.

5 اور 3 جولائی: ہر فوجی انقلاب نامنظور

زاہدہ حنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کئی ہفتوں سے مصر ایک بار پھر اخباروں میں اور ٹیلی ویژن چینلوں پر زیربحث ہے۔ التحریر چوک پر ایک نئی سیاسی تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ زیادہ پرانی نہیں صرف 368 دن پہلے کی بات ہے جب اسی التحریر چوک کی گلیاں جمہوریت کی جیت کا جشن منانے والوں سے بھری ہوئی تھیں۔ دنیا نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ ایک ایسی نیم سیاسی، نیم مذہبی جماعت عوام کے ووٹوں سے جیت کر آئی تھی جس نے 1928ء سے 2012ء تک شاہان مصر اور پھر فوجی آمروں کا ستم سہا تھا۔ اس جماعت سے نظریاتی اختلافات کے باوجود یہ بات خوش آئند تھی کہ اس نے عوام کے دلوں میں اتنی جگہ بنائی ہے کہ 51 فیصد ووٹ اس کے حصے میں آئے۔ لیکن اس کے مخالفین نے بھی 48 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ حسنی مبارک کو معزول کر دیا گیا تھا۔ فوج بیرکوں میں جانے پر مجبور ہوئی تھی۔ دنیا کو اور اس سے کہیں زیادہ مصریوں کو یقین تھا کہ اب ان کے بھی دن پھریں گے اور وہ بھی ایک حقیقی جمہوریہ کے طور پر عرب دنیا میں اپنا قائدانہ کردار ادا کریں گے۔

مصر ی کئی دہائیوں سے فوجی آمریت کے دیو استبداد سے جنگ لڑ رہے تھے۔ حسنی مبارک کی رخصت اور ان پر چلنے والے مقدمے سے مصری عوام کی اکثریت خوش تھی لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اپنے مسائل کا حل بھی چاہتی تھی۔ اس نے اپنی ہزاروں برس پرانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک حقیقی جمہوری نظام میں سانس لی تھی اور اس کی بجا طور پر یہی خواہش تھی کہ وہ آزادانہ سانس لیتی رہے۔ لیکن مرسی صاحب کی مجبوری یہ تھی کہ وہ ایک مخصوص مذہبی سوچ رکھتے تھے جس کے ڈانڈے تاریخ میں پیوست تھے۔ یہ درست ہے کہ ان کا لباس مغربی تھا، ان کی تعلیم بھی مغربی تھی لیکن ان کے اندر وہ شخص سانس لیتا تھا جو اپنے رہنماؤں حسن البنا اور سیّد قطب کی طرح مسلم فرد ’خاندان‘ برادری کو اپنی مذہبی تشریحات کے مطابق چلانا چاہتا تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اخوان المسلمون نے مصر کی غریب اور نچلے متوسط طبقے کی بستیوں میں بہت محنت اور محبت سے فلاحی کام کیے اور لوگوں کے دلوں میں احترام پیدا کیا۔ اس کے ساتھ ہی شاہ فاروق کی معزولی اور اس کے بعد مصر پر حکومت کرنے والے فوجی آمروں نے جو قوم پرست تھے، اپنے تمام آمرانہ رویوں کے ساتھ ہی مصر میں وہ تعلیم یافتہ، جدید ہنر مندیوں سے آراستہ، سوشلسٹ اور سیکولر بنیادوں پر آگے بڑھنے والا متوسط اور اعلیٰ طبقہ بھی پیدا کیا جس کی زندگی میں اخوان المسلمون کے سخت رویوں کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ یہ طبقہ جمہوری حقوق سے محروم ضرور تھا لیکن خوشحال تھا اور ذاتی زندگی میں کسی کی دخل اندازی کو پسند نہیں کرتا تھا۔ یہی وہ 48 فیصد تھا جس نے 2012ء میں اخوان المسلمون کے محمد مرسی کے حریف کو اپنے ووٹ دیے تھے۔ ان لوگوں نے اپنے امیدوار کی ہار کا اتنا غم نہیں منایا جتنی انھیں اس بات کی خوشی تھی کہ اب ان کا شمار بھی جمہوری اور مہذب دنیا میں ہو گا۔

