اینکر پرسن جناب سہیل وڑائچ کی کتاب”غدّار کون؟“ (نواز شریف کی کہانی اُن کی زبانی) میں تفصیل سے موجود ہے۔ وڑائچ صاحب نے ایک ماہ تک لندن میں میاں نواز شریف سے درجنوں نشستوں کے بعد کتاب لِکھی جو2007ء میں شائع ہُوئی۔ میاں نواز شریف نے جناب سہیل وڑائچ کو بتایا کہ:

1۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے کارگل کے معاملے میں مجھے ائر چیف نیول چیف اور کور کمانڈرز تک کو لاعلم رکھا۔
2۔ مجھے بھارتی وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپائی کے ذریعے پتہ چلا کہ ہماری فوج کارگل میں ہے۔
3۔ ہمارے 2700 لوگ شہید ہُوئے جو 1965ء اور1971ء کے شہدا کی تعداد سے زیادہ ہیں۔
4 ۔جنرل مشرف میرے پاس بھاگے آئے کہ ہمیں بچائیں۔
5۔ مجھے بل کلنٹن اور ٹونی بلیئر کی باتیں سُننا پڑیں لیکن میں نے برداشت کِیا۔
6۔کارگل سے پاکستان کے وقار اور ساکھ کو نقصان پہنچا۔“

جنرل (ر) پرویز مشرف اپنے ہی مُلک اور اپنے ہی گھر میں قید ہیں۔ مُلک سے باہر ہوتے تو شاید 4 جولائی کو امریکہ کے یومِ آزادی کے موقع پر واشنگٹن میں ہوتے، نواز شریف نہ صِرف آزاد ہیں بلکہ تیسری بار منتخب وزیرِاعظم کی حیثیت سے بیجنگ پہنچ چکے ہیں۔ حالات کتنے تبدیل ہو چکے ہیں؟۔ پاکستان کے عوام تو کبھی بھی امریکہ سے خوش نہیں رہے لیکن اِس وقت سوائے چند ایک طفیلی سیاستدانوں کےاُس کے حق میں آواز نہیں اُٹھاتا۔ وزیرِاعظم پاکستان کے دورہءچین کے موقع پر جو کچھ ہو گا دونوں مُلکوں کے مفاد میں ہی ہو گا۔ پاکستان کا آزمودہ دوست تو اُس کے مزید استحکام کا متمنی ہے۔ چِین چاہتا ہے کہ ۔پاکستان اپنے پَیروں پر کھڑا ہواور پاکستان کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں وزیرِاعظم پاکستان کے دورہ چین کی کامیابی کے لئے دُعا ضرور کرنا چاہیے۔

بہ شکریہ روزنامہ 'نوائے وقت'

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں