.

مارکوئی

جاوید چودھری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وگا نو سوئٹزرلینڈ کا درمیانے سائز کا شہر ہے‘یہ اٹلی کی سرحد پر واقع ہے میلان یہاں سے آدھ گھنٹے کے فاصلے پر ہے‘ اس شہر میں دوخوبصورت جھیلیں ہیں‘ ایک شہر کے وسط میں ہے‘ لوگا نو شہر اس جھیل کے گردا گرد آباد ہے جب کہ دوسری اس سے ذرا ہٹ کر دائیں جانب ہے‘یہ سرسبز پہاروں کے درمیان ہے‘ ان پہاڑوں پر چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں‘ان دیہات میں علاقے کے متموول ترین لوگ رہتے ہیں‘ ان کے دولت مند ہونے کی وجہ یہ علاقہ اور اس کا جغرافیہ ہے‘ لوگا نو بنیادی طور پر سیاحوں کا علاقہ ہے‘یہاں سوئٹزرلینڈ کا سب سے اچھا موسم ہوتاہے‘ مہینے کے زیادہ تر دنو ں میں سورج چمکتا رہتا ہے.

درجہ حرارت بھی باقی ملک کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ ہوتا ہے اور بارشیں بھی کم ہوتی ہیں‘ یورپ میں ایسا موسم ‘ایسا علاقہ جنت سمجھا جاتا ہے‘چنانچہ دیہات کے لوگوں نے سیاحوں کی سہولت کے لیے پہاڑوں کی اترائیوں پر جھیل کے رخ خوبصورت ولازاور ہوٹل بنا رکھے ہیں ‘جھیل کے ساتھ ساتھ پانی کے سامنے اطالوی ریستوران بھی ہیں ‘یہ ولاز سات دن کے لیے کرائے پر مل جاتے ہیں‘ ان میں ڈرائنگ‘ ڈائننگ کے ساتھ ساتھ دو دو‘ تین تین بیڈرومز ہوتے ہیں سوئمنگ پول، چھوٹاسالان‘ گیراج اور باربی کیو کا رنر بھی ہوتا ہے‘ کھڑکیوں سے سارا دن جھیل نظر آتی رہتی ہے‘ آپ کے چاروں اطراف پہاڑوں پر ولاز بنے ہیں‘ ولاز کی سرخ چھتیں سبزے میں چھوٹے چھوٹے سرخ دھبے ہیں‘ یہ دھبے رات کے وقت ستارے بن جاتے ہیں ‘یہ ستارے جھیل کے پانی میں گھل کر آپ کو چند لمحوں کے لیے زندگی کے تمام دکھوں سے آزاد کر دیتے ہیں۔
جھیل پر موٹر بوٹس کی کمپنیاں بھی موجود ہیں‘ یہ کمپنیاں موٹر بوٹس کرائے پر دیتی ہیں‘ آپ سارا دن ان موٹر بوٹس کو جھیل میں دوڑتے اور پانی اڑاتے بھی دیکھتے ہیں‘ جھیل کے کنارے پر واقع گھروں میں موٹر بوٹس کی باقاعدہ گودی موجود ہے‘ یہ لوگ ذاتی موٹر بوٹس اس گودی پر باندھ دیتے ہیں اور یہ جب شہر جانا چاہتے ہیں یا دوسرے پہاڑوں پر آباد لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں تو یہ اپنی موٹر بوٹ کی مدد لیتے ہیں یہ موٹر بوٹس پہاڑوں کی ٹرانسپورٹ ہیں۔

مار کوئی اس خوبصورت علاقے کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے‘ یہ گاؤں پہاڑ پرجھیل کے بائیں جانب آباد ہے اور یقیناً صدیوں سے آباد ہوگا کیونکہ اس گاؤں کی گلیاں چھوٹی اور مکان چٹانوں پر پتھروں سے بنے ہیں‘گاؤں کے دائیں بائیں اور اوپر نیچے مختلف سائز کے ولاز ہیں ۔ میں سات دنوں کے لیے 37 نمبر کے ولا میں مقیم ہوں‘ ولا کا مین دروازہ پہاڑ کی طرف کھلتا ہے‘ آپ دروازہ کھولتے ہیں تو ایک بلند سبز پہاڑ آپ کو سلام کرتا ہے‘ ولاکی بیک سائیڈ پر برآمدہ ہے اور اس برآمدے سے آپ کو پوری جھیل نظر آتی ہے‘پورے مکان کو مختلف قسم کی بیلوں نے ڈھانپ رکھا ہے‘ آپ جس طرف دیکھتے ہیں ‘آپ کو بیلیں اور بیلوں پر مختلف رنگ کے پھول نظر آتے ہیں‘ برآمدے کے بعد چھوٹا سا لان ہے اور جہاں لان ختم ہوتا ہے وہاں سے جھیل کے مناظر شروع ہو جاتے ہیں‘ لان کی سائیڈ سے سیڑھیاں اوپر جاتی ہیں اور ان سیڑھیوں کے آخر میں چھوٹا سا صاف ستھرا سوئمنگ پول ہے‘ اس مکان کی مالکہ کوئی اطالوی بیوہ ہے‘ یہ خاتوں یقیناً اعلی ذوق کی مالک ہو گی کیونکہ اس گھر کی ایک ایک چیز سے سلیقہ ، نفاست ، ڈھنگ اور خوبصورتی جھلکتی ہے اور یہ سب کچھ اعلی ذوق کے بغیر ممکن نہیں ‘مکان کی بالائی منزل پر یہ خاتون رہتی ہے‘ جب کہ نچلا حصہ وقتی سیاحوں کے لیے وقف ہے.