ایک جمہوریہ بننے کے بعد بیشتر مصریوں کی امیدیں پوری نہ ہو سکیں۔ سابق مصری صدر نے اپنی بنیادیں مضبوط کرنے کے بجائے اپنے عقائد کو مصری عوام پر نافذ کرنے کا تہیہ کر لیا۔ انھوں نے عدلیہ، پولیس، فوج اور میڈیا سے سینگ پھنسائے اور اس بارے میں فکر مند نہ ہوئے کہ ملک میں غربت اور بیروزگاری کے خاتمے، بہتر طرز حکمرانی اور سماج کے دوسرے طبقات کو انصاف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ملک کا سیکولر اور لبرل طبقہ، عورتیں، غیر مسلم اقلیت اور کئی چھوٹے گروہ 365 دنوں میں اس بات سے ششدر رہ گئے کہ اخوان المسلمون جو عرب دنیا کی سب سے منظم اور کارگزار تنظیم کہی اور سمجھی جاتی تھی اس نے بدنظمی اور غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا۔ اس تنظیم نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ زیر زمین رہ کر گزارا تھا اور جب حسنی مبارک کے بعد اسے آزادانہ کام کرنے اور انتخابات جیتنے کا موقع ملا تو اس نے اپنی حکومت چلانے کے لیے وہی رازدارانہ طریقے اختیار کیے جن کا کسی جمہوری نظام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انھوں نے تمام سرکاری اداروں پر ’قبضہ‘ کرنے کو اپنی حکومت کی ترجیح جانا۔ وہ سرکاری ادارے جو عوام کی خدمت کے لیے تھے، انھیں اخوان المسلمون کا قلعہ بنانے کی کوشش شروع ہوئی۔ مصری جو پہلے شاہانِ مصر اور اس کے بعد جمال عبدالناصر سے حسنی مبارک تک کبھی قوم پرست اور کبھی مغرب پرست آمریت کا شکار رہے تھے وہ امکانی طور پر نئی ’مذہبی آمریت‘‘ سے دہشت زدہ ہو گئے۔ انھیں معلوم تھا کہ یہ لوگ سیکولر آمروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے کیونکہ ان کے پاس مذہب کی من مانی تشریحات ہوں گی۔

صدر مرسی کی حکومت کی نااہلیوں اور بدانتظامیوں نے، مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافے نے مصر کے متوسط اور خوشحال طبقے کے نوجوانوں کو جب سڑکوں پر آنے اور التحریر چوک میں لاکھوں کی تعداد میں جمع ہونے پر مجبور کیا‘ اس وقت بھی صدر اور ان کے ساتھی معاملے کی نزاکت کو نہیں سمجھے۔ انھوں نے ان مظاہروں کو اہمیت نہیں دی۔ آمرانہ انداز کے بیانات دیے اور مخالفوں کو سختی سے کچلنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان مظاہروں کے دوران متعدد نوجوان مارے گئے۔ یوں صدر مرسی کی مخالف تحریک کو خون بھی مل گیا جس نے آتش گیر مادے کا کام کیا۔

لندن اسکول آف اکنامکس میں شرقِ اوسط کی سیاست کے پروفیسر فوارزگریگز نے یہ کہا کہ ’’ہم میں سے کوئی یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ اخوان المسلمون جیسی منظم اور بہترین کارکردگی رکھنے والی تنظیم اتنی ناکارہ ثابت ہو گی۔ مرسی کی پالیسیوں کی وجہ سے حالات پہلے سے کہیں بدتر ہو چکے ہیں۔ مرسی کا آمرانہ رویہ اور ان کی حکومت کی معاشی بدانتظامی سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ان کے ذہن میں کوئی منصوبہ بندی نہیں۔ خطے کی اسلامی تحریکوں پر اس زوال کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘ ڈاکٹر مرسی کی معزولی کو مشرق وسطیٰ کے کئی تجزیہ نگار ’عرب بہار‘ سے دوچار ہونے والے ملکوں میں ’سیاسی اسلام‘ کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔

یہ ایک المناک بات ہے کہ قاہرہ کی سڑکوں پر ایک بار پھر بکتر بند گاڑیوں کا گشت ہو رہا ہے۔ فوجی دستے مارچ کر رہے ہیں کئی سڑکیں خاردار تاروں سے بند کر دی گئی ہیں۔ دنیا میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے جمہوریت پسند مصر میں جمہوریت کے آغاز پر مسرت محسوس کرتے تھے۔ آج ان کے لیے یہ دکھ کی بات ہے کہ ایک ملک جو ہزاروں برس سے آزادیٔ اظہار و افکار کے لیے ترستا تھا، اسے اندھی عقیدہ پرستی نے ایک بار پھر آمریت کی بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ دائیں اور بائیں کی تفریق کے بغیر جب بھی کسی ملک میں جمہوریت کے نام پر نظریاتی آمریت مسلط کر دی جاتی ہے تو اس کا انجام آخرکار اس آمریت پر ہوتا ہے جو ٹینکوں پر سوار آتی ہے۔ جس کے بدن پر خاکی وردی اور جس کے سینے پر اپنے ہی لوگوں کو ’فتح‘ کرنے کی ’جواں مردی‘ اور شجاعت کے عوض ملنے والے تمغے ہوتے ہیں۔ بیسویں صدی سے اکیسویں صدی تک آتے آتے کئی اصطلاحات کا مفہوم بدل گیا ہے۔ انھی میں سے ایک انقلاب ہے۔ خواہ یہ انقلاب سرخ ہو یا سبز، اب اسے ’’دہشت گردی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس وقت یہ بات معرض بحث میں لانے کی نہیں ہے کہ ایک زیر زمین اسلامی تحریک کے طور پر صدر مرسی کی جماعت کا کیا کردار رہا ہے۔ اس تنظیم کے سربراہ حسن البنا کا یہ عزم تھا کہ اسپین سے انڈونیشیا تک ایک اسلامی سلطنت قائم ہونی چاہیے جہاں شرعی قوانین سختی سے نافذ کیے جائیں۔ حسن البنا ایک ایسی خلافت کے خواب دیکھتے ہوئے پھانسی چڑھ گئے۔ ان کے ہزاروں پیروکاروں نے جیلیں کاٹیں، بدترین عقوبتیں سہیں اور اب اسی نظام کو ذہن میں رکھ کر مصر کو اس راستے پر چلانے کی خواہش رکھنے والے صدر ڈاکٹر مرسی صرف 368 دنوں بعد مصری فوج کے ہاتھوں معزول ہو چکے ہیں۔ اس وقت ایک سوال ڈاکٹر مرسی کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں نکلنے والے مصریوں سے کیا جانا چاہیے کہ وہ بڑے بڑے بینروں پر ’فوج آئے، ملک بچائے‘ کا نعرہ لکھ کر کیوں نکلے تھے؟ انھوں نے یہ مطالبہ کیوں نہیں کیا کہ ’’صدر مرسی نئے انتخابات کراؤ‘‘ یا انھوں نے اپنی عدلیہ کو اس جھگڑے میں ’’حکم‘‘ کیوں نہیں بنایا؟ انھوں نے بدترین فوجی آمر بھگتے تھے، اس کے بعد بھی کیا انھیں اپنے مسائل کے حل کے لیے فوج کو آواز دینی چاہیے تھی؟

پاکستان بھی آمریتوں کے سیاہ دور گزار کر 2008ء سے جمہوری سفر پر نئے سرے سے روانہ ہوا ہے۔ ہمارے لیے مصر کے ان المناک واقعات میں بہت سے سبق ہیں۔ یوں بھی پاکستان کے 5 جولائی 1977ء اور مصر کے 3 جولائی 2013ء میں کوئی فرق نہیں۔ یہ دونوں جدید مسلم دنیا کی تاریخ کے تاریک ترین دن ہیں۔ فرق ہے تو اتنا کہ 5 جولائی 1977ء کو اسلام کا نام لیتے ہوئے جنرل ضیاء الحق نے سوشلسٹ بھٹو صاحب کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا تھا جس کا انجام ان کی پھانسی پر ہوا تھا اور 3 جولائی 2013ء کے مصر میں سیکولر ازم کا نام لیتے ہوئے اسلام پسند صدر کا تختہ الٹا گیا ہے۔ یہ اتنا ہی اندوہناک واقعہ ہے جتنا بھٹو صاحب کی معزولی۔ جمہوریت کے قاتل دونوں فوجی انقلاب نامنظور۔

بہ شکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.