.

اور کشکول ٹوٹ گیا۔۔۔

طارق محمود چوہدری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکمرانوں نے جو وعدہ کیا تھا، پورا کر دیا، کشکول توڑ دیا، سچ مچ توڑ دیا اور توڑ کر عالمی مارکیٹ سے نیا لے لیا ۔ پہلے سے بڑا اور پانچ ارب تیس کروڑ ڈالر سے بھرا ہوا۔ لیکن ابھی اس میں مزید قرض کی گنجائش ہے۔ تھوڑی سی کوشش کی جائے تو اس نئے نویلے کشکول میں سات ارب پچاس کروڑ ڈالر تک کی مزید گنجائش موجود ہے۔

پرانا کشکول اتنی زور سے ٹوٹا ہے کہ خنجراب سے اوڑمارہ کے ساحلوں تک ہر ذی ہوش کی روح تک لرز اٹھی ہے۔ کشکول تو گزرے دنوں کے حکمرانوں کے پاس بھی تھا۔60 کی دہائی سے آج تک حکمران باوردی ہوں یا شیروانی میں ملبوس، نگران ہوں یا خود زیرنگرانی، قائم مقام ہوں یا اپنے تئیں بار بار منتخب ہونے کے اہل، مخلوط حکومت کے تنے رسے پر چلتے ہوئے ہوں یا دوتہائی اکثریت کے مست مینڈیٹ کے حامل، سائیکل پر ہوں یا تیر انداز یا پھر شیر سوار، ہر حکمران میں کشکول برداری کی قدر مشترک ہی رہی۔

ہر حکمران نے ماضی کے حکمرانوں کو لوٹ کھسوٹ، اقربا پروری، بدعنوانی اور کرپشن کا ذمہ دار ٹھہرا کر اپنی گلو خلاصی کرائی۔ ہر حکمران نے عوام کو سابق حکمرانوں کے اللے تللے سے خالی ہونے والے خزانے کے دروازے خوب کھول کھول کر دکھائے۔ ہر حکمران نے اس خالی خزانے کو پھر سے بھرنے کا مژدہ جانفزا دکھایا۔ ہر حکمران نے خزانہ بھرنے کا وعدہ پورے کرنے کیلئے دل و جان کی تمام توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حسب وعدہ خزانہ بھرا۔ کون سا خزانہ؟ تاریخ اس بات پر خاموش ہے وہ بھرا جانے والے خزانہ کس کا تھا۔ البتہ ان سے اگلے حکمران نے بھی تاریخ کو اسی طرح دہرایا اور گئی حکومت کے خالی اکاؤنٹس عوام کے منہ پر دے مارے۔ ظاہر ہے عوام سے اگلا خزانہ بھرنے کیلئے ’’قربانی‘‘ لینی ہو تو دستاویزی ثبوت تو دکھانے ہی پڑتے ہیں۔ سو ارض پاک پر جو بھی حکمران اترا۔ قوم نے گلا پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا کر، تالیاں پیٹ پیٹ کر اپنے ہاتھ لال کر کے، جلسوں میں دھکے کھا کر، ٹینٹ، قناتیں، شامیانے، کرسیاں لگا کر لیڈروں کو کندھوں پر اٹھا کر، سخت سردیوں میں کھمبوں پر چڑھ کر، پوسٹر، جھنڈے اور بینر لگا کر، الیکشن کے دن بھوکے رہ کر، مخالف امیدوار کے حامیوں سے گریبان پھڑوا کر اس کو غربت کے خاتمہ، روزگار کی فراہمی، تعلیم کے حصول اور کشکول توڑ کر آزاد مملکت اور خودمختار معیشت کے لئے منتخب کیا۔ لیکن پھر اسی قوم نے اپنے حکمرانوں کے منشیوں کو بڑے اہتمام کے ساتھ، ڈھول تاشے بجا کر وفود کی شکل میں عالمی سود خور مہاجنوں، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس وہی کشکول دے کر، گداگر بنا کر بھیجا ہے تاکہ ہمارے وزیران بے تدبیر، ہمارے لئے اور اپنے لئے، قرض خواہوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھیک حاصل کر سکیں۔

سو کل اور آج کے حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں۔ جو قومیں قرض کی شراب پی کر اپنی فاقہ مستی میں زندہ رہنے کو شعار بنا لیں، جس ملک کے عوام فن گداگری کو اپنا وتیرہ بنا لیں، سادگی کو لات مار کر گھر سے باہر نکال دیں، اپنے پاؤں چادر سے زیادہ پھیلا لیں، جہاں 18 کروڑ کی آبادی میں سے صرف اٹھارہ لاکھ تنخواہ دار ٹیکس گزار ہوں، ہر گھر میں ایک کمانے والا اور کم از کم 10 کھانے والے ہوں، جس ملک میں کھربوں روپے صرف چائے کی برآمد پر خرچ کئے جائیں۔ جہاں 342 ارکان پارلیمنٹ صرف 17 دنوں میں بجٹ اجلاس سے غیرحاضر رہ کر بھی 85 لاکھ روپے کے تکے کباب اور مرغ روسٹ کھا جائیں۔ جہاں صرف ایک توقیر صادق 80 ارب روپے کھا جائے اور ڈکار بھی نہ مارے۔ جہاں ہر روز 70 ارب کی کرپشن صرف سرکاری محکموں میں ہوتی ہو۔جہاں سرکاری خرچ پر علاج، سرکاری پیسوں سے بیرونی ممالک کی سیروتفریح، عوام کی جیب سے عمرے اور حج ادا کئے جاتے ہوں۔ وہاں اگر ملک 1947ء سے لے کر آج تک 1600 ارب روپے کا مقروض ہو چکا ہو تو اس میں اچنبھے کی کیا بات؟ اور جو ملک 1600 ارب روپے کا مقروض ہو وہاں کشکول ٹوٹتے ضرور ہیں۔ جیسے آج کے حکمرانوں نے کشکول توڑا ہے۔ آج کے حکمرانوں نے بھی کشکول گدائی توڑا ہے کہ موجود کاسۂ گدائی چھوٹا پڑ گیا ہے۔ اب بڑا کشکول چاہئے۔ کل کے حکمرانوں اور آج کے فرماں رواؤں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