ہمارے پہنچنے سے قبل خاتون چھٹیوں پر روانہ ہو چکی تھی چنانچہ ابھی تک اس سے ملاقات نہیں ہو سکی‘ مارکوئی محض گاؤں نہیں بلکہ یہ بعض اوقات مجھے جزیرہ محسوس ہونے لگتا ہے کیونکہ یہ عام آبادی سے کٹا ہوا ہے‘ لوگانو شہر اس سے بیس منٹ کی ڈرائیو پر ہے‘مارکوئی میں صرف ایک بس آتی ہے اور اس کے اسٹاپ پر بھی جلی حروف میں لکھا ہے اس کا آنا اور جانا قطعی نہیں‘ چنانچہ آپ اس بس پر انحصار کی غلطی نہ کریں اور ساتھ میں لکھاہے ’’ہم آپ کے صبر کی داد دیتے ہیں‘‘ ہمارے مکان سے قریب ترین مارکیٹ چھ کلو میٹر دور ہے لہذا ہمیں دودھ لینے کے لیے چھ کلو میٹر نیچے جانا پڑتا ہے اور وہا ں سے پیدل واپس آنا پڑتا ہے اور یہ مارکیٹ بھی شام چھ بجے بند ہو جاتی ہے‘ گاؤں تک چھوٹی سی سنگل سڑک آتی ہے اور اس پر بھی ہر آدھے کلومیٹرپر ایسا مقام آجاتا ہے جس سے ایک وقت میں صرف ایک گاڑی گزر سکتی ہے۔ مکان ساتھ ساتھ ہیں مگر مکین کوسوں دور ہیں‘ کوئی ہمسائے کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا زیادہ تر لوگ چھٹیاں گزارنے آتے ہیں اور چھٹیاں گزارنے کا پہلا اصول بلاوجہ علیک سلیک سے پرہیز ہے‘یہاں البتہ سیاح خاندانوں کے کتے ہمسایوں پر بھونک کر ان کی خیریت ضرور پوچھتے ہیں۔ مارکوئی کے کوے مری اور نتھیا گلی کے کوؤں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ‘ ان کے گلے بھی بیٹھے ہوئے ہیں اوریہ بیٹھے ہوئے گلوں کے ساتھ گاؤں کاسکوت توڑتے رہتے ہیں۔ صبح اور شام جھیل پر بگلوں کی ڈاریں آتی ہیں اور ماحول پر سفیدی پھیر کر چلی جاتی ہیں۔

اس گاؤں کی واحد تفریح ریستوران ہیں‘ شام کے وقت ریستوران آباد ہو جاتے ہیں ‘گورے گلاس سامنے رکھ کر اپنی ہم عمر خاتون کے کانوں میں گھس جاتے ہیں‘ ساز بجتے رہتے ہیں‘ پلیٹیں آتی ہیں اور چمچوں اور کانٹوں کی آوازمیں ساز سے الجھتی رہتی ہیں‘ یہ ہنگامہ بھی رات دس بجے ختم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد مارکوئی پر گہر اسکوت طاری ہو جاتا ہے‘ ہر چیز گہری نیند میں چلی جاتی ہے‘ اس شہر میں سورج کیونکہ ساڑھے نو بجے غروب ہوتا ہے چنانچہ دس بجے پوری طرح اندھیرا نہیں پھیلتا‘یہ رات سے قبل کی صورتحال ہوتی ہے جس میں ہر چیز نیلی ہو جاتی ہے‘مارکوئی دس بجے پہلے نیلا پڑتا ہے اور پھر یہ نیلاپن آہستہ آہستہ سیاہی میں تحلیل ہو جاتا ہے‘ میں اس نیلے پن کو سیاہی میں تحلیل ہوتا دیکھنے کے لیے ہرشام نو بجے جھیل کے کنارے بیٹھ جاتا ہوں‘ جوں ہی رات کے دس بجتے ہیں ،ریستورانوں کے دروازے کھلتے ہیں لوگ نکلتے ہیں اور آہستہ آہستہ اپنے گھروں کی طرف چل پڑتے ہیں‘ پرندوں کی آوازیں بھی ایک ایک کر کے خاموش ہونے لگتیں ہیں‘ اور اس کے ساتھ ہی پورا منظر نیلا ہو جاتا ہے‘یہ نیلاہٹ آہستہ آہستہ نرم پڑتی ہے رات کی سیاہی اس کا گہراؤ کرتی ہے اور پھر پورا مارکوئی اندھیرے میں گم ہو جاتا ہے۔ پہاڑ سونے چلے جاتے ہیں مگر ان کے بدن کے ستارے رات بھر جھیل میں نہاتے رہتے ہیں اور یہ یہاں کا قیمتی ترین منظر ہوتا ہے۔