ایک فرق البتہ ضرور ہے گزرے کل کے حکمران آج کے حکمرانوں کی طرح لہک لہک کر حبیب جالب کی انقلاب آفرین نظمیں نہیں سنایا کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی گداگری کی ان دیکھی زنجیریں توڑ دینے کا وعدہ تو کیا کبھی ارادہ بھی نہیں کیا، وہ تو نظام سقہ کی طرح چند روز کے بادشاہ تھے۔ انہوں نے چمڑے کے سکے چلائے، حلوے مانڈے کھائے اور چلتے بنے۔ کل کے حکمران تو دیہاڑی دار تھے۔ اربوں روپے کی دیہاڑی لگائی اور اب اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں محفوظ و مامون زندگی گزار رہے ہیں۔ کل کے حکمرانوں نے کبھی طائر لاہوتی کی پرواز کو گواہ بنا کر عوام سے ووٹ نہیں بٹورے۔

ابھی حکومت کی مدت پیدائش کا سوا مہینہ بھی پورا نہیں ہوا۔ ابھی ہنی مون کی مدت بھی پوری نہیں ہوئی۔ ابھی سب وعدے سب ارادے خون کو گرما دینے والی انقلابی تقریریں، انتخابی مہم کا جوش و جذبہ اور ولولہ انگیز ماحول سب وطن عزیز کی فضاؤں میں زندۂ جاویدہے۔ عوام کو سب یاد ہے، لیکن حکمران ایک ایک وعدے پر، ارادے پر، مصلحت کی سیاہ چادریں ڈالتے جا رہے ہیں۔ مزدور کی تنخواہ 18 ہزار کی بجائے 10ہزار، بجلی کی قیمتوں میں 4 دفعہ اضافہ، جی ایس ٹی میں سترہ فیصد اضافہ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چار بار اضافہ، سو روپے کے موبائل فون بیلنس میں 35 روپے کی کٹوتی، سی این جی کی قیمت میں تین دفعہ اضافہ، ان سب سے بڑھ کر آئے روز دہشت گردی، سٹریٹ کرائم اور 12 تا 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ، بجلی پیدا کرنے کے کارخانوں کو 322 ارب روپے ادا کرنے کے باوجود لوڈشیڈنگ میں ایک منٹ کی بھی کمی نہیں ہوئی۔

322 ارب روپے گردشی قرضوں کے اندھے کنویں میں جھونک دینے کے باوجود ساڑھے چھ ہزار میگا واٹ کا شارٹ فال اور اب ٹوٹے ہوئے کشکول گدائی کی صدائیں اور نئے قرضوں سے بھری جیبوں کے ساتھ جناب اسحاق ڈار کی ہنستی مسکراتی کھلکھلاتی تصویریں جو ان قرضوں کے اصل دہندہ عوام کے دلوں پر زہر میں بجھی ہوئی چھریوں کی طرح چل رہی ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو اس کے کوٹہ کا 348 فیصد یعنی 5 ارب 30 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کر لیا ہے، لیکن ہماری ’’اغیار‘‘ کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی علمبردار حکومت نے کوٹہ کا 500 فیصدیعنی 7 ارب 30 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کی مودبانہ درخواست کی ہے۔ اس درخواست کو بھی شرف قبولیت بخش دینے کا وعدہ کر لیا گیا ہے چونکہ پاکستان نے مہاجن کو یقین دلایا ہے کہ یہ قرض واپس کرنے کیلئے تمام سبسڈیز ختم کر دی جائیں گے۔ اشیائے خوردنی و ضروریہ پر ٹیکس لگایا جائے گا۔ بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے بجلی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوگا۔ بڑے بڑے تاجروں، سرمایہ کاروں، جاگیرداروں سے ہرگز ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ لہٰذا آئی ایم ایف نے بخوشی، حسب ضرورت کشکول تو قرض سے لبالب بھر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اور کیا چاہئے۔ آئی ایم ایف کا شکریہ، مزید قرض درکار ہوا تو ابھی ورلڈ بینک اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے موجود ہیں۔ حکمران خوش اور عوام اس طائر کی تلاش میں ہیں جو لاہوت میں محو پرواز ہے۔پہلے سوا مہینے کے حالات سامنے رکھے جائیں تو جلد ہی عوام کے ہونٹوں پر ایک نیا نعرہ ہوگا۔ اے طائر لاہوتی، اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے ٹیکس اَدائی میں آتی ہو کوتاہی۔

بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.