مارکوئی کا دوسرا قیمتی ترین منظر صبح کے وقت جاگنا ہے‘ میں نے برآمدے میں بیٹھ کر مارکوئی کی صبح کاذب کو صبح صادق میں ڈھلتے ہوئے دیکھا اور بے اختیار جوش ملیح آبادی کو داد دینے پر مجبور ہو گیا‘ جوش صاحب نے فرمایا تھا’’ اللہ تعالی کے وجود کو تسلیم کرانے کے لیے صبح کی دلیل کافی ہے‘‘ اور مارکوئی کی صبح اللہ تعالی کے وجود کی دلیل ہے ‘ ایسی صبحیں میں نے اس سے قبل صرف 5 جگہوں پر دیکھی تھیں‘ جھیل سیف الملوک پر، فیری میڈوز میں ‘یونان میں ڈیلفی کے مند ر کے سامنے ، سوئٹزرلینڈ کے سٹروکن میں اور اٹلی کے جزیرے کیپری میں ‘ مارکوئی میری ایسی چھٹی صبح تھی جس کے بعدنہ صرف خدا کے نہ ہونے کا ابہام ختم ہو جاتا ہے بلکہ آپ کو محسوس ہوتا ہے پوری کائنات آپ کے سامنے دوبارہ جنم لے رہی ہے‘ آپ کے کانوں میں’’کن‘‘ کی آواز آتی ہے اور اس کے ساتھ ہی نئی نویلی کائنات آپ کی آنکھوں کے سامنے روشن ہو جاتی ہے‘ میں روشنی پھیلنے کے بعد جھیل کے ساتھ ساتھ چل پڑتا ہوں اور چلتا چلتا دور تک نکل جاتا ہوں‘ مارکوئی کے بعدملاوی گاؤں آتا ہے‘ میں اس گاؤں کے ریستوران میں کافی پیتا ہوں اور پھر واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
غالب سے کسی نے پوچھا تھا ’’ عیش کیا ہوتا ہے‘‘ غالب نے جواب دیا’’آپ کا شوق اگر آپ کے رزق کا وسیلہ بن جائے تو دنیا میں اس سے بڑی کوئی عیاشی نہیں ‘‘ میں جب بھی اللہ تعالی کی نعمتیں گنتا ہوں تو میری پلکیں فوراً سجدہ ریز ہو جاتیں ہیں اور دل دھک دھک کے بجائے شکر شکر کی آواز دینے لگتا ہے ‘مطالعہ اورتحریر میرا شوق تھا‘ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے اس نے میرے شوق کو میرے رزق کا وسیلہ بنا دیا‘ خوش حالی کی دعا کی تو اس نے ٹی وی کو تمول کا ذریعہ بنا دیا‘ دنیا دیکھنے کی تمنا تھی اللہ تعالی نے کرم فرمایا وسائل میں اضافہ ہوا‘ دنیا کے دروازے کھلے ، ہمت اورحوصلہ عطا ہوا اور میں کام کے ساتھ ساتھ دنیا دیکھتا جارہا ہوں اور اس دنیا سے سیکھتا جا رہا ہوں‘ طبیعت میں آزادی ہے‘ چنانچہ اللہ تعالی نے کبھی کوئی ایسا موقع نہیں آنے دیا کہ کسی شخص کا کوئی احسان‘ کوئی مہربانی اور عنایت اس کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دے ۔

انسانی تعلقات میں جب بھی کوئی ایسا مرحلہ آنے لگتا ہے جس کا نتیجہ غلامی کی شکل میں نکل سکتا ہے تو اللہ تعالی کی ذات کوئی ایسا بہانہ پیدا کر دیتی ہے جس کی نتیجے میں احسان کا بار آگے سرک جاتا ہے اور میں صاف بچ جاتا ہوں‘ یہ اللہ تعالی کی ہزاروں نعمتوں کا ابتد ا ئیہ ہے‘۔مارکوئی کی جھیل کے کنارے بیٹھ کر اللہ تعالی کی یہ تمام نعمتیں یاد آگئیں جن کا میں اہل تھا اور نہ ہی حق دار مگر اللہ تعالی کو مجھ پر رحم آگیا اور اس نے اپنی رحمت کے دروازے مجھ پر کھول دیے‘ میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں سیدھا ہوا اور بینچ پر سجدہ ریز ہو گیا‘ پوری کائنات اس وقت میرے ساتھ ساتھ شکر ادا کر رہی تھی۔

بشکریہ روزنامہ"ایکسپریس"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.